جینا ہیسپل کی بطور ڈائریکٹر سی آئی اے تعیناتی کی منظوری


ہیسپل

Getty Images
سی آئی اے کی خاتون ڈائریکٹر کے حق میں چھ ڈیموکریٹس نے پارٹی کے موقف سے ہٹ کر ووٹ دیا

امریکی سینیٹ نے نائن الیون کے بعد مشتبہ دہشت گردوں سے سی آئی اے کے تفتیشی پروگرام میں کردار کے باوجود جینا ہیسپیل کی بطور امریکی خفیہ ادارے کی پہلی خاتون ڈائریکٹر کے طور پر تعیناتی کی منظوری دے دی ہے۔

جینا ہیسپل کے حق میں 54 ووٹ آئے جبکہ 45 سینیٹروں نے ان کی تعیناتی کی مخالفت کی۔

یہ رائے شماری سینیٹروں کے درمیان منقسم رائے کو ظاہر کرتی ہے جس کی وجہ ہیسپیل قیدیوں کے ساتھ سابق صدر بش کے دور میں واٹر بورڈنگ اور دیگر مشتبہ طریقے اپنانا تھا۔

سی آئی اے کی پہلی ’خاتون سربراہ‘ کون ہیں؟

سی آئی اے کی لاکھوں خفیہ دستاویزات انٹرنیٹ پر جاری

خالد شیخ کے پاس ’سی آئی اے کی نامزد سربراہ کے خلاف معلومات‘

سی آئی اے کے سابق چیف مائیک پومپیو نے یہ عہدہ وزیر خارجہ کی نشست سنبھالنے کے لیے چھوڑ دیا تھا۔

رپبلکن پارٹی کے سینیٹر جان مکین کو ویتنام کی جیل میں پانچ سال سے زیادہ عرصے تک تشدد کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ انھوں نے صدر ٹرمپ کی جانب ہیسپل کی نامزدگی کی مخالفت کی تھی۔

جمعرات کو خاتون ڈائریکٹر کے حق میں چھ ڈیموکریٹس نے پارٹی سے ہٹ کر ووٹ دیا۔

ان میں سے ایک ورجینیا سے تعلق رکھنے والے سینیٹر مارک وارنر نے کہا کہ انھیں جینا ہیسپل نے بتایا ہے کہ وہ سی آئی اے کی تفتیش کے دوران تشدد کے طریقوں کے استعمال کو بحال نہیں کرے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ نئی ڈائریکٹر نے انھیں یقین دہانی کروائی ہے کہ اگر صدر ٹرمپ بھی کہیں گے تب بھی وہ ان کی اس تجویز کو تسلیم نہیں کریں گی۔

دو رپبلکن امیدوار نے ہیسپل کے خلاف ووٹ دیا، جس کا مطلب ہے کہ وہ ڈیموکریٹس کی حمایت کے بغیر انتخاب کے لیے منظوری حاصل نہیں کر سکتی تھیں۔

61 سالہ ہیسپیل نے اپنے 33 سالہ کرئیر میں زیادہ تر خفیہ آپریشن کیے ہیں۔

سنہ 2002 میں انھیں تھائی لینڈ میں ایک خفیہ تفتیشی مرکز (بلیک سائٹ) چلانے کے لیے منتخب کیا تھا۔ وہاں پوچھ گچھ کے ان طریقوں کو اپنایا گیا تھا جنھیں سینیٹ نے اپنی رپورٹ میں تشدد قرار دیا تھا۔

اسی مرکز میں عبدالرحیم النشیری نامی ایک ملزم پر ایسے بہیمانہ طریقوں کا استعمال کیا گیا تھا جن پر بعد میں صدر اوباما نے پابندی عائد کر دی تھی۔

عبدالرحیم النشیری کو سونے کی اجازت نہ دینے، برہنہ کرنے، شدید درجہ حرارت میں رکھنے، اپنے قد سے چھوٹے بکسے میں بند رکھنے اور بار بار دیوار سے ٹکرانے کی صورت میں اذیت دی جاتی تھی۔

تین سال بعد مِس ہیسپل نے النشیری اور اسی جگہ پر قید ابو زبیدہ سے تحقیقات کے دوران بنائی جانے والی 92 ویڈیوز تلف کرنے کا حکم دے دیا تھا۔

سینیٹ کی جانب سے سنہ 2014 میں پیش کی جانے والی رپورٹ میں بتایا گیا کہ ستمبر 2011 کے حملوں کے بعد کل 119 افراد پر تشدد کیا گیا۔

انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں کا کہنا ہے کہ ہیسپیل تھائی لینڈ سے چلی گئی تھیں تاہم ابھی یہ واضح نہیں کہ اس کے بعد ان کا کردار کیا تھا کیوں کہ سی آئی اے نے اسے خفیہ رکھا ہے۔

اس سے قبل صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ وہ مشتبہ دہشت گردوں سے پوچھ گچھ کے دوران واٹر بورڈنگ استعمال کرنے کا حکم دے سکتے ہیں۔

image_pdfimage_print

Comments - User is solely responsible for his/her words

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 3786 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp