پاکستان کرکٹ اور ریس


منظر نقوی

inziچلئے جناب پاکستان کرکٹ پھر سے اسٹارٹنگ لائن پر آگئی، کسی بُری شکست خاص طور پر ورلڈ کپ اور ورلڈ ٹی ٹوئنٹی میں ناکامی کے بعد کپتان تبدیل ہوجاتا ہے، کوچ کی چُھٹی ہوجاتی ہے، چند ایک کھلاڑی گھر بھیج دیئے جاتے ہیں، ٹیم منتخب کرنے والے چہرے بدل جاتے ہیں مگر نتائج پھر بھی نہیں بدلتے.

اس بار بھی ایشیا کپ اور ورلڈ ٹی ٹوئنٹی میں خراب کارکردگی کے بعد روایتی میوزیکل چیئر کا آغاز کر دیا گیا. کپتان کی تبدیلی، نئی سلیکشن کمیٹی کی تشکیل اور کوچ کی تلاش. وہی ظاہری لیپا پوتی. عرصہ دراز سے کرکٹ پنڈت جو بات کہہ کہہ کر تھک گئے اس پر اب بھی کوئی پیش رفت نہیں ہو رہی یعنی ڈومیسٹک کرکٹ کے ڈھانچے کی بہتری۔ یہ بھلا تبدیل بھی کیسے ہو جب بورڈ سے وابستہ بلکہ پچھلے بیس تیس سال سے چمٹے انتخاب عالم، ذاکر خان اور شفیق احمد جیسے لوگ تبدیل نہیں کیے گئے. کچھ دیر کے لیے ہارون رشید سے چُھٹکارا ملا ہے کہ وہ ان دنوں بورڈ میں شامل نہیں مگر وہ کب دوبارہ سے پی سی بی کی راہداریوں میں گھومتے نظر آجائیں معلوم نہیں. ان افراد کے زمانے کو گزرے ہوئے زمانہ ہو گیا لیکن ان کو پاکستان کرکٹ سے رُخصت کرنے والا کوئی نہ آسکا. ایک جانب تو بورڈ کے اعلیٰ حکام کی خواہش ہے کہ وہ جدید کرکٹ کھیلے ہوئے سابق کھلاڑیوں کو سیٹ اپ کا حصہ بنانا چاہتے ہیں اور دوسری جانب یہ لطیفہ کہ مندرجہ بالا افراد سے جان نہیں چُھٹ رہی.

wajahatدوسری جانب نئے چیف سلیکٹر کی تعیناتی اور سلیکشن کمیٹی کی کارکردگی سوالیہ نشان ہوگی. عمران خان اور وسیم اکرم کے بعد انضمام الحق کے لیے یہ بات مشہور ہے کہ ٹیم میں اُن کی ڈکٹیٹر شپ تھی. نئی سلیکشن کمیٹی میں شامل اراکین توصیف احمد، وجاہت اللہ واسطی اور وسیم حیدر کو بھی دیکھ کر یہ بات کہی جاسکتی ہے. توصیف احمد نے تو اپنی اسپن بولنگ سے نہ صرف پاکستان کی فتوحات میں کردار ادا کیا بلکہ تیرہ برس انٹرنیشنل کرکٹ کا حصہ بھی رہے جس کے دوران 34 ٹیسٹ اور 70 ون ڈے بھی کھیلے لیکن وجاہت اللہ واسطی کی کرکٹ چھ ٹیسٹ اور پندرہ ایک روزہ انٹرنیشنل میچز تک محدود رہی جبکہ وسیم حیدر نے تو 1992 ورلڈ کپ کے دوران صرف تین میچز میں پاکستان کی نمائندگی کی جس کے بعد وہ قومی ٹیم میں کبھی شامل نہیں ہوئے. بتایا گیا کہ سلیکشن کمیٹی کے تینوں اراکین کیوں کہ ڈومیسٹک کرکٹ پر نگاہ رکھے ہوئے ہیں اور تینوں اپنے اپنے شعبوں یعنی اسپن بولنگ، بیٹنگ اور فاسٹ بولنگ کے ماہر بھی ہیں اس لیے ان کو موقع دیا گیا ہے. لیکن یہ بات بھی یاد رکھنے کی ہے کہ وجاہت اللہ واسطی پہلے بھی سلیکشن کمیٹی کے رُکن رہ چکے ہیں. پہلی بار شامل ہونے والے وسیم حیدر ریجنل اکیڈمیز میں کوچنگ کی ذمے داریاں نبھا چکے ہیں لیکن کیا وہ کوئی کھلاڑی قومی ٹیم کو دینے میں کامیاب ہوئے؟ ہمیں اس سوال کا جواب درکار ہے.

سلیکشن کمیٹی کا پہلا ہی امتحان سخت ہوگا جب اُنہیں انگلینڈ کے دورے کے لیے تینوں فارمیٹس کے لیے ایک ایسی متوازن ٹیم منتخب کرنی ہوگی جو دھوکا نہ دے. فوری نہ سہی لیکن اس کا مستقل حل تو ڈومیسٹک اسٹریکچر کی ہی درستگی میں ہی ہے ورنہ صورتحال وہی چار ضرب چار والی ریس جیسی ہوگی کہ جس میں ایک ایتھلیٹ دوسرے ایتھلیٹ کو بیٹن تھما کر رُک جاتا ہے اور جب نئی ریس شروع ہوتی ہے تو بیٹن دوبارہ پہلے والے رنر کے ہاتھوں میں ہوتی ہے۔


Comments

FB Login Required - comments