بیاہتا بیواﺅں کے نام


آج شام ہی سے سونیا کے دل کو جیسے پنکھے لگے ہوئے تھے۔ گھر کا کام ختم کر لیا۔ بچوں کو ڈانٹ ڈپٹ کر سر شام ہی سُلا دیا بےچارے کھیلنے کو ترستے ہی رہے لیکن سونیا کا بس چلتا تو سارے محلے کو نیند کی گولیاں کھلا دیتی یہ تو پھر معصوم سے بچے تھے ایک گھرکی سے سہم جانے والے۔ الماری سے کپڑے نکالتے ہوئے موبائل کو بار بار دیکھتی سونیا کے ایک ایک انداز سے بے چینی ہویدا تھی۔ پچیس دن پہلے موبائل سے بالکل لاپرواہ رہنے والی سونیا اب ایک لمحے کو بھی اس کھلونے کو آنکھوں سے اوجھل نہ ہونے دیتی۔ یہ موبائل ہی تو اس کی تنہائی کا حصہ دار تھا۔ اداس راتوں میں آج کل اس موبائل نے رنگینی بھری ہوئی تھی۔ بھید بھری سرگوشیاں پندرہ سالہ بیاہتا کے لیے اتنی بھید بھری نہ ہوتیں اگر ڈالر کمانے کی ہوس میں مبتلا اس کا شوہر گھر کا راستہ نہ بھول چکا ہوتا۔

دن میں ایک بار طویل فاصلاتی مختصر سی کال آتی اور اس کا حال چال پوچھے بغیر بچوں کی تربیت پر مبنی دس منٹ کا لیکچر سنا کر ختم کر دی جاتی۔ اب تو سونیا بھی یہ کال ایسے ہی نمٹاتی جیسے کوئی کند ذہن طالب علم اسکول کا پیریڈ نمٹاتا ہے۔ اس کے شوہر کو پردیس گئے آٹھ سال ہو چکے تھے ان آٹھ برسوں میں بڑے سے بڑا واقعہ بھی اسے واپس لوٹنے پر مجبور نہ کر سکا۔ دو سال پہلے اپنے شوہر کی خفیہ شادی کی اطلاع نے اس کی رہی سہی امید بھی ختم کر ڈالی۔ شادی کی خبر ملنے پر جب سونیا نے فون پر اپنے مجازی خدا کی خبر لینے کی کوشش کی تو منہ کی کھائی۔ کم عقل و ناشکری عورت کا خطاب سننے کے بعد اسے بتایا گیا کہ کس طرح خون کا پانی کر کے وہ اس کے بچوں کے لیے کماتا تھا، پردیس کی خاک چھانتا تھا۔ لادین معاشرے میں رہنے کے باوجود وہ چھ سال تک خود کو روک کر کس طرح اس شادی پر احسان کرتا رہا۔ اور یہ اس کا دینی حق ہے کہ وہ خود کو گُناہ سے بچانے اور اپنے جبلی تقاضے پورے کرنے کے لیے شادی کر لے تاکہ حلال طریقے سے زندگی بسر کر سکے۔ ایم اے پاس سونیا منہ پر تالا لگائے اتنا کہنے کی ہمت بھی نہ کر سکی کہ روبوٹ تو وہ بھی نہیں ہے۔ ایک دل، دو پھیپھڑے، دو گُردے اور باقی جسمانی اعضا تو وہ بھی رکھتی ہے تو پھر اس کے جذبات اور جبلی تقاضوں کا کیا سوچا؟

اور تب سے آج سے پچیس دن پہلے تک سونیا روبوٹ کی طرح زندگی گزارتی آئی۔ دو بچوں کی موجودگی اور مذہبی پابندیوں نے اس کو جسمانی طور پر قید ضرور کیا تھا لیکن اس کا تخیل تو آزاد تھا اور وہ اس کے سہارے اپنے ماضی کو توڑتی مروڑتی مستقبل کا دھارا بدلنے کا سوچتی۔ زندگی کی بساط پر چل چکے مہروں کو بار بار چلاتی کبھی اس مہرے کو اس خانے میں رکھتی اورسوچتی کہ اگر چال اس طرح چلی جاتی تو مستقبل کچھ اور ہوتا اور پھر دوسرے ہی پل اس مہرے کا مقام بدل ڈالتی۔ کبھی سوچتی کہ اچھا ہوتا اگر اس کا شوہر اسے طلاق دے دیتا اس طرح سے اس ان چاہے بوجھ سے وہ آزاد ہو جاتی۔ سونیا کو آج بھی یاد تھا کہ کس طرح بیٹی کے سُہانے مستقبل کے لالچ نے اس کے والدین کی آنکھوں پر پٹی باندھ دی اور کس طرح شادی کے ایک آدھ سال بعد شوہر کے ہمراہ پردیس روانہ کرنے کا وعدہ طاق نسیان پر پڑا گلتا سڑتا رہا اور پندرہ برس  میں بس دو بار اس کا شوہر دیس کا چکر لگا پایا۔ دو بچوں کی پیدائش نے سونیا کو اس بے مطلب کی دوہری ذمہ داریوں میں باندھ دیا۔

وہ باقی کے سال بھی اسی طرح گُزار دیتی اگر بار بار آنے والی اس رانگ کال نے اسکے ایمان کا امتحان نہ لیا ہوتا۔ دو ہفتے تک نظر انداز کرنے کے باوجود جب رانگ کالر باز نہ آیا تو ذمہ داریوں میں جکڑی، تنہائی کی ڈسی سونیا نے گھٹے زندان جیسے جیون میں تازہ ہوا کا ایک جھروکہ دریافت کر لیا۔ سارا دن زندان کی زنگ آلود فضا میں سانس لینے کے بعد رات کی مخصوص گھڑیوں میں وہ اس جھروکے سے لگ کر کھڑی ہو جاتی اور جی بھر کر جیتی۔ یہ جھروکہ اسے بتاتا کہ وہ کتنی مظلوم ہے اور پندرہ سالہ ازدواجی زندگی بھی اس کی معصومیت اس سے نہیں چھین پائی۔ سونیا کا ضمیراسے جھنجھوڑنے کی ناکام کوشش کرتا رہا لیکن سونیا بس تازہ ہوا کی متلاشی تھی۔ اور آج پچیس دن بعد اس نے اس جھروکے کو دروازہ بنانے کا فیصلہ کر لیا۔ آج ساری دُنیا کے نیند کے اندھیرے میں ڈوبنے کے بعد وہ رانگ کالر اس جھروکے سے اندر آنے والا تھا اور سونیا کی ہتھیلیاں بھیگتی جا رہی تھیں۔

وہ بار بار گھڑی کی جانب نظر ڈالتی اور پھر موبائل کو دیکھتی جو کسی بھی لمحے گھر کا پتہ دریافت کرنے کے لیے بجنے والا تھا۔ رات کے دس بج چُکے تھے جب موبائل کی گھنٹی مدہم سُروں میں بجی۔ سونیا تیر کی طرح لپکی لیکن پھر سکرین پر اپنی بہن کا نمبر دیکھ کر اچنبھے میں پڑ گئی۔ کال اٹینڈ کر کے وہ فق چہرے کے ساتھ اپنی بہن کی بات سُنتی رہی اور پھر کال کاٹ کر بُھربھری مٹی کی طرح زمین پر ڈھے گئی۔ اس کی بہن فون پر اسے خوشخبری سُنا رہی تھی کہ اس نے اپنے بیٹے کا رشتہ سونیا کی نویں جماعت کی طالبہ بیٹی سے کرنے کے لیے اپنے شوہر کو منا لیا تھا۔ اور اب سونیا کو اپنی بیٹی کے مستقبل کے لیے پریشان ہونے کی کوئی ضرورت نہیں۔ زمین پر بے جان سی گری ہوئی سونیا نے ایک نظر مڑ کر اپنی سوئی ہوئی کمسن بیٹی کو دیکھا جس کے رشتے کی عُمر بھی آچلی تھی اور پھر ایک نظر سامنے آئینے میں اپنے عکس پر ڈالی۔ اسے لگا جیسے ایک سجی سنوری عمر رسیدہ طوائف اپنے گاہک کا انتظار کر رہی ہے۔ خود سے حد درجہ گھن محسوس کرتے ہوئے سونیا نے موبائل سامنے اپنے عکس پر دے مارا اور پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔

یہ صرف ایک سونیا کی کہانی تھی جو اندھے کنوئیں میں چھلانگ لگانے سے بال بال بچ گئی لیکن ہمارے معاشرے میں نجانے کتنی سونیا ہیں جو گھٹ گھٹ کر جینے پر مجبور ہیں۔ سہاگن ہوتے ہوئے بھی بیواﺅں کی سی زندگیاں گُزارنے والی یہ عورتیں پردیس میں سیاہ و سفید کرتے اپنے مجازی خداﺅں کی عزتوں اور مال کی محافظ ہیں۔ یہ اپنے بچوں کی ماں بھی ہیں اور باپ بھی۔ ان کے شوہر گھر سے دور گناہوں سے بچنے کی لیے کبھی پوشیدہ شادیاں کرتے ہیں تو کبھی ببانگ دہل۔ لیکن ان عورتوں پر لازم ہے کہ وہ اپنے جذبات و احساسات پر مٹی ڈال کر جینا سیکھ لیں۔ بھر ی جوانی میں بیواﺅں کی سی زندگی گُزارتی یہ نازک عورتیں جب ہر قسم کے حالات جھیل کر خالص مرد مار عورتیں بن چکی ہوتی ہیں تو ان کے مجازی خدا جوش و ولولہ پردیس میں نچھاور کرنے کے بعد زندگی کی ڈھلتی ہوئی شام میں گھر لوٹتے ہیں تو ساری زندگی باتیں کرنے اور دکھ سکھ بانٹنے والی بیوی تب تک خدا سے لو لگا چُکی ہوتی ہے۔ وہ عمر کے اس حصے میں ہوتی ہے کہ اب اس کو اولاد کے سوا کسی کی ضرورت نہیں رہتی اپنے سر کے سائیں کی بھی نہیں….

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں