نجی سکولوں کا فساد


zafar imranنجی اسکول ہی کیا، سرکاری اسکولوں کا بهی ایک سا احوال ہے۔ امسال بچوں کی تعلیمی امتحان میں کامیابی کی مسکراہٹ ابهی چہرے سے اتری نہ تهی، کہ کتابوں کاپیوں کی قیمتیں دیکھ کر اڑن چهو ہو گئی۔ فوراََ یاد آیا کہ بیوی کو گزشتہ ماہ سمجهایا بهی تها کہ گهر کے اخراجات محتاط رہ کر کرے، کیوں کہ اس مہینے بچوں کے یونیفارم، اسکول شوز، بستے، کاپیاں کتابیں خریدنے کا اضافی خرچ ہوگا۔ لیکن یہ عورت ذات سمجهتی کہاں ہے۔ میں دہاڑا، تو وہ چلائی۔ ‘بتایئے تو کیا فالتو خرچ کیا ہے، میں نے۔۔۔’

تهوڑی دیر تو تکار جاری رہی۔ بات چیت بند ہوگئی۔ بڑی بیٹی نے ایک کاغذ لا کر تهمایا، کہ اماں نے دیا ہے۔ پہلے تو میں ڈر گیا، کہیں طلاق کا کاغذ نہ ہو۔ دیکها تو پچهلے ماہ کے خرچ کا حساب تها۔ بہت جوڑ توڑ کی پر سمجھ نہ سکا کہ کس مد میں غلط خرچ ہوا ہے۔ فوراََ غلطی مان لینا کوئی مردانگی نہیں ہے۔ مسئلہ اپنی جگہ پہ تها۔ پہلے تو سوچا بچوں کو اسکول سے اٹها لوں، کہ اس نظام تعلیم میں رکها ہی کیا ہے۔ پهر اس انقلابی فکر کو التوا میں ڈال دیا۔ بیوی سے صلح کرتے بنی۔

ایک دوست جو نجی اسکول چلاتے ہیں، انهوں نے رعایتی نرخوں پر دو پبلشرز کی نصابی کتب بهجوا دیں۔ باقی سامان لینے کے لیے بیوی بچوں کو لے کر اسٹیشنری شاپ گیا۔ ہر کتاب کی قیمت بڑهی ہوئی تهی، جب کہ دکان دار کہنے کو دس فی صد رعایت کر رہا تها۔ اسکول کی نازک اندام کاپیاں پچہتر روپے میں فروخت کی جارہی تهیں۔ اتنے داموں میں اس سے بہتر نوٹ بک لی جا سکتی تهی، لیکن رکاوٹ یہ تهی، کہ اس کاپی پر اسکول کا نام نہیں پرنٹ ہوتا۔ یہ سراسر اسکولوں کی غنڈا گردی ہے۔ اسی طرح ناقص میٹیریل سے بنے اسکول بیگ پندرہ سو سے دو ہزار روپے میں فروخت کیے جا رہے تهے۔ یہ بستے تین چار ماہ سے زیادہ نہیں نکالتے، اور داغ مفارقت  دے جاتے ہیں۔ پرائس کنٹرول کمیٹی جیسے ادارے کہیں ہیں؟ اور ایسے کسی ادارے کے ملازمین کو کیوں تنخواہیں ملتی ہیں؟ سرکار ہو، یا حزب مخالف، انهیں ایسے سوالوں سے کوئی دلچسپی نہیں۔ میڈیا میں اٹھائے جانے والے مسائل کی تو رہنے ہی دیجیے۔ کیوں کہ جب تک ملک نازک دور سے گزر رہا ہے۔ عوام کو قربانی دیتے رہنا ہے۔

یونیفارم کی دکان تک جاتے جاتے میں سوچ رہا تها، کہ کچن چلانے کے لیے کس سے ادهار لیا جائے۔ پیش بندی کے طور پہ ایک دوست کو کال کی، ‘ہاں جانی! سنا کیسا ہے؟ فٹ ہے؟ نا؟۔۔۔ اور سنا کام کیسا چل رہا ہے؟ جانی نے چهوٹتے ہی جواب دیا، ‘بچی کا یونیفارم لینے آیا ہوں۔۔ یار تیرے پاس کچھ بچت ہے، اگلے مہینے واپس لے لیجیو؟’۔۔۔ میں نے ‘ویری گڈ’ کہا، اور کال منقطع کر دی۔ اسی دوران بیوی دکان دار سے شکوہ کر رہی تهی کہ یونیفارم بناتے ہوئے بہت گهٹیا کپڑا استعمال کیا گیا ہے۔ دکان دار کے پاس وہی گهسا پٹا جواب تها، ‘ہم تو بنا بنایا لے کر آتے ہیں۔ یہی دست یاب ہے۔’

پینسل، ربڑ، شارپنر، کاپیوں کے کور وغیرہ پورا کرتے جیب خالی ہو گئی۔ ایسے میں سب سے چهوٹی بیٹی نے لنچ باکس اٹها لیا، کہ مجهے یہ لے کر دیں۔ لہجے میں حلاوت انڈیلتے، اسے سمجهایا کہ پرانے لنچ باکس پہ اکتفا کرے۔ وہ ‘پسر’ گئی۔ میں نے پدرانہ حق استعمال کرتے صرف ایک تهپڑ جڑا۔ اسے آپ تشدد نہیں کہ سکتے، میں چاہتا تو دو یا تین چار ہاتھ لگا دیتا، تو آپ کا اعتراض درست مانا جاتا۔ گهر جاتے بیوی نے آہستہ سے کہا، ‘بس ان کے اسکول شوز لینا رہ گئے ہیں۔’ میں نے کار کو بہ مشکل کهنبے سے ٹکرانے سے بچایا۔ کچھ تو حیا کرو۔۔ کتنی بار کہا ہے، جب میں گاڑی ڈرائیو کر رہا ہوتا ہوں، مجهے شاک پہنچانے والی باتیں مت کیا کرو!’۔ جواباََ وہ بهی چلائی، ‘میں نے ایسا کیا کہ دیا ہے؟’۔۔ گهر میں داخل ہونے سے پہلے پہلے ہم پهر سے روٹھ چکے تهے۔


Comments

FB Login Required - comments

ظفر عمران

ظفر عمران کو فنون لطیفہ سے شغف ہے۔خطاطی، فوٹو گرافی، ظروف سازی، زرگری کرتے ٹیلے ویژن پروڈکشن میں پڑاؤ ڈالا۔ ٹیلے ویژن کے لیے لکھتے ہیں۔ ہدایت کار ہیں پروڈیوسر ہیں۔ کچھ عرصہ نیوز چینل پر پروگرام پروڈیوسر کے طور پہ کام کیا لیکن مزاج سے لگا نہیں کھایا، تو انٹرٹینمنٹ میں واپسی ہوئی۔ فلم میکنگ کا خواب تشنہ ہے۔ کہتے ہیں، سب کاموں میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا پڑا تو قلم سے رشتہ جوڑے رکھوں گا۔

zeffer-imran has 84 posts and counting.See all posts by zeffer-imran

One thought on “نجی سکولوں کا فساد

  • 23-04-2016 at 8:16 pm
    Permalink

    ظفر صاحب نے ھمارادل نکال کر رکھ دیا ھے۔ھم سب ایک ھی کشتی کے سوار ھیں۔۔۔۔ضرورت اس بات کی ھے کہ تمام اسکولوں کا یونیفارم یکساں ھونا چاھئے (یہ تجربہ سیکوریٹی ایجنسی والوں کے سا تھ کامیاب ھو چکا ھے) اسکے بعد یکساں نصاب تعلیم ھو ۔ صرف سہولیات کے حسا ب سے فیسوں کا فرق ھو کاپیوں اور رجسٹر اوپن مارکیٹ سے لینے کی اجازت ھو۔ زیادہ زیادہ انکے اوپر کا کور اسکول میں دستیاب ھو جس پر اسکول کا مو نو گرام ھو۔ اس طریقے سے کچھ آسانی میسر آ سکتی ھے۔

Comments are closed.