آخر سیکیولرازم ناگزیر کیوں؟


Kunwar-Khuldune-Shahidپیئرگاسیندی (Pierre Gassendi) نے سترہویں صدی میں ایپیکیورین ازم (Epicureanism)میں ایک نئی جان پھونکی۔ لیکن ایپیکیورس (Epicurus) کی تعلیمات کی اس بحالی سے قبل تقریباََ دو ہزار سال تک اس کے پیغام کا مسلسل تیا پانچا کیا جاتا رہا۔ ایپیکیورین ازم کو ایتھی ازم (Atheism) کے مترادف سمجھا سمجھا جاتا رہا اور اسکی تشریح بھی یوںہی غلط العام ہوتی رہی۔

دانتے نے اپنی “ڈیوائن کامیڈی” میں ایپیکیورینز کو جہنم کے چھٹے دائرے میں پھینک دیا اور ظاہر ہے مذہبی صحیفوں نے بھی انہیں آخرت میں کوئی خاص استحقاق نہ بخشا۔ اس کی وجہ یہی تھی کہ ایپیکیورینز کو مرتدین اورملحدین میں شمار کیا جاتا رہا۔
یوں جبکہ ایپیکیورینز پہ تشدد جاری رہا کسی نے یہ تصدیق کرنے کی کوشش نہ کی کہ کیا واقعی ایپیکیورس کے پیروکار خدا کے وجود سے منکر ہیں بھی یا نہیں۔
ایپیکیورس آستیکتا (ڈی ازم) کا حامی تھا۔ اسکے مرید بھی ڈی اسٹ تھے جو کہ ایک غیرجانبدار خدا پر یقین رکھتے تھے۔ ایک ایسا خدا جو قدرت کے قوانین میں کسی قسم کی مداخلت نہیں کرتا۔
لیکن ایسا ہر عقیدہ جو کٹر مذہب سے مطابقت نہ رکھتا ہو اسے ایتھی ازم (الحاد) کے مترادف پیش کرنے سے چرچ کی ریاست کے اوپر پکڑ قائم رہتی تھی۔
پاکستان میں سیکیولرازم کے حامیوں کے ساتھ وہی سلوک کیا جاتا رہا ہے جو ایپیکیورینز کے ساتھ ہوا۔ اس طویل سلسلے کا سنگ بنیاد مولانا مودودی نے رکھا جب انہوں نے سیکیولرازم کو ایتھی ازم (الحاد) اور لادینیت کے طور پر پیش کیا۔ سیکیولرازم نہ تو لادینیت کا نام ہے اور نہ ہی خدا سے انکار کا عہد۔ سیکیولرازم محض ایک غیرجانبدار ریاست مانگتا ہے جو مذہبی معاملات میں کسی ایک کمیونٹی کو دوسری کے اوپر ترجیح نہیں دیتا۔ ایک ایسی ریاست جو تمام افراد کو اپنے مذہبی رسوم ادا کرنے کی مکمل آزادی دیتی ہے جب تک کسی دوسرے کی انفرادی آزادی یا بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی نہ ہو۔
مثلا مارکسسٹ لینن اسٹ ریاستیں، جیسے سوویت یونین اور ماؤاسٹ چین، کمیونزم کی آڑ میں ریاستی ایتھی ازم (الحاد) کو فروغ دیتی رہیں۔ ان ریاستیوں میں لادینیت کو بزور شمشیر پھیلایا گیا۔ اسی لیے ان ریاستوں کو سیکیولر نہیں کہا جاتا۔ کیونکہ کسی بھی ریاست کا سیکیولر ہونا اس میں موجود مذہبی اور نظریاتی آزادی سے مشروط ہے۔ سیکیولرازم ریاست اور مذہب کی علیحدگی کا نام ہے، ریاست سے مذہب کے خاتمے کا نہیں۔ اور ایپیکیورس نے جس معاشرے میں سن 308 قبل مسیح میں سیکیولر ریاست کو ناگزیر قرار دیا تھا وہاں تقریباََ بیس صدیوں تک انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے بعد اس حقیقت کو تسلیم کر لیا گیا۔
کچھ دانشور برسوں سے سیکیولرازم کو پاکستان کے بیشتر مسائل کا حل مانتے رہے ہیں۔ لیکن آج ریاست اور مذہب کے اس مرکب کی تحلیل ملک اور قوم کی بقا کے لیے لازم ہو چکی ہے۔ آج جب کہ طالبان پاکستان میں، اور داعش دنیا بھر میں، اپنی طرز کا اسلام نافذ کرنا چاہتے ہیں تو انہیں مسلمان ریاستوں کے قوانین، بالخصوص پاکستان کے آئین سے بہت حوصلہ افزائی ملتی ہوگی۔ داعش اور طالبان کی طرح بیشتر مسلم ممالک مذہبی برتری اور مقامی تشریح کے مطابق مذہبی قوانین کو اپنے آئین کا حصہ بنا چکے ہیں اور انہیں تمام مذاہب اور فرقوں کے لوگوں پر یکساں نافذ کرتے ہیں۔
پاکستان کا آئین بھی داعش کی طرح یہ فیصلہ کرتا ہے کہ کون مسلمان ہے اور کون نہیں۔ پاکستان کا قانون بھی توہین مذہب کی سزا موت بتاتا ہے۔ پاکستانی ریاست اور داعش دونوں کی سربراہی صرف ایک مسلمان ہی کر سکتا ہے۔ اور اگر سعودی عرب اور داعش کا موازنہ کیا جائے تو مشترکات کئی درجہ بڑھ جاتی ہیں۔
بے شک داعش یا طالبان کے طرز اسلام اور ایک عام پاکستانی مسلمان کے اسلام میں بےحد فرق ہے۔ لیکن جب تک ہمارے آئین اور قوانین مذہبی برتری کو فروغ دیتے رہیں گے، ایک مسلمان اور اسلامسٹ کے درمیان لکیر کبھی واضح نہیں ہو پائے گی اور اسلام ازم سے پرتشدد جہادازم تک کا سفر یونہی آسانی سے طے ہوتا رہے گا۔
دنیا میں ڈیڑھ ارب سے زائد مسلمان ہیں اور سب کا ایک منفرد عقیدہ ہے اور اسلام کے بارے میں ایک ذاتی نظریہ۔ ایسے میں ریاست یا کسی عالمی تنظیم کی کیا ضرورت ہے جو کسی ایک طرز کے اسلام کو ڈیڑھ ارب لوگوں پر نافذ کرے؟ کیا ہمیں ایسی قانون سازی کی ضرورت نہیں جس میں مسلمان بلا خوف و خطر اپنے عقائد پر عمل کر سکیں؟ یہ صرف ایک سیکیولر ریاست میں ممکن ہے۔

فی الحال ہم طالبان اور داعش کا نظریاتی مقابلہ انیں مرتدین قرار دے کر کر رہے ہیں۔ وہ ہمارے اسلام سے منکر ہیں، ہم ان کے اسلام کو نہیں مانتے، اور اس باہمی تکفیر میں اسلام کے نام پر ستر ہزار سے زائد مسلمان پاکستان میں، اور کئی لاکھ دنیا بھر میں قربان ہو چکے ہیں۔ جب کسی ایک طرز کے اسلام نے باقی تمام تشریحات کے خلاف بندوق اٹھا لی ہو تو اس بحث کی گنجائش ہی نہیں رہتی کہ کس کی تشریح سب سے موزوں ہے۔ المیہ یہ ہے کے آج یہ مباحثہ بھی محض ایک سیکیولر معاشرے میں ممکن ہے۔

ایپیکیورین ازم کی طرح سیکیولرازم بھی نہ تو خدا کے وجود کو جھٹلاتا ہے اور نہ ہی لادینیت کوفروغ دیتا ہے۔ یہ محض ایک ایسے معاشرے کی تخلیق کی کوشش کرتا ہے جس میں کون کس کی عبادت کرتا ہے، کیسے کرتا ہے، کیوں کرتا ہے، کرتا بھی ہے یا نہیں، ان سوالات کے جواب کسی بھی فرد کے حقوق یا سماجی رتبہ کو متاثر نہیں کرتے۔

سیکیولر ازم کو جب تک لادینیت کے مترادف سمجھا جاتا رہے گا، تب تک اکثر رواداری پسند مسلمان اس سے دور بھاگتے رہیں گے اور اسلامسٹ تمام سیکیولرازم کے حامیوں کے لئے جہنم کے دائرے متعین کرتے رہیں گے۔ ایپیکیورینز کو غلط فہمیاں دور کرنے میں دو ہزار سال لگ گئے، ہمارے پاس اتنا وقت نہیں ہے۔


Comments

FB Login Required - comments

7 thoughts on “آخر سیکیولرازم ناگزیر کیوں؟

  • 23-04-2016 at 1:38 pm
    Permalink

    سادہ ،خوبصورت اور وزنی دلائل سے آراستہ ۔۔۔

  • 23-04-2016 at 1:40 pm
    Permalink

    بہت خوب جناب

  • 23-04-2016 at 1:48 pm
    Permalink

    بہت اعلی تمثیل کے ساتھ الحاد اور سیکولرزم کو سمجھانے کی کوشش کی گئی ہے۔۔۔ ’’تیری آواز مکے مدینے‘‘ اور کاش کہ ہم لوگ اصطلاحات کے رواجی کے بجائے حقیقی معانی تک پہنچنے کے اہل ہو سکیں۔

  • 23-04-2016 at 4:59 pm
    Permalink

    France’s secularism?

  • 27-04-2016 at 12:40 pm
    Permalink

    اگر پاکستانیوں کی اکثریت ملک کو سیکولر ریاست کے بجائے مذہبی ریاست کے طور پر دیکھنا چاہتی ہو تو آپ کو پاکستانیوں کے اس جمہوری حق پر کیا اعتراض ہے بھائی!

Comments are closed.