گوجرانوالہ کے پہلوان: ’مٹی کے اکھاڑوں سے میٹ ریسلنگ کا سفر آسان نہیں‘

شیراز حسن - بی بی سی اردو ڈاٹ کام، گوجرانوالہ


آسٹریلیا کے شہر گولڈ کوسٹ میں حال ہی میں منعقدہ دولتِ مشترکہ کھیلوں میں پاکستان نے 54 کھلاڑیوں کا دستہ بھیجا جن میں سے پانچ وکٹری سٹینڈ تک پہنچنے میں کامیاب رہے۔

پاکستان کے حصے میں پانچ تمغے آئے اور گوجرانوالہ کے حصے میں چار۔

کشتی کے مقابلوں میں انعام بٹ نے پاکستان کے لیے واحد طلائی تمغہ جیتا جبکہ کشتی کے ہی مقابلوں میں محمد بلال اور طیب رضا نے کانسی کے تمغے حاصل کیے۔ ویٹ لفٹنگ کے مقابلوں میں محمد نوح دستگیر بٹ اور طلحہ طالب نے کانسی کے تمغے حاصل کیے تھے۔

محدود وسائل اور ناکافی سہولیات کے باوجود گوجرانوالہ سے تعلق رکھنے والے ان ایتھلیٹس کی کارکردگی کو سراہا گیا۔

پہلوانی کے بارے میں مزید پڑھیں!

’ڈاکٹر،انجینئر کیا بننا، بیٹا پہلوانی میں نام کرنا‘

’پتہ نہیں کس میڈل کے بعد پرائیڈ آف پرفارمنس ملے گا‘

دولتِ مشترکہ کھیلوں میں پاکستان کا پہلا طلائی تمغہ

اب ان پہلوانوں اور ویٹ لفٹرز کی نگاہیں اگست میں منعقدہ ایشیئن گیمز پر جمی ہوئی ہیں اور اسی کے لیے تیاریاں جاری ہیں۔

گوجرانوالہ شہر سے تعلق رکھنے والے یہ کھلاڑی بین الاقوامی مقابلوں میں کامیابی کی تاریخ ایک ایسے وقت میں رقم کر رہے ہیں جب ملک کو کرکٹ کے علاوہ شاید ہی کسی اور کھیل میں اتنی کامیابیاں حاصل ہو رہی ہو۔

گوجرانوالہ کے پہلوانوں کا خیال ہے کہ اس کہ وجہ شہر میں موجود پہلوانی کی مضبوط روایت کے علاوہ بدلتے ہوئے پہلوانی کے انداز، اس میں پہلوانوں کو ملنے والی عالمی پذیرائی اور پہلوانی میں کریئر بنانے کے مواقع نوجوانوں کو اس جانب راغب کرتے رہے ہیں۔

پہلوانی کے بدلتے انداز

گوجرانوالہ کے پہلوان تو مشہور ہیں ہی لیکن اب عالمی سطح پر یہ کھیل تبدیل ہو چکا ہے۔

مٹی کے اکھاڑوں سے میٹ ریسلنگ کا سفر آسان نہیں ہے لیکن گوجرانوالہ کے پہلوان اپنی مدد آپ کے تحت اس کمی کو پورا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جس کا پھل انھیں قومی و بین الاقوامی سطح پر اعزازات کی صورت میں مل رہا ہے۔

لیکن فن پہلوانی سے وابستہ کھلاڑیوں کو یہ بھی خدشہ ہے کہ اگر اس جانب سرکاری سطح پر توجہ نہ دی گئی تو اس کھیل میں بھی عالمی اعزازات حاصل کرنا ماضی کا حصہ بن جائے گا۔

دولتِ مشترکہ کھیلوں میں دو مرتبہ طلائی تمغہ جیتنے والے 28 سالہ پہلوان محمد انعام بٹ کہتے ہیں ’جو گُر دوسرے دس سال بعد سیکھتے ہیں وہ ہم شروع میں گھر سے ہی سیکھ لیتے ہیں۔‘

کامن ویلتھ گیمز 2018، گولڈ کوسٹ، آسٹریلیا
نام کھیل/ایونٹ تمغہ

کس شہر سے تعلق

محمد انعام بٹ

کشتی، 86 کلو گرام کیٹیگری

طلائی

گوجرانوالہ

طلحہ طالب

ویٹ لفٹنگ، 62 کلو گرام کیٹیگری

کانسی

گوجرانوالہ

نوح دستگیر بٹ

ویٹ لفٹنگ، 105+کلو گرام کیٹیگری

کانسی

گوجرانوالہ

محمد بلال

کشتی، 57 کلو گرام کیٹیگری

کانسی

گوجرانوالہ

طیب رضا

کشتی، 125 کلو گرام کیٹیگری

کانسی

لاہور

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے محمد انعام بٹ نے بتایا ’میرے دادا، میرے والد، میرے بڑے بھائی تمام کا تعلق پہلوانی سے ہے۔ گھر میں ابتدا ایسے ہی ہوئی کہ جب کبھی بھائی، کزنز اکٹھے ہو گئے تو کشتی شروع ہو جاتی تھی۔‘

’کھلونے نہیں ہوتے تھے تو آپس میں ریسلنگ کھیلتے تھے‘

خیال رہے کہ انعام بٹ نے سنہ 2010 میں دہلی میں منعقدہ دولتِ مشترکہ کھیلوں میں کشتی کے مقابلوں میں سونے کا تمغہ حاصل کیا تھا۔ یہ تقریباً 40 سال میں پہلا موقع تھا کہ پاکستان نے کشتی کے مقابلوں میں سونے کا تمغہ حاصل کیا۔

انعام

BBC
انعام بٹ کہتے ہیں ‘میں نے بھی گھر سے ہی پہلوانی کے داؤ پیچ سیکھے’

اس سے قبل پاکستان نے سنہ 1970 میں ایڈنبرا میں منعقدہ دولت مشترکہ کھیلوں میں کشتی کے مقابلوں میں سونے کا تمغہ جیتا تھا۔

محمد انعام بٹ بھی ان پہلوانوں میں شامل ہیں جنھوں نے مٹی کے اکھاڑے سے آغاز کرتے ہوئے میٹ ریسلنگ تک کا کٹھن سفر مشکل حالات میں طے کیا۔

شہر میں پہلوانی کی روایت اور اپنے سفر کے بارے میں وہ کہتے ہیں ’گوجرانوالہ میں ہر گھر میں پہلوانی ہے۔ صبح اور شام کے وقت اکھاڑے اور جم نوجوانوں سے بھرے ہوتے ہیں۔ یہ شوق پورے شہر میں پایا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پہلوانی کا فن بچے چھوٹی عمر سے ہی سیکھنا شروع کر دیتے ہیں اور جوں جوں عمر گزرتی ہے اس میں بہتری آتی ہے۔‘

وہ کہتے ہیں ’میں نے بھی گھر سے ہی پہلوانی کے داؤ پیچ سیکھے۔‘

گولڈ کوسٹ میں ویٹ لفٹنگ میں کانسی کا تمغہ جیتنے والے نوح دستگیر بٹ اور طلحہ طالب کا تعلق بھی گوجرانوالہ سے ہے۔

انعام بٹ ان کے بارے میں کہتے ہیں ’ان کے والدین بھی بین الاقوامی ویٹ لفٹرز رہ چکے ہیں، اس لیے انھوں نے یہ سبق بھی گھر سے ہی سیکھا۔ جو چیزیں دوسرے کھلاڑیوں کا دس سال بعد پتہ چلتی ہیں وہ ہمارے گھروں سے پہلے شروع کروا دی جاتی ہیں۔‘

’اس لیے جب باقاعدہ پہلوانی یا ویٹ لفٹنگ کا آغاز کرتے ہیں تو ہماری بنیادیں مضبوط بن چکی ہوتی ہیں جو بعد میں بھی مددگار ثابت ہوتی ہیں۔‘

دوسری جانب رستم پاک و ہند کا اعزاز اور سنہ 2010 میں کانسی کا تمغہ جیتنے کا والے پہلوان محمد عمر بٹ کا خیال ہے کہ شہر میں پیدا ہونے والی نامی گرامی پہلوانوں نے پہلوانی کے میدان میں جو دھاک بٹھائی ہے یہ اسی کا نتیجہ ہے کہ آج بھی نوجوان پہلوانی کو اپنا رہے ہیں۔

وہ سمجھتے ہیں ’پہلوانی کا گوجرانوالہ سے وہی رشتہ ہے جو والدین کا اولاد سے ہوتا ہے۔‘

محمد عمر بٹ کہتے ہیں ’یہاں یہی روایت ہے کہ تمام خاندان اپنے بچوں کو اکھاڑے ضرور بھیجتے تھے اور اسی روایت کے تحت ہمیں بھی پہلوانی کروائی گئی۔ یہی وجہ ہے کہ آج پاکستان کی قومی ٹیم میں سب سے زیادہ پہلوانوں کی تعداد گوجرانوالہ سے ہے جو پاکستان کے لیے تمغے بھی جیت رہے ہیں۔‘

’کہیں اس کھیل کا حال بھی ہاکی جیسا نہ ہو جائے‘

28 سالہ عمیر احمد گولڈ کوسٹ میں منعقدہ دولتِ مشترکہ کھیلوں میں پاکستان کی ریسلنگ ٹیم کا حصہ تھے۔ وہ کہتے ہیں یہاں سہولیات نہ ہونے کے برابر ہیں اور وہ یہیں تیاری کر کے ایسے ہی بیرون ملک کھیلنے چلے جاتے ہیں۔

عمیر احمد کہتے ہیں ’پہلوانی چند ایک شہروں میں ہی رہ گئی ہے۔ دولتِ مشترکہ کھیلوں میں پانچ میں سے چار میڈلز گوجرانوالہ میں آئے اور اگر حکومت اس جانب تھوڑی توجہ دے تو ہر شہر سے چار، چار میڈلز آ سکتے ہیں۔‘

انعام بٹ کا اس بارے میں کہنا ہے کہ اگرچہ پاکستان نے عالمی مقابلوں میں تمغے جیتے ہیں لیکن یہاں بنیادی سہولیات کا بہت فقدان ہے۔

’پاکستان نے گذشتہ چار سال میں کشتی کے مختلف بین الاقوامی مقابلوں میں 62 تمغے جیتے ہیں لیکن پورے پاکستان میں ریسلنگ کی ایک اکیڈمی بھی نہیں ہے یہاں تک کہ گوجرانولہ شہر میں جہاں کے کھلاڑی بیشتر تمغے جیتتے رہے ہیں وہاں بھی اکیڈمی بھی نہیں ہے۔‘

وہ کہتے ہیں کہ اب حالات تبدیل ہو رہے ہیں اور عالمی معیار کے مطابق خود کو ڈھالنا مشکل مرحلہ ہے۔

انعام بٹ کہتے ہیں کہ مٹی اور میٹ ریسلنگ کے سٹائل کا بہت فرق ہے اور ان کے قواعد و ضوابط کا بھی فرق ہے۔

’جب آپ پاکستان کیمپ یا بین الاقوامی مقابلوں کے لیے جاتے ہیں تو آپ کو مٹی کی کشتی کی بہت سی تکنیکیں چھوڑ کر نئی تکنیک اپنانا پڑتی ہے۔ یہ ایک مشکل مرحلہ ہوتا ہے لیکن اگر آپ کوشش کرتے جائیں تو اس میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔‘

سنہ 1988 میں سیئول اولمپکس میں کشتی کے مقابلوں میں پاکستان کی نمائندگی کرنے والے محمد انور نے بی بی سی کو بتایا ’قیام پاکستان سے آج تک عالمی مقابلوں میں سب سے زیادہ تمغے کشتی کے مقابلوں میں حاصل کیے ہیں اور ان میں سے بیشتر میڈلز حاصل کرنے والوں کا تعلق صوبہ پنجاب سے ہے اور حکومت نے اتنا بھی گوارا نہیں کیا کہ اس صوبے میں ایک ریسلنگ ایرینا ہی بنا دیا جائے۔‘

پاکستان ریسلنگ فیڈریشن کے سیکریٹری جنرل ارشد ستار نے بتایا ’پاکستان میں پہلوانی ایک قدرتی ٹیلنٹ ہے جس کی وجہ سے نوجوان پہلوان عالمی مقابلوں میں پاکستان کا نام روشن کر رہے ہیں۔‘

تاہم ان کا کہنا ہے کہ اگر اس جانب سنجیدگی سے توجہ نہ دی تو اس کھیل کا حال بھی قومی کھیل ہاکی جیسا ہو سکتا ہے۔

ان کا کہنا تھا ’پاکستان میں کم از کم لاہور اور گوجرانوالہ میں سرکاری سطح پر اکیڈمیوں کا قیام عمل میں لانے کی ضرورت ہے تاکہ وہاں کے پہلوان عالمی معیار کے مطابق تربیت حاصل کر سکیں۔‘

ارشد ستار کے مطابق پاکستان میں ریسلنگ کی صورت حال کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ گذشتہ سال اس کے لیے 15 لاکھ اور رواں سال 18 لاکھ کا فنڈ دیا گیا ہے جو عالمی معیار کی ضروریات پوری کرنے کے لیے ناکافی ہے۔

دولت مشترکہ کھیلوں میں پاکستان کی کارکردگی (1954 تا 2018)

کھیل

طلائی تمغوں کی تعداد

چاندی تمغوں کی تعداد

کانسی تمغوں کی تعداد

کل تمغے

کشتی

21

11

10

42

ایتھلیٹکس

2

3

6

11

ویٹ لفٹنگ

1

4

3

8

باکسنگ

1

3

4

8

شوٹنگ

0

1

2

3

ہاکی

0

1

1

2

جوڈو

0

1

0

1

کل تعداد

25

24

26

75

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 4878 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp