کیا نواز شریف پر آرٹیکل چھ کے تحت مقدمہ چل سکتا ہے؟


معزول وزیراعظم نواز شریف پر کیا آئین کے آرٹیکل چھ کے تحت مقدمہ چل سکتا ہے جس کا مطالبہ سیاستدان اور ماہرین ان کے ممبئی حملوں سے متعلق انتہائی متنازع بیان پر کر رہے ہیں۔ آرٹیکل چھ کے تحت الزامات بڑے مخصوص اور قطعی ہیں۔ یہ انتہائی غداری کا معاملہ ہے لیکن اس کے تحت آئین کی خلاف ورزی نہیں بلکہ اس کی تنسیخ یا اسے سبوتاژ کرنے کے الزام سے نمٹا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ تعزیرات پاکستان کی بھی شقیں ہیں جو بغاوت کے الزام سے نمٹتی یا آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت آتی ہیں ۔ حتیٰ کہ یہ بھی یہاں لاگو نہیں ہوتیں۔ لہٰذا انہیں یہاں فی الحال مورد الزام نہیں ٹھہرایا جا سکتا خصوصاً جب بات بغاوت کے الزام یا او ایس اے لاگو کرنے کی ہو۔ یہ انتہائی سنگین الزامات ہیں جس کی انتہائی سزا جرم ثابت ہونے پر موت ہے۔ کچھ قانونی ماہرین کی رائے میں نواز شریف کا بیان، انٹرویو یا اظہار خیال آئین کے آرٹیکل 19 کے زمرے میں آ سکتا ہے جو ملک کے تمام شہریوں کو اظہار رائے کی آزادی تو دیتا ہے لیکن یہ بھی مناسب حدود و قیود کے ساتھ مشروط ہے جو ملکی سلامتی ، یکجہتی اور دفاع کو مدنظر رکھتے ہوئے قانون نے نافذ کی ہے۔

ایسے بیانات اور الزامات سے نمٹنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ جواب میں بھی تردید میں سخت ترین بیان جاری کیا جائے جیسا کہ قومی سلامتی کونسل نے کیا۔ خفیہ راز کا افشاء اس زمرے میں نہیں آتا۔ یہ تمام باتیں نواز شریف کو ان کے غیر ذمہ دارانہ بیان سے بری نہیں کرتیں۔ وہ ملک کے تین بار وزیراعظم رہے۔ وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی سمیت ان کی پارٹی کی حکومت عسکری قیادت کے ساتھ شدید الجھن کا شکار ہے جس نے قومی سلامتی کونسل کے ذریعہ اپنی انتہائی ناگواری کا اظہار بھی کیا۔ نواز شریف کے بیان نے پاکستان کے قومی مفاد کو ٹھیس پہنچائی اب جبکہ معزول وزیراعظم کو اپنے بیان پر اپوزیشن کے شدید ردعمل کا سامنا ہے وہیں خود ان کی پارٹی اور حکومت بھی شدید مشکل میں آ گئے ہیں لیکن توقع یہی ہے کہ سیاست دان اور دفاعی تجزیہ کاروں سمیت ماہرین آرٹیکل چھ  کے تحت انتہائی غداری کے الزام میں مقدمہ چلانے کے مطالبے میں قانونی اور حقائق کی بنیاد پر حق بجانب ہوں۔

انتہائی حیران کن بات تو یہ ہے کہ اسمبلیوں نے بھی نواز شریف پر آرٹیکل چھ کے تحت مقدمہ چلانے کے مطالبے کےحق میں قراردادیں منظور کی ہیں ۔ایم کیوایم کے بانی کی جانب سے 22 اگست 2016 کے خطاب کے خلاف بھی قرارداد منظور کی گئی تھی جو خود اس مخصوص آئینی آرٹیکل کے تحت نہیں آتی۔ لہٰذا ایم کیو ایم کے بانی کے خلاف بغاوت کا مقدمہ درج کیا گیا کیونکہ ان پر اپنے حامیوں کو ریاست کے خلاف جنگ پر اکسانے کا بھی الزام ہے۔ لہٰذا یہ مشاہدہ دلچسپی کاحامل ہوگا کہ مذکورہ بالا آئینی دفعات اور شقوں کے تحت نواز شریف کے خلاف مقدمہ درج ہو سکتا ہے یا نہیں۔ سیاسی طور پر نواز شریف نے خود کو نقصان پہنچایا ہے۔ آئینی آرٹیکل چھ کے مصنفین بخوبی آگاہ تھے کہ ماضی میں سیاست دانوں نے غداری اور بغاوت کے مقدمات کا سامنا کیا۔ اسی لئے مخصوص مقاصد کے تحت آئین یہ آرٹیکل چھ ڈالا گیا۔ 1973 کے آئین کے مصنف عبدالحفیظ پیرزادہ مرحوم نے ایک مرتبہ آرٹیکل چھ کی پشت پر کارفرما جذبے کے بارے میں بتایا تھا کہ مستقبل میں کوئی طالع آزما منتخب حکومت یا وزیراعظم کو غیر آئینی طریقے سے نہ ہٹا سکے۔

یہ شق عاصمہ جیلانی کیس کے پس منظر میں شامل کی گئی جس میں پہلی بار ایک آمر کو غاصب قرار دیا گیا لیکن اس کے باوجود آئین منسوخ ہوا، التوا میں ڈالا گیا ۔ 2001 میں کٹھ پتلی پارلیمنٹ کا کردار بھی مختلف نہ تھا صرف 2013 میں آرٹیکل چھ، تین نومبر 2007 کے غیرآئینی اقدام پر جنرل (ر) پرویز مشرف پر لاگو کیا گیا چونکہ اس کی پارلیمنٹ سے توثیق نہیں کرائی گئی بعد کے واقعات اور حالات میں بظاہر عدالتی احکامات کے تحت مشرف کو محفوظ راستہ مل گیا۔ لیکن جو واقف کار ہیں وہ خوب جانتے ہیں کہ کیا کچھ ہوا۔

یہ کہا جا سکتا ہے کہ نواز شریف کے خلاف آرٹیکل چھ کے تحت مقدمے کا مطالبہ وہ شخص کر رہا ہے جو خود اس کے تحت ملزم ہے اور عدالت کی اجازت لے کر طبی معائنے کے لئے دبئی جا بیٹھا ہے۔ بدھ ہی کو انہوں نے اعلان کیا کہ وہ عبوری حکومت کے دور میں وطن واپس آ جائیں گے کیونکہ مسلم لیگ ن کے دور حکومت میں انصاف ملنے کی توقع نہیں ہے۔ نواز شریف کے بیان نے یقیناً ملک میں ہلچل مچا دی اور معاملہ سنجیدگی کے ساتھ زیر بحث ہے۔ زیادہ تر ارکان پارلیمنٹ اور سیاست دانوں نے نواز شریف پر آئین کے آرٹیکل چھ کے تحت مقدمہ چلانے کا مطالبہ کیا ہے کچھ نے تو عدالتوں اور تھانوں میں درخواستیں بھی دائر کر رکھی ہیں اس میں کوئی شک نہیں کہ 2008 کے ممبئی حملوں پر نواز شریف کے بیان نے ملکی مفاد کو نقصان پہنچایا لیکن ساتھ ہی انہوں نے اپنی پارٹی اور حکومت کو بھی پریشان کن صورتحال سے دوچار کر دیا۔ پاکستان کی سیاسی تاریخ میں سیاست دانوں پر تو بغاوت اور غداری کے مقدمات چلتے رہے ہیں جبکہ ایک آمر پر پہلی بارآرٹیکل چھ کے تحت مقدمہ درج کیا گیا۔

آرٹیکل چھ کیا ہے؟ یہ نواز شریف پر لاگو ہوسکتا ہے؟ اگر نہیں تو ان کے بیان پر کوئی مقدمہ قائم کیا جا سکتا ہے؟ ایک شخص پر آرٹیکل چھ کے تحت انتہائی غداری کا مقدمہ تین شقوں کے تحت قائم ہو سکتا ہے۔ اول کسی شخص نے آئین منسوخ یا سبوتاژ کرنے کی کوشش کی، وہ انتہائی غداری کا مرتکب تصور ہوگا۔ دوسرے اس میں معاونت کرنے والا بھی برابر کا شریک اور ذمہ دار تصور ہو گا۔ تیسرے مجلس شوریٰ (پارلیمنٹ) انتہائی غداری کے مرتکب شخص کے لئے سزا تجویز کرے۔ حتیٰ کہ آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت یا غداری کےمقدمے میں سیاست دانوں اور صحافیوں پر قائم کئے گئے۔ یہ قانونی ماہرین کے مطابق نواز شریف پر لاگو نہیں ہوتا۔

1974 میں حکومت نے بائیں بازو کی جماعت نیشنل عوامی پارٹی (نیپ) پر پابندی لگائی پارٹی سربراہ عبدالولی خان مرحوم، غوث بخش بزنجو مرحوم، سردار عطاء اللہ مینگل مرحوم اور دیگر کو بغاوت کے الزام میں گرفتار کیا گیا۔ سندھی علیحدگی پسند رہنما جی ایم سید مرحوم پر بھی بغاوت کامقدمہ بنا جو ایک وقت سندھ اسمبلی میں قرارداد پاکستان کے مصنف تھے۔ مرحوم نے سندھو دیش کا مطالبہ کیا تھا وہ برسوں نظر بند رہے یہ بھی تاریخی حقیقت ہے کہ جنرل ضیاء الحق سے ان کے تعلقات بڑے اچھے رہے کیونکہ ان دونوں کا ایک ہی دشمن ذوالفقار علی بھٹو تھا۔ اس طرح ضیاء الحق نے اپنے طویل اقتدار کے لئے نیپ کے رہنمائوں جی ایم سید اور ایم کیوا یم کو خوب استعمال کیا۔ ایک اور مقدمہ بغاوت جام ساقی، پروفیسر جمال نقوی اور دیگر پر بھی تین برس تک چلا ۔آئینی اور قانونی بحث سے قطع نظر یہ ہر ایک کی ذمہ داری ہے کہ وہ ضبط و تحمل سے کام لیں آزادی اظہار ہر شہری کا حق ہے لیکن یہ مناسب حد بندی کے تحت ہی ہے۔

بشکریہ روزنامہ جنگ

image_pdfimage_print

Comments - User is solely responsible for his/her words

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں