بیوٹی پارلر اور بڈھے ٹھرکیوں کا نیا دھندا


میں نے ارادہ کیا ہے کہ مجھے آٹھویں جماعت تک کے بچوں کے لئے ایک اکیڈمی بنانی چاہیے۔ اس کا مقصد اپنی ذاتی آمدنی میں اضافہ کرنا تھا۔ اس مقصد کے لئے میں بینک گئی تاکہ مجھے قرض مل سکے۔ بینک میں ایک جاننے والی خاتون تھیں جن سے میں نے مشورہ کرنا تھا کہ آسان ترین قرض کیسے ملے گا۔ میرا مدعا سن کر اُن خاتون نے کہا کہ اکیڈمی کے لئے تو سونے پر ہی قرض مل سکتا ہے۔ جبکہ سمال انڈسٹری والے پارلر اور مساج سنٹر کے لئے آسان قرضے فراہم کر رہے ہیں اور اس سال کی پالیسی میں 75% قرض خواتین کی بہبود اور وہ بھی خاص طور پر بیوٹی پارلر کے لئے مخصوص ہیں۔ میرا بیوٹی پارلر کا کوئی تجربہ نہیں۔ اس لئے میں سوچ میں پڑ گئی۔ ایک دو سہیلیوں سے مشورہ کیا تو انہوں نے کہا کہ تم صرف انتظام دیکھ لینا اور دیگر خواتین کو کام پر رکھ لینا جو ماہر ہوں۔ بات دل کو لگتی تھی اسی دوران میں کئی لیڈی ٹیچرز سے رابطہ کر چکی تھی کہ اُن کی ماہرانہ صلاحیتوں کو کام میں لایا جا سکے۔ انہیں ٹیچرز میں سے ایک میرے پاس آئیں تو میں نے مالی وسائل کی کمی کا ذکر کیا اور پارلر والی بات پر اُن کی رائے جاننا چاہی۔ وہ خاتون تو جیسے اپنے اندر ایک آتش فشاں لئے بیٹھی تھی۔ یہاں یہ بتاتی چلوں کہ وہ خاتون ایک بہترین سکول کی بہت پرانی ٹیچر ہیں اور کام اور زندگی کا خوب تجربہ رکھتی ہیں۔ نہایت بردبار اور سلجھی ہوئی خاتون ہیں۔ جو کچھ انہوں نے بتایا وہ میرے پاﺅں کے نیچے سے زمین نکال لینے کو کافی تھا۔ انہوں نے جو انکشاف کئے ان کی ذاتی پڑتال میں نے خود کی تو مجھے یقین آگیا کہ وہ سو فیصد سچ کہہ رہی ہیں۔ اُن کی بیان کردہ باتوں کو اور اپنی تحقیق کے بعد میں سب لکھ رہی ہوں اور پریشان ہوں کہ اس سب کو میں یا وہ خاتون کیسے روکیں۔

کسی بھی ایک شخص کے بیان پر یقین کرکے اس کو آگے پھیلا دینا میرے نزدیک جرم عظیم ہے۔ اس لئے میں نے اپنی ساکھ اور جان کی پروہ نہ کرتے ہوئے اُن خاتون کے بیان پر کئی لوگوں سے فون اور بالمشافہ ملاقاتیں کیں۔ یاد رہے کہ جرائم کا پتہ آپ کو شریک جرم بننے کے جھانسے سے بہتر پتہ چلتا ہے میں چونکہ اپنی پاکستانی بیٹیوں کے لئے بہت حساس ہوں تو مجھے ایک ماہ اس غلاظت کے تالاب کے کنارے بیٹھ کر بو سونگھنا پڑی۔ معاون بننے کا ڈرامہ بھی کرنا پڑا۔ کیونکہ مسئلہ انتہائی حساس نوعیت کا ہے۔

اب میں اصل جرم یا یوں کہہ لیں کہ خبر کی جانب آتی ہوں۔ اُن ٹیچر نے مجھے بتایا کہ عرصہ دو ماہ سے اُن سے مختلف بڑے ناموں والے لوگ رابطہ کر رہے ہیں اور انہیں ورغلا رہے ہیں کہ وہ 35 ہزار کی نوکری پر لات ماریں اور بیوٹی پارلر مع خواتین مساج سنٹر بنالیں۔ اس مساج سنٹر میں انہوں نے خود کام کرنا ہے جبکہ بیوٹی پارلر دوسری ورکرز سنبھالیں گی۔ مساج سنٹر کے لئے اُن کی برین واشنگ کی جا رہی ہے مگر وہ پختہ کار خاتون اپنے فرائض اور اقدار کو خوب سمجھتی ہیں۔ مگر خود کو بے بس پاتی ہیں۔ بات کو طول دئیے بغیر پہلے اُن خاتون کا بیان پیش کرتی ہوں کہ ان دو ماہ میں اُن کی ٹریننگ کرنے والوں نے کیا کیا حربے استعمال کئے۔

وہ بی بی ایک سینئر استاد ہیں اور بچے بچیاں اور والدین ان پر اندھا اعتماد کرتے ہیں۔ اُن کے موجودگی میں طلباءکو احساس تحفظ رہتا ہے۔ پر پارٹی اور پکنک کے لئے پہلے پوچھا جا تا ہے کہ مس جی موجود ہوں گی۔ اور مس جی اور سکول کو یہ محسوس ہی نہ ہوا کہ انہیں کے درمیان کوئی بے حس مجرم بھی موجود ہے۔

ہوا کچھ ایسے کہ خاتون کو ایک پرانے سٹوڈنٹ کے بااثر اور بے ضمیر والد کی کال آئی۔ خاتون نے بڑی عزت سے اُن کا کلام سنا جس کا مدعا تھا کہ مس جی آپ ریٹائرمنٹ کے قریب ہیں تو میں چاہتا ہوں کہ آپ جیسی باصلاحیت ہستی لڑکیوں کی بہبود کے لئے کام کریں اور ایک بیوٹی پارلر بنا لیں۔ جس سے بے روزگار خواتین اور کم پڑھی لکھی لڑکیوں کو روزگار میسر آئے گا۔

قصہ مختصراًکہ ایک دن انہیں نجی طور پر میٹنگ کے لئے بلایا گیا۔ چند ہزار روپے اور ایک مکان کی چابی تھمائی گئی کہ آپ اس کی سجاوٹ کا اور سٹاف کا انتظام کریں۔ دل میں بچیوں کو ہنر مند بنانے کا عزم لئے اس استانی پر بجلی اسوقت گری جب اُن رئیس بزنس مین نے تزئین و آرائش کے لئے ایک پارلز کا معائنہ کیا۔ ان صاحب نے فرمایا کہ وہ ایک الگ تھلک کمرہ ہے اس میں مساج سنٹر بنائیں ، LCD لگائیں اور نوجوان سٹاف کو مساج کرنے کی تربیت دیں۔ مساج کے جو طریقے انہوں نے بتائے اس کے بعد اس استانی کے اوسان خطا ہو گئے۔ مساج ایک سادہ سا کام ہے اور اس میں کوئی برائی بھی نہیں مگر حیف ہے ان صاحب پر جو ایک مقدس عورت کے احترام کو پس پشت ڈالتے ہوئے انتہائی ڈھٹائی اور بے شرمی سے مخاطب ہوئے۔

انہوں نے تنبیہ کی کہ آپ کو آنے والی خواتین کا مساج اس طرح کروانا ہے کہ ان کے نازک حصوں میں جنسی تحریک پیدا ہو۔ اس حد تک کہ وہ بے قرار ہو کر آپ کی منجھی ہوئی مالشی لڑکیوں سے قربت کی فرمائش کریں۔ اور جب ان کے اندر جنسی ہیجان پیدا ہو جائے تو آپ لڑکیوں سے ان کی جنسی خدمت کروانا ہے۔ آپ لڑکیوں کو ایسے ٹرین کریں اور اس دورانیے میں آپ کو چند فون نمبر مہیا کیے جائیں گے خواتین اورلڑکیوں کو پکڑا دینا ہے دوسری طرف جو حضرت موجود ہو ں گے وہ فون پر ان خواتین کے سیکس سے محظوظ بھی ہو ں گے اور لطف دوبالا کرنے میں اُن خواتین کی مدد بھی کریں گے۔ ان ٹیچر نے فوری طور پر وہ جگہ اُن صاحب کے حوالے کی اورخاموشی سے اپنی عزت بچا کر صرف انکار کر کے آگئیں۔ اس کے بعد انہیں شہرت کی آفرز ہوئیں کہ آپ کو ہم ملک کی مایہ ناز بیوٹیشن جتنا مقبول کر دیں گے۔ ترقی، دولت اور شہرت کی رشوت بمع روپیہ پیسہ انہیں دعوت ملتی رہی۔ اُن خاتون نے فون نمبر بدل لیا تو ذاتی مکان تک دستک ہوتی رہی مگر اس باہمت خاتون نے اس گھناﺅنے کھیل کا حصہ بننے سے انکار ہی کئے رکھا۔ گھر والوں کی مدد سے اب وہ اس گھناﺅنے مساج مافیا سے بچ گئی ہیں۔

مضمون کا بقیہ حصہ پڑھنے کے لئے ”اگلا صفحہ“ کا بٹن دبائیں

image_pdfimage_print

Comments - User is solely responsible for his/her words

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں