موٹاپے سے بچاؤ کا بہترین طریقہ کیا ہے؟

عمر دراز ننگیانہ - بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور


دنیا کے دیگر ممالک کی طرح پاکستان کے باسیوں کو بھی موٹاپے کی وجہ سے صحت کے مسائل کا سامنا رہتا ہے۔ گو اس حوالے سے اعداد و شمار دستیاب نہیں تاہم ماہرین کے مطابق اندازاً ملک کی ایک تہائی آبادی ایسی ہے جس کا وزن زیادہ ہے۔

یہی نہیں بلکہ ملک کی کل آبادی کا 10 سے 15 فیصد حصہ یعنی دو کروڑ سے زیادہ افراد باقاعدہ طور پر موٹاپے کا شکار ہیں۔

تاہم ترقی یافتہ ممالک کے برعکس پاکستان میں موٹاپے کی وجوہات اور صحت پر اس کے مضر اثرات کی سنگینی کے حوالے سے آگہی کی کمی پائی جاتی ہے۔

یہی وجہ ہے کہ خصوصاً نوجوان نسل میں موٹاپے کا رجحان زیادہ ہے۔ یہ امر اس وقت زیادہ خطرناک ہو جاتا ہے جب پاکستان کی کل آبادی میں جوان افراد کی شرح لگ بھگ 60 فیصد ہے۔

موٹاپا اور اس سے جنم لینے والی پیچیدگیوں کے حوالے سے موجودہ نسل کے مسائل دگنے ہیں۔ ایک تو سیدھا سا اصول ہے، زیادہ کھانے اور ورزش نہ کرنے کے نتیجے میں آپ موٹے ہوں گے۔ تاہم جدت کی طرف بڑھتے اس دور میں ایسے طرزِ زندگی میں جن عوامل کا اضافہ ہوتا ہے ان میں جنک فوڈ یعنی کم غذائیت والی خوراک اور تیز رو معمولاتِ زندگی شامل ہو جاتے ہیں۔

ایسے میں ایک صحت افزا طرزِ زندگی جس میں وقت پر کھانا، سونا، جاگنا اور ورزش کرنا شامل ہے، اس کا حصول مشکل ہو جاتا ہے۔ یہ وہ مسائل ہیں جن سے نوجوان نسل کم از کم آگاہ ضرور ہے۔

تاہم ماہرین کے مطابق موٹاپے کا سبب بننے والے چند عوامل ایسے بھی ہیں جن سے یا تو زیادہ تر لوگ لاعلم ہیں یا غلط طور پر انھیں دورِ جدید کے تقاضوں کی تکمیل کا ذریعہ بنایا جا رہا ہے۔

کیا زیادہ کھانے والا ہر شخص موٹا ضرور ہو گا؟

ایسا عمومی طور پر درست ضرور ہے مگر ضروری نہیں۔ ایسا کیوں ہے کہ دو انسان جو ایک جیسی اور ایک جتنی خوراک لیتے ہیں اور دونوں ورزش نہیں کرتے، ان میں ایک دبلا پتلا اور دوسرا موٹاپے کا شکار ہے؟

امراضِ باطنیہ کے ماہر اور طب کے شعبہ میں تدریس کا وسیع تجربہ رکھنے والے ڈاکٹر فیصل مسعود کا کہنا ہے کہ ہر شخص کا خوراک کو جذب کرنے یا کیلوریز کو استعمال کرنے کی صلاحیت مختلف ہوتی ہے۔ کچھ افراد کی آنتوں میں پائے جانے والے مفید جرثومے ان کے لیے چھپی ہوئی کیلوریز بھی بنا دیتے ہیں۔

’تاہم اوسط افراد کے لیے یہ بات بالکل درست ہے کہ آپ خوراک کے مقابلے میں ورزش کم کریں گے تو آپ موٹے ہو جائیں گے۔‘

لاہور کی رہائشی 24 سالہ نوال رضوان کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی ہوا۔ انھوں نے ابتدائی عمر ہی سے جَنک فوڈ یعنی کم غذائیت والی خوراک جیسے برگر، پیزا، پکوڑے، سموسے اور ان کے ساتھ کولڈ ڈرنکس استعمال کرنا شروع کیں۔

وہ کہتی ہیں: ’میرا وزن 70 کلو گرام سے بڑھ کر 125 تک چلا گیا تھا جو گذشتہ چھ ماہ کے دوران ورزش کے بعد میں 115 کلو گرام تک لے آئی ہوں۔‘

انھیں تاحال اس سے کوئی صحت کے مسائل تو نہیں ہوئے تاہم موٹاپے کی وجہ سے انھیں معاشرتی دباؤ کا سامنا ضرور کرنا پڑا اور وہی ان کے لیے وزن کم کرنے کی تحریک بھی ثابت ہوا۔

نوال

نوال کو موٹاپے کی وجہ سے انھیں معاشرتی دباؤ کا سامنا ضرور کرنا پڑا

موٹاپے پر معاشرتی دباؤ کیسا؟

نوال رضوان کہتی ہیں کہ ’معاشرتی دباؤ ہوتا ہے اور خاندان کی طرف سے بھی دباؤ ہوتا ہے۔ معاشرے میں آپ نے فِٹ بھی ہونا ہے، بار بار طعنے نہیں برداشت کیے جاتے۔‘

تاہم نوال کہتی ہیں کہ وہ خود بھی اچھا دکھائی دینا چاہتی ہیں اور اس کی لیے وہ کوشش جاری رکھے ہوئے ہیں۔ وہ اپنی خوراک پر قابو پا کر اور پیدل چل کر یہ ہدف حاصل کرنے کا ارادہ رکھتی ہیں کہ ان کا وزن دوبارہ 70 کلو پر آ جائے۔

وہ لاہور کے سروسز ہسپتال میں قائم ذیابیطس کے مینیجمنٹ سنٹر میں رضا کارانہ کام کرتی ہیں۔ ’میں نے یہاں آنے والے افراد کو دیکھا کہ اگر وہ کم کر سکتے ہیں تو میں کیوں نہیں۔‘

ان دنوں زیادہ سے زیادہ نوجوان مرد جم کا رخ کر رہے ہیں تاہم زیادہ تر خواتین کے لیے ایسا کرنا کئی وجوہات کی بنا پر ممکن نہیں ہو پاتا۔

اس میں اس بیماری اور پھر ورزش کے ساتھ جڑے دقیانوسی خیالات کا بڑا عمل دخل ہے۔ نوال رضوان کہتی ہیں وہ ورزش کی لیے جم تو نہیں جاتیں، اپنے گھر کے سامنے ہی واقع میدان میں چہل قدمی کرتی ہیں۔

جوانی میں بڑھاپا آ جاتا ہے

تاہم 27 سالہ ناصر علی ان افراد میں شامل ہیں جو لاہور کے ایک اچھے درجے کے جِم میں جا کر ورزش کرنے کے وسائل بھی رکھتے ہیں اور اس کے لیے وقت بھی نکال لیتے ہیں۔

وہ اپنا کاروبار کرتے ہیں اور ان کے مطابق گذشتہ آٹھ ماہ کی دوران ایک غذائیت کی ماہر کے مشورے اور ورزش کی ماہر کی نگرانی میں انھوں نے تقریباً 26 کلو وزن کم کیا ہے۔

سست رو طرزِ زندگی اور پیزا اور برگر وغیرہ زیادہ کھانے کی وجہ سے ان کا وزن 106 کلو گرام تک پہنچ گیا تھا جس کی وجہ سے انھیں چلنے پھرنے اور اٹھنے بیٹھنے کے ساتھ ساتھ دیگر تکالیف بھی شروع ہو گئی تھیں۔ ان کے جسم میں یورِک ایسڈ کی مقدار بڑھ گئی تھی۔

’میرے کھڑے ہونے کا انداز بدل گیا تھا کیونکہ میرا وزن زیادہ ہو گیا تھا۔ بیٹھ جاتا تھا تو اٹھنے کو دل نہیں چاہتا تھا تو بیٹھا ہی رہتا تھا۔ اس طرح میری زندگی بہت سست روی کا شکار ہو گئی تھی۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ان کے اس طرزِ زندگی میں جانے کی وجہ یہ تھی کہ ان کے معمولات بےہنگم تھے۔ ’میرے سونے جاگنے کا کوئی وقت نہیں تھا۔ اس طرح کھانے کا کوئی معمول نہیں تھا، جو بھی ملتا کھا لیتا تھا اور برگر وغیرہ بہت کھاتا تھا۔ پھر بھی زندگی بے حد بدمزہ اور سستی کا شکار تھی۔‘

تاہم جب انھوں نے اس طرزِ زندگی کو ترک کر کے اپنے معمولات کو درست کرنے کا فیصلہ کیا تو ان کی لیے اپنے لیے وقت نکالنا مشکل ثابت نہیں ہوا۔

’جو شخص یہ کہتا ہے کہ اس کے پاس خود کے لیے وقت نہیں تو وہ اپنی زندگی ضائع کر رہا ہے۔ جب سے میں نے ورزش شروع کی ہے میں خود کو 200 فیصد بہتر اور موثر محسوس کرتا ہوں۔‘

ان کا ماننا ہے کہ نوجوانوں کو زیادہ سے زیادہ ایسے ہی موثر طرزِ زندگی کی کوشش کرنی چاہیے اور اس میں کسی کی پروا نہیں کرنی چاہیے۔ ’میں نے تو یہ کبھی نہیں سوچا تھا کہ لوگ کیا کہیں گے، میں اس کی پروا نہیں کرتا۔‘

تاہم موٹاپے کا شکار افراد کے لیے زیادہ تر اس خوف سے چھٹکارا حاصل کرنا مشکل ہوتا ہے۔

ڈاکٹر فیصل مسعود کہتے ہیں کہ موٹاپے سے بچنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ کم کھایا جائے۔

’ایک روٹی آپ کو انداز 70 سے 80 کیلوریز دیتی ہے اور اس کو ہضم کرنے کے لیے آپ کو کم از کم 1.3 کلو میٹر چلنا پڑتا ہے۔ ایسا کرنا یا ورزش کرنا زیادہ مشکل کام ہے اس لیے بہتر یہ ہے کہ کھایا ہی کم جائے۔‘

موٹاپا

ڈبے کا دودھ اور موٹاپا

ڈاکٹر فیصل مسعود کا یہ بھی کہنا ہے کہ موٹاپے کی شرح میں اضافے کی ایک وجہ یہ رجحان بھی ہے جس میں نومولود بچوں کو ماں کے دودھ کی بجائے فارمولا مِلک یعنی ڈبے کا دودھ پلایا جا رہا ہے۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ڈاکٹر فیصل اس خیال کی وضاحت کرتے ہوئے بتاتے ہیں کہ اس کی وجہ سے بچے خوراک کی کم فراہمی اور ہیضہ جیسی بیماریوں کے ایک گمبھیر چکر میں پھنس کر ابتدائی عمر میں غذائیت کی کمی کا شکار ہو رہے ہیں۔

’جو بچے بچپن میں ڈبے کا یا گائے بھینس کا دودھ گندے پانی میں بنا ہوا استعمال کرتے ہیں اس سے انھیں ہیضہ ہو جاتا ہے، اس طرح ان کی آنتوں میں ہاضمے کی یا غذائیت کو جذب کرنے کی جو تھوڑی بہت صلاحیت ہوتی ہے وہ ختم ہو جاتی ہے۔ اس سے ان میں قوتِ مدافعت کی کمی ہوتی ہے اور وہ دوبارہ ہیضہ کا شکار ہو جاتے ہیں۔‘

اس طرح ایک گمبھیر سے دائرے میں پھس کر بچے غذائیت کی شدید کمی کا شکار ہو جاتے ہیں۔ یاد رہے کہ پاکستان میں سٹنٹنگ یعنی عمر اور جسم کے حساب سے غذائیت کی کمی کی شرح 44 فیصد ہے جس کی وجہ سے بچے عمر کے حساب سے اپنا آئی کیو لیول اور افزائش حاصل نہیں کر پاتے۔

’یہی بچے جو ابتدائی عمر میں غذائیت کی کمی کا شکار ہو تے ہیں، جب یہ بچ جاتے ہیں تو یہ اپنے جسم کو اس طرح ڈھال لیتے ہیں کہ یہ تمام کیلوریز کو بچا کر رکھیں۔ یہ بچے بڑے ہو کر موٹاپے کا شکار ہو جاتے ہیں کیونکہ وہ اضافی کیلوریز کو استعمال میں لانا شرع کر دیتے ہیں اور یہ ایک جانی پہچانی سائنسی حقیقت ہے۔‘

ڈاکٹر فیصل کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی اور یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز لاہور کے سابق وائس چانسلر رہ چکے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ عمومی تاثر یہ پایا جاتا ہے کہ ڈبے کا دودھ بہت صحت مند ہے جبکہ ایسا نہیں ہے۔ ’بچے کے لیے ماں کے دودھ سے بہتر اور مکمل کوئی غذا نہیں ہو سکتی۔‘

بظاہر اس حوالے سے عوام میں آگاہی نہیں پائی جاتی۔ بچے کی پیدائش کے ساتھ ہی اسے ڈبے کے دودھ پر منتقل کر کے اس کا عادی بنا دیا جاتا ہے۔

image_pdfimage_print

Comments - User is solely responsible for his/her words

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 4134 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp