سیاست کا دوہرا معیار


عادل شیخ

adil sheikh2013 کے انتخابات ہوئے اور میں نے پہلی دفعہ حق رائے دہی استعمال کیا۔ 2013 کی سیاسی سرگرمیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ جلسے جلوسوں میں بھی شرکت کی۔ مختلف جماعتوں کے نمائندوں کی تقاریر سنیں اور ان کے عوام سے کیے گئے بلند و بانگ وعدے بھی سنے جو آج تک پورے نہیں ہو سکے اور انتخابی نتائج کے بعد کے حالات بھی دیکھے۔ ہمیشہ کی طرح ہارنے والی سیاسی جماعت نے جیتنے والی سیاسی جماعت پر دھاندلی کا الزام لگایا۔ یہ تو پرانا رواج ہے اس ملک کا کہ جو ہار جائے وہ دھاندلی کا شور مچاتا ہے۔ خیر حکومت وجود میں آئی تو حکومت کو بہت سے در پیش چیلنجز کا سامنا کرنا پڑا۔ حکومت کے لیے بہت سے مسائل تھے جن سے نبردآزما ہونا ضروری تھا۔ ہر آنے والی حکومت کو عوام اور اپوزیشن جماعتوں کی تنقید کا سامنا ہمیشہ رہتا ہے۔ جو حکومت کو ہر حال میں برداشت کرنی پڑتی ہے۔

اس وقت بھی پاکستان میں حکومتی جماعت کو “پانامہ لیکس” پر شدید تنقید کا سامنا ہے۔ وزیر اعظم پاکستان کے بیٹوں کا نام پانامہ لیکس میں ہے۔ پاکستان کی اپوزیشن جماعتیں وزیراعظم کے بیٹوں کی آف شور کمپنیوں کو کرپشن کا پیسہ کہہ رہی ہیں۔ اصل حقیقت کیا ہے کوئی نہیں جانتا کہ پیسہ محنت سے کمایا ہے یا عوام کی لوٹی دولت سے۔

اپوزیشن جماعتوں کے پرزور مطالبے پر حکومت نے ریٹائرڈ ججز پر مشتمل ایک تحقیقاتی کمیشن تشکیل دینے کا اعلان کیا جسے اپوزیشن جماعتوں اور عوام نے مسترد کردیا اور حاضر سروس ججز سے تحقیقات کروانے کا مطالبہ کیا۔ اپوزیشن کے اس مطالبے کو حکومت نے سوچ بچار کے بعد من و عن قبول کیا اور وزیر اعظم نے قوم سے خطاب کرتے وقت واضح کر دیا کہ حکومت موجودہ چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس انور ظہیر جمالی کو کمیشن کی تشکیل کے لیے خط لکھے گی جو شفاف طریقے سے پانامہ لیکس میں لگے الزامات کا جائزہ لے گا۔ اور حکومت نے باقاعدہ خط لکھ کر بھیج دیا۔

حکومت نے تمام کام عوام اور اپوزیشن جماعتوں کی خواہشات کے عین مطابق کیا۔ مگر اس سب کے بعد بھی ایک اپوزیشن جماعت نے کمیشن کو بننے سے پہلے ہی مسترد کردیا اور حکومت کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا۔

سوال صرف یہ ہے کہ جب سب کچھ اپوزیشن کی خواہشات کے عین مطابق ہو رہا ہے تو پھر اب لڑائی کس بات کی؟ اب روڑے اٹکانے کا کیا مقصد بنتا ہے؟ یہ سیاست کا دوہرا میعار نہیں تو کیا ہے؟

سیاست کا دوہرا معیار کب ختم ہوگا؟ کب یہ ملک اتحاد و یگانگت کا عملی نمونہ بنے گا؟ کیا ہر سیاستدان اپنے فائدے کے لیے ایسے ہی وطن کی حرمت کو داؤ پر لگاتا رہے گا؟ وہ کون سا دن ہوگا جب تمام سیاستدان صرف ملک کے مفاد میں ہر کام کریں گے۔

اگر تحقیقات کے لیے کمیشن اپوزیشن کی خواہش کے عیں مطابق بن رہا ہے تو اپوزیشن جماعتوں کو چاہیئے کہ تحقیقاتی کمیشن کو تسلیم کریں اور تنقید برائے تنقید کی بجائے فیصلے کا انتظار کریں۔


Comments

FB Login Required - comments