پریشان خان – دھرنے سے دھڑن تختے تک


adnan-khan-kakar-mukalima-3

پریشان خان اور مشیر نیازی بیٹھے صلاح مشورہ کر رہے ہیں کہ قوم میں جوش و ولولہ کم ہو رہا ہے۔ مزید یہ کہ ن لیگ انہیں مسلسل ٹرک کی بتی کے پیچھے لگائے ہوئے ہے، اور چار متنازع سیٹوں کا فیصلہ نہیں آ رہا ہے۔ اس صورت میں لائحہ عمل ترتیب دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

پریشان خان: ہمارے صلاح مشورے کی خبریں باہر نکل رہی ہیں۔
مشیر نیازی: یہ کیسے پتہ چلا؟
پریشان خان: پٹواری اعتراض کر رہے تھے کہ میرے پاس دیدہ بینا نہیں ہے۔ پتہ لگاؤ کہ کس کم بخت نے مخبری کی ہے کہ میری نزدیک کی نظر کمزور ہے۔ بہرحال اب میں نزدیک کا چشمہ لگانے لگا ہوں، اب وہ میرے دیدہ بینا پر اعتراض نہیں کر پائیں گے۔
مشیر نیازی: یہ تو کوئی گھر کا بھیدی ہی لگتا ہے۔ باہر تو کسی شخص کو یہ بات معلوم نہیں ہونی چاہیے۔ یہ بات تو صرف انہی لوگوں کو معلوم ہے جنہوں نے آپ کو سیاسی فیصلے کرتے ہوئے دیکھا ہے۔
پریشان خان: بہرحال، اس کا پتہ چلاتے ہیں۔ فی الحال تو ن لیگ کا کچھ کیا جائے۔ وہ چار سیٹوں کے معاملے میں سٹے پر سٹے لیے جا رہے ہیں اور پاکستان کے سست عدالتی نظام کو اپنے مذموم مقاصد کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ اور ہاں، سٹے آرڈر سے یاد آیا، یہ جو الیکشن کمیشن ہمارے اکاؤنٹ مانگ رہا ہے فارن فنڈنگ کی تحقیقات کے لیے، اس کے خلاف اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواست ڈال کر سٹے آرڈر لے لو۔ باقی ہمارے چار حلقوں کے کیسوں کے بارے میں کوئی خبر ہے؟
مشیر نیازی: بہتر جناب، ہائی کورٹ میں اپیل کر دیتے ہیں۔ اپنے سیالکوٹ میں خواجہ آصف کے خلاف کیس میں ہمارے امیدوار کو عدالت نے جرمانہ کر دیا ہے کہ وہ کیس کو فالو اپ نہیں کر رہا ہے، اور اپنے حق میں کوئی ثبوت بھی نہیں دے رہا ہے۔
پریشان خان: اس ملک کے عدالتی نظام سے انصاف کیسے مل سکتا ہے۔ اپنے حامد خان اور خواجہ سعد رفیق والے کیس کا کیا ہوا؟
مشیر نیازی: حامد خان صاحب معاملے کو بڑی فراست سے ہینڈل کر رہے ہیں۔ خواجہ سعد رفیق نے تو اسمبلی کے فلور پر ناچ ناچ کر بڑا شور مچایا کہ ہمت ہے تو عدالت میں آ کر مقدمے کی پیروی کرو، مگر خان صاحب نے تاریخ کی درخواست ڈال دی ہے۔
پریشان خان: اس خواجے کو سبق سکھانا پڑے گا۔ میرا خیال ہے کہ چار حلقوں کے معاملے میں احتجاج کی کال دے دیتے ہیں۔ بلکہ احتجاج کیا، ہم دھرنا دے دیتے ہیں۔

dharna2مشیر نیازی: اپنے شیخ الاسلام قادری صاحب بھی کوئی دھرنا وغیرہ دے رہے ہیں۔ گزشتہ دنوں ان کے معتقدین پر پولیس نے چڑھائی بھی کی تھی اور درجن سے زیادہ بندے مار دیے تھے۔ عوام اس وقت حکومت کے خلاف ہو رہے ہیں اور قادری صاحب کے لیے ہمدردی کی لہر پیدا ہو رہی ہے۔ انہوں نے پیغام بھیجا ہے کہ مل کر دھرنا دیتے ہیں۔
پریشان خان: دیکھو ایسا کرنا حماقت ہو گی۔ ہمارے ساتھ سارے ناچتے گاتے شہری نوجوان ہیں۔ قادری صاحب کے ساتھ سارے کے سارے سر پھرے پینڈو جوان ہیں۔ توڑ پھوڑ میں ساری کوریج وہ لے جائیں گے۔ انہیں پیغام بھِیجو کہ لاہور سے اکٹھے نکلتے ہیں اور اسلام آباد میں جا کر ملیں گے اور ساتھ ساتھ دھرنا دیں گے۔
مشیر نیازی: اسلام آباد میں دھرنا؟ لیکن ہماری اور قادری صاحب کی سب سے زیادہ سپورٹ تو لاہور میں ہے۔ یہ الیکشن فیئر ہوتے اور ہر پولنگ بوتھ پر ہمارے پولنگ ایجنٹ پہنچ جاتے تو لاہور کی کم از کم چار سیٹیں تو ہماری ہوتیں۔
پریشان خان: لاہور میں دھرنے کا کیا فائدہ۔ اسلام آباد میں پارلیمنٹ کے سامنے دھرنا دیں گے۔ ادھر انگلی والا ایمپائر بھی نزدیک ہے۔ پیغام رسانی میں سہولت رہے گی۔

جلوس چل پڑتا ہے۔

پریشان خان: دیکھو مشیر نیازی، میں بتا رہا تھا نہ کہ میری بہت سپورٹ ہے۔ دیکھو نہر کے پل سے لے کر راوی کے پل تک ہزاروں موٹر سائیکلیں اور گاڑیاں ہیں۔
مشیر نیازی: درست فرما رہے ہیں خان صاحب۔ اب دیکھیں پانچ منٹ میں شاہدرہ پہنچ جائیں گے۔
پریشان خان: شاہدرہ تو آ گیا ہے۔ یہ جلوس اتنا چھوٹا کیوں رہ گیا ہے؟ لوگوں نے راوی کا پل ہی پار نہیں کیا ہے؟ اب کیا کریں؟
مشیر نیازی: میں نے دو تین لوگوں کو دیکھا تھا کہ اپنی اپنی موٹر سائیکلیں لٹا رہے تھے۔ ان کا شاید پیٹرول ختم ہو گیا ہے۔
پریشان خان: پیٹرول وغیرہ ڈلوانے رک گئے ہوں گے۔ ایسا کرتے ہیں کہ گوجرانوالے تک چلتے ہیں۔ جب تک ہم وہاں ناشتہ کریں گے، یہ لوگ ہم سے مل جائیں گے۔
مشیر نیازی: یہ گوجرانوالے میں تو ہمارے جلوس پر پتھراؤ ہو رہا ہے۔ اور ہمارے نوجوانوں کو پیٹرول نہیں ملا ہو گا، اس لیے یہاں نہیں پہنچے ہیں۔ کاش قادری صاحب کے پینڈو جوان ہمارے ساتھ ہوتے تو ان سب کا دماغ ٹھیک کر دیتے۔ وہ پولیس سے لڑ جاتے ہیں، یہ تو پھر ن لیگی بٹ پارٹی ہے۔
پریشان خان: چلو تیز تیز نکل چلو۔ اسلام آباد پہنچ کر ہی بریک لگائیں گے۔ چودھری نثار سے بلیو ایریا میں دھرنا دینے کا معاہدہ ہو چکا ہے اور ہم نے یقین دہانی کرائی ہے کہ ہم آگے نہیں جائیں گے۔
مشیر نیازی: جناب کافی دیر سے بلیو ایریا میں بیٹھے ہیں۔ حکومت کچھ بھی نہیں کر رہی ہے۔
پریشان خان: چلو پھر ریڈ زون میں چل کر ان پر سیدھا دباؤ ڈالتے ہیں۔ معاہدے کی خیر ہے۔ اس مرتبہ قادری صاحب کو کہنا کہ وہ آگے آگے چلیں۔ آگے پولیس وغیرہ نظر آ رہی ہے۔

dharna1مشیر نیازی: ریڈ زون میں پہنچ گئے ہیں جناب۔ پارلیمنٹ سامنے ہی ہے۔ آپ کے لیے کنٹینر لگوا دیا ہے۔ آپ وہاں کچھ دیر آرام کر لیں۔
پریشان خان: ایسا کرو تم سب وہاں آرام کرو۔ میں ذرا بنی گالہ کا چکر لگا آتا ہوں۔ نہا دھو کر اور رات وہاں نیند پوری کر کے فریش ہوتا ہوں، پھر صبح سویرے آ جاؤں گا اور انقلاب کی قیادت سنبھال لوں گا۔
مشیر نیازی: جناب تین دن گزر گئے ہیں۔ میڈیا اس بات کو خوب اچھال رہا ہے کہ یہاں سارے دھرنے والے پریشان حال بیٹھے ہیں، نہ کھانا ٹھیک ملتا ہے اور نہ پانی، اور ٹائلٹ کی اتنی کمی ہے کہ لوگ جس جگہ پاؤں رکھیں تو گندا ہو جاتا ہے۔ جبکہ آپ ہر رات گھر چلے جاتے ہیں۔
پریشان خان: یہ میڈیا بک چکا ہے۔ ورنہ ان کو علم ہے کہ ایک جرنیل کے لیے آرام کرنا کتنا ضروری ہے۔ اچھا اب میں یہیں سویا کروں گا۔ کوئی پراگریس ہوئی؟ پٹواریوں نے گھٹنے ٹیکے؟ ایمپائر نے انگلی کھڑی کی؟
مشیر نیازی: ایمپائر نے تو چھٹی کرا دی ہے۔ اور ن لیگ والے باقی سارے مطالبات ماننے کو تیار ہیں، بس وزیراعظم کے استعفے پر راضی نہیں ہیں۔
پریشان خان: باقی مطالبات پورے ہوں یا نہ ہوں، استعفی تو لازمی چاہیے۔

چار ماہ گزر جاتے ہیں۔

مشیر نیازی: اب کیا کریں خان صاحب؟ ملک کی باقی ساری سیاسی پارٹیوں کو ہم پچھلے چار مہینے میں کنٹینر سے جتنا برا بھلا کہہ چکے ہیں، اس کے بعد سب کی سب مل کر حکومت کے ساتھ کھڑی ہو گئی ہیں۔ حکومت تو اب خوب مضبوط ہو چکی ہے۔
پریشان خان: یہ سارے کرپٹ لوگ ہیں اور ہمارے سے ڈرتے ہیں۔ کیا یہ نہیں ہو سکتا کہ نواز شریف استعفی نے دے اور ہمارے باقی مطالبات مان لے؟
مشیر نیازی: اب نواز شریف اس پر راضی نہیں ہے۔ بلکہ اب تو پٹواری ہمیں اتنا بدنام کرنے لگے ہیں کہ کہتے ہیں کہ ملک کا سب سے زیادہ بدبودار علاقہ ہمارے دھرنے والا ہے۔
پریشان خان: بکواس کرتے ہیں۔ یہاں ٹائلٹ موجود ہیں اور لوگ انہیں استعمال کرتے ہیں۔ یہ کھڑکی کس کم بخت نے کھول دی کنٹینر کی۔ بند کرو اسے۔ کسی کو خیال ہی نہیں ہے کہ کھڑکی کھولتے ہی سانس لینا محال ہو جاتا ہے۔
مشیر نیازی: خان صاحب یہ میڈیا پر خبریں چل رہی ہیں کہ آپ اب ریحام خان سے شادی کرنے والے ہیں۔
پریشان خان: یہ پٹواریوں کی طرف سے میری کردار کشی کی جا رہی ہے۔ میں قوم بنانے جا رہا ہوں، اور وہ یہ کہہ رہے ہیں کہ میں شادی بنانے جا رہا ہوں۔ میں آج ہی تقریر میں یہ اعلان کر دیتا ہوں کہ یہ سب کچھ جھوٹ ہے۔ اور یہ پتہ لگاؤ کہ یہاں ہمارے اندرونی حلقے میں کوئی مخبر تو نہیں چھپا ہوا ہے؟
مشیر نیازی: خان صاحب آپ کی تقریر سے لوگوں میں آپ کی شادی کی افواہیں دم توڑنے کی بجائے مزید بڑھ گئی ہیں۔

IMRAN-KHAN-wedding_3158474k

پریشان خان: لگتا ہے کہ قوم میری شادی کو ایک اہم قومی ہدف قرار دے چکی ہے۔ میں آج ہی قوم کو خوشخبری سنا دیتا ہوں کہ میں جلد از جلد دھرنا ختم کرنا چاہتا ہوں تاکہ شادی کر سکوں۔ لیڈر کی ذات کے ہر پہلو میں قوم کی دلچسپی ہوتی ہے۔ میرے اس اعلان کے ساتھ ہی قوم میں خوشی کی لہر دوڑ جائے گی۔ قوم کو پتہ ہونا چاہیے کہ میں اس کی خاطر سب کچھ کر سکتا ہوں۔ شادی بھی۔

مشیر نیازی: خان صاحب ہم چار ماہ سے یہاں بیٹھے ہیں اور ادھر خیبر پختونخواہ میں جمعیت علمائے اسلام بڑا زور پکڑ رہی ہے۔
پریشان خان: یہ مولانا ڈیزل ہے ہی بہت بڑا فراڈیا۔ خدا نے جب کسی قوم پر عذاب نازل کرنا ہوتا ہے تو ایسے لوگوں کی صورت میں ہی کرتا ہے۔ خدا ہر نیک شخص اور سچے پاکستانی کو اس کے سائے سے دور رکھے۔ بہرحال کاش کوئی سبیل بنے کہ ہم یہ دھرنا ختم کریں اور میں قوم کو شادی کی خوشخبری سنا سکوں۔
مشیر نیازی: جناب ادھر طالبان نے پشاور آرمی سکول میں بچوں کا قتل عام کر دیا ہے۔ وہاں ہماری حکومت ہے۔ اب قوم ہمارے دھرنے کو بہت برا جاننے لگی ہے۔

dharna3پریشان خان: دھرنا ختم کر دو۔ میں آج ہی پشاور جا کر آل پارٹی کانفرنس میں شرکت کرتا ہوں اور واپس آتے ہی شادی کر لیتا ہوں۔
مشیر نیازی: آل پارٹی کانفرنس کے بعد اب ہم کیا کریں؟ اور یہ میڈیا بڑی خبری اچھال رہا ہے کہ آپ نے مولانا فضل الرحمان کی امامت میں نماز پڑھی ہے۔
پریشان خان: میڈیا کو پٹواریوں کے اشتہار لگ چکے ہیں۔ خدا ہر شریف آدمی اس میڈیا کے کسی بھی رکن سے دور رکھے۔
مشیر نیازی: خان صاحب، آپ کی شادی کا کیا ہوا؟
پریشان خان: میں کل ہی ریحام خان سے شادی کر رہا ہوں۔
مشیر نیازی: لیکن آپ نے تو اس کی تردید کی تھی۔ اور وہ ہے بھِی میڈیا سے متعلق جس سے آپ دور رہنا چاہتے ہیں۔
پریشان خان: کچھ میڈیا والے ہوتے ہی بہت اچھے ہیں۔

مشیر نیازی: خان صاحب میڈیا میں یہ خبریں چل رہی ہیں کہ آپ ریحام خان کو طلاق دے رہے ہیں۔
پریشان خان: پٹواری اس میڈیا کو خرید چکے ہیں۔ بکواس کرتے ہیں یہ سب۔ پریس کانفرنس بلاؤ۔ میں قوم کو اعتماد میں لے کر اس کی تردید کر دیتا ہوں۔ ان لوگوں کو شرم حیا ہی نہیں ہے کوئی۔ یہ طلاق میرا سو فیصد نجی معاملہ ہے۔ میڈیا میرے نجی معاملات کیوں اچھال رہا ہے۔
مشیر نیازی: پٹواری کہتے ہیں کہ آپ نے اپنی شادی کو عوامی معاملہ بنایا تھا تو طلاق بھی نجی معاملہ نہیں ہے۔ یہ بھِی کہا جا رہا ہے کہ ریحام خان نے آپ کے ساتھ کوئی مار پیٹ کی ہے۔
پریشان خان: جھوٹ۔ سب جھوٹ۔ سفید جھوٹ۔ یہ نیل تو میرے چہرے پر اس لیے پڑا تھا کہ میں گھر میں ایک اڑتے ہوئے بیلن سے ٹکرا گیا تھا۔ کوئی طلاق نہیں ہو رہی ہے اور کوئی مار پیٹ نہیں ہوئی ہے میرے ساتھ۔
مشیر نیازی: خان صاحب، طلاق کی افواہیں بہت زیادہ پھیل چکی ہیں۔
پریشان خان: میرے ذاتی آفیشل ترجمان کی حیثیت سے طلاق کا اعلان کر دو۔ اور پتہ چلاؤ کہ یہاں کون مخبر چھپا ہوا ہے۔
مشیر نیازی: خان صاحب لاہور کا ضمنی انتخاب ہم ہار گئے ہیں۔ اور پنڈی کے ضمنی انتخابات میں ہمارا صفایا ہو چکا ہے۔ لوگ کہتے ہیں کہ اس کی وجہ ہمارا دھرنا ہے۔ دھرنے سے شادی، طلاق اور بدنامی کے علاوہ کچھ حاصل نہیں ہوا ہے۔
پریشان خان: ایسی بات نہیں ہے۔ اس سے ہمیں دلی سکون اور ذہنی آرام ملا ہے کہ قوم ہمارے ساتھ چار مہینے تک ایک بے مقصد کام کرنے کو بھی راضی ہے۔
مشیر نیازی: لوگ یہ کہہ رہے ہیں کہ ‘ہن آرام اے’ (اب آرام ہے) ؟ بہرحال اب کیا کریں؟

dharna5پریشان خان: اب پاناما پیپرز لیک ہو گئے ہیں اور پورے ملک کو پتہ چل چکا ہے کہ نواز شریف کتنا کرپٹ انسان ہے۔ اب ہم رائے ونڈ پیلس کے سامنے احتجاج کریں گے۔
مشیر نیازی: خان صاحب اطلاع ملی ہے کہ پٹواریوں نے ادھر لندن میں گولڈ سمتھ پیلس کے سامنے کوئی احتجاج کر دیا ہے۔
پریشان خان: اطلاع؟ تمہیں پتہ ہے کہ میرے ساتھ میرے سابقہ سسرائیلیوں نے کیا کیا کر دیا ہے اور تمہیں صرف اطلاع ملی ہے؟ بھول جاؤ رائے ونڈ پیلس کے گھیراؤ کو ورنہ میری خوش دامن میرا دامن تار تار کر ڈالیں گی۔
مشیر نیازی: خان صاحب، ایک تازہ لطیفہ آیا ہے ایک پٹواری کی طرف سے۔ اب تو پٹواری بھی مان گئے ہیں کہ یہ شریف برادران گھوڑے ہیں۔
پریشان خان: یہ تو بہت اچھی بات ہے۔ گھوڑے کے علاوہ کھوتے بھی ہیں ورنہ استعفی دے کر مجھے وزیراعظم بنا دیتے۔ لگتا ہے کہ اب پٹواری بھی یہ بات تسلیم کر چکے ہیں۔ لطیفہ سناؤ۔

dharna4

مشیر نیازی: ایک بندہ بہت ہیجان کی حالت میں حکیم صاحب کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ اس کا گھوڑا بہت زیادہ اچھل کود رہا تھا اور قابو میں نہیں آ رہا تھا۔ حکیم نے اسے کہا کہ گھوڑے کو یہ دوائی کھلاؤ تو اسے مکمل سکون ہو جائے گا۔ بندے نے کہا کہ یہ بھی بتا دیں کہ گھوڑے کو دوائی کیسے کھلا سکتے ہیں؟ حکیم نے کہا کہ ایک پائپ لو، اس میں دوائی رکھو، گھوڑے کے منہ میں پائپ کا ایک سرا ڈال کر دوسرا سرا اپنے منہ میں رکھو، اور زور سے پھونک مار دو۔ دوائی گھوڑے کے حلق میں چلی جائے گی اور اسے سکون ہو جائے گا۔ گھنٹے بھر بعد وہ شخص مکمل حالت سکون میں حکیم صاحب کے پاس واپس آیا۔ حکیم صاحب نے پوچھا کہ لگتا ہے کہ تمہارا گھوڑا اب ٹھیک ہو چکا ہے۔ آدمی کہنے لگا کہ جیسے ہی میں نے پائپ کا ایک سرا گھوڑے کے منہ میں ڈال کر دوسرا اپنے منہ میں ڈالا، گھوڑے نے پہلے پھونک مار دی اور دوائی میرے حلق میں اتر گئی۔ اب گھوڑا تو ویسا ہی ہے جیسا تھا، لیکن اب میں سکون میں آ چکا ہوں۔
پریشان خان: ہاہاہا۔ واقعی یہ نواز شریف گھوڑا ہی ہے۔ ویسے یہ لطیفہ پٹواری نے ہمیں کیوں بھیجا ہے؟
مشیر نیازی: یہ تو مجھے بھی نہیں پتہ، لیکن اس نے اگلے میسیج میں یہ کہا ہے کہ پیلس کے گھیراؤ والی دوائی میں گھوڑے نے پہلے پھونک مار دی ہے، ہن سکون اے (اب سکون ہے)؟
پریشان خان: میرے ساتھ ہمیشہ ایسا کیوں ہوتا ہے؟


Comments

FB Login Required - comments

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 327 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar