کپتان کو الیکشن ہرانے کے لئے نواز شریف اپنی چال چل گئے


خبر آئی کہ الیکشن 25 سے 31 جولائی کے درمیان ہوں گے اور ہم دھک سے رہ گئے۔ کپتان نے دھاندلی روکنے کے پرانے طریقوں کا جب بھی سدباب کیا تو میاں نواز شریف حسب معمول ایک ایسی جگہ سے وار کر گئے جس کا کپتان کو اندازہ ہی نہ تھا۔ کیا آپ نے ان تاریخوں کی اہمیت پر غور کیا ہے؟ جولائی کے آخری ہفتے کی اہمیت جاننے کے لئے آپ کو پچھلے تین چار سال کی پشاور کی خبروں پر نگاہ دوڑانی ہو گی۔

اس وقت نواز شریف کو یہ دکھائی دے رہا ہے کہ 1985 سے ان کا گڑھ بنا لاہور ان کے ہاتھ سے نکل رہا ہے۔ عمران خان نے مسلم لیگ نون کے اس مضبوط قلعے میں سیندھ لگا لی ہے اور اگلے انتخابات میں تحریک انصاف کا سرخ اور ہرا دوپٹہ ہر نوجوان لڑکے کے شانوں پر لہراتا دکھائی دے گا۔ لیکن نواز شریف ایک شاطر شخص ہیں۔ یہ بات تو سب کو دکھائی دیتی ہے کہ ان سے بہتر الیکشن ڈے مینیجمنٹ کوئی دوسرا نہیں کر سکتا ہے لیکن ان کی اس صلاحیت کو نظرانداز کیا جاتا ہے کہ کس طرح وہ الیکشن سے پہلے ہی اپنے حق میں ماحول بنانے لگتے ہیں اور ان کے وفادار افسران چپکے چپکے ایسے فائلیں گھماتے ہیں کہ ہر طرف مسلم لیگ نون ہی دکھائی دینے لگتی ہے۔ اب الیکشن کی یہ تاریخ مقرر ہونا بے سبب تو نہیں ہے۔

ان افسران میں سے ایک نے ہی نواز شریف کو یہ اچھوتا منصوبہ پیش کیا۔ اس کا کہنا تھا کہ اگر عمران خان اپنی ساری فوجیں تخت لاہور کو فتح کرنے کو چڑھائے ہوئے ہے تو کیوں نہ ان کی بے خبری میں ان کے گڑھ پشاور میں ان کو ایسی زک پہنچائی جائے کہ تحریک انصاف کے مرکز میں حکومت بنانے کے تمام انتخابی منصوبے درہم برہم ہو جائیں۔ عمران خان کی گڈ گورنسس ایک سراب ثابت ہو۔ لوگ پختونخوا کی مثالی پولیس اور ہسپتالوں کو بھول جائیں اور مریم میڈیا سیل ہر جگہ یہ صدا لگانے لگے کہ تحریک انصاف کی حکومت نے پشاور کو تباہ کر دیا ہے۔

پشاور میں برساتی ریلا

اس سلسلے کا پہلا قدم یہ تھا کہ انتخابات عین اس وقت کرائے جائیں جب برسات اپنے جوبن پر ہو۔ پاکستان میں مون سون کی نم ہوائیں پندرہ جولائی کو داخل ہوتی ہیں اور پندرہ اگست تک چھاجوں مینہ برساتی ہیں۔ جولائی کے آخری ہفتے میں وہ طوفانی ترین بارش لاتی ہیں۔ پچھلے تین چار برس میں اس بارش نے پشاور کا برا حال کیا ہے اور پاکستان بھر میں پشاور ہی وہ شہر ہے جہاں بارش کے کارن سب سے زیادہ اموات ہوئی ہیں۔اس برسات میں ایک خاص بات اور بھی ہے۔ پچھلی دو تین برساتوں کے برعکس اس مرتبہ پورا پشاور میٹرو بس کی وجہ سے کھدا ہوا ہے۔ اب ان گڑھوں میں جب طوفانی پانی داخل ہو گا تو کیا حال ہو گا؟ ان میں لوگ گریں گے۔ ڈوبیں گے۔ ان کی وجہ سے ارد گرد کی سڑکیں بیٹھ جائیں گی۔ اور اس تباہی کے عین درمیان الیکشن ہو رہے ہوں گے۔

طوفان باد و باراں اور سیلابی ریلوں کے ساتھ ایک دوسری مصیبت بھی آسمان سے نازل ہو گی۔ لاہور میں تو نہایت چالاکی سے شہباز شریف نے ڈینگی پر قابو پا لیا ہے مگر پچھلے برس پشاور میں ڈینگی نے قہر برپا کیا تھا۔ شہباز شریف نے اپنی مشہوری کے لئے لاہور سے ڈاکٹروں کی ٹیمیں پشاور بھیجنے کی کوشش کی تھی تاکہ یہ ثابت کیا جا سکے کہ پشاور کے ہسپتالوں کی بہتری کی بات محض ایک جھوٹ ہے۔

اب ایک طرف پشاور میں بارش تباہی مچا رہی ہو گی اور دوسری طرف ڈینگی مچھر۔ کیا پشاور کے لوگ عمران خان کو ووٹ دیں گے؟ مریم میڈیا سیل ان کی برین واشنگ کرنے لگے گا اور وہ عمران خان کو ہی اپنے تمام مصائب کا ذمہ دار قرار دیں گے۔

ہماری مانیں تو عمران خان سیدھا الیکشن کمیشن کے سامنے دھرنا دیے دیں اور مطالبہ کریں کہ انتخابات آسمان برسنے سے پہلے پہلے 10 جولائی کو کرائے جائیں۔ 31 جولائی کے بعد اگست میں انتخابات کروانا آئینی مجبوری کی وجہ سے ناممکن ہے اس لئے جولائی میں ہی کروانے ہوں گے۔ ایسا نہ کیا گیا تو عمران خان لاہور تو جیت جائیں گے مگر پختونخوا سے اتنی زیادہ سیٹیں ہار سکتے ہیں کہ مرکز میں تن تنہا حکومت بنانے کے قابل نہیں رہیں گے اور ان کو اس آصف علی زرداری کے سامنے جھکنا پڑے گا جسے وہ سب سے بڑی بیماری قرار دیتے ہیں۔ ابھی وقت ہے اور عمران خان دھرنا دے کر نواز شریف کی یہ چال ناکام بنا سکتے ہیں۔(ختم شد)

پشاور میں بارش سے تباہی کا منظر

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 1023 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar