اقلیتوں کی محرومیوں کا ازالہ کرنے والی سیاسی جماعتوں کی عام انتخابات میں حمایت کا فیصلہ


ادارہ برائے سماجی انصاف اور سنٹر برائے گورننس اور پالیسی کے اشتراک سے مشاورتی اجلاس بعنوان “انتخابات 2018 اور اقلیتوں کے حقوق کا تحفظ ” کا انعقاد لاہور میں کیا گیا جس میں کوٹ لکھپت اور بہار کالونی کے انتخابی حلقوں(NA 133, PP 168) سے تعلق رکھنے والے سماجی و سیاسی کارکنوں نے شرکت کی۔ پیٹر جیکب، سارہ سہیل اور نعمانہ سلیمان نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے سیاسی عمل میں محروم طبقات کی موثر شرکت اور سیاست دانوں سے اقلیتوں کے مسائل کے حل کے لیے با معنی مذاکرات کرنے پر زور دیا۔ مقررین نے مذہبی اقلیتوں کی پسماندگی اور اخراج سے متعلق مسائل اور اُن کی معاشی، سیاسی و سماجی دھارے میں موثر شمولیت کے لیے طریقوں پر گفتگو کی۔

مقررین نے کہا کہ سابق و موجودہ حکومتیں مذہبی اقلیتوں کو درپیش مسائل کے حل کے لیے ضروری اقدامات اُٹھانے میں نا کام رہی ہیں۔ مثال کے طور پر نظامِ تعلیم سے مذہبی منافرت پر مبنی مواد حذف کرنا، ملازمت کوٹہ پر بہتر عمل در آمد کے لیے بذریعہ قانون سازی مجاز اتھارٹی ( انتظامی ادارہ) کا قیام عمل میں لانا، قومی کمیشن برائے تحفظ ِ حقوقِ اقلیت کے قیام کے لیے قانون پاس کرنا باوجودیکہ تین پرائیوٹ ممبر بلز تین سال سے قومی اسمبلی میں زیر ِ التوا ہیں۔

شرکاء نے قرار داد منظور کرتے ہوئے اس عزم کا اعادہ کیا کہ عام انتخابات 2 018ءمیں سیاسی جماعتوں کے اُن اُمیدواروں کو ووٹ دیا جائے گا جو اقلیتی برادریوں کے مسائل حل کرنے کی اہلیت اور سیاسی عزم رکھتے ہوں۔ مشاورتی اجلاس میں شریک مقررین اور شرکاء نے وفاقی و صوبائی حکومتوں سے درج اقدامات کا مطالبہ کیا۔

* وفاقی حکومت مستقل ، خود مختاراور مالی طور پر آزاد قومی کمیشن برائے تحفظ ِ حقوقِ اقلیت کا قیام عمل میں لائے جس کے دائرہ کار میں اقلیتوں کے حقوق پر عمل درآمد کی نگرانی کے علاوہ پا لیسیوں کی نگرانی اور پالیسی امور پر مشاورت شامل ہے۔ تا ہم کمیشن کی رُکنیت کے لیے اہلیت کے معیار پر سمجھوتہ نہیں کیا جا نا چاہیے۔

* مذہبی اقلیتوں کے لئے ملازمتوں کے کو ٹے پر بلا امتیازعمل درآمد کے لیے بذریعہ قانون سازی انتظامی ادارہ کا قیام عمل میں لایا جائے جو کوٹہ ملازمت کے اعداد و شمار اکٹھا کرنے، کوٹہ کے نفاذ کی نگرانی اور شکایات کے ازالے کے طریق کار کا تعین کرے ۔ نیز ملازمتوں میں مذہب کی بنیاد پر امتیازکے خاتمہ کے لئے حکومتی اداروں اور محکموں میں اقلیتوں کے لئے مخصوص نشستوں کو مشتہر کرتے وقت قواعد و ضوابط کا خیال رکھا جائے۔

* سرکاری ملازمتوں میں مختص 5 فیصد اقلیتی کوٹہ کی کامیابی کے لیے تعلیمی اداروں خصو صاً تکنیکی اداروں، کالج اور یونیورسٹی کی سطح پر 5 فیصد اقلیتی کوٹہ متعارف کروایا جائے۔

*  تدریسی مواد اور طریق ِ تدریس کو مذہب کی بنیاد پر تعصبات سے پاک کرنے کے لیے سکولوں اور کالجوں کے نصاب، درسی کُتب اورمجوزہ تعلیمی پالیسی 2017 پر نظر ثانی کی جائے۔ نیز یقینی بنایا جائے کہ نئی تعلیمی پالیسی دستور ِ پاکستان میں درج بنیادی حقوق کی آئینہ دار ہو۔

٭ درس گاہوں میں اسلامیات اور ناظرہ کے متبادل اقلیتی طلبا کے لیے اُن کے اپنے مذہب کی تعلیم کا بندوبست کیا جائے ۔

٭ عدالت عظمیٰ کے19 جون 2014ءکو جاری کردہ احکامات پر موثر عمل درآمد یقینی بنانے کے لیے وفاقی و صوبائی سطح پر کمیٹیاں قائم کی جائیں جو عدالتی احکامات پر عمل در آمد سے متعلق رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کروانے کی بھی ذمہ دار ہوں۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

نعمانہ سلیمان

نعمانہ سلیمان، انسانی حقوق، تعمیرِ امن نیزتنازعات کے تجزیے اور حل سے متعلق تحقیق اور تربیت کاری کا کام کرتی ہیں۔وہ ادارہ برائے سماجی انصاف سے وابستہ ہیں اور اُن سے درج ذیل ای میل کے ذریعے رابطہ کیا جا سکتا ہے:[email protected]

naumana-suleman has 4 posts and counting.See all posts by naumana-suleman