مکالمہ جنگ نہیں ہوتا


\"safdarجناب مجاہد مرزا صاحب ہمارے انتہائی ذی وقار کالم نویس ہیں۔ روشن خیالی ان کی تحریروں کا خاص وصف ہے۔ چند دن قبل ان کا کالم بعنوان ’’کیا مکالمہ ممکن ہے‘‘ہم سب میں شائع ہوا۔ اپنے کالم میں ہمارے ممدوح نے مکالمے کی اقسام کی بابت ہماری فہم کی سہولت کاری کا اہتمام کیا۔ مگر مجموعی طور پر کالم کا جو تاثر بیٹھ رہا تھا وہ کچھ ایسا تھا کہ یہ ایک لاحاصل سرگرمی ہے۔ پاکستان میں جاری لبرل اور اسلامسٹ مکالمے کے حوالے سے بھی معزز مضمون نگار نے کچھ اس طرح کا نتیجہ نکالا:

’’زیر کرنا رائٹسٹوں کا شعار ہے اور دفاع کرنا لبرل اور سیکولر حلقوں کی ضرورت۔ شعار اور ضرورت ایک سے نہیں ہو سکتے‘‘

سمجھنا چاہیے کہ مکالمہ ہار اور جیت کی کوئی بازی نہیں۔ ہمارے سماجی پس منظر میں مکالمے کے آداب کے حوالے سے سقم موجود ہونا ایک کجی سہی مگر یہ ایک ایسی سرگرمی ہے جس سے مجموعی طور پر ہماراارتقا جڑا ہے۔ مکالمہ تصورات پر تقدیش کی شدت کو کم تر کرنے اور اجنبی سوالوں کو روزمرہ مباحث میں جگہ دینے کا نام ہے۔ مکالمہ دراصل سوال اٹھانے کی تہذیب اور جواب ڈھونڈنے کی کوشش کا نام ہے۔ مکالمہ ہی وہ بنیاد کا پتھر ہے جو انسان دوست معاشرے کی تخلیق کا باعث بنتا ہے، جو جمہوری سیاسی رویوں کا فروغ کنندہ ہے۔

ہماری تاریخ کا المیہ ہے کہ ہمیں تقدیس اور عقائد کا اسیر بنا کر سوال اٹھانے سے روکا جاتا رہا ہے۔ جیسے ہی آپ کسی شخصیت یا نظریے کے اسیر ہو کر اسے ناقابل بحث قرار دیتے ہیں تو اس شخصیت کے تمام انسانی اوصاف اور نظریے کے تمام محاسن و معائب اوجھل ہو جاتے ہیں۔ مکالمہ اس رویہ کی حوصلہ شکنی کا نام ہے۔

مکالمہ شخصیات اور نظریات کے حوالے سے پیدا شدہ شدت پسندی کے مرض کا اکسیر ہے۔ جب کسی سماجی اور سیاسی انتظام میں کوئی شخص یا نظریہ تنقید سے ماورا ہو کر مکالمے کی اقلیم سے بے دخل کر دیا جاتا ہے ، اسی وقت سے اس شخصیت اور نظریے کے حوالے سے شدت پسندی نمایاں ہونے لگتی ہے۔ ہمارے ایک  آزادہ رو دوست کی ذاتی مثال انہی کی زبانی پیش خدمت ہے:

’’شروع شروع میں جب میں نے مذہبی تصورات  پر سوال اٹھانا شروع کیے اور مذہبی دعاوی پر مختلف رائے پیش کی تو دوست احباب حتی کے گھر والے عجیب نظروں سے مجھے دیکھتے اور سیخ پا ہو کر توبہ کی دعوت دیتے، کتابوں سے جان چھڑانے کا مشورہ دیتے اور ہمارے خاندانی پیر کی محفل میں ہفتہ وار شرکت کا نسخہ تھما دیتے۔ مجھے عجیب کوفت ہوتی کہ میرے سوال کا جواب تو نہیں دیا جاتا الٹا مجھے ایسے دیکھا جا تا جیسے میں شودر ہوں یا ذہنی توازن سے محروم ہوں۔ میں اپنی افتاد طبع سے مجبور بات بے بات مختلف امور اور تصورات پر اپنی بے لاگ رائے دیتا گیا۔ کچھ عرصہ اسی طرح گزرا۔ میرے احباب اپنی سطح کی دلیلیں دے کر مجھے توبہ پر اکساتے رہے اور میں ان کے دلائل کا توڑ کرتا رہا۔ کچھ ہفتوں بعد صورت حال میں ایک جوہری تبدیلی آئی۔ اب احباب کا حلقہ دو طبقات میں تقسیم ہوگیا۔ ایک تو وہ جو مجھے ذہنی مریض تو قرار دیتے تھے مگر میری باتیں سن کر سیخ پا نہیں ہوتے تھے بلکہ ہنستے ہوئے لعن طعن کر دیتے۔ دوسرا طبقہ وہ جو مجھے ذہین شخص کہتے، میری باتوں سے مرعوب ہوتے۔ اور مجھ سے سوال کرتے۔ ایک حتمی مظہر جو سامنے آیا وہ یہ تھا کہ میری سخت سے سخت بات پر بھی کوئی شخص غصے میں نہیں آتا تھا۔ اور اس سے بھی بڑی خبر یہ کہ میرے احباب اور خاندان والے جو اپنے فرقے سے ہٹ کر تمام فرقوں کو گمراہ حتی کہ کافر تک کہتے تھے، اپنی اس روش سے باز آگئے۔ ‘‘

انسانی ذہن ایک خاص طریقہ کار پر کام کرتا ہے۔ شعور کی سطح پر جب کوئی انجان لہر پیدا ہوتی ہے تو لاشعور کی گہری سطح اس سے کراہت محسوس کرتی ہے۔ جب کوئی سوال یا بیان پہلی دفعہ انسان کے دماغ سے ٹکراتا ہے تو انسانی ذہن اس سے بھاگنے کی کوشش کرتا ہے یا مکمل طور پر رد کر دیتا ہے کیونکہ لاشعور کی ہارڈ ڈسک میں اس سے متعلق کوئی میموری موجود ہی نہیں ہوتی۔ لیکن شعور کی سطح پر اگر کوئی انجان لہر باربار ابھرتی رہے تو لاشعور اس سے ہم آہنگی تخلیق نہ بھی کر سکے تو اس کو قبول کرنے کی صلاحیت اس میں ضرور پیدا ہو جاتی ہے۔ مکالمہ بنیادی طور پر سماج کے شعور کی سطح پر انجان لہروں کی بار بار آمد کا وسیلہ ہے جو معاشرے کے لاشعور میں وہ وسعت لے آتا ہے کہ مخالف کی آرا سے عدم اتفاق کے باوجود دشمنی اور نفرت کا کریہہ جذبہ پیدا نہیں ہوتا۔

پاکستان کو گذشتہ دو دہائیوں سے شدت پسندی کے جس عفریت کا سامنا ہے اس کا جائزہ لیں تو ایک بات واضح طور پر سامنے آتی ہے کہ شدت پسند عناصر کا جنم شمالی علاقوں، خیبر پختونخوا اور جنوبی پنجاب کے ان علاقوں میں ہوا جہاں اجنبی سوالوں کو دبانے کی مشق ستم جاری تھی۔ مذہبی شدت پسند جو بڑے شہروں میں تخلیق ہوئے ان کی اکثریت بھی یا تو انہی علاقوں سے وہاں پہنچی یا انہیں ایک خاص قسم کا کلوزڈ ماحول ملا جس میں باہری تصورات کو خاص تکفیری رنگ دے کر ان کی برین واشنگ کی گئی۔

پاکستان کے میڈیا اور اخبارات نے بھی ریاستی جبر، اسٹیبلشمنٹ کے خوف اور کچھ آئینی مجبوریوں کے برعکس کچھ تصورات اور شخصیات کو مقدس گائے قرار دے کر مکالمے کے دروازے ان کے حوالے سے بند رکھے۔ اگر تلخ سے تلخ ملکی حقائق، ’’انحرافی عقائد‘‘اور ’’اقداری گمراہیوں‘‘ کو مکالمے کا موضوع بنایا جاتا تو یقین مانیے کہ یہ تمام ’’نواحی‘‘ اوامر میں شامل نہ بھی ہو پاتے تو ان کے حوالے سے معاشرے میں برداشت کا کلچر ضرور پنپتا۔

مکالمے کے حوالے سے ایک اعتراض آداب مکالمہ کے ضمن میں سامنے آتا ہے۔ جیسے مکالمے میں طنز و طعن کے نشترچلانا ، دلیل کو رہنما نہ کرنا وغیرہ وغیر۔ یہ اعتراضات بجا ہیں مگر پاکستانی سماج میں مکالمے کی عام ہوتی قدرے نئی روایت کو سامنے رکھیں تو اس میں واقعی میچورٹی کی سطح کم ہے۔ مگر یقین مانیں کہ اگر غیر نامیاتی انداز میں مکالمے کا گلا نہ گھوٹا گیا تو یہ سقم بھی ایک دن دور ہو جائے گا۔ ویسے تاریخ تو یہ بھی بتاتی ہے کہ مکالمے میں تندی و تیزی ، طعن و تشنیع کے عناصر ہمیشہ سے موجود رہے ہیں اور موجود رہیں گے۔ ترقی یافتہ معاشروں میں بپا مکالمے میں بھی یہ عنصر واضح طور پر موجود ہیں۔ یورپ اور امریکہ کے سیاسی ، سماجی ، معاشی اور الہیاتی مکالمے اس کا واضح ثبوت ہیں۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضرور نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

2 thoughts on “مکالمہ جنگ نہیں ہوتا

  • 23-04-2016 at 9:21 pm
    Permalink

    مکالمے کو مناظرہ جان کر کرنے والوں کے ساتھ مکالمہ نہیں ہو سکتا اور کیا جائے تو واقعی سعی لا حاصل ہے۔ نشاۃ ثانیہ میں فلسفیوں اور ادیبوں نے مکالمہ نہیں کیا تھا، کلیسا کمزور ہو چکا تھا، کلیسا پر سے لوگوں کا اعتماد اٹھ گیا تھا مگر پاکستان میں نشاۃ ثانیہ کی سی صورت حالات نہیں بلکہ اس کے عین برعکس ہے۔ کوئی بھینس کے آگے بین بجا کر سمجھے کہ اسے موسیقی سمجھ آتی ہے، اسے سنکی نہیں تو اور کیا سمجھا جائے گا صفدر سحر، میرے عزیز؟

  • 24-04-2016 at 4:24 pm
    Permalink

    انتہائی قابل احترام جناب مرزا صاحب
    ایک ہی حادثہ تو ہے اور وہ یہ کہ آج تک
    بات نہیں کہی گئی ، بات نہیں سنی گئی
    مکالمہ اگر کہیں مناظرہ کی شکل اختیار کر بھی لے تو کچھ فرق نہیں پڑتا کہ انسان کہ پاس ارتقا کی اگلی سیڑھی تک پہنچنا بغیر مکالمے کے ممکن نہیں۔ باقی رہی بات کہ کلیسا کمزور ہونے کی تو کلیسا یہاں بھی کمزور ہو رہا ہے
    مئے خانے کی بنیاد میں آیا ہے تزلزل
    بیٹھے ہیں اسی فکر میں پیران خرابات
    اور مکالمہ تو ادیب اور دانشور ہی کریں گے، پادریوں کے ہاتھ میں مکالمہ تو ویسے ہی مناظرہ بن کر رہ جائے گا۔۔۔۔ اور بھینس کے آگے بین بجانے کی بات بھی خوب کہی سر! پہلی بار جب کسی آرٹسٹ نے موسیقی سنائی تو سامنے موجود انسانوں کی کیفیت بھی تقریبا وہی تھی جو بھینس کی ہوتی ہے۔ عرض مدعا دراصل یہی تھا کہ کلام اور اجنبی موضوعات پر کلام کا دہرانا اجنبی موضوع کو اجنبی نہیں رہنے دیتا جب موضوع اجنبی نہیں رہتا تو ذہن اس کے حوالے سے شدت پسندی کی جانب مائل نہیں ہو پاتا۔۔۔۔ صدا خوش رہیں اور ہمارے ذہنوں کی تروتازہ و نئے مضامین سے آبیاری کرتے رہیں

Comments are closed.