بدعنوانی کی آکاس بیل


mujahid mirzaمیں فوج میں کپتان تھا اور ضیاء کے لگائے مارشل لاء میں ملتان گھنٹہ گھر کی عمارت میں قائم سمری ملٹری کورٹ کا رکن۔ ایک صبح بیچلر آفس کوارٹرز کے کمرے میں میرا ایک دوست آیا جو سماجی شخصیت بھی تھا اور علاقے کا غنڈہ بھی۔ وہ میرا میڈیکل کالج کے زمانے سے دوست تھا اور مجھے پیار سے منّا کہتا تھا، بولا ” منے ذرا باہر چل” نکلا تو دروازے کے باہر آٹھ دس آدمی ہاتھوں میں نوٹوں کی گڈیاں پکڑے قطار بنائے کھڑے تھے۔ وہ بولا “منے پکڑ لے”۔ میں نے پوچھا یہ کیا ہے گلّو، جواب دیا پکڑ لو پھربتاتا یوں۔ میں نے کہا نہیں پہلے بتاؤ۔ “یار منے ان سب کے کیس تمہاری عدالت میں ہیں۔ کیس جھوٹے ہیں”۔ اچھا تو رشوت، ” غائب ہو جاؤ سب ورنہ ۔ ۔ ۔” میں دہاڑا، سب چڑیوں کی طرح پھر ہو گئے۔ گلو کھڑا رہا، میں نے اسے جلی کٹی سنائیں۔ وہ منہ بنا کے بولا “منے تیرے فائدے کے لیے کر رہا تھا یار۔ تمہاری تنخواہ تو ساری میس میں اڑ جاتی ہے، اس لیے”۔ دوست تھا اسے دوست کی آمدنی بڑھانے کا جو راستہ سمجھ میں آیا وہی اختیار کر لیا۔

اگر میں نے نوٹ نہیں پکڑے تھے تو اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں تھا کہ سارے میرے جیسے “پاگل” ( جیسے کہ گلو نے مجھے کہا تھا) تھے۔

میں ڈیوٹی پر دیامیر گلگت میں تھا۔ نئی جیپیں خراب ہو جاتی تھیں۔ لانس نائیک ڈرائیور غلام پٹھان کو اعتماد میں لے کر وجہ پوچھی تو اس نے بتایا،” سر ہم کاربوریٹر میں روئی ٹھونس دیتے ہیں، جس پٹرول کی بچت ہوتی ہے، وہ بیچ دیتے ہیں” ایم ٹی جے سی او کو پتہ تھا اور شاید اس سے اوپر بھی۔

کس نے کہا فوج میں کرپشن نہیں ہوتی۔ یہ 1976، 1977 کی باتیں ہیں۔ بدعنوانی کو نہ روکا جائے تو وہ بڑھا کرتی ہے۔

فوج ایسا ادارہ ہے جو خود کو بدنام نہیں ہونے دیتا۔ اب بھی جو کیا ہے وہ چند افراد کا نام خراب کرکے خود کو نیک نام کرنے کی خاطر کیا ہے۔ بے فکر رہیں، کچھ نہیں ہوگا، زیادہ سے زیادہ وہی ہوگا جو ہوا کرتا ہے اور جس کے لیے لوگ فوج کو مدعو کر رہے ہیں۔

اینکر آفتاب اقبال کا مطالبہ ہے کہ فوج مارشل لاء نہ لگائے لیکن احتساب کے عمل کی نگرانی کرے۔ انہیں شاید معلوم نہیں کہ گلّو بھی موجود ہیں اور ڈرائیور غلام بھی۔ لیفٹیننٹ کرنل کے عہدے تک تو تنخواہ پر بس گذارا ہوتا ہے آج بھی۔ جہاں معاشی آسودگی نہ ہو وہاں لالچ ہوتا ہے اور جہاں لالچ ہو وہاں بدعنوانی کی بیل آکاس بیل بن جایا کرتی ہے۔

 


Comments

FB Login Required - comments

3 thoughts on “بدعنوانی کی آکاس بیل

  • 23-04-2016 at 1:51 pm
    Permalink

    سائیں ، ڈاڈھی چنگی تحریر اے۔۔۔ جیوندے رہو

  • 23-04-2016 at 11:14 pm
    Permalink

    جب میں رٹائر ہوا تو چند داستانیں ہیں سنانے کی.
    🙂

    • 24-04-2016 at 2:35 am
      Permalink

      میں ریٹائر نہیں ریلیو ہوا اڑھائی برس بطور کنسکرپٹی گذارنے کے بعد اور بس، کہانیاں فوج کے ادارے کے پاس ہیں میرے بارے میں محفوظ رکھنے کے لیے۔

Comments are closed.