اکیلی لڑکی، کھلی تجوری اور عوام


سمسٹر ختم ہوا تو گھر جانے کے لئے ٹرین کی ٹکٹ خرید لی کیونکہ جہاز کی ٹکٹ مہنگی بہت تھی۔ اس مرتبہ دوست بھی ساتھ نہیں تھے اور سفر اکیلے ہی کرنا تھا۔ صبح سے کچھ کھایا نہیں تھا تو کراچی کے کینٹ اسٹیشن سے بریانی لینے کی غلطی سرزد ہو گئی۔ خیر اپنی سیٹ پر بیٹھی تو کچھ دیر بعد ہی ایک خاتون اپنے تین بچوں کے ہمراہ کمپارٹمنٹ میں آگئیں۔ بچے تھوڑے شرارتی تھے مگر جلد ہی ان سے دوستی ہوگئی۔ وہ اوکاڑہ جارہے تھے اپنی نانی کے گھر اور نانکے پنڈ جانے کی خوشی دیدنی تھی۔ خیر میں چونکہ گزشتہ ایک ہفتے میں اسائنمنٹس اور پیپرز کی وجہ سے اپنی نیند کی قربانی دے چکی تھی اسی لئے جلدی سے کھانا کھا کر برتھ پر لیٹی اور مزے سے سو گئی۔ بس وہی وقت اچھا گزرا جب میں خواب خرگوش کے مزے لے رہی تھی۔

سو کر اٹھی تو بریانی اپنا اثر دکھا چکی تھی۔ خیر بمشکل نیچے اتری اور بیت الخلاء (انتہائی مشکل سے لکھا ہے یہ لفظ) جانے کے لئے باہر نکلی تو ایک صاحب راہداری میں کھڑے تھے۔ ان سے راستہ مانگا تو جناب نے واش روم تک پہنچانے میں بھرپور ساتھ دیا۔ غصہ تو بہت آیا مگر اس وقت میرا دھیان پیٹ سے اٹھتی گڑ گڑ کی آوازوں پر تھا۔ خود کو بریانی کھانے پر بہت کوسنے کے بعد میں باہر نکلی تو صاحب بہادر باہر ہی موجود تھے، ٹرین کا دروازہ کھلا ہوا تھا اور انہوں نے موقع دیکھتے ہی میرا بازو پکڑ لیا کہ کہیں آپ نازک سی محترمہ گرنا جائیں۔ ان کی سوچ پر ایک لاکھ دفعہ لعنت بھیجی، اچھی خاصی عزت افزائی کی اور واپس اپنے کمپارٹمنٹ میں آگئی۔ اس وقت جب وی میٹ فلم کا ڈائیلاگ یاد آیا ”اکیلی لڑکی کھلی ہوئی تجوری کی طرح ہوتی ہے“ اور میں نے سوچا کہ کبھی کبھار فلمیں بھی ہمارے معاشرے کا ہی عکس ہوتی ہیں۔

خیر وقت گزرا اور بج گئے رات کے دو۔ میں فیس بک پر ایک پوسٹ کے کمنٹس پڑھنے میں مگن تھی جبکہ ساتھی مسافر سو رہے تھے۔ اچانک سے ایک صاحب تشریف لائے اور برتھ پر سونے کی اجازت مانگنے لگ گئے۔ میں نے مہذب الفاظ میں انکار کیا تو کہنے لگے ملتان تک ہی تو جانا ہے، ٹی ٹی بھی نہیں آرہا ابھی تو آپ کو کیا مسئلہ ہونا ہے۔ میں نے سخت الفاظ میں سمجھایا کہ یہ ممکن نہیں کہیں اور تشریف لے جائیں۔ وہ صاحب باہر جا کر دروازے کے ساتھ ہی کھڑے ہو گئے۔ اس وقت میں نے ریلوے والوں کو انتہائی خوبصورت الفاظ میں یاد کیا کیوں کہ کمپارٹمنٹ کا لاک خراب تھا۔ خیر کچھ دیر میں نے انتظار کیا کہ یہ بندہ چلاجائے یہاں سے تو میں آرام سے سو جاؤں مگر تنگ آ کر اٹھنا ہی پڑا۔ خیر وہ جناب وہاں سے گئے اور میں نے دوپٹے سے دروازے کا ہینڈل برتھ کے راڈ کے ساتھ باندھا اور پھر سوئی۔ یہ اور بات ہے کہ نیند میں بھی غصے بھرے خواب ہی آتے رہے مجھے۔

اکیلی لڑکی کوئی ہاتھ صاف کرنے کا موقع نہیں ہے، یہ بات نجانے لوگوں کے لئے سمجھنا اتنا مشکل کیوں ہے۔ جب میں کراچی شفٹ ہوئی تھی تب تو مجھے لگا کہ شاید اکیلی لڑکی ہونا جرم ہی نہیں گناہ کبیرہ بھی ہے۔ ہاسٹل سسٹم بہت ہی برا تھا کراچی میں تو گھر کی تلاش شروع کر دی کہ دو چار لڑکیاں اکٹھے رہ کر بہتر طریقے سے گزارہ کر لیں گی۔ پراپرٹی ڈیلر سے لے کر مالک مکان تک سب ہی ایسے سوالات پوچھتے تھے جیسے میں گھر نہیں ان کا بیٹا کرائے پر لینے کی بات کررہی ہوں۔ ”اکیلی لڑکی کو گھر کیسے دیں“، “کنواری لڑکیوں کو گھر کیسے دیں“، ”دو لڑکیوں کو گھر کیسے دیں“، “میڈیا والیوں کو گھر کیسے دیں“، “آپ کے گھر لڑکے تو نہیں آئیں گے“، ” رات کو دس بجے کے بعد تو گھر واپسی نہیں ہوگی“ وغیرہ وغیرہ۔ ایک مالک مکان نے فرمایا اس دہلیز کے پار تمہارا سگا باپ بھی نہیں آسکتا اور اسی وقت میں نے سوچ لیا کہ یہ اس قابل نہیں ہیں کہ ان کے گھر رہا جا سکے۔

ایک اور گھر دیکھنے گئی تو پہلے مالک مکان نے پورا انٹرویو لیا، پھر ان کی بیگم آگئیں، انہوں نے بے شمار سوالوں کی بوچھاڑ کی، تمام سوالوں کےتسلی بخش جواب ملنے کے بعد انہوں نے کہا، ”لیکن ہم کنواری لڑکیوں کو گھر کیسے دیں؟ “ مجھے اس قدر غصہ آیاکہ میں نے کہہ دیا کہ ایک ڈگری کے لئے اب شادی تو نہیں کر سکتی نا میں یہاں۔ لڑکیاں ہیں تو آپ کو اعتراض ہے کہ لڑکیوں کو گھر کیسے دیں، لڑکا لے آؤں تو آپ کو نکاح نامہ چاہیے ہوگا۔ خیر باہر نکلی تو ان صاحب کو یاد آیا کہ میں میڈیا میں کام کرتی ہوں اور انہوں نے فورا نیوز اینکر بننے کی خواہش کا اظہار کر دیا۔ ایک ہزار مرتبہ لعنت بھیجی ان کے گھر پر اور ایک دفعہ بھر تلاش شروع ہوگئی۔ سوال میری تعلیم سے شروع ہوتے تھے اور میرے کیریکٹر پر جا کر بھی ختم نہیں ہوتے تھے۔ آخر کار ایک صاحب کی بلڈنگ میں فلیٹ ملا، ان صاحب نے پوچھا بلڈنگ میں بیچلرز رہتے ہیں آپ کو بیچلرز سے کوئی مسئلہ تو نہیں ہوگا، میں نے بھی کہہ دیا کہ جناب میں بھی بیچلر ہوں آپ ان سے پوچھ لیں انہیں تو کوئی مسئلہ نہیں ہوگا۔

میں یہ سمجھنے سے قاصر ہوں کہ آخر ایک لڑکی کا اکیلے ہونا اتنا بڑا مسئلہ کیوں ہے۔ میری معلومات کے مطابق تو تاحال ”خلائی مخلوق“ ہونے کا درجہ بھی نہیں ملا اکیلی لڑکیوں کو اور نا ہی خاتون نامی مخلوق اس سیارے سے ناپید ہوئی ہے کہ ایسا برتاؤ کیا جائے جیسے کوئی انوکھی شے آگئی ہو سامنے۔ میں اپنا خیال بہت اچھے سے رکھ سکتی ہوں، اکیلی رہ بھی سکتی ہوں اور اپنے کام بھی کر لیتی ہوں خود۔ بلاوجہ کے سہارے دینا بند کریں۔ بے کار کی ہمدردی دکھانا اور گھٹیا سوال پوچھنا بند کر دیں۔ ضروری نہیں کہ جس قدر گھٹیا آپ کی سوچ ہے اس سے بھی زیادہ گری ہوئی مخلوق ہی ملے آپ کو۔ مجھ جیسی سر پھری بہت ہیں اس دنیا میں۔ پھر کہتے ہیں کہ لڑکیاں بدتمیز ہوتی جا رہی ہیں جبکہ ہم صرف وہ کر رہے ہیں جو صحیح ہے اور جو بہت پہلے ہو جانا چاہیے تھا۔

image_pdfimage_print

Comments - User is solely responsible for his/her words

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں