برطانیہ میں شریعت کا نفاذ اور انڈیا کا سیکولر آئین!


khizer hayatبرطانیہ میں ایک باریش شخص ہیں انجم چودھری جو بکنگھم پیلس پر اپنی شریعت کا جھنڈا لہرانے کا مصمم ارادہ رکھتے ہیں اور آے دن اس کے لئے وہاں ریلیاں منعقد کرتے ہیں۔ اگلے روز سوشل میڈیا پر اس سلسلے کی ایک ریلی کی ویڈیو بہت سے لوگوں نے دیکھی ۔ جس میں ایک برطانوی خاتوں ہوادار لباس پہنے اس میں جا پہنچی۔ جبکہ ریلی کے شرکا مرد سب باریش تھے اور خواتین مکمل پردے میں۔ وہ خاتوں ان پردہ دار خواتین سے جب گفت و شنید کے لئے
آگے بڑھیں تو انہوں نے اسے کہا کہ تم مردوں کو لبھانے کے لئے ہماری ریلی میں ننگی آئ ہو۔ اس پر وہ بپھر گئی جب مردوں نے اسے وہاں سے جانے کا کہا تو کہنے لگی میں آزاد شہری ہوں۔ ریلی کے شرکا پولیس کے خلاف نعرے لگا رہے تھی ۔ اس گوری خاتوں نے پوچھا کہ کیا اسلام تم لوگوں کو اپنے ملک کے قانون کو فالو کرنے کے لئے نہیں کہتا۔ اس پر لیڈر انجم چودھری نے فرمایا کہ اگر لا شرعی ہے صرف اس صورت میں ہمیں فالو کرنے کا حکم ہے۔

بقول ہمارے دوست انعام رانا انجم چودھری جو بینیفٹ کے پیسوں پر پلتا ہے اور حکومت کے خلاف عوام کے خلاف چل کر مزید پیسہ کماتا ہے ان سے جو ایسوں کو پالتے ہیں۔ یعنی یہ وہ ہے کہ جس تھالی میں کھاتا ہے اسی میں چھید کرتا ہے۔ کچھ عرصہ پہلے آسٹریلیا میں ایک عربی امام صاحب دہشت گردی کے سلسلے میں پکڑے گئے۔ بعد میں پتہ چلا کہ موصوف ایک سے زیادہ بیویوں اور درجنوں بچوں کو اسٹیٹ بینیفٹ کے پیسوں پر پال رہے تھے ۔ یہی لوگ ہیں جو مغرب میں مسلمانوں کے خلاف نفرت پھیلا رہے ہیں۔

اس ویڈیو پر میرے ایک عزیز دوست نے اعتراض کیا کہ یقینا اس انگریز خاتون سے ہونے والا رویہ افسوسناک ہے۔ مگر یہ وڈیو جان بوجھ کر بنائی گئی ہے۔ یہاں کے رائٹیسٹ جو امیگریشن کے خلاف ہیں جان بوجھ کر ایسی اشتعال انگیز حرکت کرتے ہیں تاکہ ردعمل ریکارڈ کر کے اپنے موقف کے حق میں استعمال کریں۔ اب دیکھیں یہ خاتون جان بوجھ کر اس جلوس میں جا کر لوگوں کو اکسا رہی ہے۔ ایسے میں ردعمل آنا ہی تھا اور یہی مقصد تھا۔ اس پر میں نے رانا صاحب سے پوچھا اور ہم سب کے قارئیں سے بھی سوال ہے کہ اگر اس قسم کی ریلی پاکستان کے کرسچین نکالتے اپنے سیاسی مطالبات کے لئے تو کوئی گارنٹی ہے کہ اس ریلی کے شرکا یعنی سلامت مسیح اور عرفان اکرم وغیرہ شام تک اپنے گھر سلامت پہنچ جاتے؟

اس بحث پر میرے ایک دوست اسد قاضی صاحب جو عام طور پر میری فیس بک ٹائم لائن پر پاکستان میں لبرل اور سیکولر حضرات کے لتے لینے کے لئے مشھور ہیں۔ انہوں نے اپنے جواب سے حیران کر دیا۔ ان کے بقول انڈیا کا سیکولر آئین ہر لحاظ سے اسلامی اقدار کا عکس ہے۔ اس آئین کے مطابق ہندو پرسنل لا ، مسلم پرسنل لا اور سول یعنی سیکولر لا ہے اور یہ لا فیملی۔ وراثت اور باقی اہم معاملات کو کور کرتے ہیں۔ بقول قاضی صاحب میثاق مدینہ میں بھی مسلمانوں، عیسائیوں ، یہودیوں اور باقی نان مسلم کو ایک امہ کہا گیا مگر سب کے لا الگ الگ اور سب نے آئین کو فالو کرنا ہے۔ یوں 1500 سال پہلے دیا گیا ہمارے حضور پاک صلعم کا دستور آج بھی انڈیا میں نافذ ہے۔ کینیڈا کی حکومت اور مسلم سکالرز کے درمیان اس معاملے میں بات چیت چل رہی تھی اور وہ بھی مختلف مذہب کے لئے الگ الگ لا بنانے والے تھے کہ پھر نائن الیون ہو گیا۔ یہ کیسا اتفاق ہے کہ آج کی زیادہ تر انتہا پسند اسلامی تنظیمیں نبی پاک صلعم کے آئین سے زیادہ موجودہ اہل سعود سے اپنی انسپائریشن لیتی ہیں۔ اور نائن الیون میں زیادہ ہائی جیکر سعودی تھے اور آج کل سعودیہ اور امریکہ میں اس سلسلے میں کافی چپقلش چل رہی ہے

 یہاں آخر میں میرا وجاہت مسعود بھائی اور باقی سب دوستوں سے یہ سوال ہے کہ پاکستان میں جو لوگ سیکولر اور لبرل پاکستان کی بات کرتے ہیں اور جس پر ہمارے دائیں بازو والے حضرات انہیں لادین اور پتہ نہیں کیا کیا القابات دیتے ہیں وہ بھی دراصل ایسے قوانین اور اصولوں کی بات کرتے ہین جن کے مطابق سب اپنے مذاھب کو فالو کریں اور کوئی کسی کی اس کے مذھب کی وجہ سے زندگی عذاب نہ بناے ؟ اور اس لحاظ سے تو یہ سیکولر ہمارے اسلامی حضرات سے کہیں زیادہ اسلامی اصولوں کے علمبردار نہیں؟


Comments

FB Login Required - comments

2 thoughts on “برطانیہ میں شریعت کا نفاذ اور انڈیا کا سیکولر آئین!

  • 24-04-2016 at 1:57 pm
    Permalink

    درست کہا۔اگر سیکولر طبقہ کا بنیادی نقطہ فالو کریں تو اس حوالہ سے ریاست مدینہ ایک سیکولر ریاست تھی۔

  • 25-04-2016 at 12:26 am
    Permalink

    anjem chaudary is nothing and has no following whatsoever in mainstream british muslims. rather he has been exposed to be on payroll of secret agencies. author must educate himself more on the topic.

Comments are closed.