شمالی کوریا کو ایٹمی اسلحے سے پاک کرنے کے لیے ’لیبیا ماڈل پر عمل نہیں کیا جائے گا: ٹرمپ


شمالی کوریا سپاہی

Getty Images

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے ہی قومی سلامتی کے مشیر کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ شمالی کوریا کو ایٹمی ہتھیاروں سے پاک کرنے کے لیے ‘لیبیا ماڈل’ پر عمل نہیں کیا جائے گا۔

یہ تجویز جان بولٹن نے دی تھی جس سے شمالی کوریا نے برہم ہو کر اگلے ماہ صدر ٹرمپ کے ساتھ کم جونگ ان کی ملاقات منسوخ کرنے کی دھمکی دے دی تھی۔

اسی بارے میں

شمالی کوریا کی ٹرمپ سے ملاقات ختم کرنے کی دھمکی

’امریکہ اب بھی شمالی کوریا ملاقات کے لیے پرامید‘

کم جونگ ان سے بارہ جون کو ملاقات ہو گی: ٹرمپ کا اعلان

امریکی صدر کا رہائی پانے والے شہریوں کا استقبال

صدر ٹرمپ نے کہا کہ یہ ملاقات وقت پر ہو گی۔

2003 میں لیبیا کے صدر معمر قذافی نے پابندیاں ہٹانے کے بدلے میں ایٹمی ہتھیاروں کا پروگرام ترک کر دیا تھا۔

تاہم اس کے بعد انھیں مغرب کی پشت پناہی میں لڑنے والے باغیوں نے ہلاک کر دیا تھا۔ شاید اسی موازنے کی وجہ سے شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ان برہم ہوئے ہیں۔

پیونگ یانگ نے بدھ کو خبردار کیا کہ ہو سکتا ہے وہ 12 جون کو سنگاپور میں ہونے والی ملاقات میں شریک نہ ہوں۔

صدر ٹرمپ نے بولٹن کی موجودگی میں کہا: ‘ہم شمالی کوریا پر لیبیا ماڈل کا اطلاق کرنے کے بارے میں نہیں سوچ رہے۔’

انھوں نے کہا: ‘اگر آپ جنوبی کوریا کو دیکھیں تو یہ صعنت کے معاملے میں جنوبی کوریائی ماڈل ہو گا۔’

صدر ٹرمپ نے کہا کہ اس نئے ماڈل میں کم جونگ ان ہی کو شمالی کوریا کا سربراہ دیکھ رہے ہیں۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 5673 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp