ظفراللہ جمالی کا استعفی کچھ نہیں، بلکہ بہت کچھ ہے


آج جہاں حکومتی مدت ختم ہونے کو ہے تو وہیں پچھلے دِنوں وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے بھی ارکان قومی اسمبلی کے اعزازمیں الوداعی ناشتہ دیا جس میں کفایت شعاری اختیار کرنے کی کوشش تو بہت کی گئی مگر قومی خزانے سے جتنا خرچ ہونا تھا وہ تو ہوگیا چلتے ہوئے اِسی بہانے وزیراعظم نے یہ سوچ کرکے پھر کب مل بیٹھ کر کھانے پینے کا موقعہ ملے اراکین کو خوش کیا اور قومی خزا نے کا منہ کھول کر اچھی طرح ناشتہ کرایا آج جِسے ہمارے اراکین اسمبلی اچھی روایت سے یاد رکھے ہوئے ہیں ۔
تاہم اِن دِنوں عام انتخابات سے قبل مُلک بھر میں جلسے، جلوسوں اور ایوانوں میں سیاسی کھینچا تانی اور ذاتی و سیاسی چپقلش کا جیسا گرماگرم مچھلی بازار سجاہوا ہے گزشتہ کئی دہائیوں میں اِس کی نظیرنہیں ملتی ہے حکمران جماعت کی جانب سے قومی اداروں سے ٹکراؤ کی پالیسی جمہوری نظام کو کِدھر لے جانے والی ہے جس کا سب تماشا دیکھتے ہوئے بے چینی سے انتظار کررہے ہیں۔
جیساکہ گزشتہ دِنوں قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے قانون و اِنصاف نے قومی احتساب بیورو(نیب) کے چیئر مین جسٹس (ر)جاوید اقبال کو سابق وزیراعظم میاں نوازشریف پر 4 اعشاریہ 9 ارب ڈالر بھارت بھجوانے کے الزام کی وضاحت کے لئے طلب کیا جو ایک جانبدارانہ اقدام تھا اگرچہ چیئرمین نیب نے قائمہ کمیٹی میں پیشی سے معذرت اختیار کرلی جس پر سابق وزیراعظم نوازشریف نے چیئرمین نیب کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اُنھوں نے کمیٹی کے سا منے پیش نہ ہو کر پارلیمنٹ کی توہین کی،(جو خود سُپریم کورٹ سے اپنی نااہلی کے فیصلے کے بعد سے ابھی تک آستینیں چڑھا کر اعلیٰ عدلیہ سے محاذ آرائی کررہے ہیں کیااِن کا یہ عمل سُپریم کورٹ اور معزز ججز صاحبان کے فیصلے کی توہین نہیں ہے؟
اپنے دل پر نوازشریف ہاتھ رکھ کر بتائیں وہ خود کیا کررہے ہیں؟ اور تو اور جیسا اِنہوں نے پاکستان سے بھارت میں کئی جانے والی دہشت گردی سے متعلق اپنا حالیہ بیان دیا ہے کیا یہ مُلک اور قوم اور قومی اداروں کی توہین اور مُلک سے اِس کی بقاءو سلامتی ،استحکام اور غداری کے مترادف نہیں ہے؟) اِنہیں الزامات کی وضاحت پیش کرنا ہو گی جبکہ اِس کے برعکس سابق وزیراعظم ظفراللہ جمالی نے قومی اسمبلی کی رُکنیت سے اپنا استعفیٰ پیش کر دیا ہے جن کے اِس طرح قومی اسمبلی کی رُکنیت سے استعفیٰ دیئے جانے کے عمل میں کچھ نہیں بلکہ بہت کچھ پوشیدہ ہے۔ اَب اِسے کوئی اپنی ضد اور ہٹ دھرمی پر قا ئم رہ کر نہ مانے یا اِس پر کوئی کچھ بھی کہے مگر درحقیقت دیکھا جائے تو اسمبلی فلور سے دیاجانے والا استعفیٰ اور ظفراللہ جمالی کے استعفیٰ سے پہلے والی اِن کی تقریر اور اظہارِخیال میں اداکئے گئے یہ جملے “اسمبلی میں جھوٹ بولا، اداروں کو بُرا کہا گیا، چیئرمین نیب کو نکالتے ہیں تو اِن کی تقرری کرنے والے وزیراعظم اور اپوزیشن لیڈر بھی استعفیٰ دیں” بڑی تاریخی اہمیت کے حامل ہیں اور اپنے اندر سمندر کی گہرائی سے کہیں زیادہ گہرا ئی اور وسعت رکھتے ہیں ؛
 آخر ہمارے یہاں سِول حکمران بھی جمہوریت کی اُوٹ سے کب تک اپنی ایک مخصوص سوچ و فکر اور سیاسی تفکر کی بنیاد پراپنی سِول آمریت کی آبیاری کرتے رہیں گے؟ ظفراللہ جمالی کا استعفیٰ ایسے ہی سِول آمروں کے رویوں اور طرزِ سیاست کے خلاف بارش کا پہلاقطرہ اور ایک کمزور سہی مگر اُس پہلی دیوار کی بنیاد ثابت ہوگا آئندہ جس کی مضبوطی اور پائیدار کے لئے دوسرے بھی اِس جانب اپنے قدم بڑھا ئیں گے۔
بہر حال ،موجودہ صدی میں دنیا کے زیادہ تر ممالک میں حکومتیں جمہوری طرز عمل سے چلائی جارہی ہیں یہی وجہ ہے کہ آج جن ممالک میں جمہوریت اپنے عروج پر ہے وہ دوسروں کے لئے مشعلِ راہ ہے مگر جہاں ابھی تک یہ پوری طرح سے پنپ نہیں سکی ہے یقینا وہاں کے زمینی اور سیاسی حقائق اِس کے لئے موافق نہیں ہوں گے تب ہی وہاں جمہوریت اچھی طرح پروان نہیں چڑھ سکی ہے۔
آج اگر ہم اپنا جائزہ لیں تو ایک لحاظ سے ہم خوش قسمت ہیں کہ پاکستان میں کسی نہ کسی طرح پارلیمانی جمہوریت اور آمریت دونوں ہی برابر رائج رہی ہیں اپنے قیام کے ستر سال کا موازنہ کریں تو اِس عرصے کے دوران جمہوریت اور آمریت میں زیادہ چھوٹائی بڑائی نظر نہیں آتی ہے لگ بھگ دونوں ہی کی عمریں برابر ہیں بات جمہوری تقاضوں کو روشناس کرانے اور اِس کے ٹھیک ثمرات ہر خاص وعام اور عوام الناس تک پہنچا نے سے ہی پاکستا ن میں جمہوریت اپنی لمبی عمر پاسکتی ہے ور نہ؟
 
آج جیسے ہمارے زمینی اور سیاسی حقائق ہیں ہم رہی سہی جمہوریت سے بھی با دل خواستہ کہیں ہاتھ نہ دھوبیٹھیں ،جیسا کہ آج کل رواں حکومت کے اداروں سے ٹکراؤ کی وجہ سے لولی لنگڑی ہماری جمہوری حکومت پر کسی طرف سے پھر شب خون مارا گیا تو عین ممکن ہے کہ آمریت کی عمر جمہوریت کے مقابلے میں ایک دہائی یا اِس سے بھی زیادہ بڑھ جائے آج جیسا کہ ہوتا نظرآرہا، ورنہ ایسا ہو بھی نہیں سکتا ہے۔
بہر کیف ،اِس منظر اور پس منظر میں اتنا ضرور ہے کہ آج کل اشرافیہ اور عوام الیکشن سے پہلے اپنی ذمہ داریوں کے لئے کمر بستہ ہو رہے ہیں، مُلک کے حکمران اشرافیہ اپنے کارناموں کی لسٹ تھامے عوامی اجتماعات میں اپنے گن گارہے ہیں تو دوسری جانب عوام ہیں کہ اپنے مسائل کا رونا روتے دِکھائی دیتے ہیں دونوں جانب کشمکش کا ایک عالم ہے کہ جو جاری ہے؛
ایسے میں اشرافیہ کا خیال ہے کہ ستر سال سے عوام حکمرانوں اور سیاستدانوں سے ناراض ہی رہے ہیں کب یہ کبھی کسی سے خوش ہوئے ہیں؟ اِس کے باوجود یہی ہر بار الیکشن میں سیاستدانوں کو ووٹ دیتے ہیں اور حکومتیں بنواتے ہیں، پھر روتے رہتے ہیں کہ اشرافیہ نے عوامی مسائل حل نہیں کئے،اِس مرتبہ بھی حکومتیں چلانے والے عوام سے متعلق یہی سوچ رکھتے ہوئے عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے لئے آرہے ہیں اور دردر کی خاک چھان رہے ہیں مگر عوام کو اِن بہروپ سیاستدانوں کے مفادات کو مدِنظررکھتے ہوئے اگلے متوقع انتخابات میں اپنی ذمہ داریاں سوچ سمجھ کر ادا کرنی ہوں گیں ورنہ عوام کے ہاتھ میں اگلے پانچ سال تک پھر سِوائے بجلی گیس اور پانی کے بحرانوں اور مہنگائی سمیت دیگر مسائل کے کچھ ہاتھ نہیں آگے گا۔
image_pdfimage_print

Comments - User is solely responsible for his/her words

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں