پہلے سفر کا نامہ


inam-rana-3“خان صاب اب کالام کتنی دور ہے”؟ میں نے اگلی سیٹ پہ اونگھتے ہمسفر سے پوچھا۔ “خو بس یہی تین چار گھنٹے”، خان نے دوبارہ اونگھ میں جاتے جاتے کہا۔ اور یہ اس نے تیسری بار کہا تھا۔ مجھے خوف یہ تھا کہ شیخ جاگ جائے گا۔ نیند کی دو گولیاں آخر کتنی دیر سلا سکتی ہیں۔

سیاحت میری علت ہے، میرا نشہ ہے جو بچپن سے لگا ہے۔ بچپن میں ہر سال گرمیوں میں ہمارے والد ہمیں شمالی علاقہ جات لے جاتے کہ سیاحت ان کا شوق تھا، سو سیاحت میری وراثت ہے۔ اس آگ کو مزید بھڑکایا ہم سب کے چاچا تارڑ نے کہ کتنی ہی نسلیں انھیں پڑھ کر سیاح ہو گئیں۔ اب “ہم سب ” پر جب وقار ملک کا نام آتا ہے تو میں فورا کھولتا ہوں کہ شاید تحریر میں شمال ہو، تارڑ ہو کہ دونوں میرے اور وقار بھائی کے مشترکہ عشق ہیں اور رقابت کے بجائے مجھے وقار ملک سے عقیدت ہے۔ خیر سیاحت کا شوق اپنی جگہ لیکن اکیلے کبھی سفر نہ کیا تھا۔ ایسے میں ایف اے کا امتحان دیتے ہی جب اعلان کیا کہ میں اکیلے سفر پر جاؤں گا تو میرے والدین کی انکھوں میں وہی حیرت تھی جو پچھلے زمانوں میں گھڑے کا پانی نمکین ہونے پر ہوتی تھی؛ بچہ جوان ہو گیا تھا۔ پوچھا کہاں جاؤ گے؟ کہا یہ ابھی سوچا نہیں۔ اجازت ملی تو سوچا ساتھ کون جائے۔ اب ایسا کوئی دوست نہ ملے جو ہمسفر بنے۔ آخر شیخ مان گیا کہ اکثر میری مان جاتا تھا۔ پوچھا جائیں گے کہاں؟ کہا پتہ نہیں۔ بس کل نکلنا ہے۔ میرے ذہن میں دو نام تھے، کاغان اور کالام جبکہ شیخ مری کے حق میں تھا۔ اگلے دن جب ہم ڈائیو بس میں بیٹھے تو مجھے ایک سو تین بخار تھا مگر نوجوانی میں ایک خوبی ہے، رکنے نہیں دیتی۔

اسلام آباد تک میں اور شیخ مسلسل الجھتے تھے۔ اس کا خیال تھا کہ مری چلا جائے جہاں بچیاں ہوتی ہیں اور دو دن میں واپس آ جائیں گے۔ جبکہ ہر سال مری جا جا کر 1اب مجھے مری یونہی لگتا تھا جیسے سکول جانا۔ میرا خیال تھا کہ کالام یا کاغان جایا جائے کہ فطرت کا مطالعہ ہو۔ جب شیخ نے بھری نوجوانی میں لڑکی کے بجائے لکڑی(درخت) میں میری دلچسپی پہ لعنت ملامت کرتے ہوے اچھے حکیم کا مشورہ شروع کیا تو میں نے ترپ کا پتہ پھینکا۔ “شیخ، تجھے کیا پتہ، ان علاقوں میں گوریاں آتی ہیں اور بہت آزاد خیال ہوتی ہیں۔ چاچا تارڑ نے یہی لکھا ہے؛ سالے ان کالی پیلی پاکستانیوں کو بھول جائے گا”۔ اب شیخ نے تارڑ تو نہیں پڑھا تھا مگر سترہ اٹھارہ کی عمر میں عورت کا تصور آسانی سے بہکا دیتا ہے۔ اسی تصور میں آج کچھ لوگ خودکش بن جاتے ہیں تو شیخ سیاح کیسے نہ بنتا۔ اسلام آباد اڈے پر جب میں نے پوچھا کہ کاغان قریب ہے یا کالام تو پتہ چلا کالام؛ سو کاغان موقوف۔ میں نے کہا ایک دن میں آ جائیں گے؟ اس نے کہا نہیں دو دن اور میں گھبرا گیا۔ شیخ سے طے یہ پایا تھا کہ ایک دن کاغان یا کالام پھریں گے اور اگلے دن مری آ جائیں گے لیکن یہاں تو کام مشکل لگتا تھا۔ صاحبو ہر ادیب کی طرح ہر سیاح بھی کمینہ ہوتا ہے، سو نیند کی دو گولیاں شیخ کی چائے میں مل گئیں تاکہ سفر کی لمبائی سے گھبرا کر وہ رستے میں ہی بس سے چھلانگ نہ لگا دے۔ بس چلی تو اگلی سیٹ پر بیٹھے خان سے پوچھا، خان صاب کالام کتنی دور ہے۔ خان نے چٹکی دبائی، پچکاری ماری اور بولا،”بس یہی کوئی تین چار گھنٹے” اور ہمارے چہروں پہ مسکراہٹ آ گئی۔ مگر اب سات آٹھ گھنٹے ہوتے تھے اور کالام ابھی بھی تین چار گھنٹے تھا۔ مینگورہ جب شیخ کو جھنجھوڑا کہ بس وہیں تک جاتی تھی تو اسے اندازہ ہوا کہ وہ کافی دیر سویا۔ مینگورہ دیکھ کر شیخ خوش ہوا مگر جب پتہ چلا کہ کالام ابھی اور دور ہے تو اڑ گیا کہ واپس جائیں گے۔ اب مذاکرات کا دور دوبارہ شروع ہوا اور طے پایا کہ سارا دن کالام گھومیں گے اور شام کو مری جائیں گے۔ شیخ کو غصہ تھا کہ “رانے تو نے کہا تھا گوریاں، یہاں تو پٹھان ہی پٹھان ہیں اور ہمیں دیکھ کر تھوکتے بھی ہیں”۔ میں نے حوصلہ دیا کہ یار ایک تو یہ کوئی پاوڈر کھاتے ہیں تو ہم پر نہیں تھوکتے، پاوڈر کی وجہ سے تھوکتے ہیں۔ دوسرا گوریاں کالام میں ہوں گیں، یہ مینگورہ تو کوئی قصبہ سا ہے۔ گوریاں بھلا یہاں رہیں گی”۔

مردان سے مینگورہ تک سڑک کے ہیبت ناک موڑوں سے میں اتنا ڈرا کہ کالام کے لیے وہ ہائی ایس چنی جس میں تلاوت اونچی آواز میں لگی تھی۔ خوف ہمیشہ انسان کو 4مذہبی بنا دیتا ہے۔ جب کچھ گھنٹوں میں ہم کالام پہنچے تو شیخ کو یہ اندازہ ہو چکا تھا کہ اس کے ساتھ “دھرو” ہو گیا ہے اور شام کو مری نہیں جا سکتے۔ بولا “کمینے
کی تو تو نے زیادتی ہے، گوریاں بھی کوئی نہیں، پر جگہ پیاری ہے۔ چل اب اسے انجوائے کریں۔ ہوٹل بک کرتے ہوے جب اس نے کہا دو راتیں، تو میں مسکرا پڑا۔ شمال کی حسینہ نے اسے رجھا لیا تھا۔ اگلے دو دن ہم نے کالام کو ایسے دیکھا جیسے کوئی نایاب وائن گھونٹ گھونٹ پیتا ہے۔ ہم نے دریا میں چارپائی ڈال کر کڑاہی کھائی۔ کلاشنکوف چلانے کا شوق پورا کیا۔ جیپ کرا کر مہونڈڈ جھیل دیکھی اور اپنی زندگی کی پہلی تازہ ٹراوٹ کھائی۔ زندگی میں پہلی بار دوکانداروں اور جیپ والوں سے بھاؤ تاؤ کیے اور مہونڈڈ جھیل تک اس وقت تک کا اپنا سب سے خطرناک سفر کیا۔پہلی رات شیخ میرے پاس بھاگا بھاگا آیا اور بولا “رانے باہر ایک مولوی ہے اور بوتل بیچتا ہے؛ لے لوں؟” شیخ خدا کا خوف کر کیوں پردیس میں مروائے گا۔ ویسے بھی مولوی صرف شراب طہورا بیچتا ہے جس کی زندگی میں، صرف بکنگ ہوتی ہے۔ شیخ نے کچھ دیر خاموش رہ کر کہا”پر یار وہ کہتا تھا بہت غریب ہوں تو میں نے لے لی ہے”۔ یہ کہتے ہوے شیخ نے ڈب سے بوتل نکالی اور میری ہنسی نکل گئی۔ شراب کی بوتل میں جو بھی تھا شراب نہ تھی۔ چائے کی پتی کے رنگ کے پانی میں نہ جانے کیا کیا تیرتا تھا۔ اب شیخ جو اندھیرے میں مبلغ تین سو خرچ آیا تھا ہتھے سے اکھڑ گیا کہ بابے کی ایسی کی تیسی بےایمانی کر گیا میں ابھی جا کر پکڑتا ہوں۔ ایک شیخ کے تین سو نکل جائیں تو جلال میں راجپوت ہو جاتا ہے۔ اب میں ڈرا اور سمجھایا کہ شیخ ہم بابے کی زمین پر ہیں، شراب غیر قانونی، آس پاس سارے پٹھان اور تو بہت خوبرو؛ سو صبر کر رسک نہ لے۔ شیخ نے دو منٹ سوچا، بوتل کھڑکی سے باہر پھینکی اور دونوں ہاتھ اٹھا کر کہا” یا اللہ جی یہ تین سو میری طرف سے صدقہ”۔ رات سوتے میں شیخ بڑبڑانا تھا۔ مجھے صرف دو چار لفظ کی سمجھ آئے؛ فراڈیا، پین دا۔۔۔، صدقہ۔

غربت کالام کے حسن کو گہناتی تھی۔ فطرت کا حسن کسی الہڑ کی جوانی کی طرح چھلکتا تھا اور غربت اس پھٹے لباس کی طرح تھی جو اس جوانی کو چھپانے کی ناکام کوشش کرتا ہے۔ عورت تو خیر خود کالام والے بھی خال ہی دیکھ پاتے ہوں گے مگر بچے اور مرد اپنے لباس اور چہروں سے گھر پر موجود غربت کی چغلی کرتے تھے۔ جیپ میں بیٹھے جب دور پہاڑوں میں غاریں سی دیکھیں، تو ڈرائیور نے بتایا کہ ان میں بھی لوگ رہتے ہیں۔ بولا صاب 3اس سیزن میں جو کمائیں گے، سارا سال وہی کھانا ہے۔ سردی میں جب یہ دریا بھی جم جاتا ہے تو بس ہر فرد گھر میں محصور وہی کھا پاتا ہے جو اس سیزن میں بچ جائے۔ لوگ کہتے ہیں کہ شمال یوروپ کے کسی بھی حصے سے پیارا ہے، ضرور ہو گا۔ مگر لوگوں کی حالت اس جانور جیسی ہی تھی جس کے ساتھ سردی میں انھیں ایک ہی کمرے میں سونا پڑ جاتا تھا۔ کالام جو فطری حسن اور قیمتی پتھروں سے مالا مال تھا، غریب تھا۔

برسوں بعد جب سوات پر طالبان نے قبضہ کیا اور لوگ فضل اللہ کے ہمدرد ہو گئے تو مجھے بہت حیرت نہیں ہوئی۔ جو غربت ایک سفید ریش سے شراب (یا شراب نما) بکوا سکتی ہے، وہ ایک جوان سے اسلام کے نام پر بندوق بھی اٹھوا سکتی ہے۔ جو روٹی ریاست نہ دے پائے، اسے دینے یا کم از کم اس کا خواب دکھانے والا خود بخود ہیرو قرار پاتا ہے۔


Comments

FB Login Required - comments

انعام رانا

انعام رانا لندن میں مقیم ایک ایسے وکیل ہیں جن پر یک دم یہ انکشاف ہوا کہ وہ لکھنا بھی جانتے ہیں۔ ان کی تحاریر زیادہ تر پادری کے سامنے اعترافات ہیں جنہیں کرنے کے بعد انعام رانا جنت کی امید لگائے بیٹھے ہیں۔ فیس بک پر ان سے رابطہ کے لئے: https://www.facebook.com/Inamranawriter/

inam-rana has 35 posts and counting.See all posts by inam-rana

5 thoughts on “پہلے سفر کا نامہ

  • 23-04-2016 at 10:31 am
    Permalink

    کہاوتیں اور مثالیں اپنی جگہ، مگر جس طرح تحریر کے الفاظ ایک دوسرے کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں سے لگتا ہے کہ لفاظی کی ایک مالا ہے جو اپنے حسن سے قاری کی آنکھوں کو خیرہ کر رہی ہے۔

    شکریہ اس سفر نامے کیلئے جس کے اختتامیئے نے کچھ نا کہتے ہوئے بھی بہت کچھ کہہ دیا۔

  • 24-04-2016 at 9:29 am
    Permalink

    واہ واہ رانا صاحب۔۔ مزہ آ گیا ۔۔۔ ایسا لگ رہا تھا جیسے چاچا جی کے سفر نامے کا کوئ ریمکس پڑھ رہے ہوں، لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ آپ نے چاچا جی کو کاپی کیا ہے۔۔ الفاظ کی بے ساختگی سے یقین ہو رہا ہے کہ سفر نامہ واقعئی سچا ہے ورنہ کچھ لوگ تو ۔۔۔۔ 😛

  • 24-04-2016 at 11:39 am
    Permalink

    Wa

  • 24-04-2016 at 11:41 am
    Permalink

    Wah rana g kamal likhty ho

  • 24-04-2016 at 11:58 am
    Permalink

    اس ہلکی پھلی تحریر میں آپ نے جو گہری گہری باتیں کر دیں کمال کیا ہے۔ الفاظ آپ کے غلام ہیں۔ میرے پاس مناسب الفاظ نہیں تعریف کے لیے۔

Comments are closed.