اذیت کی فصیل اور سوال کی منجنیق


wajahatاسد محمد خان کی نظم ’مناجات‘ میں ایک مصرع ہے۔ ”یہ شخص ا م خ لکھ لکھ کر دل آزاری کئے جاتا ہے….“ ظاہر ہے لکھنے والا اپنی ذات کو صیغہ غائب میں رکھ کر طنز کر رہا ہے لیکن ہمارے ہاں ایسے لکھاریوں کی کوئی کمی نہیں جو عنوان باندھتے ہیں کہ ’کاش مجھے یہ سب لکھنا نہ پڑتا ‘اور پڑھنے والوں سے آواز آتی ہے ’کاش ہمیں یہ سب پڑھنا نہ پڑتا‘۔ کاش ہمیں وہ سب نہ پڑھنا پڑتا جو اس ملک میں سات عشروں سے لکھا جارہا ہے، لکھنے والوں نے مقبول عام تعصبات اور پیوستہ مفادات کے گارے چونے سے جہالت کی فصیل کو مسلسل مضبوط کیا ہے۔ اس فصیل پر جگہ جگہ شرمناک کالم، شذرے اور اداریے لٹک رہے ہیں۔ 3 اپریل 1948 کو لاہور میں عورتوں نے ایک کانفرنس منعقد کی تھی جس میں پنجاب اسمبلی میں عورتوں کے بارے میں غیر پارلیمانی اور ہتک آمیز زبان پر احتجاج کرتے ہوئے عورتوں کی انفرادی اور شہری آزادیوں کے تحفظ کے لئے متحدہ محاذ بنانے کا اعلان کیا گیا۔ بیگم لیاقت علی خان نے اس موقع پر تقریر کرتے ہوئے کہا تھا کہ’تحریک پاکستان میں یہ لوگ ہمیں گھروں سے باہر نکلنے، مظاہرے کرنے اور جیلوں میں جانے کی تلقین کرتے تھے، لیکن وطن بننے کے بعد یہ عورتوں کو قید میں رکھنا چاہتے ہیں‘۔ اس کے جواب میں منبر و محراب سے بیگم لیاقت علی کے بارے میں جو گہر افشانیاں کی گئیں وہ ان پاکیزہ نعروں سے ہرگز مختلف نہیں تھیں جو گزشتہ مہینے اسلام آباد کے ڈی چوک میں سنائی دیے۔ وزیراعظم ہاو ¿س کراچی کے باہر جلسہ منعقد کر کے بیگم لیاقت علی خان کے خلاف ناقابل اشاعت نعرے لگائے گئے تھے۔ لیاقت علی خان کے قاتل سید اکبر کے گھر سے ان اخباری اداریوں کے تراشے برآمد ہوئے تھے جن میں رعنا لیاقت علی خان کی کردار کشی کی گئی تھی۔ اس میں ستم ظریفی یہ ہے کہ عورتوں کی آزادیوں کو محدود کرنے کی غرض سے تقریر و تحریر کے جو نشتر آزمائے جاتے ہیں ان میں ’کھلے سر، شانوں تک کھلی ہوئی باہیں، نیم عریاں سینے اور جسم کے باقی ماندہ محاسن‘کا ذکر کرنے پر کوئی پابندی نہیں ہوتی۔ لالو کھیت کے اجتماع میں کلفٹن کا ذکر کر کے ایک طرف ناخواندہ اور ترسے ہوئے ذہنوں کی اشتہا بھڑکائی جاتی ہے اور دوسری طرف خواہش اور نفرت کے امتزاج سے ایسا ذہن پیدا کیا جاتا ہے جو ہمہ وقت احساس گناہ میں ڈوبا رہے۔

ایوب خان نے عائلی قوانین نافذ کئے تو ہمیں صنفی امتیاز اور استحصالی استخراج کو ہوا دینے کا نیا بہانہ ہاتھ آیا۔ ہم بھولے نہیں کہ محترمہ فاطمہ جناح کے خلاف انتخابی مہم میں کیا کچھ کہا گیا تھا۔ بنگال کی ہم وطن عورتوں کے بارے میں چاق و چوبند سالاروں کے مطبوعہ جملے ہماری یادداشت کا حصہ ہیں۔ محترمہ نصرت بھٹو اور محترمہ بے نظیر بھٹو کی کردار کشی کرنے والے ہمارے درمیان موجود ہیں۔ ہم نے عورتوں کے حقوق پر ریاست کے ہر اقدام کو خاندان کے ادارے شرم و حیا اور غیرت کا سوال بنا کر پیش کیا۔ شریف کمیشن سے لے کر یحییٰ بختیار کمیٹی تک، زری سرفراز کمیشن سے لے کر ناصر اسلم زاہد کمیشن اور پھر ماجدہ رضوی کمیشن تک، ہم نے اس ملک کی نصف آبادی کو بے بسی، بے اختیاری، محرومی اور ناجائز شرمساری کا نشان بنا کر رکھ دیا ہے۔ اور یہ سلوک اس ملک کی عورتوں کے ساتھ کیا جاتا ہے جہاں آمریت کے خلاف ہر معرکے میں ایک عورت کو سامنے آنا پڑتا ہے۔ جب مونچھ والا خاموش ہوجاتا ہے اور داڑھی والا سامنے آنے کی ہمت نہیں کرتا تو فاطمہ جناح نامی ایک بوڑھی عورت قوم کے لئے لڑنے نکلتی ہے۔ جب تعزز کے خود ساختہ بت آمریت کی دہلیز پر سجدہ ریز ہوجاتے ہیں تو نصرت بھٹو لاٹھیاں کھاتی ہے اور بے نظیر بھٹو سڑکوں پر آمریت کو للکارنے نکلتی ہے۔ جب تقدیس کے پتلے آمریت کی مجلس شوریٰ کی رونق بڑھاتے ہیں تو لاہور کی بیٹیاں ریگل چوک میں آمریت کے ساتھ بھڑ جاتی ہیں۔ جب جنوب کے صحراؤں سے لے کر پوٹھو ہار کی پہاڑیوں تک مردانہ بالا دستی کے نمونے گھروں میں بیٹھ جاتے ہیں تو کلثوم نواز شریف نامی عورت لاہور کی سڑکوں پر احتجاج کرنے نکلتی ہے۔

بنیادی سوال ایک ہی ہے۔ قانون کی کتاب، معاشرتی اقدار اور ریاست کی پالیسی میں عورت اور مرد کی مساوات کو یقینی بنائے بغیر ملک کے شہریوں کا احترام بحال نہیں کیا جا سکتا۔ جب آدھی آبادی کو حقارت، دشنام اور بدسلوکی کا نشانہ بنایا جاتا ہے تو باقی ماندہ نصف آبادی خود بخود انسانی وقار سے محروم ہوجاتی ہے۔ عورت اور مرد میں جسمانی خصوصیت کی بنیاد پر امتیاز ہمارے معاشرے سے مخصوص نہیں ہے۔ یہ نا انصافی تاریخ کے تمام ادوار اور کرہ ارض کے تمام خطوں میں رائج رہی ہے۔ اس میں طبقے یا نسل کا سوال نہیں، کسی ثقافت کو استثنیٰ نہیں۔ انسانوں نے ہزاروں برس سے عورت اور مرد کے حیاتیاتی اختلاف کو معیشت، علم اور سیاسی اقتدار، فیصلہ سازی میں شرکت کا پیمانہ بنا رکھا ہے۔ بنیادی اصول یہ ہے کہ ضمیر انسانی دنیا کے کسی خطہ یا معاشرے میں سوال اٹھاتا ہے تو وہ سوال تمام بنی نو انسان کے لئے جائز سوال قرار پاتا ہے۔ یہ بحث بنیادی انسانی مساوات سے انکار کے مترادف ہے کہ کوئی سوال انسانیت کے کسی ایک حصہ کے لئے تو جائز ہے اور باقی معاشروں کے لئے مردود قرار پائے۔ سوال اٹھانے کا حق سب کو ہے لیکن سوال کو ناجائز قرار دینے کا حق انھیں بالکل نہیں پہنچتا جو امتیاز اور محرومی کی لکیر کے پرلی طرف کھڑے ہوتے ہیں۔ کیا بے گھر فلسطینیوں کے حق سوال کا تعین اسرائیل کا حکمران کرے گا؟ کیا کشمیریوں کی اذیت پر آر ایس ایس کا موقف معیار ٹھہرے گا؟ 1864 میں امریکہ میں غلامی غیر قانونی قرار دی گئی۔ ٹھیک سو برس بعد جب مارٹن لوتھر کنگ غلامی سے اگلا سوال یعنی سیاسی اور معاشرتی مساوات کا جھنڈا اٹھائے ہوئے کھڑا تھا تو سعودی عرب دنیا کا آخری ملک تھا جہاں غلامی کو غیر قانونی قرار دیا گیا۔ غلامی کا ادارہ اب ماضی کا حصہ بن چکا۔ ستم ظریفی ہے کہ ہمارے ملک میں ہر سوال کو ہانکا کر کے عقیدے کی اقلیم میں لانے والوں نے اس شرمناک حقیقت پر زبان نہیں کھولی کہ عراق اور شام میں غلامی کو پھر سے زندہ کیا جا رہا ہے۔ عورتوں کی خرید و فروخت کے بازار سجائے جا رہے ہیں۔ ہمارے ملک کے شمال مغرب میں بچوں کے سینکڑوں سکول بارود سے اڑائے گئے، ہم خاموش رہے۔ شرم، حیا اور غیرت کے حدی خواں خاموش رہے۔ کہنا چاہئے کہ ظلم اور نا انصافی کی حمایت بے شرمی ہے، جہالت کی پردہ پوشی بے حیائی ہے، آمریت اور استبداد کی کھلی وکالت بے غیرتی ہے، افتادگان خاک کا نام لے کر انسانوں کی محرومی اور غربت کو بڑھاوا دینا بد ترین منافقت ہے۔ انہوں نے کبھی گھریلو تشدد کے خلاف ایک لفظ نہیں لکھا۔ پاکستان کی عورتوں کو گھر میں گلی کوچوں میں اور کام کرنے کی جگہوں پر جس بد سلوکی کا سامنا کرنا پڑتا ہے اس کا ثبوت چاہئے تو پارلیمنٹ کی کارروائی کے وہ حصے پڑھ لیں جہاں عورتوں سے متعلق قوانین اور پالیسی پر بحث کی جاتی ہے۔ مغرب میں عورت بچے کو دودھ پلانے کے بنیادی حق پر معاشرتی تعصب سے نبرد آزما ہے۔ ہمیں فخر ہونا چاہئے کہ ہماری بیٹوں اور بہنوں نے شرمناک اخفا کی آڑ میں روا رکھے جانے والی نا انصافی کے خلاف آواز اٹھائی ہے اور ہم اس پر یونیورسٹی بند کرنے اور اساتذہ کو گرفتار کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں، یہ مطالبہ ان حلقوں کی طرف سے سامنے آیا ہے جو سرے سے علم کے بیانیے ہی پر یکسو نہیں ہیں۔ جنہوں نے ماضی میں بچیوں کی تعلیم کی مخالفت کی، جو علم کو بنفشہ کا شربت، جوشاندے کی پڑیا اور چرائتے کا قدح سمجھتے ہیں۔ جو علم کی منتقلی اور علم کی تخلیق میں فرق نہیں کر سکتے۔ جو یہ نہیں جانتے کہ یونیورسٹی کا بنیادی منصب سوال مرتب کرنا ہے۔ جنہوں نے انصاف، مساوات، اور آزادی کی لڑائی میں مردانہ سازش اور صنفی امتیاز کے مورچے سنبھال رکھے ہیں۔ ہماری بہادر بیٹیوں نے امتیازی سلوک اور نا انصافی کی اس فصیل کے باہر سوال کی منجنیق نصب کر دی ہے۔ اس ملک میں ایک روایت کذب و ریا کی ہے اور ایک روایت جرات تحقیق کی ہے، ہمارے شفاف، پرامن اور علم دوست مستقبل کی ضمانت سوال اٹھانے کی ثقافت سے وابستہ ہے۔


Comments

FB Login Required - comments

9 thoughts on “اذیت کی فصیل اور سوال کی منجنیق

  • 23-04-2016 at 3:31 am
    Permalink

    وجاہت مسعود!
    آپ کے قلم کو بُوسہ مگر ٹہریے بنقشہ، جوشاندہ اور چرائتے کے رسیا کسی اور ذائقے کے متحمل نہیں ہو سکتے ـ یہ لوگ ابھی کہیں سے ” مشرقی اقدار ” پر حملہ قرار دے کر اللہ اکبر کے نعرے لگاتے نمودار ہونگے ـ

  • 23-04-2016 at 5:14 pm
    Permalink

    ھم سب ایک اچھا فورم ھے

  • 23-04-2016 at 5:36 pm
    Permalink

    افسوس ہے کہ آپ کے نزدیک عورت کی آزادی صرف اسی میں ہے کہ وہ لباس سے بے نیاز ہو کر مردوں کی تسکین کا سامان کرے، یا مذکورہ یونیرسٹی کی خواتین کی طرح اپنے پوشیدہ امراض کی تشہیر کرے۔
    اگر یہی خواتین اس فضول اور بے محل حرکت کے بجائے حقیقی معنوں میں عورت کے حقوق کی بات کرتیں، عورت کو پارلیمنٹ، قانون سازی یا نوکریوں میں برابر کا حصہ دینے کی بات کرتی تو یقینا خواتین کا فائدہ ہوتا۔ لیکن یہاں بات عورت کے حقوق یا آزادی کی نہیں، اپنی ذاتی تشہیر کی ہے، یہاں مقصد خود کو آزاد خیال یا لبرل ثابت کرنا تھا جو حاصل ہو گیا، لیکن عورت ذات کا کوئی فائدہ نہیں ہوا۔

  • 23-04-2016 at 5:41 pm
    Permalink

    جہاں تک میں سمجھا ہوں، یہ مضمون انصار عباسی صاحب کے آرٹیکل بعنوان کاش مجھے یہ سب نہ لکھنا پڑتا کے جواب میں لکھا گیا ہے۔
    ار ے بھئی، کوئی مجھے سمجھائے کہ خواتین کے ان پوشیدہ امراض کی تشہیر سے عورت کو کونسی آزادی یا فائدہ حاصل ہو جائے گا؟

  • 23-04-2016 at 5:52 pm
    Permalink

    ‘‘ ستم ظریفی ہے کہ ہمارے ملک میں ہر سوال کو ہانکا کر کے عقیدے کی اقلیم میں لانے والوں نے اس شرمناک حقیقت پر زبان نہیں کھولی کہ
    1 ۔عراق اور شام میں غلامی کو پھر سے زندہ کیا جا رہا ہے۔ عورتوں کی خرید و فروخت کے بازار سجائے جا رہے ہیں ؟

    2۔ ہمارے ملک کے شمال مغرب میں بچوں کے سینکڑوں سکول بارود سے اڑائے گئے، ہم خاموش رہے۔ شرم، حیا اور غیرت کے حدی خواں خاموش رہے۔

    3۔ کہنا چاہئے کہ ظلم اور نا انصافی کی حمایت بے شرمی ہے، جہالت کی پردہ پوشی بے حیائی ہے، آمریت اور استبداد کی کھلی وکالت بے غیرتی ہے، افتادگان خاک کا نام لے کر انسانوں کی محرومی اور غربت کو بڑھاوا دینا بد ترین منافقت ہے‘

  • 23-04-2016 at 7:48 pm
    Permalink

    مجھے امید ہے آپ ایسے تائب حضرات کو بھی جواب دیں گے جو “خاموشیاں” اور “شکواریں” لٹکانے پر آزردہ ہیں۔ اگرچہ اپنے ہیں مگر حملہ آور ہیں کہ تائب ہیں۔

  • 23-04-2016 at 7:48 pm
    Permalink

    مجھے امید ہے آپ ایسے تائب حضرات کو بھی جواب دیں گے جو “خاموشیاں” اور “شلواریں” لٹکانے پر آزردہ ہیں۔ اگرچہ اپنے ہیں مگر حملہ آور ہیں کہ تائب ہیں۔
    Wajahat Masood

  • 23-04-2016 at 7:57 pm
    Permalink

    سلام
    سرکار کیا كمال كا مضمون باندھا ہے آپ کی ہر بات سے صد فی صد اتفاق صرف کج بحثی کے لیے کیا ‍‌‌برادر اسلامی ملک سے غلامی کاخاتمہ ہو چکا ہے کیا کفالت کے نام پر جو کچھ غیر ملکیوں سے لیا جاتا ہے یہ غلامی نہیں

  • 25-04-2016 at 2:40 am
    Permalink

    اردو زبان جو انتہا پسندی کے ہتھے چڑھ کر پاگل پن کی حدیں چھو رہی ہے اس میں‌ آپ کے ایک ریشنل سوچ کے بڑھاوے پر کام کرنا قابل تعریف ہے۔

Comments are closed.