اسلام میں عقائدی اور ثقافتی تنوع


Numan-HussainNoman-Hussain دنیا میں تقریباً 1.6 ارب مسلمان بستے ہیں۔ یہ تعداد دنیا میں بسنے والے تمام لوگوں کا بائیس فیصد بنتی ہے اور دو سو بیس کے قریب ممالک میں قابل ذکر تعداد میں رہ رہے ہیں۔ ہر ملک اور علاقے میں رہنے والے مسلمانوں کا رہن سہن دوسرے ممالک اور علاقے کے مسلمانوں سے خاصا مختلف ہے ۔ ہمارے ذہنوں میں اکثر یہ سوال اٹھتا ہے کہ ایک مسلمان کے زندگی گزارنے کا طریقہ کیسا ہونا چاہئے۔ اس سوال کو ہمارے میڈیا اور نصاب نے بھی ہوا دی ہوئی ہے اور اکثر اوقات جواب کے طور پر ایک ہی گزر بسر کے طریقے کو حتمی پیش کرنےکی کوشش بھی کی ہے۔

اس سوال پہ نظر ڈالنے سے پہلے یہ بات سمجھنا انتہائی اہم ہے کہ ثقافت اور مذہب مختلف چیزیں ہیں۔ اس کی مثال ایسے ہے جیسے ایک سندھی کا رہن سہن ایک پشتون سے مختلف ہوگا باوجود اس کے کہ دونوں ایک ہی عقیدے کے پیروکار ہیں۔ اسی طرح دنیا میں بسنے والے مسلمانوں کا رہن سہن بھی ایک دوسرے سے بلکل مختلف ہے۔ رہن سہن یا ثقافت کا فرق اس علاقے کے محل وقوع، موسم اور کئی دیگر وجوہات پہ منحصر ہوتا ہے۔ گویا یہ تصور کرنا کہ مسلمانوں کا پوری دنیا میں ایک طرح کی طرز زندگی ہو، محض ایک خواب ہی ہوسکتا ہے۔ اس خواب کی بنا پر یہ خیال کیا جاتا ہے کہ شمالی امریکہ جہاں سخت سردی ہوتی ہے اور افریقہ کے گرم علاقوں کا ایک ہی پہناوا ہونا چاہئے جو کہ ناممکن ہے۔

پہناوے کے اس فرق کی وجوہات کو اجاگر کرنے کے لئے یونیورسٹی آف مشیگن کے سماجی ریسرچ سنٹر نے ایک آن لائن سروے کیا۔ اس سروے میں دنیا کے مختلف ممالک میں بسنے والے مسلمانوں سے رہن سہن کے بارے میں سوالات کئے گئے۔ اس سروے سے یہ بات سامنے آئی کہ ترقی پزیر ممالک میں رہنے والے مسلمان پہناوے میں سکارف یا سر کو ڈھانپنے کو ترجیح دیتے ہیں جبکہ ترقی یافتہ ممالک میں رہنے والے مسلمان سر ڈھانپنے کو ترجیح نہیں دیتے ہیں۔ گویا پہناوے کی ترجیح کا تعلق معیشت سے ہے۔ اسی طرح زندگی کے بیشتر امور مثلاً شادی بیاہ، کھانے پینے، سر سنگیت، ناچ اور فنون لطیفہ وغیرہ میں ہر علاقے یا ملک کے لوگوں کا دوسرے ممالک اور علاقوں میں اختلاف ہوتا ہے۔ ایک ہی عقیدے کے ماننے والے لوگوں کا مختلف ثقافتوں میں زندگی بسر کرنا اس عقیدے کی خوبصورتی ہے نہ کہ ذریعہ اختلاف۔ اس عمل کو انگریزی میں ڈائورسٹی یا پلورلیزم اور اردو میں رنگا رنگی یا تنوع کہتے ہیں۔ گویا ایک عقیدے کے ماننے والوں میں ثقافتی تنوع ایک خوبصورت اور مضبوط خصوصیت ہے۔

اس تنوع کو رد کر کے صرف ایک ہی رہن سہن کو حتمی سمجھنا انتہا پسندی کے زمرے میں آتا ہے اور اس عمل سے تنوع اس عقیدے کی ایک کمزوری بن جاتی ہے۔ تنوع کا یہ عمل صرف ثقافت تک ہی محدود نہیں بلکہ ایک مذہب کے ماننے والوں کے عقیدے میں بھی پایا جاتا ہے۔ عقیدے کا تنوع اس کے ماننے والوں کا عقیدے کی سمجھ اور تشریح پہ منحصر ہوتا ہے۔ یہ انفرادی عقیدہ بھی ہو سکتا ہے اور اجتماعی بھی۔ مسلمانوں میں اجتماعی عقائد کے فرق سے مسلک یا فرقے وجود میں آئے ہیں۔ انفرادی طور پر ایک مسلمان کی مذہب کی سمجھ اور عمل کا طریقہ دوسروں سے مختلف ہو سکتا ہے جو کہ انفرادی تنوع کہلاتا ہے۔ مسلمانوں میں اجتماعی عقائد یعنی مسلک کے عقیدے کے فرق واضح ہیں جبکہ انفرادی عقائد کا فرق غیر واضح اور ایک فرد کی انفرادی تشریح تک ہی محدود ہے۔ عقائد کے اس تنوع کو سمجھنا اور اسے ایک حقیقت تسلیم کرنا کسی بھی مذہب کی خوبصورتی ہے جبکہ صرف ایک مسلک کو حتمی قرار دینا مذہبی انتہاپسندی کو جنم دیتا ہے۔

ایک عقیدے کے ماننے والوں کے کی تشریحات نہ صرف ایک دوسروں سے مختلف ہوسکتی ہیں بلکہ بسا اوقات ایک دوسرے کے الٹ بھی ہو سکتی ہیں۔ یہ نظریاتی اختلاف اس عقیدے میں تشریح کی وسیع گنجائش کو ظاہر کرتا ہے اور یہ عقلی بلوغت کی مثال ہے۔ اور ان اختلافات کو سمجھنا اور اس کے ماننے والوں کو ایک حقیقت گرداننا اس عقیدے کی خوبصورتی اور مضبوط خاصیت ہے۔ عقیدے کے تنوع اور نظریاتی اختلاف اسلام میں بھی واضح طور پر موجود ہے۔مثلاً اسلام میں اگر ایک عقیدہ یا مسلک کے لوگ حضرت محمدؐ کا جنم دن دھوم دھام سے مناتے ہیں تو دوسرا صرف عبادت پر اکتفا کرتا ہے۔ ایک مسلک کے لوگ اگر قبرستانوں پہ دعا مانگتے ہیں تو دوسرے صرف مسجد یا گھر تک ہی محدود رہتے ہیں۔ اسی طرح کئی ایسی مثالیں ہیں جو عقیدے کی تنوع اور نظریاتی اختلاف کو ظاہر کرتی ہیں۔

اس نظریاتی اختلاف کو نظرانداز کر کے ایک ہی مسلک کی رسومات کو حتمی قرار دینا تنوع کی اس خاصیت کے لئے خطرہ ہے جبکہ نظریاتی اختلاف کو ایک حقیقت جان کے دوسرے مسلک کے ماننے والوں کو نظریاتی تشریح کی آزادی دینا ایک بالغ سوچ کی نشانی ہے۔ اس بالغ سوچ کو فروغ دینا ہر مسلک کی ذمہ داری ہے تاکہ ہماری آنے والی نسلیں عقیدے کی تنوع اور تشریح کی وسیع گنجائش کو تسلیم کر سکیں۔ علاوہ ازیں میڈیا اور نصاب کو بھی اس نظریاتی اختلاف اور “آزادی تشریح عقیدہ”کو تسلیم کرنا ہوگا اور ایک ہی مسلک کے عقیدے کو حتمی قرار دینے سے گریز کرنا ہوگا۔ تاکہ اسلام میں ثقافت اور عقیدے کا تنوع باعث فخر ہو نہ کہ باعث اختلاف۔


Comments

FB Login Required - comments

2 thoughts on “اسلام میں عقائدی اور ثقافتی تنوع

  • 25-04-2016 at 2:44 am
    Permalink

    آپ نے اچھا پیپر لکھا۔ میں‌ اس سے متفق ہوں‌۔ کسی بھی فیملی میں‌ سب سے لائق بچے ڈاکٹر اور انجینئر بن جاتے ہیں اور جو نالائق ہوتا ہے اس کو مولوی بنا دیتے ہیں جس کے پیچھے ہماری قوم چل پڑتی ہے۔ اسی لئیے معاشرے کا یہ حال بن جاتا ہے کہ وہ عقل سے پیدل ہوتا چلا جاتا ہے۔

Comments are closed.