نظریاتی بیانیوں کی بحث کیوں شروع ہوئی؟


aamir hashimچند دن پہلے رواروی میں یہ گیارہ مشوروں والا مضمون لکھا۔ دراصل سوشل میڈیا پر آج کل اس حوالے سےبحثیں چل رہی ہیں۔ کئی نوجوانوں کی پوسٹیں میں نے دیکھیں، انہیں پڑھتے ہوئے محسوس ہوا کہ نوجوانوں کےلئےچند رہنما اصول لکھ دئیے جائیں۔ یہ خیال دامن گیر تھا کہ اکثر نوجوان جوش وجذبات میں تلخی پر اتر آتے ہیں اور گاہے بدتہذیبی غالب آ جاتی ہے، اس سےروکنا اور انہیں بتانا چاہیے کہ اگر مکالمہ کرنا ہےتو نہایت شائستگی اور اخلاق سےایسا کیا جائے۔ مجھے لگا کہ بعض بھولے بادشاہ سمجھتے ہیں کہ شائد ایک دوپوسٹوں سے وہ مخالف نقطہ نظرکا خاتمہ ہی کر دیں گے۔ انہیں اندازہ نہیں کہ یہ نظریاتی کشمکش ہے، چیزوں کو دو الگ الگ زاویوں سےدیکھنے کا معاملہ ہے، اتنی آسانی سے حل نہیں ہونےوالا۔ یہ کوئی پہلا معرکہ نہیں پچھلے چالیس پچاس برسوں میں کئی فیز گزر چکے۔ اسی طرح یہ بھی اہم تھا کہ کوئی اگر ان مباحث میں حصہ لینےکا خواہشمند ہے تو پہلے اسے وہ بنیادی نکات تو معلوم ہوں،جن کے گرد بحث گھوم رہی ہے اور پھر اچھی طرح تیاری کر کے، کچھ پڑھ لکھ کر ہی ادھرآنا چاہیے تاکہ مثبت بامعنی کنٹری بیوٹ کیا جا سکے اور ان کی تحریرپڑھنےوالےکووقت کےضائع ہونے کا احساس نہ ہو۔ لکھنے کےبعد دیکھا تو گیارہ پوائنٹ بن گئے تھے، سرخی میں اس لئے گیارہ مشورے لکھ دئیے۔ یہ دس بارہ، پندرہ کچھ بھی ہوسکتے تھے، عدد اس میں اہم نہیں۔ مضمون عجلت میں لکھا اور پھر فورآ ہی اسے فیس بک پر پوسٹ کر دیا، اپنی دیگر پوسٹوں کی طرح ۔ اس وقت اندازہ نہیں تھا کہ اسے اتنا پسند کیا جائے گا۔ پوسٹ ہونے کے بعد جو ریسپانس اآیا، اس سے مجھےخود بھی حیرت ہوئی ہے۔ دوستوں نےبہت محبت کامظاہرہ کیا اور اسے دل کھول کرشئیر بھی کیا ۔ ہم سب،آئی بی سی،آرچر آئی، اردو ٹرائب وغیرہ میں بھی یہ شئیر ہوا ۔ اس نےایک ارتعاش سا پیدا کیا ہے، اس کے بعد کئی مضامین بھی آ چکے نہیں،جن کا مقصد اس کی تائید، تردید یا اس کا تمسخر اڑانا تھا۔ تمسخر اڑانے کو میں ویسے تائید ہی گردانتا ہوں، وہ تائیدی مضمون سے بھی زیادہ موثر انداز میں رنگ لاتا ہے۔ کئی جگہوں پرمیرے مضمون کے حوالےسےگفتگو ہوئی، بے شمار کمنٹس آے، اس حوالے سےچند وضاحتیں ضروری ہو گئی ہیں۔

اکثر جگہوں پر یہ کہا گیا کہ رائیٹ اور لیفٹ ونگ میں ایک نظریاتی جنگ شروع ہوگئی ہے،ایک طرف کی قیادت وجاہت مسعود کر رہےہیں، دوسری طرف کی قیادت یہ خاکسار یعنی عامر خاکوانی۔ عرض یہ کہ بندہ ناچیز ایک عام اخبارنویس ہے، قیادت کی اس میں اہلیت ہے، زوق شوق اور نہ ہی اتنا وقت میسر ہے۔ بطور اخبارنویس لکھنا لکھانا چونکہ میرا کام ہے، نظریاتی حوالے سےچونکہ میرا ایک موقف ہے، میں اسلام کو پاکستان کا لازمی جز سمجھتا اور اسلامی نظام واسلامی معاشرےکی تشکیل کے لئے جدوجہد کو غیرمعمولی اہمیت دیتاہوں۔ سیکولرازم کو پاکستان کےلئے مضر سمجھتا اور اس سےاختلاف رکھتا ہوں۔ یہ موقف میں اپنےکالموں ،پوسٹوں میں بیان کرتا رہتا ہوں ۔ چونکہ یہ روایتی رائیٹ ونگ یا اسلامسٹ بیانیہ بھی ہے، اس لئے اس حوالے سےرائیٹ ونگ کے ساتھ فکری اشتراک بن جاتا ہے، جس سےمیں نے کبھی انکار نہیں کیا۔ بنیادی طور پرمیں اپنےآپ کو سنٹر میں سمجھتا ہوں، مگر رائیٹ آف دی سنٹر۔ سیاسی اعتبار سے میرا موقف یہی ہے۔ روایتی رائیٹ ونگ کی جماعتوں سےکئی مرتبہ اختلاف رہا اور برملا اس کا اظہار بھی کرتا رہا ہوں۔ ویسے بھی رائیٹ ونگ کی قیادت کےلئےکسی نیک صالح شخص کو آنا چاہیے،جس کی ظاہری شباہت بھی دین داروں والی ہو۔ ہم تو گناہ گار، دنیا دار قسم کے بندے ہیں، بے پناہ کوتاہیاں ہیں، موسیقی سنتے اور فلمیں بھی دیکھتے ہیں، دینی طبقے کے جو نوجوان میرے بارے میں حسن ظن رکھتے اور محبت سےسوچتےہیں، ان کا شکریہ۔ ان کی محبتوں کا ہمیشہ مقروض رہوں گا،مگربراہ کرم مجھے نظریاتی حوالے سے جدوجہد کا لیڈر نہیں بلکہ کارکن سمجھئے۔ اللہ اور اس کے آخری رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے دین کی خاطر جو کچھ اس ناکارہ سے ہو سکا ، ضرور کرے گا، اس جدوجہد کے لئے، جو تاحیات چلنی ہے، بطور ادنیٰ کارکن، عام ساتھی کے چلنا پسند کروں گا۔ لیڈری صاحب علم لوگوں کا کام ہے۔ الطاف حسن قریشی، سجاد میر، ارشاد احمد عارف ،سلیم منصور خالد جیسے لوگ اس منصب کے حق دار ہیں۔

یہ وضاحت بھی ضروری ہے کہ یہ کوئی جنگ نہیں ہے،کم از کم رائیٹ ونگ کی جانب سے نہیں ہے۔ رائیٹ نےکوئی نظریاتی معرکہ کھولا نہ ہی وہ اس میں دلچسپی رکھتےہیں۔ یہ بحثیں ہمارے سیکولر دوستوں نے شروع کی ہیں، وہ تواتر کے ساتھ قرارداد مقاصد پر سوال اٹھاتے ہیں، قائداعظم کی ایک تقریر کی غلط تشریح کرتے اورنظریہ پاکستان پر حرف زنی کرتےہیں، انکےخیال میں پاکستان کو اسلامی ریاست کے بجائے سیکولر ہونا چاہیےکہ ان کے خیال میں اسلام کو ریاست کی بنیاد، سورس آف انسپائریشن نہیں ہونا چاہیے کہ اس طرح اقلیتیوں کے ساتھ مساوات نہیں رہتی وغیرہ وغیرہ۔ ان سوالات کے بہت بارجواب دئیے جا چکے، ہر بار کچھ عرصے کے بعد یہ سوال پھر اٹھائے جاتے ہیں تو مجبورآ میرےجیسے لوگوں کو اپنی کم علمی کےباوجود جوابی بیانیہ پیش کرنا پڑتا ہے۔ یہ سوچ کر کہ نئی نسل کےسامنےیہ موقف اپنی علمی بنیاد سمیت موجود رہے۔ مزید یہ کہ میں نےتو یہ نہیں کہا کہ دوسری طرف لیفٹ ونگ ہے۔ پاکستان میں لیفٹ ونگ عملی وجود کھوچکا ہے۔ یہ رائیٹ بمقابلہ سیکولر کشمکش ہے۔

بعض‌احباب نےلکھا کہ رائٹ ونگ نہ کہا جائے۔ کیوں؟ اس کی مجھے کبھی سمجھ نہیں آئی کہ آخر پاکستانی رائیٹسٹ کو رائٹسٹ کیوں نہ کہا جائے؟ اسلامسٹ کہیں یا رائٹسٹ، فرق کوئی نہیں۔ مجھے آخر کوئی بتائےکہ کیاپاکستان میں کوئی ترقی پسند، سیکولر، لبرل یا کمیونسٹ خود کو رائٹسٹ کہلانا پسند کرتا ہے؟ ساٹھ، ستر، اسی ،نوے کے عشرے میں بھی یہی لوگ رائیٹ ونگ کی طرف تھے۔ یہی جماعت اسلامی تھی، دینی جماعتیں تھیں، مولانا ظفر احمد انصاری تھے، الطاف حسن قریشی،مجیب الرحمن شامی، محمدصلاح الدین،سجاد میر،میجرابن الحسن ، عبدالقادر حسن، سجاد میروغیرہ ہی تھے۔ کچھ ماڈرن لوگ بھی تھے، جدید تعلیم یافتہ، ماڈرن وضع قطع والے، مگر چونکہ وہ اسلامی نظام کےحامی تھے، رائٹسٹ کہلائے، لیفٹ کےہاں اسی بنیاد پرمعتوب بھی ٹھیرے، اآج بھی کم وبیش وہی لوگ ہین، کچھ البتہ دنیا سے چلے گئے، معمر ہوگئے، نئےچہرے آ چکےہیں، مگر چونکہ بنیادی مقدمہ وہی پرانا ہے، اصول وہی ، موقف وہی ہے کہ پاکستان ایک اسلامی ریاست ہے، اسلام کے نام پر بنی، یہاں رول ماڈل اسلامی معاشرہ، اسلامی ریاست قائم ہونی چاہیے۔ تو آج بھی یہ رائیٹ ونگ ہی ہے۔ یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ وہی الطاف قریشی ستر کے عشرے میں رائٹسٹ تھا، نوے میں رائٹسٹ‌ تھا، گر آج اپنے اسی موقف کو وہ دہرائےتو کہا جائےکہ انہیں رائیٹ کہنا غلطی ہے، کس بنیاد پر غلطی ہے؟ یہ ٹھیک ہے کہ غیر مسلم دنیا میں بھی مذہبی لوگ رائٹسٹ کہلاتےہیں،بھارت میں بی جےپی، امریکہ میں کسی حد تک ری پبلکن کورائٹ ونگ کہہ دیا جاتاہے۔ پاکستانی تناظر میں مگر صرف اسلامی نظام کا نام لینے والے، اسلامی قوانین وضوابط کو مین سورس آف انسپائریشن ماننےوالے ہی رائٹسٹ کہلائے ہیں۔ انہیں طنزآ اسلامسٹ کہا گیا تو انہوں نےاس طعنےکوبھی قبول کر لیا۔ اب اسلامسٹ کہلانے پر بھی اعتراض ہے؟ بھائی کس نے کہا کہ جو اسلامسٹ نہیں ، وہ مسلمان ہی نہیں۔ صرف اتنا ہے کہ وہ اسلام، خدا کو گھر تک محدود کرنےکے قائل ہیں، اسلامسٹوں کے نزدیک خدا انفرادی اوراجتماعی زندگیوں کا محورہونا چاہیے۔ اتنی سی بات ہے۔ پاکستان میں صرف اسلام کےنفاذ کی بات کرنےوالے ہی رائیٹ ونگ کے تھے ، ہیں اور رہین گے۔ کیا کبھی یہاں کسی ہندو، عیسائی یا احمدی نے رائیٹ ونگ کے ساتھ کھڑے ہونے کی کوشش کی ہے؟ نہیں ، قطعی نہیں۔ وہ ہمیشہ رائیٹ ونگ کے مدمقابل کیمپ میں گئے۔ اس لئےپاکستان تناظر میں رائیٹ ونگ واضح ہے، کسی کو اچھالگے یا برا،یہ حقیقت ہے۔

ایک دوست نے لکھا کہ عامر خاکوانی کی شہرت ایک غیر جانبدار صحافی کی تھی، مگر اب وہ خود کو رائیٹ‌ ونگ سے منسلک کر رہے ہیں، وغیرہ وغیرہ۔ عرض یہ ہے کہ کسی سیاسی ایشو مین تو آپ غیر جانبداری کی بات کرسکتے ہیں، اگرچہ وہاں بھی آپ کو ایک رائے بنانی ہی پڑتی ہے،جیسے پاناما لیکس والے ایشو پر ہر ایک کی کوئی نہ کوئی رائےہوگی، وہ اس کا اظہار کرے گا۔ اس میں غیر جانبداری یا جانبداری کی بات کہاں سے اآ گئی۔ البتہ انصاف یا بددیانتی کی بات ہوسکتی ہے۔ ایک اصول آدمی کسی ایک جماعت کے لئےروا رکھے تو اسے دوسرےپربھی منطبق کرے، یہ دیانت ہے۔

اب سوال یہ ہےکہ پاکستان کو اسلامی ریاست ہوناچاہیے یا سیکولر ریاست، سیکولرازم رائج ہونا چاہیے یا پھر اسلام کو مرکزی سورس ہونا چاہیے، اللہ کی حاکمیت قبول ہےیاعوام کولامحدودحاکمیت کا حق دینا ہے۔ اس میں کسی بھی سوچنے سمجھنے والےشخص کی کوئی رائےہوگی۔ یا تو اسلام کو سورس مانےگا یا پھر مذہب کو ریاست سےالگ رکھنے کی سوچ کا حامی بنےگا ۔ ایک واضح‌ پوزیشن لینا ہوگی۔ یہ نہیں کہہ سکتا کہ ہاں اسلامی ریاست ہونی چاہیے، مگر ملک میں سیکولرزم بھی ہو۔ جو شخص اس معاملے میں کوئی واضح سوچ نہیں رکھتا، اس کا اظہار نہیں کرتا، یا تو وہ بے وقوف ہے،اس کی کوئی سوچ ہی نہیں یا پھر وہ منافق ہے اور مصلحت کے تحت کوئی واضح بات نہیں کر رہا۔ یاد رہے کہ میں ہرگز یہ نہیں کہہ رہا کہ یہ کفر یا ایمان کا معاملہ ہے۔ کوئی بھی مسلمان، اچھا مسلمان بھی یہ سوچ رکھ سکتا ہےکہ سیکولرازم ملک میں ہونا چاہیے۔ اس کے ایمان میں تو فرق نہیں پڑےگا، البتہ اللہ کے ساتھ اس کے سطحی تعلق پر ہمیں افسوس ضرور ہوگا،مگراسکی رائےکا ہم احترام کریں گے، اس کےساتھ مکالمہ البتہ رہے گا، اسے قائل کرنےکی کوش جاری رہے گی۔ اسلامی نظام بمقابلہ سیکولرازم کے معاملے میں کوئی درمیان کا گرائونڈ نہیں ہے، مڈل ونگ اس پرنہین بن سکتا۔ اس کا ادراک جتنا جلد ہوجائے، اتنا اچھا ہے کہ اس کارلاحاصل پر انری لگانا نہ پڑے۔ ہاں سیاسی حوالوں سے مڈل ونگ یعنی سنٹر ضرور ہوسکتا ہے بلکہ ہے۔ دراصل کچھ لوگ روایتی رائٹسٹ جماعتوں، مولوی صاحبان یا شدت پسندانہ مذہبی تعبیر دینےوالے بعض گروہوں سے تنگ اآ کر خود کو رائیٹ ونگ سے دور رکھنا پسند کرتے ہیں، ایسےمعتدل لوگوں کی رائیٹ میں زیادہ ضرورت اور گنجائش ہے۔ رائیٹ ونگ پر کسی کی اجارہ داری نہیں ہے ۔ ہر وہ آدمی جو اسلام کو نظام بنانا چاہے ، وہ رائٹسٹ ہے، خواہ وہ مذہبی جماعتون اورروایتی مذہبی طبقے کامخالف ہی کیوں نہ ہو۔ اس لئے معتدل دینی سوچ رکھنے والون کو بلاخطر ادھرآنا چاہیے، خاص کر جب اسلام اور سیکولرزم کا بنیادی مباحثہ چل رہا ہو، تب انہیں اپنی واضح پوزیشن لینی چاہیے۔

کچھ احباب کا کہنا تھا کہ اس نظریاتی بحث کی کیا ضرورت تھی۔ ایک بار پھر دہرانا چاہوں گا کہ یہ بحث میں نے یا رائیٹ ونگ نےشروع نہیں کی۔ میرا ماننا ہے کہ ہمارےاس وقت کے آئین میں کم وبیش وہ سب کچھ ہے جو ملک میں اسلامی نظام کے لئے ضروری ہے۔ اب مسئلہ صرف ان پر عمل درآمد کا ہے۔ ہم تو کسی نئی اسلامی ترمیم کا مطالبہ نہیں کر رہے۔ یہ مطالبات، مباحث تو ہمارے سیکولر دوستوں نےچھیڑے ہیں۔ ہم نے تو صرف ان کے اٹھائے سوالات، بیانیہ پر اپنا نقطہ نظر واضح‌ کرنے کی کوشش کی ہے۔ بس اتنا ہی۔ میں سمجھتا ہوں کہ اہل دانش کو اپنی صلاحیتوں کا محور ریاست کی تعمیر وترقی کو بنانا چاہیے۔ ہمارے الیکشن سسٹم سےلے کر صحت، تعلیم، تھانہ کچہری، معیشت ، ٹیکسیشن غرض ہر شعبے میں اصلاحات کی ضرورت ہے، اس پر توجہ دینی چاہیے۔ اس کے لئےرائیٹ،سیکولر مل کر کام کر سکتے ہیں، مشترکہ پوائنٹس ڈھونڈے جا سکتے ہیں، عام آدمی کے مسائل حل ہونےچاہئیں۔ جو بحثیں ستر کے عشرے میں ہوچکیں، اب انہیں دوبارہ چھیڑ کر کیا مل جائےگا۔ آگے چلنا چاہیے۔


Comments

FB Login Required - comments

One thought on “نظریاتی بیانیوں کی بحث کیوں شروع ہوئی؟

  • 26-04-2016 at 1:05 am
    Permalink

    کیا کبھی یہاں کسی ہندو، عیسائی یا احمدی نے رائیٹ ونگ کے ساتھ کھڑے ہونے کی کوشش کی ہے؟

    جناب ! اقتصادی،سماجی،مذہبی اور سیاسی حقوق سے محروم طبقات عام طور پر لیفٹ کی طرف ہی کھنچتے چلے جاتے ہیں کہ وہ بائیں بازو کے سیاسی منشور میں معاشی خوشحالی،روزگارکی فراہمی ،شہری حقوق تک رسائی اور امتیازات سے پاک معاشرے کا خواب دیکھتے ہیں۔ یہ ایک سادہ سی بات ہے ؛ کاروبار ریاست میں لیفٹ کے ان سنہری اصولوں کے شامل کرنے کی خواہش کرنا دین یا مذہب سے دوری نہیں اور نہ ہی کوئی گناہ ہے۔ایسا کہنا کہ یہ سیاسی بحثیں ماضی میں ہوچکی ہیں اور اب انکے کرنے کا کوئی جواز نہیں،بھی دائیں بازو کی بنیادی خصوصیات میں سے ایک ہے،کہ دایاں بازو تبدیلی کا ہمیشہ سے مخالف رہا ہے۔
    آپ کی یہ بات اس بات کا ثبوت بھی ہے کہ پاکستان کا رائیٹ احمدیوں،ہندووں،سکھوں اور عیسائیوں کو انکےشہری اور سیاسی حقوق دینے میں ناکام ہوچکا ہے یا کم ازکم جزوی طور ہر تو ناکام ہی ہے؛ایسے میں دائیں بازو کے بیانئے کو حرف آخر کیسے کہا جاسکتا ہے کہ اس پر مکمل اتفاق موجود نہیں ہاں یہ اکثریت میں ضرور ہے۔ رائٹ ونگ کی اکثریت کی ایک اہم وجہ ہمارا نصاب بھی ہے،جس میں یکطرفہ تصویر کشی کی جاتی ہے اور مکالمے کا فقدان ہے۔ مثال کے طور میں نصاب میں ایک مضمون لکھنے کو کہا جاتا ہے “جدا ہو دین سیاست سے تو رہ جاتی ہے چنگیزی” اور اسکے حق میں ہی لکھنا ہوتا ہے؛کیا طلبا کو ان موضوعات پر تحقیق کرکے اختلاف کرنے کا حق بھی دیا جاتا ہے؟ ۔ ایسے نظام تعلیم کے چلتے رائٹسٹ کی اکثریت سمجھ میں آنے والی بات ہے۔
    میری رائے میں بائیں بازو میں بھی بہت سی مثبت خصوصیات ہیں،خاص طور پر روایات کی پاسداری و حفاظت اورآزادی کی حدود و قیود کا خیال رکھنا شامل ہیں۔

Comments are closed.