دوسری جنگ عظیم اور ہمارا جنون


husnain jamal (2)1945 کا موسم گرما اپنے اندر بہت شدت لیے وارد ہوا تھا۔ دنیا جنگ عظیم دوم کے زخموں سے تھکی ہوئی تھی۔ جرمنی اور جاپان کے کئی شہر اتحادیوں کی بمباری کے بعد میدانوں میں تبدیل ہو چکے تھے۔ ہیروشیما اور ناگاساکی تو بالکل تباہ ہو چکے تھے، وجہ ایٹم بم کا آزمایا جانا تھا۔
جرمنی میں بھی حالات کچھ ایسے خاص امید افزا نہیں تھے۔ اگر نازیوں نے دوران جنگ برطانیہ پر ایک بم گرایا تھا، تو برطانیہ اور امریکہ نے جواب میں تین سو پندرہ بم وہاں پھینکے تھے۔ یورپ اور جنوب مشرقی ایشیا کا بہت بڑا علاقہ اس لڑائی کی زد میں تھا۔ بندرگاہیں تباہ جہازوں کے کباڑ خانوں میں تقسیم ہو چکی تھیں۔ یورپ میں زرعی اجناس کی باقاعدہ قلت ہو چلی تھی۔
سوویت یونین کے وہ حصے جہاں جرمنی کا قبضہ ہو چکا تھا وہاں لاکھوں لوگوں کے گھر ملبے میں تبدیل تھے اور لوگ بے سروسامانی میں موسم کی شدت برداشت کرنے پر مجبور تھے۔ انسانی جانوں کا نقصان اس قدر زیادہ تھا کہ جس کے صرف اعداد و شمار ہی دل دہلا دینے والے ہیں۔ پولینڈ میں آٹھ ملین اموات ہوئی تھیں جو اس کی کل آبادی کا تقریبا ایک چوتھائی حصہ تھا۔ صرف وارسا میں ہونے والی اموات برطانیہ اور امریکہ کے کل جنگی نقصان (اموات) سے زیادہ تھیں۔ تقریباً 55 لاکھ لوگ اس جنگ میں کام آ چکے تھے۔

image1sلوگ گھبرا کر نقل مکانی کے لیے سڑکوں پر آ چکے تھے، وہ بھی جن کے گھر تباہ تھے اور وہ بھی جو بڑے شہروں پر مسلسل بمباری سے خوف زدہ تھے۔ بدحال یورپ دس ملین مہاجرین کا بوجھ اٹھائے ہوئے تھا۔ اور یہ بوجھ اخلاقی طور پر اور زیادہ ہو چلا تھا کیوں کہ اس میں اتحادیوں کے شکستہ حال فوجی بھی شامل تھے، وہ لاکھوں کی تعداد میں تھے اور وردیاں اتار کر روزمرہ زندگی کی طرف لوٹ رہے تھے۔ جنگ نے انہیں چند تمغوں کے ساتھ لامحدود تباہی دی تھی، ایسی تباہی جو سمتوں سے بے نیاز اور بے کراں تھی۔ مشرق وسطی میں صرف جاپان کے ہی پینتالیس لاکھ فوجی تھے جو سرنڈر کے دس ماہ بعد ہتھیار چھنوا کر گھروں کو لوٹ رہے تھے۔ جنگ کے بعد جرمن نسل کو مختلف یورپی ممالک میں شدید نفرت کا سامنا تھا اور ان میں سے اکثر بالجبر ان ممالک سے نکالے جا چکے تھے۔
1945 کا موسم سرما مزید بربادیاں لے کر نازل ہوا تھا۔ بالجبر نکالے جانے والے جرمن اور بہت سے دوسرے ممالک کے مہاجرین میں سے بیس لاکھ انسان سردی، تھکن، بھوک اور بیماریوں کے ہاتھ زندگی ہار چکے تھے۔ جو بچے تھے وہ نڈھال حالت میں مغرب کی جانب پیدل سفر کر رہے تھے۔ اس مہاجرت کو Eastward March کا نام دیا گیا تھا۔
یورپ کا مستقبل بالکل تاریک دکھتا تھا۔ اتنے بڑے پیمانے پر تباہی ان کے خواب و خیال میں بھی نہ تھی۔ امریکہ برطانیہ اور سوویت یونین کا جنگی اتحاد بھی اب ختم ہونے کو تھا۔ سرد جنگ کی ابتدا تھی اور یورپ دو قطبین میں تقسیم ہونے والا تھا۔

image4برطانیہ اور امریکہ اس جنگ میں اتحادی تھے لیکن نقصان صرف برطانیہ کے حصے میں آیا تھا۔ امریکہ اب دنیا کی امیر اور طاقت ور ترین قوم بن چکا تھا۔ وہ دنیا کی واحد ایٹمی طاقت بھی تھا۔ جب جرمنی، جاپان اور روس و برطانیہ ایک دوسرے کو پھاڑ کھانے میں مصروف تھے، امریکہ سب سے الگ تھلگ اور محفوظ بیٹھا دور کی جنگ لڑ رہا تھا۔ جنگ کے پانچ سالوں میں اس کی معیشت چالیس فی صد مزید پھیلاو حاصل کر چکی تھی، امریکی کسانوں تک کی آمدن چار گنا بڑھ چکی تھی جب کہ صنعتی کارکن ستر فی صد بہتر کمانے لگے تھے۔ وجہ کیا تھی، امریکہ کی زمین جنگ میں نہیں جھونکی گئی تھی۔
آٹھ مئی انیس سو پینتالیس کو برطانیہ نے یورپ میں فتح کا جشن منایا، ہر جگہ بون فائر منعقد کیے گئے، پورا برطانیہ آگ کے روشن شعلوں میں جگ مگا رہا تھا۔ لیکن یہ جشن لنگوٹی میں کھیلا گیا پھاگ ثابت ہوا۔ حقیقت میں برطانیہ کی معیشت تقریبا دیوالیہ ہو چکی تھی۔ یہ جنگ برطانیہ کو توقع سے زیادہ مہنگی پڑی تھی۔ کوئلے کی کانیں جن پر اس کی صنعت کا دارومدار تھا، وہ مکمل تباہ تھیں۔ سونے پر سہاگہ 23 اگست 1945 کو امریکہ نے وہ معاہدہ ختم کر دیا جس کی رو سے وہ برطانیہ کو جنگی امداد اور دیگر مالی وسائل فراہم کر رہا تھا۔

image6اب امریکہ کی مددگار چھتری ایک بینک کار کی چھڑی میں تبدیل ہو چکی تھی۔ 1946 کے موسم سرما میں بہت مشکل مذاکرات کے بعد برطانیہ کو ساڑھے چار ملین ڈالر کی امداد دے کر دیوالیہ ہونے سے بچا لیا گیا۔ یہ قرضہ معاشی بہتری کی ضمانت ہو گا لیکن جنگ میں جو نقصان برطانیہ اٹھا چکا تھا، اس کا مداوا ناممکن تھا۔ خوراک کی راشن بندی شروع ہو چکی تھی۔ پہلے 1946 میں ہی روٹی کی راشن بندی شروع ہوئی، پھر دیگر چیزوں پر بھی کنٹرول شروع ہو گیا۔ کپڑوں کی راشن بندی سن انچاس تک چلی، پٹرول کی پچاس تک اور انیس سو چون میں جا کر یہ راشن بندی کا دور ختم ہوا۔
1946-47 کا موسم سرما برطانیہ میں اتنا شدید تھا کہ پچھلے تریپن برسوں کے ریکارڈ ٹوٹ چکے تھے۔ اونٹ کی کمر پر یہ آخری تنکا تھا۔ ایسی سردی سائبیریا والوں کے لیے تو معمول کی بات ہو گی لیکن برطانیہ کے باسی اس شدت سے ناآشنا تھے۔ پورا ملک جمنے کی حالت میں تھا۔ کوئلے کی آمدورفت بھی ناممکن تھی اور معطل تھی۔ کارخانے پھر سے بند ہو چکے تھے۔ گھروں میں لوگ روشنی اور گرمی کے بغیر ٹھٹھر رہے تھے۔ پچیس لاکھ لوگ بے روزگار ہو چکے تھے اور برآمدات صفر تھیں۔ مارچ سینتالیس میں پھر یہی برف پگھلی تو تباہ کن سیلاب منتظر تھا۔ فصلیں ایک بار پھر تباہ تھیں، مویشی مر چکے تھے یا ڈوب چکے تھے۔ آخرکار موسم گرما آنے تک ایک باقاعدہ قحط کی سی صورت حال برطانیہ کی منتظر تھی۔ اور یہ سن سینتالیس کا موسم گرما تھا۔ جولائی سینتالیس تک برطانیہ، یونان اور ترکی کی جنگی اور مالی امداد سے بھی ہاتھ کھینچ چکا تھا۔ سلطنت عظمیٰ کا زوال اب نوشتہ دیوار تھا۔

image9لیکن یہ زوال برصغیر کی آزادی کا پیش خیمہ تھا۔ چودہ ملین لوگ جن میں مسلمان، ہندو اور سکھ شامل تھے، ہجرت کی ایک نئی تاریخ رقم کرنے کو مجبور تھے۔ کہہ لیجیے کہ انسانی جانوں کے لیے یہ دہائی سم قاتل تھی۔
برطانیہ آج دوبارہ ایک سپر پاور ہے، جرمنی اور جاپان نے بھی 1960 تک معیشت پر قابو پا لیا تھا، بھارت کی معیشت کے اشاریے ہم سے دس گنا مضبوط ہیں، سوال یہ ہے کہ ہم کہاں کھڑے ہیں؟
ہم بہرحال آج بھی دنیا سے اور خود اپنے لوگوں سے، چومکھی لڑنا چاہتے ہیں، موت ہمیں زندگی سے زیادہ عزیز ہے چاہے ہماری آنے والی نسلیں بھی اس لڑائی میں برباد ہو جائیں۔ اور یہ لڑائی فکری و عملی ہر محاظ پر جاری ہے۔


Comments

FB Login Required - comments

حسنین جمال

حسنین جمال کسی شعبے کی مہارت کا دعویٰ نہیں رکھتے۔ بس ویسے ہی لکھتے رہتے ہیں۔ ان سے رابطے میں کوئی رکاوٹ حائل نہیں۔ آپ جب چاہے رابطہ کیجیے۔

husnain has 148 posts and counting.See all posts by husnain

One thought on “دوسری جنگ عظیم اور ہمارا جنون

  • 25-04-2016 at 12:45 pm
    Permalink

    Majority of our public takes war as a game, in which jet planes play dodging in the sky, soldiers kill one another at far distant borders, and they themselves would be spectators with all infrastructure and public amenities safe and intact for them. Moreover, Almighty and His green-clad babas would also fight for them.

Comments are closed.