شعور، معاشرہ اور تعلیم


زمانہ قدیم سے یہ خیال کیا جاتا رہا ہے کہ ایک آدمی کی اصلی پہچان یا  شناخت  ہمیشہ اُس کی معاشرتی پہچان ہوتی ہے۔ اس بات کو واضع کرنے کیلئے آپ ایک بچے کی مثال لے سکتے ہیں۔ ایک بچے کی شروع میں وہ انفرادی پہچان  یا شناخت نہیں ہوتی جو ہم بعد میں اسے دے دیتے ہیں۔ اوائل میں اُسے اپنا شعور نہیں ہوتا۔ اُس کا شعور اور انفرادیت اُس کے معاشرتی طبقے اور خاندان کے زیر اثر ہوتا ہے۔اس کے شعور کی وضاحت بعد میں اُس کے مخصوص رویوں اور معاشرتی سانچے کے مطابق تدریجاؐ ہوتی ہے جیسا کہ  بشریات  کے ماہرین سے ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ ارتقا کے ابتدائی مراحل میں فرد  قبیلہ میں مدغم تھا۔ تب اس کے افعال اس کی ذاتی صفات پر روشنی ڈالنے کے بجائے قبائلی شعور کو بیان کیا  کرتے تھے۔
معاشرے میں ہر ذات دوسروں کے لیے نفوذ پذیر ہوتی ہے یعنی دوسروں کیلئے اثر رکھتی ہے۔ جو چیز ہمیں متاثر کر رہی ہے وہ ہمارے ذریعہ ہمارے ہمسائے کو بھی کسی نہ کسی طرح متاثر ضرور کرے گی۔ معاشرے میں ہم سبھی ایک دوسرے کی ذات میں حصہ رکھتے ہیں۔ہم سب اپنی ذات کے علاوہ اپنے گردوپیش یعنی معاشرے  کا بھی اظہار ہیں۔
قدیم رومی عہد کا ایک مقولہ ہے کہ: جو بالکل اکیلا رہتا ہے وہ یا تو جانور ہے یا پھر دیوتا۔ یعنی ایک انسان ہونے کے ناطے ہمیں اپنی ذات کا اظہار کرنا ہوتا ہی ہے چاہے وہ کسی بھی طرح سے ہو۔ اگر کوئی شخص خود نما ہے تو وہ اس  خود نمائی کیلئے دوسروں کا محتاج ہے اسی طرح آپ رحم بھی “کسی” پر کھا سکتے ہیں۔ اس بات کو مزید آسان بنانے کیلئے اسے اس طرح سمجھئے کہ اگر آپ کسی پیشے سے متعلقہ ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ آپ دوسرے لوگوں پر اس پیشے کے ذریعے انحصار کر رہے ہیں اسی طرح ان لوگوں کا انحصار بھی آپ پر ہے۔دشمنی کیلئے بھی آپ کو “کسی” پر انحصار کرنا ہوتا ہے یعنی مقابلہ بازی کی فضا تبھی پیدا ہوتی ہے جب دوسرا فریق بھی اس مقابلے میں شامل ہو۔ اگر دوستی کو دیکھیں تو اس معاملہ میں بھی آپ کو دوسروں پر انحصار کرنا پڑتا ہے اورآپ کسی کیلئے خوش گوار، ملنسار اور صلح جو ذات کے طور پر سامنے آتے ہیں۔ اپنے ملازموں کے لئے آپ کی ذات تحکم آمیز ہو گی اور آپ کیلئے وہ آپ سے کم تر۔ یعنی آپ احساس برتری بغیر فرد پر انحصار کیے نہیں پا سکتے۔ ان سب کرداروں میں آپ کی ایک معاشرتی ذات پائی جاتی ہے۔ اور یہ معاشرتی ذات دوسروں پر انحصار کیے بغیر پنپ نہیں سکتی  بھلے آپ کو کسی  کو چڑانا ہی مقصود کیوں نہ ہو۔
ذاتی شعور یعنی وہ خیالات جو صرف آپ سوچتے ہیں   ان میں آپ کے  علاوہ دوسروں کی ذات بھی دخیل ہوتی ہیے۔ شعور صرف آپ سے متعلقہ نہیں ، یہ ایک ایسی معاشرتی آمیزش ہے  جو ہمیشہ سے جاری و ساری ہے اور لوگوں سے ہٹ کر اس کی اپنی کوئی حیثیت نہیں۔ یہ ایک ایسی طبعی اور ذہنی مطابقت کا عمل ہےجو معاشرے کے ساتھ ساتھ فرد کے معاملات میں بھی دخیل ہے۔
یہ نظریہ ہمیں بتاتا ہے کہ موجودہ دور کے ایک مہذب اور تعلیم یافتہ  شخص کے سوچنے کا انداز بہت سے ایسے دلائل و مباحث کا عکس ہے جو ہم سے پہلے گُزری قوموں کے افراد کے درمیان رہی ہوں  گی۔
شعور اور معاشرے کے درمیان تعلق کو اجاگر کرنے  اور خود معاشرے کا رُخ متعین کرنے میں بھی تعلیم کا کردار بہت اہمیت کا حامل ہے۔ تعلیم کا مطلب یہ ہے کہ ایک فرد اپنے ذاتی مشاہدے و تجربے کے ساتھ ساتھ اپنے سے پہلے گُزرے لوگوں کے تجربات سے بھی استفادہ حاصل کرسکے۔ دوسروں کے تجربے سے سیکھنا ہمیشہ ایک مُشکل اور مہنگا عمل رہا ہے۔ بچوں کی تعلیم میں معاشرتی ماحول اُس معاشرے کے سرخیل ارکان کی رہین منت ہوتا ہےجن کی اکثریت اس عمل سے مالی نفع کمانے کی خاطرمختصر رستوں اور صرف طُنندہ علم کا انتخاب کرتی ہے۔
تعلیم دراصل  پچھلی نسل کے تجربات کا جبلت اور روایت کی طرح انفرادی سطح پر نفوذ کرواتی ہے لیکن جبلت اور روایت سے ہٹ کر بھی، کہ یہ  تعلیمی عمل شعوری اور دروں نظر ہوتا ہے۔ تعلیم تب تک ایک معاشرے کا شعور نہیں بدل سکتی جب تک وہ نافع نہ ہو اور تعلیم کے یکساں اور مساوات پر مبنی ذرائع موجود نہ ہوں۔
مثلا اگر ایک شہر کے چھ حصے ہیں اور صرف دو حصوں میں تین سو اشخاص ایسے ہیں جو اعلی تعلیم یافتہ ہیں تو اس سے اس شہر کے تعلیمی شعور میں کوئی خاطر خواہ اثر نہیں پڑے گا تاآنکہ سبھی چھ حصوں میں پچاس پچاس کے تناسب سے تعلیم یافتہ افراد موجود نہ ہوں۔ تعلیم پھیلانے میں یہ امر مدنظر رکھنا چاہئے کہ تعلیم میعاری اور نافع ہو ۔ نافع سے مراد صرف  وہ علوم نہیں جو براہ راست اقتصاد ی ترقی سے متعلق ہوتے ہیں  بلکہ وہ علوم زیادہ اہمیت کے حامل ہیں جن کی بالواسطہ مدد اقتصاد کے ساتھ ساتھ اور بھی بے شمار شعبہ  ہائےزندگی کو بہتر اور منظم انداز میں سمجھنے  اور حقیقت کے قریب ترین منصوبہ بندی کرنے میں مدد دے سکے۔
اگر ہماری نئی نسل کو   اوائل عمری سے ہی معاشرتی رویوں اور ان کی جانچ پڑتال کے بارے میں  تعلیم دی جائے  تونہ صرف  وہ بڑے ہو کر ہم سے زیادہ بہتر انداز میں معاشرے کی صورتحال کا تجزیہ کر سکیں گے بلکہ کسی بھی بحران چاہے وہ معاشی ہو یا معاشرتی کے بارے حقیقت پسندی پر مبنی تجاویز و آراء  پیش کر سکیں گےجو آج کل سرے سے عنقا ہیں۔
ارباب اختیار سے بھی میری یہی گُزارش ہو گی کہ پاکستان کے نظام تعلیم میں چھوٹی جماعتوں سے ہی عمرانیات  کا مضمون متعارف کروایا جائے ۔تا کہ مستقبل کے یہ معمارکل کو  معاشرے کی حقیقی ترقی میں کلیدی کردار ادا کرنے کے قابل ہو سکیں۔
image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

حاتم علی کی دیگر تحریریں
حاتم علی کی دیگر تحریریں

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں