کپتان نے پنجاب میں شریفوں کو ہاتھ دکھا دیا


پچھلے انتخابات میں پورا لاہور کپتان کے پیچھے تھا۔ کپتان کے جلسے بھرے ہوتے تھے اور نواز شریف اور شہباز شریف کے پنڈالوں میں الو بولتے تھے۔ صرف گوالمنڈی وغیرہ کی طرف نواز شریف کا زور تھا جس کی وجہ ہمیں تو یہی سمجھ آتی ہے کہ وہ علاقہ کھانے پینے کے لئے مشہور ہے اور میاں صاحب ادھر سو دو سو دکانوں کے پکے کلائنٹ ہوں گے اس لئے وہ لوگ میاں صاحب کا لحاظ کرتے ہوں گے۔ لیکن باقی سارے لاہور میں تحریک انصاف کے ترانے گونج رہے تھے۔ مگر جب الیکشن کا نتیجہ آیا تو پتہ چلا کہ کپتان کو لاہور سے جھونگے کے طور پر ایک سیٹ ہی ملی ہے اور وہ بھی لڑ بھڑ کر۔ کپتان کے پنجاب میں شکست کھانے کی کیا وجہ تھی؟ وجہ تھی نواز شریف کی بہت سوچی سمجھی سازش۔ اب کپتان نے وہ سازش نواز شریف پر الٹا دی ہے۔

کپتان اس وقت اپنی بے تحاشا پبلک سپورٹ دیکھ کر خود کو یقینی وزیراعظم سمجھے بیٹھا تھا۔ اسے کئی ماہ تو یہ سوچنے میں لگ گئے کہ اس شکست فاش کی وجہ کیا تھا۔ خوب تجزیہ کرنے کے بعد اس نے بالآخر اس وجہ کا نام پبلک کر ہی دیا۔ کپتان نے بتایا ”نجم سیٹھی نے پینتیس پنکچر لگائے ہیں“۔ گو کہ بعد میں کپتان کو عدالتوں کے جھنجھٹ سے بچنے کے لئے یہ بیان واپس لینا پڑا مگر اہل نظر تو جانتے ہیں کہ کپتان صرف سچ بولتا ہے۔ کپتان نے خود یہ بات بار بار بتائی ہے اور قوم سے مسلسل وعدہ کیا ہے کہ وہ صرف سچ بولے گا۔

اب 2018 کے انتخابات سر پر آئے کھڑے ہیں اور شریفوں کی گیم الٹ گئی ہے۔ پچھلی مرتبہ انہوں نے پیپلز پارٹی کے ساتھ مل کر اپنی مرضی کا نگران وزیراعلی لگوا دیا تھا مگر اب کی بار وزیراعلی صرف اور صرف کپتان کی مرضی سے لگے گا۔ نگران وزیراعظم کے لئے تو خوب شور مچا ہوا ہے مگر پنجاب کے نگران وزیراعلی کے انتخاب کو کپتان نہایت مہارت سے ریڈار سے چھپائے ہوئے ہے۔

آئین کے مطابق نگران وزیراعلی کا انتخاب کرنے کی ذمہ داری منتخب وزیراعلی اور اپوزیشن لیڈر کی ہے۔ اگر دونوں کسی نام پر اتفاق نہ کر پائیں تو معاملہ عدالت جاتا ہے۔ ان دنوں عدالت جس طرح بے خوف ہو کر انصاف کر رہی ہے اس کے بعد شریف خاندان اس کا نام سنتے ہی ایسا گھبراتا ہے کہ کچھ نہ پوچھو۔ اسی خوف کے باعث تو نگران وزیراعظم کے انتخاب کی ذمہ داری شاہد خاقان عباسی نے اپوزیشن لیڈر کو سونپ کر کہا ہے کہ جس شخص کا خورشید شاہ نام لیں گے وہی وزیراعظم ہو گا۔

اب پنجاب میں بھی شہباز شریف کو یہی کہنا پڑے گا کہ جس شخص کا نام تحریک انصاف کی طرف سے اپوزیشن لیڈر میاں محمود الرشید لیں گے، وہی نگران وزیراعلی ہو گا۔ شہباز شریف نے کپتان کے حکم پر ہاں نہ کیا تو پھر معاملہ عدالت میں جائے گا۔ عدالتوں میں جو کچھ شریف خاندان کے ساتھ ہو رہا ہے اسے دیکھتے ہوئے وہ ادھر کا رخ کریں تو باہر سو پیاز اور سو جوتے کھانے والی ضرب المثل ہی گونجے گی۔

کپتان کی مرضی کا وزیراعلی آنے کے بعد مسلم لیگ نون اپنے پٹواریوں کے ذریعے دھاندلی نہیں کر پائے گی کیونکہ ان پٹواریوں کے اوپر بیٹھے افسران ایماندار ہوں گے اور وہ عدل و انصاف کی خاطر ایسی زبردست تحریک چلائیں گے کہ الٹا نون لیگی چیخیں گے کہ نگران وزیراعلی ستر پنکچر لگوا رہا ہے۔ کپتان کے چنے ہوئے نگران وزیراعلی کے تحت عدل و انصاف کا ایسا راج ہو گا کہ لوگ نجم سیٹھی کو بھول جائیں گے۔ مستقبل میں منصفانہ انتخابات کی جب بھی بات ہو گی تو یہی کہا جائے گا کہ 2018 کے انتخابات کی انصاف پسندی پر کوئی سوال نہیں اٹھایا جا سکتا ہے۔

اور ان منصفانہ انتخابات کے بعد صرف کپتان ہی کی حکومت بنے گی۔ کپتان پنجاب پر چھا جائے گا اور پختونخوا اور پنجاب کی بھاری سیٹیں جیتنے کے بعد وہ ایسا زبردست وزیراعظم بنے گا کہ دنیا بھر کے لوگ اس کی مثالیں دیا کریں گے۔ تاریخ یہ ہمیشہ یاد رکھے گی کہ پاکستان کی تاریخ کا ٹرننگ پوائنٹ وہ لمحہ تھا جب کپتان نے شہباز شریف کو مجبور کر کے اپنی مرضی کا نگران وزیراعلی لگایا۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 1011 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar