وزیر اعظم کی پریس ٹاک لائیو دکھانے کیلئے نہیں تھی


وزیر اطلاعات و نشریات مریم اورنگزیب کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم نے کچھ روز پہلے پریس کانفرنس نہیں بلکہ پریس ٹاک کی تھی جس میں کیمرے کی اجازت نہیں تھی اور یہ لائیو دکھانے کیلئے نہیں تھی۔

احتساب عدالت کے باہر ایک صحافی نے سوال کیا کہ وزیر اعظم کی تقریر کی فوٹیج ڈیلیٹ کردی گئی ہے اس پر آپ کیا کہیں گی ؟،صحافی کے اس سوال پر وزیر مملکت برائے اطلاعات و نشریات مریم اورنگزیب نے کہا کہ فوٹیج پی ٹی وی سے ڈیلیٹ ہوتی یا رکوائی جاتی تووہ خود اس پربیان دیتیں۔پی ایم ہاﺅس بلائے گئے صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو تھی وہ پریس کانفرنس نہیں بلکہ پریس ٹاک تھی جو براہ راست نشر ہونی تھی اور نہ ہی کیمرہ کی اجازت تھی، پریس ٹاک لائیو دکھانے کیلئے کبھی بھی نہیں تھی۔

انہوں نے مزید کہا کہ میڈیامیں ذرائع سے خبریں چل رہی ہیں یہ خبر بھی تین روز تک چلتی رہی ، میںنے کہا چلتی ہے تو چلنے دو، اگر میڈیامجھ سے پوچھ لیتاتووضاحت کردیتی۔

خیال رہے کہ کچھ روز پہلے قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس ہوا تھا جس میں نواز شریف کے ممبئی حملوں کے بارے میں بیان کی مذمت کی گئی تھی ۔ اجلاس کے بعد وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے میڈیا سے گفتگو کی جس میں قومی سلامتی کمیٹی کے اعلامیے کو مسترد کرکے نواز شریف کی قیادت پر مکمل اعتماد کا اظہار کیا گیا۔ وزیر اعظم کی اس تقریر یا پریس ٹاک کے بارے میں خبریں چل رہی ہیں کہ یہ ڈیلیٹ کردی گئی ہے جبکہ پی ٹی وی سے اس کی فوٹیج چوری کرلی گئی ہے۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں