کشن گنگا تنازع: زمین تو تقسیم ہوگئی تھی لیکن پانی نہیں

سہیل حلیم - بی بی سی اردو ڈاٹ کام، نئی دہلی


قیام پاکستان کے وقت زمین تو تقسیم ہوگئی تھی لیکن پانی نہیں اور انڈیا، پاکستان کے درمیان مشترکہ پانیوں کے استعمال پر تنازع 1960 تک جاری رہا جب آخرکار عالمی بینک کی ثالثی میں سندھ طاس معاہدے پر دستخط کیے گئے۔

اس کے بعد دو بڑی جنگیں ہوئیں اور کئی مرتبہ دونوں ملک جنگ کےدہانے تک پہنچے لیکن اس معاہدے پر آنچ نہیں آئی۔ اختلافات حل کرنے کے لیے اب بھی دونوں ملک عالمی بینک کا رخ کرتے ہیں۔

سندھ طاس معاہدے کے تحت اس بات پر اتفاق ہوا کہ ’انڈس بیسن‘ کے چھ دریاؤں اور ان کی معاون ندیوں کا پانی کون اور کیسے استعمال کرے گا۔

کسے کیا ملا؟

چھ میں سے تین دریا انڈیا کے حصے میں آئے اور تین پاکستان کے۔ انہیں مشرقی اور مغربی دریا کہا جاتا ہے۔

انڈس، جہلم اور چناب مغربی دریا ہیں جن کے پانی پر پاکستان کاحق ہے جبکہ راوی، بیاس اور ستلج مشرقی دریا ہیں جن کے پانیوں پر ہندوستان کا حق ہے۔ سندھ طاس معاہدے کے تحت انڈیا مغربی دریاؤں کا پانی بھی استعمال کر سکتا ہے لیکن سخت شرائط کے تحت۔ اسے ان دریاؤں پر بجلی گھر بنانے کی بھی اجازت ہے بشرطیکہ پانی کا بہاؤ (مختص شدہ حد سے) کم نہ ہو اور دریاؤں کا راستہ تبدیل نہ کیا جائے۔ یہ ’رن آف دی رور‘ پراجیکٹس کہلاتے ہیں یعنی ایسے پراجیکٹس جن کے لیے باندھ نہ بنایا گیا ہو۔

کشن گنگا پر کیا تنازع ہے؟

کشن کنگا جہلم کی ایک معاون ندی ہے (پاکستان میں نیلم) جس پر لائن آف کنٹرول کے بہت قریب انڈیا نے 2005 میں ایک بجلی گھر بنانے کا اعلان کیا تھا۔ اسے کشن گنگا ہائیڈرو الیکٹرک پراجیکٹ کہتے ہیں۔ کشن گنگا چونکہ جہلم کی معاون ندی ہے اس لیے اس کے پانی پر پاکستان کا حق ہے۔ پراجیکٹ کی تعمیر پر انڈیا نے تقریباً چھ ہزار کروڑ روپے خرچ کیے ہیں۔

پراجیکٹ انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کی گریز وادی سے وادی کشمیر میں باندی پورہ تک پھیلا ہوا ہے۔ اس کے لیے کشن گنگا کا پانی استعمال کیا جاتا ہے اور پھر اسے ایک مختلف راستہ استعمال کرتے ہوئے، جس کے لیے باندی پورہ تک تقریباً 24 کلومیٹر لمبی سرنگ بنائی گئی ہے، وولر جھیل میں چھوڑ دیا جاتا ہے جہاں سے یہ واپس جہلم کے پانی کے ساتھ پاکستان چلا جاتا ہے۔

پاکستان کا موقف ہے کہ اس پراجیکٹ سے دونوں ہی شرائط کی خلاف ورزی ہوتی ہے، نیلم میں پانی بھی کم ہوگا اور کشن گنگا کا راستہ بھی بدلا جائے گا۔ وہ خود اسی دریا پر ایک بجلی گھر بنا رہا ہے جسے نیلم جہلم ہائڈرو الیکٹرک پراجیکٹ کہتے ہیں۔ اس پراجیکٹ میں 1000 میگاواٹ بجلی پیدا ہوگی لیکن سوال یہ ہے کہ کیا اسے اتنا پانی مل پائے گا جتنی کہ اسے ضرورت ہے؟ اس کے علاوہ پاکستان میں زراعت کے لیے بھی یہ پانی بہت اہم ہے۔ پاکستان کا موقف ہے کہ اسے جنتا پانی ملنا چاہیے، اس سے کافی کم ملے گا جس کی وجہ سے اس خطے میں پانی کی قلت اور سنگین شکل اختیار کر لے گی۔

330 میگاواٹ کے کشن گنگا پراجیکٹ کے اعلان کے فوراً بعد ہی پاکستان نے عالمی بینک کا دروازہ کھٹکھٹایا تھا۔ انڈیا کا موقف ہے کہ کشن گنگا پراجیکٹ سندھ طاس معاہدے کے تقاضوں کی پاسداری کرتے ہوئے ہی تعمیرکیا گیا ہے۔ پاکستان کے اعتراض کے بعد انڈیا نے بجلی گھر کے لیے 97 میٹر اونچا باندھ تعمیر کرنے کا ارادہ ترک کر دیا تھا۔ اب اس کی اونچائی 37میٹر ہے۔

لیکن 2010 میں یہ تنازع دی ہیگ میں مصالحت کی عدالت میں پہنچا جس نے پراجیکٹ پر کام روکنے کا حکم دیا۔ تین سال بعد عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ انڈیا یہ بجلی گھر بنا تو سکتا ہے کیونکہ یہ ’رن آف دی رور‘ پراجیکٹ ہے لیکن اسے کشن گنگا میں تعین شدہ مقدار میں پانی کے بہاؤ کو یقینی بنانا ہوگا۔

پاکستان نے 2016 میں پھر عالمی بینک سے رجوع کیا، اس مرتبہ کشن گنگا پرایکٹ کے ڈیزائن پر اپنی تشویش کے سلسلے میں۔ آبی وسائل کے ماہر ہمانشو ٹھکر کے مطابق بینک نے اس مسئلہ کے تصفیے کے لیے دو سطح پر کارروائی شروع کی تھی لیکن فریقین کی اس دلیل پر کہ دونوں متضاد فیصلے سنا سکتے ہیں، اس کارروائی کو روک دیا گیا۔ عالمی بینک میں آخری سماعت گذشتہ برس ستمبر میں ہوئی تھی۔

مارچ میں جب کشن گنگا میں بجلی بننا شروع ہوئی تو پاکستان نے پھر عالمی بینک سے کہا کہ وہ سندھ طاس معاہدے کی پاسداری کو یقینی بنائے۔ اب اس پراجیکٹ کا باضابطہ افتتاح کر دیا گیا ہے۔

پاکستان انڈیا مذاکرات

BBC

انڈیا کے لیے یہ پراجیکٹ کتنا اہم ہے؟

جہاں تک بجلی بنانے کا سوال ہے، ماہرین کےمطابق یہ بہت چھوٹا پراجیکٹ ہے جہاں صرف 330 میگاواٹ بجلی بنے گی۔ آبی وسائل کے ماہر ہمانشو ٹھکر کےمطابق اس کی ’سٹرٹیجک‘ اہمیت زیادہ ہے کیونکہ گریز سیکٹر میں لائن آف کنٹرول کے بہت قریب واقع ہے۔ چونکہ یہ انتہائی دشوار گزار علاقہ ہے اس لیے کشن گنگا پر لاگت معمول سے بہت زیادہ آئی جس کے نتیجے میں یہاں بننے والی بجلی بھی بہت مہنگی ہوگی۔

اس لیے مسٹر ٹھکر کے مطابق اس پراجیکٹ کو بنانے کا کوئی اقتصادی جواز نہیں ہے اور اس کا مقامی معاشرے، ماحولیات، دریا اور وہاں بائیو ڈائیورسٹی سب کو نقصان پہنچے گا۔

انڈیا میں جب سے بی جے پی کی حکومت آئی ہے، اکثر یہ مطالبہ بھی کیا گیا ہے کہ وہ سندھ طاس معاہدے کو ختم کردے۔ خود وزیر اعظم نریندر مودی بھی کہہ چکے ہیں کہ کشمیر میں خون اور پانی ایک ساتھ نہیں بہہ سکتا۔ ایک حلقے کا یہ موقف بھی ہے کہ سندھ طاس معاہدے کو قائم تو رکھا جائے لیکن اس کےتحت انڈیا جتنا زیادہ سے زیادہ پانی استعمال کرسکتا ہے، وہ اسے کرنا چاہیے۔

image_pdfimage_print

Comments - User is solely responsible for his/her words

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 4134 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp