دوپٹہ تو اوڑھ لو…


ہائیکنگ کے لیے جاتے ہوئے شاہ فیصل مسجد کے قریب سے گزرےتو پیچھے سے آواز آئی … “دوپٹہ تو اوڑھ لو۔” اب جاگنگ سوٹ میں دوپٹہ ساتھ آیا ہی نہیں تھا تو اوڑھا بھی نہیں ۔۔۔ مڑ کر نہیں دیکھا، معلوم تھا ہو نہ ہو یہ آواز ضیا الحق کی قبر یا اس کے کسی مجاور کی ہوگی … لیکن اس کی قبر پہ تو کوئی  مجاور ہوتا ہی نہیں۔

لیکن دوپٹّے کا خیال آتے ہی پہلے طارق روڈ پر ہم یونیورسٹی کی دوستوں کے سر پر پڑنے والی چھڑی اور آوازیاد آئی کہ دوپٹہ تو اوڑھ لو اور پھرذہن  ضیا ءالحق اور بعدازاں مہتاب اکبر راشدی کی جانب چلا گیا—ٹریکنگ کے دوران ذہن میں بس یہی بات گردش کرتی رہی کہ جب ضیاء الحق نے خواتین کے لیے سر پر دوپٹہ  لینا لازمی قرار دے دیا تو یہ پی ٹی وی میزبان مہتاب چنا (آج کی مہتاب اکبرراشدی) ہی تھیں جنہوں نے آواز بلند کی اوراس حکم نامے کو مسترد کیا۔

“دوپٹہ تو اوڑھ لو” کی یہ آواز میں نے اور سب عورتوں نے بارہا سنی ہے۔  بسوں میں، سڑکوں پر، بازاروں میں، اسپتالوں میں، مسجدوں کے سامنے چونکہ اندر جانے کی تو اجازت ہی نہیں ہے … لگتا تھا جیسے یہ لوگ بازار یا جلوس میں صرف اسی کام کے لیے آئے ہیں۔ لیکن آج یہ آواز سن کر… میرے  عزیز ہم وطنو اور بینڈ کی آواز بھی ساتھ چلی آئی تو چل سو چل… شاید یہ میری جاری ریسرچ کی وجہ سے ہوا۔ میں ملک میں ثقافتی آزادی پر کام کررہی تھی…

گھر واپس آئی، مہتاب آپا کا نمبر تلاش کیا ان سے بات کرنی چاہیے، جیسے یہ “دوپٹہ تو اوڑھ لو “اٹک گیا۔ مجھےلگا ان کو بھی اٹک ہی گیا ہوگا…

فون کی گھنٹی بجی، میرا مدعا سن کر شفقت بھری آواز میں دعا… کھنکھناتی ہوئی ہنسی … ارے پچھلے ہفتے تو ہم سندھ اسمبلی میں کھڑے عورتوں کے ووٹ کے حق پر بات کر رہے تھے، یہ اتنی دور کی کوڑی کہاں سے لے آئیں۔ میں نے ان کو اپنی ریسرچ کا بتایا۔ اور ان سے “دوپٹہ اوڑھنا پڑے گا “سے “دوپٹہ تو اوڑھ لو ” تک کی کہانی پر بات چیت ہوئی۔ سنہ 77  کی مہتاب چنا نے ضیاء حکومت، اسلامائزیشن کے بارے میں بتایا۔ انہوں نے تفصیل سے بتایا کہ جیسے ہی ضیا کی حکومت آئی تو سب سے پہلے تو یہ کہا گیا کہ یہ جو خواتین اینکرز، انائونسرز، پروگرام کمپیر ہوتی تھیں ان سب پر یہ لاگو کردیا گیا ہے کہ وہ اپنا سر ڈھک کر آئیں گی۔ میرے سامنے اگر خواتین میرے پروگرام کی مہمان ہیں تو ان کے اوپر یہ پابندی نہیں تھی لیکن جو خواتین پی ٹی وی کے لیے کام کررہی تھیں ان سب کے لیے یہ لازمی قراردے دیاگیا۔ باقاعدہ ایک نوٹیفیکیشن نکلا۔

اس وقت میں ایک پروگرام کرتی تھی ، سندھی میں ‘موتین جی مالہا’، سلطانہ صدیقی اس کی پروڈیوسر تھیں تو میں نے سلطانہ سے کہا کہ میں تو دوپٹہ نہیں اوڑھوں گی ۔ تو وہ کہنے لگی کہ یہ تو آرڈر آگئے ہیں میں نے کہا تھینک یو ویری مچ آپ اپنی کوئی دوسری پروگرام کمپیر ڈھونڈیں۔ سلطانہ صدیقی مجھے اس وقت کے پروگرام مینیجر محسن علی کے پاس لے گئیں ۔ تو محسن بھائی سے میں نے کہا کہ میں تو نہیں آرہی تو وہ ہنسنے لگے۔ قہقہہ … اس وقت پی ٹی وی کے پروگرام سٹیلائیٹ نہیں تھے۔ پروگرام ریکارڈ ہوتے تھے پھر دکھائے جاتے تھے۔ صرف سینٹرل ٹرانسمیشن دیکھنے کو ملتی تھیں۔ مطلب خبریں کراچی سے چل رہی ہیں تو وہ صوبائی سطح پر دیکھی جاتی تھیں۔ تو محسن بھائی نے یہ کہا کہ دیکھو یہ تو ریجنل پروگرام ہے، سندھی میں ہوتا ہے، اسے اسلام آباد میں تو کوئی دیکھتا ہی نہیں ہے اور یہ وہاں دیکھا ہی نہیں جائے گا تو کیری آن کریں جب تک ان کی نظر اس پر پڑے، تو ہم نے کہا ٹھیک ہے۔ اس کے بعد عارفین صاحب نے ہمیں ایک پروگرام آفر کیا، فروزاں جوانوں کے لیے اسٹیج پروگرام تھا، انہوں نے کہا کہ یہ پروگرام آپ کریں تو میں نے ان سے کہا کہ عارفین صاحب یہ احکامات آئے ہوئے ہیں کہ سر پر دوپٹہ اوڑھنا ہے تو سر پر دوپٹہ اوڑھ کر میں پروگرام نہیں کروں گی ۔

اس پر عارفین نے کہا کہ بات سنیں یوں کرتے ہیں کہ آپ ساڑھی پہن کر آیا کریں پروگرام میں- تو میں ہنسی کہ اس کا کیا مطلب؟ ساڑھی پہننے سے کیا ہوگا؟ میں نے کہا اس میں تو بلاوز پہنتے ہیں تو آدھا پیٹ نظر آتا ہے۔ہماراطویل قہقہ… میں نے کہا وہ آپ کو قابل قبول ہے۔ میں نے کہا میں ساڑھیاں پہنتی ہوں آئی ڈونٹ کئیر لیکن یہ منطق مجھے سمجھ میں نہیں آئی۔ تو انہوں نے ہنس کر کہا کہ یوں کریں گے نا کہ جب آپ اندر داخل ہو اسٹیج سے تو آپ ایسے پلو ڈال لیں سر پر۔ پھر جیسے ہی آئیں تو وہ کھسکے رہے۔ کیا پتہ چلتا ہے۔ میں نے کہا”میں سر پہ وہ پلو بھی نہیں ڈالوں گی میں بالکل بھی نہیں ڈالوں گی۔ اگر قبول ہے تو میں ساڑھی پہن کر آجاوْں گی لیکن میں نہیں پلو ولو ڈالتی۔ اگر کسی کو یاد ہو تو انہوں نے میرے سارے پروگرام اسکریچ کر دیے تھے مٹا دیے تھے۔ “

انہوں نے بتایا کہ ایک دن محسن بھائی نے فون کیا اور کہا مہتاب بہت ضروری بات کرنی ہے– اور آپ کی مدد کی ضرورت ہے ۔ میں نے کہا جی جی محسن بھائی آپ فرمائیں۔ کہنے لگے کہ وہ پریزیڈنسی سے ہمیں ٹیلفون آرہے ہیں کہ آپ سر پہ دوپٹہ نہیں لیتیں جو پروگرام ہو رہا ہے، اس کی وجہ سے آپ کی مدد کی ضرورت ہے، میں نے کہا جی جی محسن بھائی میں آپ کی مدد کرتی ہوں تو انہوں نے کہا کیسے؟ میں نے کہا میں نہیں آتی آپ کے پروگرام میں۔ تو دوسری طرف سے مجھے جواب ملا تھینک یو ویری مچ اور فون رکھ دیا گیا۔ وہ بیچارے اتنے پرسکون ہوگِئے جیسے ان کے سر سے بوجھ اتر گیا ہو –

وہاب صدیقی کی بڑی اسٹوری ڈیلی ٹائمز میں آئی “لا دوپٹہ… جو فرنچ ایکسپریشن ہوتا ہے دا (the)کا- اس کے ساتھ وہ پوری کہانی انہوں نے چھاپ دی – وہ چھپنی تھی تو پھر لوگوں کو پتہ چلا کہ دراصل ہوا کیا ہے ؟ پھر ڈان میں لیٹر ٹو ایڈیٹر فلان فلاں ، پھر وومن ایکشن فورم والوں نے انوائیٹ کیا ۔ بہت مشکل زمانہ تھا وہ ….

فون بند ہوا۔ اور میں سوچ رہی تھی کہ کیا حائل ہے سر پر دوپٹہ اوڑھنے میں اور نہ اوڑھنے میں؟ پھر میں نے سوچا میں کیا کرتی؟ کیا یہ واقعی اتنا بڑا مسئلہ تھا اور ہے اس کے پیچھے ۔ یہ انا کا مسئلہ نہیں، نہ ہی اس کے پیچھے کوئی سیاسی زاویہ تھا۔  دراصل مسئلہ دوپٹہ اوڑھنے یا نہ اوڑھنے کا نہیں تھا۔ اس سوچ  کا تھا جو ضیا ان پابندیوں کے ذریعے مسلط کرنا چاہتا تھا۔ اور وقت نے آگے چل کر ثابت کردیا کہ ضیا کو اسلام سے نہیں، اپنے اقتدار کو اسلام کے نام پر طول دینے سے دلچسپی تھی۔

میں سمجھتی ہوں ہر پاکستانی عورت کو جو اس سماج میں پلی بڑھی ہے،اس کو معلوم ہے اسے دوپٹہ کب اوڑھنا ہے۔ اس کو کبھی احتراما، کہیں محبتاً، اور کبھی موسم کے گرم و سرد سے بچنے کے لیے دوپٹہ لے لینے میں کوئی حرج محسوس نہیں ہوتا۔  یہ بہت عام بات ہے کہ بڑے بیٹھے ہوئے ہیں تو لڑکیاں اور عورتیں دوپٹہ اوڑھ لیتی ہیں، میلاد میں بیٹھی ہیں تو دوپٹہ اوڑھ لیتی ہیں، اوربہت سی دیگر جگہوں پر، جیسے شہری عورت گاوْں جائے تو دوپٹہ سر پر اوڑھ لیتی ہے۔ کیونکہ یہ قبولیت اور غیر قبولیت کی بات ہوتی ہے  ۔لیکن یونیورسٹی میں، کالج میں دفاتر میں آپ کی عزت اور احترام آپ کی قابلیت کی وجہ سے کی جاتی ہے  یا کی جانی چاہیے، وہاں آپ کواس بات کی فکر نہیں ہوتی کہ اگر آپ نے سر پر دوپٹہ نہیں اوڑھا تو آپ کی قابلیت پر حرف آئے گا۔ سڑکوں یا بازاوں میں یا کسی مسجد کے سامنے سے گزرتے ،ماتمی جلوس میں جاتے کسی کا یہ کہنا کہ “دوپٹہ تو اوڑھ لو” دخل در معقولات کے علاوہ منافقت بھی لگتا ہے کہ آپ باہر نکلتے ہی دوبارہ اپنا دوپٹہ جھٹک کر اتار دیں گی اور چلی جائیں گی۔

پھر مجھے یہ خیال  بھی آیا کہ کیا پاکستانی عورت واقعی ہر وقت سر پر دوپٹہ اوڑھے رہتی تھی اور ہے۔ کیا اس حکم نامے کے ذریعے جس پاکستانی عورت کا چہرہ دنیا کو دکھانے کی کوشش کی گئی تھی اس کا وجود تھا بھی یا نہیں ۔ پاکستانی عورت اُس وقت بھی اور آج بھی کام کرنے والی عورت ہے۔ وہ کام کر رہی ہے، جس دفتر، اسکول یا میڈیم پر وہ کام کرتی ہے اس کو معلوم ہے کیسے ملبوس ہو۔ جو گاوں دیہات میں کھیتوں میں کام کر رہی ہے۔ سڑکوں پر پتھر کوٹ رہی ہے وہ بھی پاکستانی عورت ہے جو باہر نکل کر کام کررہی ہے کیا اس کو بھی ہر وقت یہ سننا پڑتا ہے۔۔ جو فیکڑیوں میں کام کررہی ہے، وہ بھی پاکستانی عورت ہے تومجھے سمجھ آیا کہ مسئلہ اصل صرف دوپٹہ اوڑھنے کا نہیں ۔ پاکستانی عورت کی جس شخصیت کو دوپٹے کے ملمع کے ساتھ دکھانے کا تھا۔ ا س کا وجود کہیں تھا ہی نہیں اور یہ بھی سراسر منافقت ہے ۔

عورت کو کیا کرنا ہے،کیا نہیں کرنا؟ عورت یہ کرے اور عورت وہ کرے – تو  اب حال یہ ہوگیا ہے کہ لڑکیوں سے کہا جاتا ہے کہ بیٹا اگر تم کلاس میں حجاب اوڑھ کر آتی ہو- تو پانچ نمبر زیادہ ملیں گے۔ یہ کیا ہے؟ بجائے اس کے کہ آپ بچیوں کو حجاب کی اہمیت بتائیں ۔ آپ کہتے ہیں کہ پانچ نمبر لو- یہ ترغیب دیتے ہیں۔ تو کتنی غلط عادت ڈال رہے ہیں اپنے نسلوں کو۔۔۔ ہم اتنے کنفیوز ہوگئے ہیں کہ تمام چیزوں کو مذہب سے جوڑ لیتے ہیں اور اس کا پورے کا پورا اطلاق عورت پرہی ہوتا ہے ۔ اور کسی پر نہیں آپ کا بس چلتا –

 آپ صرف عورتوں کو مجبور کرتے ہیں مردوں کو بھی احتراما ٹوپی پہنا دیں نہ….

مجھے ہمیشہ سے یہ لگتا ہے کہ یہ شخصی آزادی کی بات ہے– جو حجاب لیتی ہیں ان پر کسی تنقید کو جائز نہیں سمجھتی کیونکہ ان کی مرضی ہے لیکن آپ دوسروں کو نہیں مجبور کریں- آپ مذہب کا نام لے کر دوسروں کو خواہ مخواہ پابند بنانے کی کوشش نہیں کریں۔ آپ لوگوں کو اپنی زندگی کے چھوٹے چھوٹے فیصلے خود کرنے کا اختیار دیں تو بہتر ہے۔ اگر آپ ان سے سوچ سمجھ کر ذاتی فیصلے کرنے کے اختیار چھین لیں گے تو  ان کی سوچنے اور فیصلہ کرنے کی قوت و قابلیت ٹھٹھر کر رہ جائے گی۔ دوسروں کے فیصلوں پر دارومدار بڑھے گا اور اپنی ذات کے حوالے سے ذمہ داری لینے کی عادت نہیں پڑے گی۔ آپ آزاد ہیں آپ سب کرسکتے ہیں لیکن پھر آپ سماجی طور پر ذمہ داربنتے ہیں- جس سے آپ کا کردار مضبوط ہوتا ہے ۔ فیصلے کی آزادی ہونی چاہیے ، مشاہدے کی آزادی ہونی چاہیے، تاکہ آپ پرکھیں اور ذمہ داری کے ساتھ اختیار کریں –

مجھے معلوم ہے  کچھ لوگ  میری اس بات کو بھی  “کھانا خود گرم کرلو”  کی طرح آوٹ آف کانٹیکس لیں گے۔ تو ان کے لیے عرض ہے کہ دوپٹہ اوڑھنا یا نہ اوڑھنا  خود انحصاری کا  سمبل  نہیں لیکن اختیار کرنے کا حق (Choice) امپاورمنٹ (Empowerment)  ہے۔ اور موقع کی مناسبت سے اوڑھنے یا نہ اوڑھنے کا اختیار امپاورمنٹ ہے۔

image_pdfimage_print

Comments - User is solely responsible for his/her words
نصرت زہرا کی دیگر تحریریں
نصرت زہرا کی دیگر تحریریں

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں