ایک تھا پریشان خان


ان دنوں کی کہانی، جب عمران خان الیکشن جیت کر حکومت بناتے تھے، ڈرون حملوں پر نیٹو کی سپلائی روکتے تھے، اور طالبان سے imran-khanجنگ کی بجائے مذاکرات کی حمایت کیا کرتے تھے، اور ابھی انہوں نے دھرنا نہیں دیا تھا۔ یاد ماضی عذاب ہے یارب۔

مشیر نیازی: خان صاحب الیکشن کا نتیجہ نکل آیا ہے۔ مرکز میں حکومت بنانے کا دور دور تک کوئی امکان نہیں ہے۔ ہم پارٹی پوزیشن
کے حساب سے پارلیمنٹ میں تیسرے نمبر پر آئے ہیں۔

پریشان خان: یہ ناممکن ہے۔ میرے جلسے میں تو خوب لوگ آتے تھے۔ نوجوان مجھ پر خوب فدا تھے۔ پھر میں الیکشن کیسے ہار سکتا ہوں؟ ہم نے تو کلین سویپ کرنا تھا۔ لاہور، کراچی، اسلام آباد کے سارے لبرل میرے ووٹر تھے۔

مشیر نیازی: خان صاحب لاہور کراچی سے تو آپ کو زیادہ سیٹیں نہیں ملیں۔ دھاندلی ہو گئی ہے۔ لیکن حالات اتنے برے نہیں ہیں۔ سرحد میں آپ کو ووٹ مل گئے ہیں۔ وہاں آپ کی حکومت ہے۔

پریشان خان کیا کہا؟ سرحد میں مجھے ووٹ مل گئے ہیں؟ مروا دیا۔ یہ تو دھاندلی ہو گئی ہے۔ میاں نواز شریف نے مجھے مروا دیا۔

مشیر نیازی: اچھی خبر ہے خان صاحب۔ مولانا نے میاں صاحب کو قائل کرنے کی کوشش کی ہے کہ وہ دونوں مل کر حکومت بنا لیں گے اور ہم اپوزیشن میں بیٹھیں گے۔

پریشان خان: شکر ہے۔ مولانا ہمارے حق میں اتنے برے نہیں جا رہے ہیں۔

مشیر نیازی: لیکن میاں صاحب نہیں مانے۔ کہتے ہیں کہ تحریک انصاف کو حکومت کرنے دو۔

پریشان خان: میں پہلے ہی کہتا تھا کہ میاں صاحب ہمارے خیر خواہ نہیں ہیں۔ بہرحال کچھ کرتے ہیں۔ ایسا کرو کہ کسی ایشو پر احتجاج کی کال دے دو۔

adnan-khan-kakar-mukalima-3مشیر نیازی: کس ایشو پر خان صاحب؟ ۔

پریشان خان: امن و امان کی صورت حال پر دے دو۔

مشیر نیازی: ٹھیک ہے سر۔

اگلے ہفتے مشیر نیازی اور پریشان خان کی پھر ملاقات ہوتی ہے۔

مشیر نیازی: خان صاحب امن و امان کی صورت حال پر ہمارے احتجاج کو میڈیا نے خوب اچھالا ہے۔

پریشان خان: گڈ۔ مجھے پتہ تھا کہ ایسا ہی ہو گا۔

مشیر نیازی: لیکن وہ سب کہہ رہے ہیں کہ امن و امان صوبائی مسئلہ ہے اور ہماری حکومت اس کی ذمہ دار ہے۔ لوگ ہمارے نمائندوں کو ٹاک شوز میں خوب دھو رہے ہیں۔

پریشان خان: بیڑہ غرق۔ یہ تو خیال ہی نہیں آیا کہ پولیس صوبے کے تحت ہوتی ہے۔ اچھا اب سب کو بتاو کہ یہ مسئلہ ڈرون کی وجہ سے ہے۔ ڈرون حملے رکیں گے تو پھر ہی کچھ ہو گا۔ ۔ میاں صاحب عقل سے فارغ ہیں ان کو حکمت عملی سے چت کرتا ہوں۔ اس ترکیب سے امریکہ کو ان کے پیچھے لگا کر ان کا مرکزی حکومت کا نشہ تو ہرن کرتا ہوں۔ چند دن میں ہی معافی مانگتے ہوئے آئیں گے کہ مرکزی حکومت تم سنبھالو، ہمارے بس سے باہر ہے۔

مشیر نیازی: بہتر خان صاحب۔

اگلے ہفتے مشیر نیازی دوبارہ حاضر ہوتا ہے۔

مشیر نیازی: خان صاحب ڈرون والی بات پر بھی سب نے ہمیں ہی پکڑ لیا ہے۔ کہتے ہیں کہ ڈرون حملے رکوانے کے لیے ہم نے اسمبلی میں کوئی زور کیوں نہیں لگایا۔ حکومت امریکہ کو کس طرح مجبور کر سکتی ہے کہ ڈرون حملے نہ کرے۔ اب تو وہ یہ حملے افغانستان سے کرتے ہیں۔ لوگ مرکزی حکومت سے ہمدردی کرنے لگے ہیں۔ یہ تو ہمارے ہی گلے پڑ گیا ہے۔

پریشان خان: اوہ، یہ تو برا ہوا۔ ایسا کرتے ہیں کہ اعلان کر دیتے ہیں کہ ہم کل سے نیٹو سپلائی بند کر رہے ہیں۔ ایسا کریں گے تو امریکہ کے ہاتھ پاؤں پھول جائیں گے۔ انہیں پتہ چلے گا کہ پاکستان کی بڑی اہم سٹریٹیجک پوزیشن ہے۔ کل نیٹو سپلائی روکنے کا اعلان کر دو۔

مشیر نیازی: جیسا حکم خان صاحب۔

اگلے دن بات چیت آگے بڑھتی ہے۔

پریشان خان: سپلائی روکنے کی تیاری مکمل ہے نہ؟ بس میں بھی کپڑے بدل کر آ رہا ہوں۔ گاڑی تیار کرواؤ۔

مشیر نیازی: خان صاحب، کسی نے بتایا ہے کہ ہمارے صوبائی بجٹ کا ایک بڑا حصہ امریکی امداد سے آتا ہے۔ نیٹو سپلائی روک کر ہم مارے نہ جائیں۔ صوبہ کیسے چلے گا۔

پریشان خان: اچھا اعلان کر دو کہ سپلائی کو اگلے ہفتے روکیں گے۔ جب تک امریکہ خوب اچھی طرح سوچ سمجھ لے۔ ورنہ۔۔۔۔۔

اگلے ہفتے۔۔۔

مشیر نیازی: امریکہ تو لفٹ ہی نہیں کرا رہا ہے۔ بلکہ کل اس نے ایک اور ڈرون حملہ کر دیا ہے۔ میڈیا ہمارا خوب مذاق اڑا رہا ہے۔

پریشان خان: لگتا ہے کہ دھرنا دینا ہی پڑے گا۔ کل دھرنا دے دو۔

اگلے دن مشیر نیازی پھر حاضر ہوتا ہے۔

مشیر نیازی: خان صاحب میڈیا پر لوگ پوچھ رہے ہیں کہ نیٹو سپلائی روکنے کے لیے صوبائی حکومت کیسے دھرنا دے سکتی ہے؟ کسی غیر ملکی طاقت سے معاہدے وفاقی حکومت کے دائرہ کار میں آتے ہیں۔ صوبائی حکومت کیسے اس معاملے میں دخل اندازی کر سکتی ہے۔ اس آئینی خلاف ورزی پر تو مرکزی حکومت یہاں گورنر راج بھی لگا سکتی ہے اور عدالت کے ذریعے ہمیں خوب پریشان بھی کر سکتی ہے۔ کافی شرمناک سلوک ہو جائے گا ہمارے ساتھ عدالت میں۔

پریشان خان: شرمناک؟ اف خدایا۔ دوبارہ نہیں۔ اچھا ایسا کرو کہ بیان جاری کر دو کہ صوبائی حکومت کا اس میں کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ ہماری پارٹی غیر سرکاری طور پر سڑکیں بند کر کے نیٹو سپلائی روک رہی ہے۔

شام کو مشیر نیازی آتا ہے۔

مشیر نیازی: خان صاحب، اب سب کہتے ہیں کہ قومی شاہرائیں کوئی بھی فرد یا جماعت بند کرے تو اسے کھولنا صوبائی حکومت کی ذمہ داری ہے کیونکہ پولیس اس کے تحت آتی ہے۔ ہماری پولیس نے ہمارے کارکن پکڑ کر اندر کرنے شروع کر دیے ہیں اور ان پر سنگین مقدمے بن رہے ہیں۔

پریشان خان: یہ تو بڑی گڑبڑ ہو گئی ہے۔ اچھا نیٹو سپلائی رکی یا نہیں؟۔

مشیر نیازی: جناب وہ تو دھرنے سے ہفتہ پہلے ہی رک گئی تھی۔ اب وہ چمن سے مال بھیج رہے ہیں۔ ٹرک نہ ملنے پر ہمارے دھرنے والے لڑکے بور ہو کر اب تانگے ریڑھے اور رکشے تک روک کر ان کو چیک کر رہے ہیں کہ ان پر نیٹوسپلائی تو نہیں جا رہی ہے۔ ابھی دوپہر کھانے کے بعد جو خربوزے کھائے تھے وہ ایک نیٹو سپلائی والے رکشے سے ہی برآمد ہوئے تھے۔

پریشان خان: پچھلے ہفتے سے؟ اچھا اس کا مطلب یہ ہے کہ امریکہ گھٹنے ٹیک رہا ہے۔ میاں صاحب خواہ مخواہ ہی ڈر رہے تھے۔ پاکستان کے علاوہ وہ کہاں سے سپلائی لے جا سکتے ہیں۔ ایران سے ان کی دشمنی ہے۔ ایرانی ان کو شیطان بزرگ کہتے ہیں اور وہ ایرانی حکومت کو گرانے میں لگے ہوئے ہیں۔ آج کل بھِی ایرانی ایٹمی تنازعے کی وجہ سے آگ خوب لگی ہوئی ہے۔ سعودی عرب اور اسرائیل مل کر امریکہ پر زور ڈال رہے ہیں اور وہ جلد ہی گھٹنے ٹیک کر یا تو ایران کے خلاف سخت ترین پابندیاں لگا دے گا یا پھر حملہ ہی کر دے گا۔ دوسری طرف وسط ایشیا سے لے جانے پر ان کا تیس گنا زیادہ خرچہ ہوتا ہے۔ ان کو گھٹنے ٹیکنے ہی پڑیں گے۔ اور ہماری من مانی شرائط تسلیم کر کے ہمیں پیسے بھی زیادہ دیں گے اور ڈرون حملے بھی روکیں گے۔

اگلے دن مشیر نیازی دوبارہ آتا ہے

مشیر نیازی: خان صاحب امریکہ اور ایران کی صلح ہو گئی ہے۔ اب چابہار کی بندرگاہ سے نیٹو کا سامان جائے گا۔ بلکہ خبر یہ ہے وہاں تک کی نئی بنی ہوئی سڑکیں نیٹو کو چھوٹی بھی پڑتی ہیں اور محفوظ بھی۔ نیٹو نے خود بنوائی ہیں پچھلے سال ہی۔

پریشان خان: میاں نواز شریف نے ہمیں مروا دیا۔ اچھا کچھ اور سوچتے ہیں۔ ایسا کرتے ہیں کہ طالبان سے مذاکرات کرنے کے مسئلے پر احتجاج کرنے کا اعلان کر دو۔ ان کے خلاف آپریشن سے امن و امان کا مسئلہ پیدا ہوتا ہے۔

مشیر نیازی: خان صاحب ساری جماعتیں اور میڈیا تو آپریشن کی حمایت کر رہی ہیں۔ میاں صاحب بھی یہی چاہتے ہیں۔

پریشان خان: یہی تو موقعہ ہے اپوزیشن کا رول پلے کرنے کا۔ خوب شور مچاؤ کہ مذاکرات ہونے چاہئیں، آپریشن سے تباہی آئے گی۔ اسی سے ہماری ساکھ بنے گی اور لوگوں کی توجہ مسئلے کی اصل جڑ یعنی مرکزی حکومت پر مبذول رہے گی۔

ایک ہفتے کے بعد مشیر نیازی حاضر ہوتا ہے۔

مشیر نیازی: خان صاحب سب نے پورا زور لگایا کہ حکومت آپریشن کرے۔ میاں صاحب پر خوب پریشر ہے۔

پریشان خان: میاں صاحب کو پھنسا دیا ہم نے۔ تیس سال سے وہ سیاست کر رہے ہیں، لیکن ہمارے آگے ان کی کہاں چلنی ہے۔ ہماری مرکزی کونسل میں بہت پڑھے لکھے لوگ ہیں۔ میاں صاحب آپریشن کریں گے، اور پھر پنجاب میں خاص طور پر بدامنی ہو گی تو سب خیبر پختون خواہ کو بھول جائیں گے۔

مشیر نیازی: لیکن میاں صاحب نے مذاکرات کا اعلان کر دیا ہے۔ بلکہ چار رکنی کمیٹی میں ایک بندہ ہماری پارٹی کا بھی ڈال دیا ہے۔ اب مذاکرات ناکام ہوئے تو ذمہ داری ہم پر بھی آئے گی اور بدامنی کا الزام بھی ہم پر ہو گا۔

پریشان خان: یہ تو برا ہوا۔ بہرحال، طالبان کے نمائندوں سے یہ مذاکرات کریں گے تو ان کے کس بل نکل جائیں گے۔

مشیر نیازی: جناب طالبان نے بھی اپنی کمیٹی کا اعلان کر دیا ہے اور آپ کو اس میں اپنا نمائندہ مقرر کر دیا ہے۔

پریشان خان: میرے ساتھ ہمیشہ ایسا کیوں ہوتا ہے؟۔


Comments

FB Login Required - comments

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 328 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar

4 thoughts on “ایک تھا پریشان خان

  • 22-04-2016 at 11:48 pm
    Permalink

    Muhammad Younis Mashori

  • 23-04-2016 at 7:25 am
    Permalink

    Nice piece as usuall but adnan sahib please ye sarhad nahi haen ye Pakhtunkhwa haen, ya chalaen Khyber b laga daen, laeken Sarhad na kahae. SHurya

  • 23-04-2016 at 1:48 pm
    Permalink

    محترم اچھا لکھتے ہیں آپ، مگر آپ اور بھی اچھا لکھ سکتے ہیں اگر سچ لکھیں اور ذاتی بغض کو بالاۓ طاق رکھیں، شکریہ

  • 23-04-2016 at 6:20 pm
    Permalink

    امید ہے ابھی یہ sequal چلے گا کیونکہ کہانی ابھی باقی ہے

Comments are closed.