برادر ممالک، بھارت اور پاکستان


محمد عمار احمد

?
?

بھارتی وزیراعظم نے مارچ کے آخری ایام میں سعودی عرب کا دو روزہ دورہ کیا ہے اور سعودی قیادت سے ملاقات میں باہمی تعاون کے پانچ معاہدوں پر دستخط کئے۔ دہشتگردی کے خلاف تعاون، دہشتگردوں کی مالی معاونت روکنے، رقم کی غیرقانونی ترسیل روکنے اور باہمی تجارت و سرمایہ کاری کو فروغ دینے پر اتفاق کیا۔ تحفے تحائف کا بھی تبادلہ ہوا اور سعودی فرمانروا نے نریندر مودی کو اعلیٰ ترین سول اعزاز سے نوازا۔ بھارتی وزیر پٹرولیم نے ایران کا دورہ کیا جس میں چابہار میں پیٹروکیمیکل پلانٹس لگانے سمیت تیل و گیس کے شعبے میں تعاون پر معاملات طے کئے۔ 16 اپریل کو سشما سوراج نے ایران کا دورہ کیا جس میں دونوں ملکوں کے وزرائے خارجہ نے اقتصادی، ثقافتی، دفاعی، سیاسی اور سائنس وٹیکنالوجی کے میدان میں تعاون پر اتفاق کیا نیز چاہ بہار پورٹ کے لئے آسان شرائط پر ایران کو قرضہ دینے کے معاہدے کو حتمی شکل دی۔ بھارتی وزیر اعظم بھی کچھ عرصہ تک ایران کادورہ کریں گے اور اس دورہ میں باہمی تعاون کے معاہدوں پر دستخط کئے جائیں گے۔ کلبھوشن یادیو کی گرفتاری کے بعد ’را‘ افسران ایران میں اپنے ساتھیوں کو چابہار سے نکالنے کے لئے بھی سرگرم ہیں۔ یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ برادر ممالک کے بھارت کے ساتھ بڑھتے تعلقات کا منفی اثر پاکستان پر پڑے گا یا نہیں۔

بھارتی وزیر اعظم کے دورہ سعودی عرب پر پاکستان میں کچھ لوگ یہ سمجھ رہے ہیں کہ اس سے پاکستان اور سعودیہ کے تعلقات خراب ہو سکتے ہیں اور اس پر بھی اعتراض کر رہے ہیں کہ سعودیہ نے اعلیٰ ترین ایوارڈ سے کیوں نوازا اور پاکستان کے مفاد کو پیش نظر نہیں رکھا۔ نریندر مودی کی پالیسیاں بھارت، کشمیر اور پاکستان کے مسلمانوں کے لئے تو نقصان دہ ہیں مگر اس سے کسی بھی اسلامی ملک کو کوئی فرق نہیں پڑتا کیوں کہ تمام ممالک کے اپنے مفادات ہیں اور مسلم ممالک اپنے قومی مفاد کو ہی مدِ نظر رکھتے ہیں کسی دوسرے خطے کے مسلم ملک کے مفاد کو نہیں۔ سعودی عرب کے بھارت سے تعلقات ہمیشہ ہی اچھے رہے ہیں اور پاکستان کی وجہ سے کبھی بھی ان دونوں ممالک کے تعلقات خراب نہیں ہوئے۔

اسی طرح ایران کے تعلقات بھی بھارت کے ساتھ اچھے رہے ہیں اور دونوں ممالک میں ہر قسم کا تعاون رہا ہے یہاں تک کہ کلبھوشن کے معاملے سے ظاہر ہے کہ بھارت کے ہاتھوں ایرانی سرزمین پاکستان کے خلاف بھی استعمال ہوتی رہی ہے۔ مگر اس سب کے باوجود پاک ایران تعلقات میں تناؤ نہیں آیا۔ بھارت کے وزیر اعظم نے سعودی عرب میں قیام کے دوران یمن کے مسئلہ کو اقوام متحدہ کی قرارداد کے مطابق حل کرنے کی بات کی تو وہاں کے میڈیا نے انہیں آڑے ہاتھوں لیا اور کشمیر کے حوالے سے بھارتی پالیسیوں پر کڑی تنقید کی اور کہا کہ بھارت پہلے مسئلہ کشمیر کو حل کرے۔ او آئی سی کے اجلاس میں بھی کشمیر کے مسئلہ کو اقوام متحدہ کی قرارداد کے مطابق حل کرنے کے لئے دباؤ بڑھانے کا اعلان کیا گیا۔

اگر بھارت کے سعودی عرب سے تعلقات پاکستان کے ساتھ زیادتی ہے تو ہمیں یہ بات بھی ذہن میں رکھنی چاہئے کہ ایران کی حیثیت سعودی عرب کے نزدیک وہی ہے جو ہمارے یہاں بھارت کی ہے۔ جس طرح ہم یہ سمجھتے ہیں کہ ہمیں سعودی عرب کے مفادات کا تحفظ نہیں کرنا چاہئے بلکہ اپنے مفاد کو ہی مدِ نظر رکھنا چاہئے تو سعودی عرب کیا ہر ملک کا یہ حق ہے کہ وہ اپنے مفاد کو ہی مقدم رکھے۔ ایران ہماری ضرورت ہے کیوں کہ وہ ہمارا پڑوسی ملک ہے اس لئے ایران سے بہتر تعلقات ضروری ہیں۔ کوئی ایک ملک کسی دوسرے ملک کی تمام ضروریات پوری نہیں کر سکتا اسی لئے ہی دوسرے ممالک سے تعلقات قائم کرنا مجبوری ہوتی ہے اور ضروری بھی۔ ہماری سب ضروریات سعودی عرب پوری نہیں کر سکتا اور نہ ہی امریکہ اس لئے ہمیں ایران سے بھی تعلقات قائم کرنے کا حق حاصل ہے اور چین سے بھی۔ اسی طرح ہی ہم سعودی عرب کی تمام ضروریات پوری نہیں کر سکتے اور وہ اپنی ضرورت کے تحت بھارت سے تعلقات قائم کرنے میں حق بجانب ہے۔ ہمارے ملک کے سنجیدہ حلقے بھی بھارت سے بہتر تعلقات اور باہمی تعاون کے حق میں ہیں اور اس کے لئے کوششیں بھی ہوتی رہتی ہیں تو سعودیہ بھارت کے تعلقات پر ناراضگی کیسی؟

خارجہ پالیسی حکومت بناتی ہے اور ان معاملات کو چلانے کی ذمہ داری بھی ریاست کی ہے یہ کوئی عوامی مسئلہ نہیں ہے کہ ہر جگہ ہم زیرِ بحث لائیں۔ ایران اور سعودی عرب کے بھارت سے تعلقات پر حکومت نے کبھی ناراضگی کا اظہار نہیں کیا اور نہ ہی حالیہ دوروں کے حوالے سے کسی قسم کے تحفظات کا اظہار کیا ہے تو ہمیں اس طرح کی چہ میگوئیاں نہیں کرنی چاہئیں۔ بھارت کی حکمران جماعت کے کچھ راہنماؤں نے مودی کے دورہ کا ایک مقصد یہ بھی بتایا ہے کہ اس طرح بھارت پاکستان پر دباؤ بڑھا سکے۔ ماضی میں ہم نے بیرونی دنیا کے دباؤ میں آکر غلط فیصلے کئے مگر یمن اور اسلامی عسکری اتحاد میں شمولیت کے حوالے سے ریاست نے قومی مفاد کو نظر اندز نہیں کیا۔ اس لئے ہمیں تسلی رکھنی چاہئے کہ ریاست قومی مفاد کے حوالے سے کسی قسم کے دباؤ کا شکار نہیں ہوگی۔ برادر ممالک کے پاکستان سے تعلقات میں استحکام کا انحصار ان ممالک کے رویوں پر ہے۔ سعودی عرب اگر بھارت کے کہنے پر پاکستان پر کوئی دباؤ ڈالتا ہے تو پھر تعلقات میں وہ گرمی نہیں رہے گی۔

پاکستان نے موجودہ حالات میں سعودی عرب کے ساتھ تمام معاملات خوش اسلوبی سے طے کئے اور سعودی عرب کی سلامتی کے تحفظ کا بار بار اعادہ کیا۔ ایرانی صدر کے دورہ پاکستان کے بعد جو حالات پیدا ہوئے اس پر وزیر داخلہ چوہدری نثار صاحب نے وضاحت کی کہ پاکستان کی سرزمین پر ایران منفی سرگرمیوں میں ملوث نہیں او ر کلبھوشن کے معاملے کو پاک ایران تعلقات سے نہ جوڑا جائے۔ ایران کی پاکستان میں منفی سرگرمیوں کو ہمارے سیکیورٹی ادارے بہتر جانتے ہیں مگر جہاں تک کلبھوشن کی گرفتاری کا تعلق ہے تو چوہدری نثار صاحب نے شاید غلط بیانی سے کام لیا ہے۔ یہ بات واضح ہے کہ ایران اور پاکستان کے تعلقات کا انحصار اب اسی معاملے پر ہے کہ ایران اپنی سرزمین پر ’را‘ کی موجودگی کے حوالے سے پاکستان سے تعاون کرتا ہے یا نہیں۔ ہمیں دونوں ممالک سے اچھی امید ہے کہ وہ بھارت سے بہتر تعلقات کے ساتھ ساتھ پاکستان کے ساتھ بھی اپنا تعلق مضبوط رکھیں گے۔ بھارت کے پاکستان مخالف اقدامات کی حمایت نہیں کریں گے بلکہ تنازعات کے پرامن تصفیے کے لئے دونوں ممالک کے مابین مثبت کردار ادا کریں گے۔

اس وقت کرہ ارض پر کوئی بھی اسلامی ملک ایسا نہیں جس کی پالیسی کا اہم اور ترجیحی نقطہ اسلام اور مسلمان ہوں۔ خارجہ پالیسی بناتے وقت تمام ممالک اپنے قومی مفاد کو مقدم رکھتے ہیں مذہب کو نہیں۔ مسلم امہ اس وقت جسد واحد نہیں بلکہ 56 ٹکڑوں میں منقسم ہے اور ہر ٹکڑا اپنے مفاد کو ہی مقدم رکھتا ہے یہی وجہ ہے کہ کئی مسلم ممالک اسرائیل سے بھی بہتر تعلقات رکھتے ہیں۔ ان باتوں کو ذہن میں رکھتے ہوئے پاکستان کی عوام اور حکمرانوں کو بھی چاہئے کہ وہ وقت کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہوں اور اپنی تمام تر وفاداریاں اسی وطن سے ہی منسلک رکھیں۔ ہم پاکستانی بن کر اپنے ملک میں امن و ترقی کے لئے جدوجہد کریں نہ کہ ایرانی اور عربی بن کر ملک میں انتشار پھیلائیں۔ بھلے ہم اپنی انفرادی و قومی زندگی کے معاملات مسلمان بن کر طے کریں مگر بین الاقوامی معاملات کو پاکستانی بن کر دیکھیں اور پاکستانی بن کر ہی خارجہ امور سے متعلق فیصلے کریں۔


Comments

FB Login Required - comments

3 thoughts on “برادر ممالک، بھارت اور پاکستان

    • 26-04-2016 at 11:32 am
      Permalink

      شکریہ

      • 26-04-2016 at 12:06 pm
        Permalink

        حالات اسی کے متقاضی ہیں کہ ہم حقیقت پسندی کاہی مظاہرہ کریں۔۔۔ 🙂

Comments are closed.