چاند بھی مر گیا ہے


yousaf benjaminمیرے فون کی گھنٹی بجی” چاند بھی مر گیا ہے“ بھرائی ہوئی نسوانی آواز میں کسی نے پیغام دیا اور فون بندکر دیا۔ میں نے حیریت اور مُسکراہٹ سے عاصم حُسین سے پوچھا کیا سورج ،چاند ستارے بھی بھلا کبھی مر سکتے ہیں؟ تو جواب یقیناً ناں میں تھا۔ ہم اسلام آباد سے لاہور کی جانب اپنا سفر جاری رکھے ہوئے دیگر موضوعات پر تبادلہ خیال میں مگن تھے کہ اب کی بار گلشن اقبال پارک دھماکہ کے متاثرہ ایک شخص نے فون کر کے اُسی پیغام کو دُہرایا۔ خاتون کے اُس پیغام کی تصدیق نے دفعتاً میرے دل و دماغ کی صلاحیت جکڑ سی دی۔ افسردگی اور غمگینی کے عالم میں میرے خشک حلق میں Oh Jesus کے الفاظ بھی ایک لحظہ کے لئے اٹک سے گئے تھے اور سوچ کی لہروں میں گہری اتھل پتھل ہونے لگی تھی۔ میری نگاہوں میں چاند کا سارا سراپا منظر بدلنے لگا جس سے چند روز قبل میں ہسپتال میں عیادت کے دوران مل چکا تھا۔ میرے ذہن میں اِس چاند کی خود ساختہ مماثلت اُس چاند سے اُبھرنے لگی۔ اِس چاند کی پیدائش اور اُس چاند کا سانولی شام میں نمودار ہونا، اِس چاند کے بچپن کی شوخیاں اوراُس چاند کی سنہری چاندنی،اِس چاند کی کھلکھلاہٹ اوراُس چاند کی شوخ رنگینیاں، شیخو پورہ کے اِس چاند کا زخمی بدن اورآسمان کے اُس چاند پر گرہن۔ کرسچن بستی کے اِس چاند کی ابدی رخصتی اورمیلوں دُوراُس چاند کے غروب ہونے کا منظر ، سب رنگ اور یادیں ایک دوسرے میں اُلجھنیں لگیں مگر قصہ مختصر کہ چاند بھی مر گیا تھا۔

جی ہاں! نذیر اور نسرین کا 18 سالہ چاند۔ نسرین کی کُل کائنات اور نذیر کی اُمنگوں کا چاند۔ نسرین کی آنکھ کا تارا اور نذیر کے لئے چودھویں کی رات کا درخشاں چاند اب غروب ہو چکا تھا۔ چاند 27 مارچ کے شہدا کی فہرست میں بھی اضافہ کر گیا اور والدین کی زندگی میں غیر متوقع طور پر دکھوں کے انگنت اضافے بھی۔ وہ نسرین کے سپنے بھی توڑ گیا اور نذیر کو خیالوں کے بھنورمیں ڈوبا چھوڑ کر اپنی راہ ہو لیا۔

ٹرین کی پٹڑی کے خستہ حال پھاٹک کے اُس پار ضلع شیخو پورہ کا فاروق نگر اور گلوریا کالونی کئی دہائیوں سے کندھے جوڑے یوں قائم کھڑے ہیں گویا مذہبی ہم آہنگی کی کسی تشہیری مہم کا حصہ ہوں۔ شہری سہولیات سے محروم اور بے ترتیب تعمیر کئے گئے گھروں میں سے ایک میں چاند نے آنکھ کھولی اور زندگی کی 18 بہاریں دیگر چار بہن بھائیوں کے ساتھ گزاریں۔ چاند 27 مارچ کو لاہور کے گلشن اقبال پارک بم دھماکہ میں شدید زخمی ہو گیا تھا ۔ وہ 14 دن زندگی کے لئے جدوجہد کرتے کرتے آخر کار 11 اپریل کو جان کی بازی ہار گیا۔ اِس سے قبل اسی حادثہ کے نتیجہ میں چاند کا قریب ترین دوست اور چچا زاد بھائی ساگر اشرف بھی اپنی جان جاں آفریں کے سپرد کر چکا تھا۔

chand sahib12 اپریل کو چاند کے جنازہ کی دُعائیہ تقریب جاری تھی۔ سینکڑوں سوگوار جمع تھے۔ نذیر اور اشرف دونوں بھائی، دو ہفتوں میں دو بیٹوں کے جنازوں کا بوجھ اُٹھا کے اب ادھورے ادھورے سے لگ رہے تھے۔ چاند کا آخری سفر شروع ہوا تو نسرین جنازہ اُٹھانے والوں کی منتیں کرنے لگی کہ کچھ دیر اور رُک جاﺅ مگر آخری سفر کا مسافر بھلا کب رُکتا ہے۔ دیواروں سے ڈھلکتی معمولی سی چھاﺅں کا سہارا لئے کھڑے حضرات اور ماتم کناں خواتین کی آہیں اور آنسو تو گویا بستی ہی بہا لے چلے تھے۔ ”وہ ایسٹر سے ایک دن قبل لاہور چلا گیا تھا بِن بتائے، کاش میں اُسے روک لیتا “۔ نذیر کی یہ دُہائی سُن کر میں اپنے اندر فقط گہری آہ ہی بھر سکا۔

”چاند محنتی اور مخلص دوست تھا“۔ ماموں زاد بھائی عاطف چند افراد کے جھرمٹ میں کھڑا کبھی اپنے گال صاف کرتا اور کبھی آنسو تھامنے کی ناکام کوشش۔ ”کالے رنگ کا تو وہ دیوانہ تھا مگر آج سفید اوڑھ گیا ہے“۔ ہلکی سی آہ اور ہچکی بھرتے ہوئے عاطف بہت کچھ کہنا چاہتا تھا مگر دل کا زخم زبان خشک کئے تھا ۔ ”پڑھائی میں چاند کا دل بالکل نہیں لگتا تھا مگر شوخ اور بھرپور زندگی اُس کا عشق تھا“۔ چاند کا ذکر کرتے کرتے ارشد اور عاطف، دونوں کزن بھائی ایک دوسرے کو دلاسہ دینے کی کوشش میں جب ناکام ہوگئے تودھاڑیں مار کر یوں رو دئیے گویا سیاہ اندھیری رات کے گہرے گھنے بادل آپس میں ٹکرا گئے ہوں۔ ” چاند چاہتا تھا کہ لوگ گزرتے ہوئے اُسے سلام کر کے گزریں، محلے میں اُس کی عزت ہو اور وہ سب کی نگاہوں کا مرکز ہو۔ وہ صحت یابی کے بعد دوستوں کے ساتھ پُر لظف ضیافت کے لئے کسی تفریحی مقام پر جانا چاہتا تھا“ اِتنا کہہ کے ارشد نے سر گھٹنوں پر رکھ دیا اور چند لمحوں بعد گویا ہوا لو آج اُس کی یہ تمنا بھی پوری ہوگئی“۔ عاطف اور ارشد ماضی قریب میں جھانکنے لگے۔ اب ماحول پر چھائی چار سُو افسردگی میں فقط آنسو چمک رہے تھے۔

نماز جنازہ کے بعد گلی کے بچے حمام کے ٹھنڈے پانی سے خرمستیاں کر رہے تھے۔ برف کے گولے بیچنے والا رنگین شربت پر بیٹھتی مکھیاں اُڑا رہا تھا۔ قریبی مسجد کے مولوی نے آ کر نذیر کے ساتھ تعزیت کے لئے ہاتھ اُٹھائے تو پادری صاب نے دُعا مختصر کر دی۔ کچھ افراد اس بحث میں مصروف تھے کہ گلشن پارک بم دھماکہ کا نشانہ صرف مسیحی تھے یا یہ عام پبلک حادثہ تھا۔ پوپ صاحب کے کسی مسلمان کے پاﺅں دھونے اور چومنے کے تذکرے سے لے کر، ملکی سیاست کے اُتار چڑھاﺅ، اقلیتوں کی صورتحال اور محلے کے چوہدری اور کونسلر کی اختلافی سیاست سب پر اظہار ِ خیال ہو رہا تھا، مگر افسردگی اور غمناکی کم نہ ہو پا رہی تھی۔

بیسیوں خواتین نیم بے ہوش اور غمزدہ نسرین کو سنبھالنے کی کوشش میں تھیں جو دُنیا و مافیا سے بے نیاز مسلسل صرف چاند ہی مانگ رہی تھی۔ نسرین بار بار چاند کے اُس کڑھائی والے کالے رنگ کے سوٹ کا ذکر کے آہیں بھرنے لگتی جو چاند نے ماہ رواں میں اپنی بہن کی شادی پر پہننے کے لئے خرید رکھا تھا اور لاہور جاتے ہوئے ماں سے کہا تھا کہ تیرا بیٹا اِس سوٹ میں ہیرو لگے گا۔ تعزیت کے لئے آنے والوں کے دلاسے اپنی جگہ مگر نسرین یہی کہتی رہی کہ چاند بِنا کائنات ادھوری ہے اور راقم کا بھی خیال ہے اس دُکھیاری ماں کی بات میں وزن تو ہے۔


Comments

FB Login Required - comments