ہیئت مقتدرہ کو بعض سوالوں کے جواب تلاش کرنا ہوں گے


سیاست دانوں اور ہیئت مقتدرہ کی خواہشات کے درمیان کھیلا جانے والا کھیل اب طاقت کے ایوانوں تک محدود نہیں رہا ہے۔ اب ملک بھر کے گلی کوچوں میں یہ بات زیر بحث ہے کہ ملک میں صرف ووٹ کی طاقت سے فیصلے نہیں ہوتے بلکہ منتخب ہونے والے لوگوں کو ہیئت مقتدرہ کی ضرورتوں اور خواہشات کا خیال رکھنا پڑتا ہے۔ اس عمل میں ان سے غلطیاں بھی سرزد ہوتی ہیں اور وہ ہیئت مقتدرہ کو اپنا سہارا سمجھتے ہوئے ایسی گمراہی کے بھی مرتکب ہوتے ہیں جو ملک میں بدعنوانی اور بدانتظامی کا سبب بنتی ہے۔ اس کے علاوہ ریاستی ادارے ملکی سیاست اور سیاسی حکومتوں کی رہنمائی کے کام میں الجھ کر اپنے بارے میں شکوک و شبہات پیدا کرنے کا سبب بھی بن رہی ہے۔ جب تک یہ معاملات درون خانہ اشاروں کنایوں میں طے پاتے تھے تب تک ملک کے عام مرد و زن کی اس بارے میں کوئی رائے نہیں تھی۔ تاہم جب سے یہ معاملہ زبان زد عام ہؤا ہے اور تبصروں ، خبروں اور تجزیوں میں اس حوالے سے کھل کر بات کی جانے لگی ہے، عام لوگوں نے بھی اس بارے میں اپنی رائے بنانا شروع کردی ہے۔ اس طرح اب ہیئت مقتدرہ کو بھی کسی عام سیاسی پارٹی کی طرح رائے عامہ کو ہموار کرنے اور اس تک یہ پیغام پہنچانے کی ضرورت محسوس ہوتی ہے کہ اس کا مؤقف کس طرح قومی مفاد سے ہم آہنگ ہے اور وہ کیوں سیاسی عمل میں ایک خاص زاویے سے معاملات کودیکھنے اور سمجھنے پر مجبور ہے۔

اس طرح باقی لوگوں کی طرح ہیئت مقتدرہ نے بھی بالواسطہ طور سے ہی سہی یہ تسلیم کرلیا ہے کہ وہ ایک ریاستی ادارے کے علاوہ سیاسی طاقت کا مرکز بھی ہے جو اپنے مؤقف کو عام رائے دہندگان میں تسلیم کروانے کے لئے پرپیگنڈا مہم چلانا ضروری سمجھتا ہے۔ اس طرح اب ملک میں یہ صورت حال پیدا ہو چکی ہے کہ ہیئت مقتدرہ کا دائرہ کار اگرچہ ملکی آئین میں طے کیا جا چکا ہے لیکن سیاسی امور ہوں یا عدالتی فیصلے یا مستقبل میں حکومت سازی کا معاملہ، ہیئت مقتدرہ کو ایک اہم فریق کے طور پر دیکھا اور قبول کیا جانے لگا ہے۔ کچھ لوگ اس کردار کی حمایت کرتے ہیں اور کچھ اس کی مخالفت کرتے ہوئے آئین کا حوالہ دیتے ہیں اور اسے عوام کے جمہوری حق پر ڈاکہ سمجھتے ہیں۔

اب یہ مباحث چونکہ اشاروں، کنایوں اور استعاروں میں نہیں ہوتے بلکہ ہیئت مقتدرہ کے سیاسی کردار کے بارے میں علی الاعلان بات کی جاتی ہے، اس لئے ہیئت مقتدرہ بطور ادارہ متنازعہ بنتی جا رہی ہے۔ اس کے علاوہ ہیئت مقتدرہ کی طرف سے سیاسی حکومتوں کو دباؤمیں لاکر یا ان کی مجبوری کا فائدہ اٹھا کر کچھ ایسے اختیارات حاصل کرلئے گئے ہیں اور کچھ ایسے اقدامات کئے جاتے ہیں جن سے براہ راست بعض علاقوں کے باشندے متاثر ہوتے ہیں ، اس لئے ہیئت مقتدرہ کے سیاسی اور انتظامی کردار کے بارے میں تنازعات بھی پیدا ہوتے ہیں اور ان پر حرف زنی بھی کی جاتی ہے۔ یہی صورت حال ہیئت مقتدرہ کے لئے باعث تشویش ہونی چاہئے اور اسے اس معاملہ پر تفصیلی غور و خوض کے بعد یہ طے کرنا پڑے گا کہ کیا اس کا یہ کردار اسے بطور ریاستی ادارہ کمزور کرنے اور متنازع بنانے کا سبب تو نہیں بن رہا۔ اور کیا یہ صورت حال اس کی پروفیشنل صلاحیتوں پر تو اثر انداز نہیں ہو رہی۔ یہ بات کہنے کی ضرورت یوں بھی محسوس ہو رہی ہے کہ پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے ایک بار کہا تھا کہ فوج کوئی جنگ عوام کی بھرپور تائید و حمایت کے بغیر نہیں جیت سکتی۔ ان کی اس بات کی تائید میں 2009 کے سوات آپریشن کی کامیابی کا حوالہ دیا جاسکتا ہے۔ اسی طرح دہشت گردی کے خلاف جنگ میں حائل مشکلات بھی اسی مؤقف کی تائید کرتی ہیں کہ جب عوام میں کسی آپریشن کے بارے میں اختلاف موجود ہو اور اس جنگ کو کسی بڑی طاقت کی طرف سے ٹھونسی گئی جنگ قرار دینے کا بیانیہ بھی مساوی طور سے قبول کیا جاتا ہو تو ریاستی اداروں کو اپنے ہی ملک میں حالات پر قابو پانے کے لئے کس قدر صعوبتوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

ہیئت مقتدرہ پر قیام پاکستان کے بعد سے ہی سیاست میں مداخلت کا الزام لگایا جاتا ہے۔ شروع دن سے ریاستی اداروں میں ایک مزاج کو فروغ دیا گیا ہے کہ وہ صرف آئینی کردار نبھانے ہی کے ذمہ دار نہیں بلکہ سیاسی لیڈروں کی بداعمالیوں پر نظر رکھنا بھی ان کے ادارہ جاتی فرائض کا حصہ ہے۔ پہلے دن سے ہیئت مقتدرہ کے بعض عناصر کو سیاست دانوں کی نااہلی کے علاوہ ان کی نیک نیتی پر بھی شبہ رہا ہے۔ ملک کے پہلے وزیر اعظم لیاقت علی خان کے خلاف فوجی بغاوت کی منصوبہ بندی کرنے والے بھی سیاسی حکومت کی بدعنوانی کا گلہ کرتے تھے اور پھر ایوب خان سے لے کر پرویز مشرف تک نے ’میرے عزیز ہم وطنو ۔۔۔۔‘ سے شروع ہونے والے خطاب میں سیاست دانوں کی بدعنوانی کا ذکر کرتے ہوئے یہی بتایا کہ ان سیاست دانوں کی غلطیوں اور لالچ کی وجہ سے ملک کی سلامتی خطرے میں پڑچکی تھی، اس لئے ہیئت مقتدرہ کو مجبوراً مداخلت کرنا پڑی اور آئین کو منسوخ یا معطل کرنا پڑا۔ لیکن سب غیرمنتخب لیڈروں نے سیاستدانوں کے خلاف دشنام طرازی سے شروع ہونے والے سفر میں چند قدم چل کر ہی انہی سیاسی عناصر کا کو ساتھ ملانے اور ان کی مدد سے ملکی امور کو چلانے کا عملی اقدام بھی کیا۔ پاکستان میں غیر منتخب حکمرانی کے ادوار پر طائرانہ نظر بھی ڈال لی جائے تو بھی یہ اندازہ کرنا مشکل نہیں ہے کہ کوئی بھی آمر اپنے سیاسی مقاصد حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہؤا۔ اور اندرونی یا بیرونی دباؤ سے مجبور ہو کر، ہیئت مقتدرہ کی شہرت اور صلاحیت کو نقصان پہنچا کر اسے کمزوری اور مجبوری کے عالم میں اقتدار سے سبکدوش ہونا پڑا۔

ملک کے چار غیر منتخب رہنماؤں میں سے صرف ضیا الحق ایک حادثہ میں جاں بحق ہونے کی وجہ سے اقتدار میں نہ رہ سکے لیکن قوی یقین ہے کہ اگر وہ اس حادثہ کا شکار نہ ہوتے تو بھی وہ زیاددہ دیر تک اقتدار میں نہ رہ پاتے۔ ان کی طاقت کو ہیئت مقتدرہ کے اندر سے یا عوام کی سطح پر اٹھنے والی تحریک کی وجہ سے بالآخر غیر مؤثر ہونا تھا۔ ہیئت مقتدرہ کے اندر سے سامنے آنے والی بے چینی کا مظاہرہ جنرل یحی خان کی طرف سے ایوب خان کو اقتدار سے علیحدہ کرنے کی صورت میں تاریخ کا حصہ ہے۔ خود یحی خان کو سقوط ڈھاکہ کی وجہ سے پیدا ہونے والی صورت حال میں سبکدوش ہونا پڑا۔ اور پرویز مشرف عوامی احتجاج کی وجہ سے جمہوری حکومت کو راستہ دینے پر مجبور ہوئے۔ ان چار ادور کے علاوہ ہیئت مقتدرہ نے تمام جمہوری حکومتوں کے دور میں خارجہ اور سلامتی امور میں مداخلت اور اپنی بات منوانے کو اپنا ادارہ جاتی حق سمجھا ہؤا ہے اور وہ اس پر اصرار کرتی ہے کہ اس کے علاوہ کوئی بھی قومی مفاد کی نہ تو حفاظت کرسکتا ہے اور نہ ہی اسے سمجھنے کا اہل ہے۔ اس طرح عوام کی رائے سے منتخب ہونے والی پارلیمنٹ آئین کے تحت مکمل اختیار کی حامل ہونے کے باوجود غیر مؤثر ہو کر رہ جاتی ہے۔

ہیئت مقتدرہ نے چونکہ پروپیگنڈا کی صلاحیت کو بھی بھرپور طریقے سے استعمال کیا ہے اس لئے ہیئت مقتدرہ کا بیانیہ ایک طرح سے قوم کے مزاج کا حصہ بن چکا ہے اور ہیئت مقتدرہ نے یہ بھی تسلیم کروا لیا ہے کہ وہ ملک کی نظریاتی سرحدوں کی بھی محافظ ہے۔ اسی غیر واضح سلوگن سے بعض ایسے نعروں نے جنم لیا ہے جو ملک میں انتہا پسندی اور منافرت کے فروغ کا بھی سبب بنے ہیں۔ تاہم زیر بحث معاملہ میں صرف یہ بات سامنے لانا مطلوب ہے کہ ہیئت مقتدرہ ملک کے آئین کے تحت متعین کی گئی حدود کو اپنے اہداف و مقاصد حاصل کرنے کے لئے کافی نہیں سمجھتی۔ ہیئت مقتدرہ میں سیاسی حکومتوں کے بارے میں ناپسندیدگی کا مزاج گہرا ہو چکا ہے اور ریاستی ادارے سیاسی جوڑ توڑ اور ملک میں انتخابات پر اثر انداز ہو کر اپنی پسند کے ایسے نتائج حاصل کرنا بھی اپنا فرض منصبی سمجھنے لگے ہیں جن کا انہیں اختیار حاصل نہیں ہے۔ ایسا ہی ایک معاملہ اصغر خان کیس کی صورت میں سامنے آچکا ہے جب ہیئت مقتدرہ نے 1990 میں پیپلز پارٹی کو انتخابی شکست سے دوچار کرنے کے لئے بعض سیاسی قوتوں کو مالی مدد فراہم کی تھی۔ یہ سلسلہ 1990 سے پہلے بھی جاری تھا اور اس کے بعد بھی جاری رہا ۔ اب تو سیاسی مستقبل کی بات کرتے ہوئے کوئی بھی اس بات سے ناآشنا نہیں ہوتا کہ ہیئت مقتدرہ کا وزن کس پلڑے میں ہے۔ اسی لئے ہیئت مقتدرہ کا سیاسی کردار موضوع بحث ہے اور اس کے بارے میں موافق اور مخالفانہ رائے ترتیب پارہی ہیں۔

اس صورت حال میں ہیئت مقتدرہ کو یہ طےکرنا ہے کیا وہ سیاسی ضرورتوں اور سیاستدانوں کے بارے میں منفی مزاج کی وجہ سے ہیئت مقتدرہ کے پیشہ ورانہ کردار کو داؤ پر لگا سکتے ہیں یا اس رویہ اور حکمت عملی کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔ معاملہ اب سول ملٹری تعلقات اور کسی ایک فرد کی پسند یا ناپسند سے متعلق نہیں ہے بلکہ ہیئت مقتدرہ بطور ادارہ اس وقت گفتگو، توصیف یا تنقیص کا موضوع بنی ہوئی ہے۔ اس طرح ہیئت مقتدرہ قومی ادارے کے اس رتبے کو کھونے لگی ہے جس پر قومی اتفاق رائے ہو اور ملک کے ہر باشندہ اسے اپنا ہی ادارہ سمجھتے ہوئے فخر اور اعزاز محسوس کرتا ہو ۔ یہ صورت حال ہیئت مقتدرہ کے لئے تشویش کا سبب ہونی چاہئے۔ اس کی وجہ بھی اب پوشیدہ نہیں رہی ہے۔ ہیئت مقتدرہ نے مجبوری کے عالم میں یا خود کو بہتر رائے کا نمائندہ سمجھتے ہوئے خود سیاسی معاملات میں براہ راست یا بالواسطہ مداخلت کے ذریعے یہ کیفیت پیدا کی ہے۔ اس میں شبہ نہیں ہونا چاہئے کہ یہ متنازعہ حیثیت ہیئت مقتدرہ کو بطور ادارہ کمزور کرنے کا سبب بن رہی ہے جس کا براہ راست اثر ملک کی دفاعی صلاحیتوں پر ہو گا۔ ان سچائیوں کو نعروں اور ملمع سازی کے ذریعے اب زیادہ دیر تک چھپایا نہیں جا سکتا۔ سیاست کے بارے میں ہیئت مقتدرہ کی رائے اور اس میں مداخلت کے معاملات اب کالموں اور ٹاک شوز کا موضوع ہیں۔ یہ اشاریے اگرچہ ہیئت مقتدرہ کو طاقت کے سب سے بڑے مرکز کے طور پر پیش کرتے ہیں لیکن چونکہ ہیئت مقتدرہ کے پاس طاقت کا یہ ارتکاز ملک کے آئین کے مطابق نہیں ہے، اسی لئے اس طاقتور ادارے کے بارے میں تنازعات اور اختلافات جنم لے رہے ہیں۔

یہ حالات ستر برس میں سیاسی قوتوں اور ہیئت مقتدرہ میں کھینچا تانی کے بعد سامنے آئے ہیں۔ سیاسی طور پر ہیئت مقتدرہ کے اختیارات کو حکومت کے کنٹرول میں لانے اور پارلیمنٹ کو سب سے با اختیار ادارہ بنانے کی باتیں کی جا رہی ہیں۔ یہ تحریک ابھی فکری اور عملی طور سے کمزور ہے لیکن وقت گزرنے کے ساتھ اسے قوت عطا ہو گی۔ اس لئے ملک و قوم کے علاوہ ہیئت مقتدرہ کے لئے بھی بہتر ہو گا کہ وہ اپنی ستر سالہ کارکردگی پر خود ہی غور کرے اور اپنے سیاسی کردار کو تبدیل کرے ۔ ہیئت مقتدرہ کو پارلیمنٹ یا منتخب حکومت کا نگران ادارہ بنانے کے مزاج کو تبدیل کرنے کے لئے کام کا آغاز کیا جانا چاہیے۔

image_pdfimage_print

Comments - User is solely responsible for his/her words

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 844 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali