اردونصابات:غریب کی جورو سب کی بھابھی


nasir abbas nayyarپاکستانی تعلیمی اداروں میں اردو، غریب کی جورو سب کی بھابھی بنی ہوئی ہے۔ ریاستی آئیڈیالوجی، مذہب، اخلاقیات، تاریخ غرض کیا کچھ نہیں ہے جسے اردو کے نصابات میں ٹھونسا نہیں جاتا۔ اردو، غریب کی جورو کی طرح سب کی ہاں میں ہاں ملاتی ہے، اور وہ سب بوجھ اٹھاتی ہے جو حقیقت میں دوسرے مضامین کے ہیں۔ اردو نصابات کی اس بوالعجبی کا علم سب کو ہے، مگر گزشتہ کئی دہائیوں سے اس کے چلن نے، اس کی طرفگی کے نوکیلے احساس کا خاتمہ کر دیا ہے، اور اسے معمول کی چیز بنا دیا ہے۔ سوائے چند تعلیمی ماہرین کے، باقیوں کواس بات پر حیرت ہی نہیں ہوتی کہ اردو کی نصابی کتابوں میں نصف سے زیادہ تحریریں مذہب و تاریخ و اخلاقیات سے متعلق ہوتی ہیں۔ کسی بوالعجبی کا معمول بن جانا ایک سانحہ ہے، کیوں کہ یہ اس بات کی علامت ہے کہ لوگ انمل، بے جوڑ چیزوں کو بغیر تنقیدی شعور کے قبول کرنے لگے ہیں، اور کہیں کی اینٹ اور کہیں کے روڑے کو ایک ساتھ تصور کرنے میں انھیں کوئی حرج نہیں محسوس ہو رہا۔ تنقیدی شعور کے خاتمے، اور اس خاتمے کی بے خبری سے بڑا سانحہ کیا ہوسکتا ہے!

 ہر مضمون کے نصاب کا دائرہ، اس مضمون تک محدود رکھا جاتا ہے، تاکہ طالب علم کی توجہ کا ہدف واضح اور متعین ہو۔ مبادا غلط فہمی ہو، اسی مقام پر یہ واضح کر دیا جانا چاہیے کہ مضامین (اور زیادہ مناسب لفظوں میں شعبہ  علم یا ڈسپلن) کے دائروں کا حتمی تعین دشوار ہے، اورتمام مضامین کی حدود آپس میں کہیں نہ کہیں ملتی ہیں، مگر اس حقیقت کا احساس، ان مضامین کے بارے میں اعلیٰ ترین دانش ورانہ سطح پر سوچنے کے وقت ہوتا ہے۔ کم از کم سکول اور کالج کی سطح پر سائنس، سماجی علوم، اسلامیات، تاریخ سمیت سب مضامین کے دائرے مقرر ہیں، اور ایسا شاید ہی کبھی ہوا ہو کہ طبیعیات کے مضمون میں تاریخ پڑھائی جائے، یا تاریخ کے مضمون میں کیمیا کے ابواب شامل کیے جائیں، یا تاریخ پاکستان کے مضمون میں افریقا کی تاریخ شامل کی جائے۔ گویا نصاب سازی میں یہ بات اصول کا درجہ رکھتی ہے کہ ہر مضمون کی حدود کا خیال رکھا جائے اوراس کی سختی سے پابندی کی جائے۔ لیکن اردو کواس اصول سے استثنا حاصل ہے۔ اس استثنا کی ایک تاریخ ہے، جس کا آغاز نو آبادیاتی تعلیمی نظام سے ہوتا ہے، جسے ریاستی آئیڈیالوجی کی تبدیلی کے سوا عام طور پر ملحوظ رکھا گیا ہے۔

Lessons-from-a-boring-bookاس وقت پاکستان میں جو اردو نصابات پڑھائے جا رہے ہیں، وہ بہ ظاہر 2009ء کی تعلیمی پالیسی کے مطابق تیار کیے گئے ہیں، لیکن ان نصابات کی روح پرانی ہے۔ اکیسویں صدی کے پہلے عشرے کے خاتمے پر رائج ہونے والی اس تعلیمی پالیسی میں جن تعلیمی مقاصد کا ذکر ہے، وہ نئے نہیں ہیں۔ یہ مقاصد وہی ہیں، جو آئین پاکستان میں درج ہیں، یا جنھیں تحریک پاکستا ن اور قیامِ پاکستا ن کی سرکاری تاریخوں میں کثرت سے دہرایا جاتا ہے۔

”پاکستان کی اکثریت کی ثقافتی اقدار اسلام سے اخذ کی گئی ہیں۔ چوں کہ تعلیمی نظام سماجی، ثقافتی اور اخلاقی اقدار کی عکاسی کرتا ہے، اور ان کی تقویت کا باعث ہوتا ہے۔ اس لیے تعلیمی اقدامات، مذہب اور عقیدے کی بنیادی اقدار پر مبنی ہونی چاہییں۔

پالیسی اسلامی اقدار کی پاسداری کرتی ہے، اور اس سلسلے میں مسلم اصولوں کی پیروی کرتی ہے۔ تمام پالیسی اقدامات کو پالیسی اصولوں میں طے کردہ حدود کے اندر بروے کار لایا جاتاہے، جیسا کہ پاکستان کے آئین مجریہ 1973ء کے آرٹیکلز29، 30، 31، 33، 34، 37 اور 40 میں قرار دیا گیا ہے۔ ان میں پاکستانی بچوں کو پروقار شہری بنانا شامل ہے، جن کا مذہب اور اسلامی تعلیمات نیز پاکستانی معاشرہ کی ثقافتی اقدار اور روایات پر یقین محکم ہو۔“

بلاشبہ پاکستان کی آبادی کی اکثریت مسلمانوں پر مشتمل ہے، لیکن کیا دیگر مذاہب کے لوگ پاکستانی شہری نہیں ہیں، اور اس حیثیت میں وہ تعلیمی حقوق نہیں رکھتے؟ کیا وہ اتنا حق بھی نہیں رکھتے کہ ان کی موجودگی کا ذکر اس تعلیمی پالیسی میں کیا جائے؟علاوہ ازیں اس تعلیمی پالیسی میں اس فرق کو بھی واضح نہیں کیا گیا، جس کا تعلق طالب علموں کو سماج کی اقدار کے اندھے مقلد بنانے اور ان اقدار کی اہمیت کو سمجھ کر قبول کرنے میں ہے۔

تعلیمی پالیسی میں جن مقاصد کا ذکر ہے، اردو ان کے حصول کا سب سے بڑا ذریعہ بنی ہے۔ پاکستان کے تعلیمی ڈسکورس (جو پاکستان کے سرکاری قومی بیانیے کinsha عکس ہے) کی رو سے دیکھیں تو اردو ایک زبان، ایک ذریعہ ابلاغ سے کہیں ’بڑھ‘ کر ہے؛ وہ ’قومی، مذہبی ‘اقدار کی حامل اور محافظ ہے۔ جس طرح اسلام سے متعلق یقین کیا جاتا ہے کہ وہ تمام پاکستانیوں کو یکجا رکھ سکتا ہے، اسی طرح اردو کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ سب پاکستانیوں کو اکٹھا رکھ سکتی ہے۔ ایک مذہب، ایک زبان، ایک قوم کے بیانیے میں زبان کا مرتبہ مذہب اور قوم سے کم تر نہیں سمجھا گیا، اور زبان کے قومی کردار سے اختلاف کرنے والوں کو کم وبیش اسی توہین کا مرتکب سمجھا جاتاہے، جو مذہب اور قوم کے ریاستی حاوی بیانیے سے اختلاف کرنے والوں کے لیے تصور کی گئی ہے۔ اردو زبان کی یہ ایک ایسی مقدس خصوصیت ہے، جس سے باقی اکہتر پاکستانی زبانیں محروم تصور کی گئی ہیں۔ یوں اردو کو خود بخود باقی زبانوں پر اقتدرای حیثیت حاصل ہوجاتی ہے، اور جو لوگ اس کا علم اٹھا کر چلتے ہیں، انھیں طاقت کے کھیل میں خود بخود حصہ مل جاتا ہے۔

 انیسویں صدی میں یوپی اور بیسویں صدی میں پنجاب کے مسلمانوں نے خاص طور پر اردو کو اپنی مذہبی شناخت کے طور پر قبول کرنا شروع کیا۔ اس کا باعث نو آبادیاتی عہد کے برصغیر کے جدید تعلیم یافتہ دانش وروں کی مخصوص حکمت عملی تھی، جس کے مطابق انھوں نے اپنی آزادی کی آئینی اور عوامی جنگ، استخراجی
قومیت پرستی کے ذریعے لڑنا پسند کی، اس جنگ میں ایک قوم، ایک زبان، ایک مذہب کا بیانیہ راسخ ہوا۔ جس بیانیے کو آزادی کی جنگ میں ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کیا گیا، اسے اپنی آزادی کے تحفظ کے لیے بھی کارآمد سمجھا گیا۔ جنگی حکمت عملی میں بہت سی ایسی باتیں ناگزیر سمجھی جاتی ہیں، جن کا معمول کی زندگی میں تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔ قیام پاکستان کے بعد اس اہم نکتے کو بالعموم فراموش کر دیا گیا۔ یہ ایک بدیہی حقیقت ہے کہ پاکستان جیسے کثیر لسانی ملک کو ایک مشترک زبان چاہیے تھی، اور چاہیے ہے۔ وہ انگریزی یا اردو ہو سکتی ہے۔ عملاً یہی دو زبانیں رابطے کا ذریعہ ہیں۔ انگریزی اشرافیہ کی سطح پر اور اردو عوامی سطح پر لیکن زبان کو ابلاغ کا ذریعہ سمجھنا، اورکسی ایک زبان کو قومی وجود کے بقا کی علامت سمجھنا دو قطعی مختلف باتیں ہیں، کیوں کہ آخر الذکر صورت کا لازمی نتیجہ ان سب آوازوں کو کچلنے کی صورت میں برآمد ہوتا ہے جو اپنی شناخت کے حق کے لیے بلند ہوتی ہیں۔ حالاں کہ کسی کو اپنی شناخت کے حق سے محروم رکھنے کے نتیجے میں، اس کی طرف سے مخفی اور متشدددانہ حکمت عملیاں اختیار کرنے کا خطرہ مسلسل منڈلاتا رہتا ہے۔ قابل ِ غور بات یہ بھی ہے کہ جب کوئی ایک زبان، کثیر لسانی معاشروں میں رابطے اور ابلاغ کا ذریعہ بنتی ہے تو خود بہ خود اس کا ایک نیا نرم تصور (سوفٹ امیج) ابھرتا ہے۔ مختلف مادری زبانیں بولنے والے، اسے اپنے اوپر مسلط سمجھ کر اس سے نفرت نہیں کرتے، بلکہ اسے آسانی پیدا کرنے کا ذریعہ خیال کرتے ہیں، نیز اسے اپنے مخصوص لسانی گروہ سے باہر اپنے خیالات وتجربات کی ترسیل کے لیے ناگزیر سمجھ کر قبول کر لیتے ہیں۔

بہ ہر کیف اردو نصابات پر گفتگو خود بہ خود اردو کے سرکاری بیانیے کی طرف مڑ جاتی ہے۔ ان نصابات پر ایک نظر ڈالنے سے یہ معلوم ہوجاتا ہے کہ انھیں پاکستان کی قومی، مذہبی اقدار کے سب سے بڑے محافظ تصور کیا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پہلی جماعت سے لے کر ایم اے کی سطح تک اردو نصابات میں اسلامیات اور تحریک پاکستان لازمی حصہ ہیں۔ ابتدائی جماعتوں میں البتہ ان کا تناسب زیادہ ہے۔

umrao-jaan-ada-mirza-ruswa-ebooks-3ان نصابات کی ایک اور خصوصیت یہ ہے کہ سکول اور کالج کی سطحوں پر یہ تمام نصابات، ہدایت آموز (Didactic)  ہیں۔ اوّل ایسے متون منتخب کرنے کی کوشش کی جاتی ہے، جو صریحاً ہدایت آموز ہوں۔ شبلی، سرسید، نذیر احمد، حالی کی بہ طور خاص وہ تحریریں منتخب کی جاتی ہیں، جو ناصحانہ نوعیت کی ہیں۔ انھیں پڑھتے ہوئے طالب علم ان مشاہیر کو معلمِ اخلاق تو تصور کرلیتے ہیں، تخلیق کار اور دانش ور نہیں۔ مثلاً اس وقت پنجاب ٹیکسٹ بک بورڈ میں نویں جماعت کی اردو میں نذیر
احمد کے ناول توبتہ النصوح سے ایک حصہ ” نصوح اور سلیم کی گفتگو“ کے عنوان سے شامل ہے۔ اس میں سلیم کو ایک ایسے نوجوان کے طور پر پیش کیا گیا ہے جو بڑوں کی ہر ہدایت کو فوراً قبول کرلیتا ہے، اور خو دسوچنے کی زحمت سے بچا رہتا ہے۔ حالاں کہ اسی ناول میں نصوح اور کلیم کی گفتگو بھی شامل ہے۔ کلیم، سلیم کے برعکس ہے۔ وہ اپنے باپ سے صاف کہتا ہے کہ وہ بالغ ہے اور اپنی رائے رکھتا ہے۔ اس حصے کو کسی اردو نصاب میں یہ حصہ شامل نہیں کیا جاتا۔ وجہ بے حد سادہ ہے۔ یہ نصابات، طالب علم کے سامنے کوئی ایسی مثال پیش نہیں کرنا چاہتے، جس میں نوجوان کردار خود اپنی رائے باور کرانے کی سعی اور جدوجہد کرتے ہوں۔ اردو نصابات کی تیاری یا انھیں پڑھانے میں، طالب علم کا ایک خاص تصور پیش نظر رہتا ہے۔ وہ سوچنے والی مخلوق نہیں، بلکہ آنکھیں بند کرکے ہر بات پر آمنا و صدقنا کہنے والا، منفعل وجود سمجھا جاتاہے۔ ہماری رائے میں نصابات کا ہدایت آموز ہونا بجائے خود غلط نہیں، کیوں کہ تعلیم ایک طرف آدمی کو کسی ہنر یا علم کا ماہر بناتی ہے تو دوسری طرف اسے اس امر کا احساس بھی دلاتی ہے کہ اس کا جینا مرنا سماج کے دیگر لوگوں کے ساتھ ہے۔ اگر ہدایت آموزی سماجی شرکت اور رواداری کے قوی احساس کو پیدا کرنے تک محدود رہے تو ا س میں حرج نہیں، لیکن جب وہ سماجی شرکت کے نام پر طالب علموں سے آزادانہ سوچنے، اور اپنی رائے ظاہر کرنے کی جرات سلب کر لے اور انھیں صرف وہ چند اصول، قاعدے، نظریات رٹا دے، جنھیں کچھ مقتدر اداروں یا افراد نے وضع کیا ہوتا ہے، اور ان کے ذریعے ذہنوں کو قابومیں رکھنے کا غیر معمولی طور پر مﺅثرنفسیاتی طریقہ ایجاد کیا ہوتا ہے تو ہدایت آموزی ایک سخت ناپسندیدہ شے بن جاتی ہے۔ اردو نصابات میں ہدایت آموزی اسی طرح کی ایک ناپسندیدہ شے کے طور پر موجودہے۔ اس کی مثال میں پریم چند کے افسانے پنچایت سے یہ ٹکڑا دیکھیں جو جماعت نہم کی اردو کی کتاب میں شامل ہے:

”تعلیم کے مقابلے میں انھیں استاد کی خدمت پر زیادہ بھروسا تھا۔ وہ کہا کرتے تھے، استاد کی دعا چاہیے، جو کچھ ہوتا ہے، فیض سے ہوتا ہے، اور اگر الگو پر استاد کے فیض یا دعاﺅں کا اثر نہ ہوا تو اسے تسکین تھی کہ تحصیل علم کا کوئی دقیقہ اس نے فروگذاشت نہیں کیا، علم اس کی تقدیر ہی میں نہ تھا۔ شیخ جمعراتی خو ددعا اور فیض کے مقابلے میں تازیانے کے قائل تھے اور جمن پر اس کا بے دریغ استعمال کرتے تھے“۔

ghalibاس بات کی بلاشبہ تعریف کی جانی چاہیے کہ سکول کی سطح پر پریم چند کوشامل کیا گیا ہے۔ ورنہ ضیا کے زمانے میں تمام ہندو اردو ادیبوں کا نصابات میں داخلہ بند تھا۔ افسانے کا یہ حصہ رمزیہ طنزیہ(Ironical)  سمجھا جا سکتا ہے، مگرسمجھے کون؟ یہ نصابات کیسے پڑھائے جاتے ہیں، اس کا اندازہ ہر سبق کے آخر میں موجود سوالات سے کیا جاسکتا ہے۔ اس افسانے کے آخرمیں دیے گئے سوالات میں کہیں یہ سوال شامل نہیں کہ کیا تعلیم ذاتی کوشش سے حاصل ہوتی ہے، یا محض استاد کی خدمت سے؟ پریم چند نے سادہ انداز میں باور کرایا ہے کہ استاد کی خدمت سے الگو تعلیم حاصل نہیں کرسکا، نیز اسے استاد کی خدمت اور فیض میں یقین رکھنے کا یہ صلہ ملا کہ اس کے استاد کو اس پر تازیانے چلانے یعنی تشدد کا جواز مل گیا۔ یہ افسانہ پڑھانے والے اساتذہ کی انا کو بھی تسکین حاصل ہوتی ہے، اور ان کی اتھارٹی مستحکم ہوتی ہے، نصاب بنانے والوں اور پڑھانے والوں کی بلا سے کہ اس طرح طالب علموں کی رائے سازی کی صلاحیت بری طرح کچلی جاتی ہے۔

ادب، متوازی اور متبادل طریقے فراہم کرتا ہے۔ حقیقت کا متبادل تصور، تخیل کی صورت میں حقیقت تک پہنچنے کا متبادل طریقہ، استعارے کی صورت میں اظہار کا متبادل طریقہ۔ یہ سب متبادلات حسن کی تخلیق کا ذریعہ بھی ہیں، اور نئے خیالات خود خلق کرنے کی صلاحیت کو نشوونما دینے کا وسیلہ بھی۔ لطف کی بات یہ ہے کہ یہ سب، ان بعض تحریروں میں موجود ہے، جو نصابات میں شامل کی جاتی ہیں، مگر انھیں پڑھاتے ہوئے ہدایت آموزی کا پہلو اس درجہ غالب رہتا ہے کہ ان کی طرف دھیان ہی نہیں جاتا۔ حقیقت یہ ہے کہ ہمارے نصابات اور ان کی تدریس کے طریقے طالب علموں کو اپنے پاﺅں پر کھڑے ہونے، یعنی خود سوچنے، ہر نئی اور غیر متوقع صورت حال کا فوری حل تلاش کرنے کی ترغیب نہیں دیتے، الٹا انھیں پاﺅں سے محروم کرتے ہیں۔ ان کے ذہنوں میں آئیڈیالوجیاں بھر دی جاتی ہیں، آئیڈیالوجی پر سوال ا ٹھانے، خود داخلی آزادی حاصل کرنے، یعنی باوقار انداز میں انسانی سطح پر زندگی بسر کرنے کی آرزو ان میں پیدا نہیں کی جاتی۔

90 اگر اردو اسباق کی مشقیں دیکھیں تو ان میں جو سوالات پوچھے جاتے ہیں، وہ ہمیں اردونصابات پڑھانے کے طریقوں سے آگاہ کرتے ہیں، اور ان توقعات سے آشنا کرتے ہیں جو ایک سبق پڑھنے کے بعد طالب علم سے قائم کی جاتی ہیں۔ طالب علم سے کہا جاتا ہے کہ وہ خلاصہ تیار کرے، یا سبق کے کسی حصے کی وضاحت کردے، یا سبق میں درج باتوں کو دہرا دے۔ چناں چہ اردو کے مطالعے سے طلبا کی تخلیقی صلاحیتیں بیدار نہیں ہوتیں، طالب علموں سے صرف ان کی یادداشت کا امتحان لیا جاتا ہے۔ بہتر حافظے والے، بہتر تخلیق کار اور بہتر سوچنے والے بھی ہوں، یہ قطعاً ضروری نہیں۔ عہد وسطیٰ میں رواج تھا کہ طالب علم کو اوّل ہزاروں اشعار یاد کرنے کو کہا جاتا ہے، لیکن جب وہ خود شعر کہنا چاہتا تو اسے وہ سب اشعار بھلانے کے لیے کہا جاتا۔ ’لرننگ ‘ کے بعد ’ان لرننگ ‘ اپنی تخلیقی صلاحیتوں کو ابھارنے کا عام اصول ہے۔ جسے ذہانت کہتے ہیں، وہ کسی اچانک صورتِ حال میں بر محل تدبیر اختیار کرنے کی صلاحیت کا نام ہے۔ ادب کی تدریس ذہانت کی صلاحیت کو بڑھا سکتی ہے، بشرط یہ کہ وہ طالب علموں کو اس امر کا ہدف دے کہ وہ ادب کی تخیلی دنیا اور اپنی حقیقی دنیا میں رشتے تلاش کریں، اور دونوں کو ایک دوسرے کی مدد سے سمجھیں۔


Comments

FB Login Required - comments

8 thoughts on “اردونصابات:غریب کی جورو سب کی بھابھی

  • 23-04-2016 at 9:54 pm
    Permalink

    ڈاکٹر ناصر عباس نیئر صاحب نے انتہائی اہم مسئلے کی نشاندہی فرمائی ہے۔ میں تو یہ سمجھتا ہوں کہ وقت کی رفتار کا تقاضا تو یہ ہے کہ نصابی کتب پر ہر سال ضرور نظر ِ ثانی ہو اور ان میں ممکنہ تبدیلیاں کر کے انہیں وقت کے ساتھ ہم آہنگ کیا جائے۔ دکھ کی بات ہے کہ جب نصابی کتب میں شامل مضامین وقت کے تقاضوں کے مطابق بھی نہیں ہوتے اور سال ہا سال شامل بھی رہتے ہیں ۔ اردو سال ِاول(گیارہویں) کا پہلا ایڈیشن غالباً ۲۰۰۴ ع میں چھپا اور اس کے بعد ابھی تک پڑھایا جا رہا ہے۔جون ایلیا کے مطابق ہماری بدقسمتی اس سے زیادہ کیا ہوگی آج بھی ہمیں ’’علم کی اہمیت‘‘ پر مضمون لکھنے پڑتے ہیں۔۔ڈاکٹر ناصر عباس صاحب کی توانا آواز ضرور نصابی پالیسیاں بنانے والے حضرات کو متائثر کر سکتی ہے لہذا انہیں چاہیے کہ وہ اردو کی نصابی کتب کی تشکیل و ترتیب کے حوالے سے سفارشات ضرور مرتب فرمائیں۔شکریہ۔

    • 24-04-2016 at 1:56 am
      Permalink

      آپ نےبڑی محنت سے یہ مضمون لکھا اور بعض اہم نکات اٹھائے ہیں۔ اگرچہ بعض جگہ اختلاف کی گنجائش ہے۔ خیر اس سے قطع نظر اس مضمون میں ایک واقعاتی سہو کی طرف اشارہ کرنا چاہوں گا۔ امید ہے کہ مجھے مرحوم ڈکٹیٹر جنرل ضیا کا حامی نہ سمجھا جائے گا۔
      آپ کا فرمانا ہے کہ ” ۔۔۔۔ ضیا کے زمانے میں تمام ہندو اردو ادیبوں کا نصابات میں داخلہ بند تھا۔”
      میں سمجھتا ہوں کہ ایسا نہیں تھا۔ اس وقت حوالے دستیاب نہیں لیکن یہ پورے یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ ضیا دور میں پنجاب میں رائج کی انٹرمیڈیٹ کی اردو لازمی کی درسی کتاب میں منشی پریم چند کا افسانہ نادان دوست شامل تھا۔ وہی کیشو۔ اور۔ شیاما والا۔ غالبا یہی کتاب سندھ کے کالجوں میں بھی مروج تھی لیکن پانی پت کی لڑائی والا ٹکڑا وہاں خارج از نصاب تھا۔
      اسکی تصدیق ہم سب کے مدیرِ محترم بھی کر سکتے ہیں۔ شاید انھوں نے بھی اردو لازمی کی یہی کتاب پڑھی ہو۔
      معاملہ تحقیق کو تاریخ کا ہے۔ اس لیے عرض کر دیا ہے۔

  • 23-04-2016 at 11:24 pm
    Permalink

    برمحل۔ لاجواب!
    بلوچستان میں اردو نصاب کا حال مذکورہ صورت حال سے بھی گیا گزرا ہے۔ اس کی عکس کاری لازم ٹھہری۔

  • 23-04-2016 at 11:40 pm
    Permalink

    سب پہ جس بار نے گرانی کی
    اس ک یہ ناتواں اٹھا لایا
    انتہائی فکر انگیز تحریر …

  • 24-04-2016 at 1:57 am
    Permalink

    آپ نےبڑی محنت سے یہ مضمون لکھا اور بعض اہم نکات اٹھائے ہیں۔ اگرچہ بعض جگہ اختلاف کی گنجائش ہے۔ خیر اس سے قطع نظر اس مضمون میں ایک واقعاتی سہو کی طرف اشارہ کرنا چاہوں گا۔ امید ہے کہ مجھے مرحوم ڈکٹیٹر جنرل ضیا کا حامی نہ سمجھا جائے گا۔
    آپ کا فرمانا ہے کہ ” ۔۔۔۔ ضیا کے زمانے میں تمام ہندو اردو ادیبوں کا نصابات میں داخلہ بند تھا۔”
    میں سمجھتا ہوں کہ ایسا نہیں تھا۔ اس وقت حوالے دستیاب نہیں لیکن یہ پورے یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ ضیا دور میں پنجاب میں رائج کی انٹرمیڈیٹ کی اردو لازمی کی درسی کتاب میں منشی پریم چند کا افسانہ نادان دوست شامل تھا۔ وہی کیشو۔ اور۔ شیاما والا۔ غالبا یہی کتاب سندھ کے کالجوں میں بھی مروج تھی لیکن پانی پت کی لڑائی والا ٹکڑا وہاں خارج از نصاب تھا۔
    اسکی تصدیق ہم سب کے مدیرِ محترم بھی کر سکتے ہیں۔ شاید انھوں نے بھی اردو لازمی کی یہی کتاب پڑھی ہو۔
    معاملہ تحقیق کو تاریخ کا ہے۔ اس لیے عرض کر دیا ہے۔

  • 24-04-2016 at 8:09 pm
    Permalink

    عمده تحریر…….استاد محترم

  • 24-04-2016 at 11:27 pm
    Permalink

    آپ نے بہت اچھا مشاہدہ کیا اور مسئلے کو آسان کر کے سب کے سامنے پیش کیا ہے۔ میرے خیال میں اس مسئلے کا ایک حل جو ہم لوگ انفرادی طور پر نکال سکتے ہیں وہ یہ ہے کہ دیگر زبانوں‌میں لکھے ہوئے فن پارے، فلسفہ اور دنیا کی تاریخ کا دھڑا دھڑا اردو میں‌ترجمہ کر کے انٹرنیٹ پر پھیلادیں‌تاکہ عام لوگ جو صرف اردو پڑھنا جانتے ہیں‌ ان کے علم اور شعور میں‌ اضافہ ہو۔

  • 27-04-2016 at 2:12 pm
    Permalink

    اور جو اب آٹھویں کی اُردو کی کتاب میں ایک سبق میٹرو بس کی اہمیت کے بارے میں شامل کیا گیا ہے، سوچ رہا ہوں اُسکی تشریح میں اپنے بچوں کو کیا کیا پڑھاوں گا۔۔۔

Comments are closed.