انٹرنیٹ پر خود کو ٹرول کرنے والے توجہ کے طالب نوجوان

نیٹلی کٹانا - بی بی سی


’کسی کو اس کی کوئی پروا نہیں ہے کہ تم کیا کہتے ہو۔ اپنا اکاؤنٹ بند کر دو۔ کسی کو تمہاری پوسٹ پسند نہیں تم محض وقت کا ضیاع ہو۔ ‘

یہ پیغامات جولین کو اس وقت ملے جب وہ نوجوان تھے۔ یہ بلاشبہ ظالمانہ تھے لیکن اس سے بھی زیادہ حیرت انگیز بات یہ تھی کہ یہ اس کی دوسروں یا جاننے والوں کی طرف سے نہیں بلکہ خود جولین نے اپنے آپ کو بھیجے تھے۔

وہ ’ڈیجیٹل سیلف ہارم‘ یعنی خود کو تکلیف دینے والے اس ڈیجٹل عمل کا حصہ تھے جس میں آپ خود اپنے آپ کو دکھ دینے والے پیغامات بھیجتے ہیں۔

سائبر بُلیئنگ کوئی نئی چیز نہیں ہے اور اس بارے میں متعدد تحقیقات موجود ہیں کہ یہ اس کا شکار بننے والے افراد کے لیے کتنی نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔

سنہ 2016 میں کیے گئے ایک مطالعے سے علم ہوا ہے کہ آن لائن بلیئنگ کے بعد کونسلنگ کے متلاشی نوجوانوں کی تعداد میں گذشتہ پانچ سال میں 88 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

اپنے خلاف سائبر بلیئنگ یا خود کو ٹرول کرنے پر زیادہ تحقیق نہیں کی گئی، البتہ 2017 میں اپنی نوعیت کی محض دوسری امریکی تحقیق میں یہ معلوم ہوا کہ 12 سے 17 سال کے لگ بھگ چھ فیصد طلبہ نے خود کو نفرت آمیز پیغامات بھیجے۔ یہ رویہ لڑکوں میں لڑکیوں اور ایل جی بی ٹی طلبہ کی نسبت تین گنا زیادہ تھا۔

اس بارے میں مزید پڑھیے

‘ٹرولنگ پاکستانی معاشرے کی سب سے بڑی لعنت ہے‘

قرۃالعین بلوچ نے عمران خان کو گالی کیوں دی؟

’ڈیجیٹل شناخت جو شخصیت پر حاوی ہے‘

اس معاملے میں محض اعداد و شمار ہی پریشان کن نہیں بلکہ بھیجے گئے پیغامات بھی تھے۔

ان پیغامات میں لوگوں کو بدصورت اور ناکارہ کہنے کے علاوہ یہ تک کہا گیا کہ ’تم خود کو پھانسی دے دو۔ تم قابل رحم ہو اور تم جینے کے قابلِ نہیں۔‘

ان پیغامات کی ظالمانہ نوعیت سے اندازہ ہوتا ہے کہ انھیں اپنے سوشل میڈیا پر دیکھنے والے کتنا گھبرا جاتے ہوں گے۔ تو جولین جیسے لوگ جان بوجھ کر خود اپنے ہی سوشل میڈیا پر ایسے کمنٹس کیوں لکھتے ہیں؟

اب لندن کی ایک یونیورسٹی میں زیرِ تعلیم 22 سالہ جولین کا کہنا تھا کہ ’میں نے یہ سب کچھ تب شروع کیا جب میں نے ٹمبلر پر پر لوگوں کو نفرت آمیز پیغامات ملتے دیکھا۔‘

’یہ لوگ کافی مقبول تھے کیونکہ ان کے فالوورز ان کی کافی حمایت کرتے تھے اور اس کے بعد انھیں اچھے اچھے پیغامات بھیجتے تھے۔ اس وقت میرے زیادہ فالوورز نہیں تھے اس لیے میں نے سوچا کہ خود کو نفرت آمیز پیغام بھیجوں، شاید یہی توجہ حاصل کرنے کا بہترین طریقہ ہو۔‘

جولین نے 15 سال کی عمر میں خود کو پہلی بار ٹمبلر پر تنگ کیا۔ وہ ایک دوست سے لڑائی کے بعد خود کو کمزور محسوس کر رہے تھے۔ انھوں نے خود کو پیغام لکھا: ’اپنا اکاؤنٹ بند کر دو کیونکہ کوئی تمہاری پوسٹس پسند نہیں کرتا۔‘

ان کا کہنا تھا ’یہ میری دوست کی ہمدردریاں حاصل کرنے کا طریقہ تھا تاکہ وہ اس وقت مجھ سے نفرت نہ کریں۔‘

جولین کی یہ وضاحت سنہ 2012 میں کی جانے والی اس تحقیق کی تصدیق کرتی ہے جس میں کہا گیا تھا کہ نوجوان اپنے ساتھیوں کی توجہ حاصل کرنے کے لیے خود کو ڈیجیٹل دنیا میں نقصان پہنچاتے ہیں۔

یہ پیغامات بھیجنے کے دو مقاصد ہوتے ہیں۔ یا تو ان کے ہمدرد فالوورز کی شکایات شروع ہو جاتی ہیں یا پھر وہ یہ جان لیتے ہیں کہ دوسرے ان کے بارے میں کیا سوچتے ہیں۔

جولین کا بےنام میسیج کام کر گیا۔ ان کے دوست کو برا لگا اور انھوں نے اس سے پوچھا کیا وہ ٹھیک ہیں۔ باقی لوگوں نے بھی ایسا ہی کیا جنھیں وہ ٹھیک سے جانتا بھی نہیں تھا۔

لوگوں کی بڑی تعداد نے کہا: ’اس کی نفرت آمیز بات مت سنو۔‘ اس نے مجھے ایک طرح کا سکون دیا۔ جیسے آپ کو انسٹا گرام پر پوسٹ پسند کیے جانے پر سکون ملتا ہے۔ مجھے ایسا ہی احساس ہوا۔ ‘

ذرا توقف کے بعد وہ بولے: ’میرا خیال ہے یہ ایک طرح کی لت ہے۔‘

ڈیجیٹل سیلف ہارم میں یہ بات عام ہے۔ سنہ 2012 میں کیے گئے مطالعے میں یہ پایا گیا کہ لگ بھگ 35 فیصد ایسے افراد جنھوں نے خود کو سائبر بُلی کیا وہ کامیاب رہے کیونکہ انھوں نے وہ حاصل کر لیا جو وہ چاہتے تھے۔ انھیں ایسا کر کے اچھا محسوس ہوا۔

19 سالہ سوفی کے لیے نفرت آمیز پیغامات کا مقصد وہ باتیں کرنا تھا جو وہ اپنے بارے میں محسوس کرتی تھی اور کہہ نہیں سکتی تھیں۔

بیرونِ ملک زیرِ تعلیم سوفی نے وضاحت کی: ’میں ہمیشہ سے ایک پر اعتماد اور خوش باش انسان لگتی تھی۔ لیکن میں لوگوں کو بتانا چاہتی تھی کہ میں ہمیشہ ٹھیک نہیں ہوتی کیونکہ میں خفیہ طور پر اضطراب کی بدترین صورتحال سے نمٹ رہی ہوں۔‘

اس بارے میں مزید پڑھیے

‘میں اپنے جسم کی وجہ سے شرمسار نہیں‘

انٹرنیٹ، خواتین اور بلیک میلنگ

چین:’انٹرنیٹ کی لت‘ سے نوجوان کی ہلاکت

وہ نہیں چاہتیں کہ وہ اپنی اضطرابی کیفیت کے مسئلے کے بارے میں اپنی دوست کے ساتھ بات کریں، کیونکہ وہ محسوس کرتی ہیں کہ ’کسی کو بھی اس سے غرض نہیں کہ وہ کیا کہتی ہیں۔ اور اس کے بجائے وہ اپنے ٹمبلر پر جا کر اپنے آپ کو ایک گمنام پیغام بھیجا کہ ’میں نے دیکھا کہ تم سکول کے ٹوائلٹ میں رو رہی ہو۔ ہر کوئی جانتا ہے کہ تم صرف دوسروں کی توجہ چاہتی ہو۔‘

سوفی نے اس پیغام کا ایک ہزار الفاظ پر مشتمل جواب لکھا جس میں اپنے اضطراب کے بارے میں بات کی۔ فوری طور پر ان کے سکول کے دوست سامنے آ گئے جو انھیں بتا رہے تھے کہ وہ اپنی اضطرابی کیفیت کے مسئلے کے بارے میں بہادرانہ اور زبرداست انداز میں بات کر رہی ہیں۔

’میں نے سوچا کہ اگر میں اپنے بارے میں الگ سے کچھ پوسٹ کرتی ہوں تو لوگ اسے پسند کریں گے۔ تم کیا بننے کی کوشش کر رہی ہو۔ کسی کو پروا نہیں کہ آپ کیا سوچتی ہیں۔ میں محسوس کرتی تھی کہ جب تک کوئی میرے بارے میں بات شروع نہ کرے، اس وقت تک میرے پاس کوئی پلیٹ فارم نہیں ہے تو پھر میرے لیے کون بہتر ہے جو بات چیت شروع کر سکے۔‘

سوفی کی طرح ڈیجیٹل طور پر خود کو نقصان پہنچانے والے آخر میں وہ نتائج حاصل کر سکتے ہیں جو وہ چاہتے ہیں۔ لیکن یہ زیادہ سنگین مسئلے کی علامت بھی ہو سکتا ہے۔

سائبر بُلنگ

Getty Images
سائبر بُلنگ

ہانا سمتھ کا ایک افسوسناک کیس جو اس کی مثال بھی ہو سکتا ہے۔ لیسٹر شائر کی رہائشی 14 سالہ ایک لڑکی نے خود کو 2013 میں مار دیا تھا۔ ان کے والد کے خیال میں ان کی بیٹی کو سائبر بلیئنگ کا سامنا تھا، جس میں انھیں سوشل میڈیا پر تلخ پیغامات بھیجے گئے لیکن تحقیقات میں ٹھوس شواہد سامنے آئے کہ ہانا سمتھ نے خود اپنے آپ کو یہ پیغامات بھیجے تھے۔

ٹیکسس میں ایک اور نوجوان لڑکی نیٹلی نے 15 برس کی عمر میں 2016 میں اپنی جان لے لی۔ انھیں مبینہ طور پر اپنی اصل زندگی اور آن لائن میں بلیئنگ کا سامنا کرنا پڑا لیکن بعد کی جانے والی تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی کہ وہ خود اپنے آپ کو پیغامات بھیج رہی تھیں اور کہتی تھیں کہ وہ بدصورت ہیں اور اپنی جان لے لیں گی۔

ایک حالیہ تحقیق میں یہ بات سامنے کہ ڈیجٹیل دنیا میں خود کو نقصان پہنچانے کا تعلق ذہنی صحت کے مسائل سے ہو سکتا ہے۔ فوجداری انصاف کے پروفیسر اور سائبر بلیئنگ پر تحقیقاتی سینٹر کے شریک ڈائریکٹر جسٹن پیچن خود کو نقصان پہنچانے والے افراد کے حوالے سے کی جانے والی تحقیقات میں شامل تھے۔

اس بارے میں مزید پڑھیے

چھ میں سے ایک طالبعلم انٹرنیٹ کے نشے کا شکار

امریکہ میں انٹرنیٹ پرائیوسی ختم کرنے پر غم و غصہ

غلط خبریں بوٹس نہیں انسان ہی پھیلاتے ہیں: رپورٹ

اس تحقیق میں ساڑھے پانچ ہزار امریکی طالب علم شامل تھے اور اس میں یہ نتائج سامنے آئے کہ ان طالب علموں کے بارے میں رپورٹ کیا گیا کہ وہ مایوسی کا شکار ہیں ان میں ڈیجیٹل دنیا میں خِود کو نقصان پہنچانے کے امکانات تقریباً پانچ گنا زیادہ ہیں اور ایسے افراد جنھوں نے کہا کہ وہ آف لائن خود کو نقصان پہنچانے کی سرگرمیوں میں رہے، ان کے بارے میں تین گنا امکانات ہیں کہ وہ خود کو سائبر دادا گیری کا نشانہ بنائیں۔

جسٹن پیٹچن کے مطابق ہم چاہتے تھے کہ ڈیجٹیل طور پر خود کو نقصان پہنچانے کو مایوسی، خودکشی کا ادارہ جیسے آف لائن نقصان پہنچانے کے رویے کے بارے میں کوئی تعلق قائم کر سکیں اور توقع کے مطابق ہمیں معلوم ہوا کہ یہ سب ایک دوسرے سے جڑا ہے۔ لیکن انھیں ابھی تک معلوم نہیں ہو سکا کہ ان دونوں میں سے پہلی کیفیت کون سی تھی۔

جسٹن پیٹچن کے مطابق تو مثال کے طور پر اگر کوئی ڈپریشن کا شکار ہوتا ہے تو اپنے بارے میں حقارت پر مبنی باتیں آن لائن کہتے ہیں اور پھر خودکشی کے بارے میں سوچتا ہے؟ یا پہلے خودکشی کے بارے میں سوچتے ہیں اور پھر ایک ہی وقت میں خود کو جسمانی طور پر اور ڈیجیٹل طور پر نقصان پہنچاتے ہیں۔

جب تک ڈیجیٹل دنیا میں خود کو نقصان پہنچانے میں اضافے کے بارے میں مزید معلوم نہیں ہوتا، جسٹن جیسے ماہرین کے لیے یہ اندازہ لگانا مشکل ہے کہ آیا اس میں اترنے کے لیے کون سا وقت صحیح ہے۔ لیکن وہ سوشل میڈیا ویب سائٹس، ایپس اور انٹرنیٹ سروس پروائڈرز کے ساتھ کام کرنے کی کوشش کر رہے ہیں تاکہ خود کو نقصان پہنچانے والوں کی نشاندہی کی جا سکے۔

وہ چاہتے ہیں کہ ان سب کی مدد سے یہ جاننے کی کوشش کی جائے کہ آیا یہ پیغامات اور پروفائلز ایک ہی آئی پی اڈریس سے بھیجے جا رہے ہیں، یعنی کیا وہ اپنی ہی نیوز فیڈ پر لکھ رہے ہیں اور پھر اس صارف سے رابطہ کیا جائے یا انھیں کاؤنسلرز کے اشتہارات دکھائے جائیں۔

بین الاقوامی سطح پر ایسے اعداد و شمار موجود نہیں کہ ڈیجیٹل دنیا میں خود کو نقصان پہنچانا کس حد تک پھیلا ہوا ہے، جسے جسٹن مستقبل میں تبدیل کرنا چاہتے ہیں۔

سوفی اور جولین دونوں ہی نے اسے اپنے دوست احباب میں بھی پایا ہے۔

جولین کا کہنا ہے کہ ‘میں کہوں گا بہت سے لوگ ایسا کرتے ہیں لیکن اکثریت نہیں۔’

‘بعض اوقات میں ٹوئٹر پر دیکھتا ہوں، کیونکہ میں خود اس سے گزرا ہوں تو میں بتا سکتا ہوں کہ کب کوئی اور اپنے ساتھ ایسا کر رہا ہے۔’

وہ کیسے بتا سکتے ہیں؟ ان کا ماننا ہے کہ ‘کوئی بھی کسی اور کی اتنی پروا نہیں کرتا کہ مسلسل اتنے سارے پیغامات بھیجے، خاص طور پر تب جب ان کے اتنے زیادہ فالوورز بھی نہ ہوں۔ ہاں بعض لوگ خود کو سائبر دادا گیری کا متاثر پاتے ہیں۔ یقینی طور پر آپ ان کی نشاندہی نہیں کرنا چاہیں گے کیونکہ آپ جانتے ہیں کہ وہ کیسا محسوس کر رہے ہوں گے۔’

جولین اور سوفی ڈیجیٹل دنیا میں اب مزید خود کو نقصان نہیں پہنچاتے، لیکن دونوں ہی جب نوجوان تھے تو افسردہ رہتے تھے۔ اس لیے دونوں ہی کے خیال میں یہ ایک اشارہ ہو سکتا ہے کہ مسئلہ زیادہ سنگین ہے۔

سوفی جنھوں نے کبھی خودکشی کی کوشش تو نہیں کی لیکن ڈپریشن کا شکار ضرور رہی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ‘میرے خیال میں اگر آپ کو لگے کہ کوئی خود کو ہی ایسے پیغامات بھیج رہا ہے تو آپ کو ان کے ساتھ بات کرنی چاہیے اور پوچھنا چاہیے کہ مسئلہ کیا ہے۔’

‘کیونکہ میرا نہیں خیال کہ ہمیشہ سب کے ساتھ ویسا ہی ہوتا ہے جیسا میرے ساتھ ہوا۔ میرے خیال میں بہت سے لوگ واقعی ایسا سوچتے ہیں اپنے بارے میں۔ مجھے ہمیشہ خوش رہنے سے مسلہ ہوا، لیکن میں نے کبھی ناقدری نہیں کی۔’

ان کا کہنا ہے کہ ‘لیکن ایسے لوگ بھی ہیں جو واقعی نہیں جانتے کہ اپنی قدر کیسے کرنی ہے، اور پھر ایسے پیغامات مدد کے لیے پکار ہو سکتے ہیں۔ میرے خیال میں صرف ایسا کہنے میں کوئی نقصان نہیں کہ آپ ٹھیک ہیں؟’

ڈیجیٹل طور پر خود کو نقصان پہنچانا مدد کے لیے پکار ہو سکتی ہے، لیکن اس بارے میں مزید تحقیق سے ہی معلوم ہو سکے گا کہ اس طرح کہ رویے سے کیسے لڑنا ہے۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 4924 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp