مرشد اور چکڑ چھولے


اپو آج چکڑ چھولے اور تلوں والا کلچہ کھانے کو جی چاہ رہا ہے ۔

ابا جی نے برسوں بعد فرمائش کی ۔

ابا مجھے پیار سے اپو کہتےھیں

میری خوشی کی انتہا نہ رھی ۔ فجر کی نماز ادا کی۔ جوگر پہنے مارننگ واک کے بعد چکڑ چنے والے کے اڈے پر جا دھمکا ۔ ابھی وہ اپنی ریڑھی سجا رھا تھا ۔ میں نے چنے پیک کرنے کو کہا

وہ بولا ۔ باو جی اتنی صبح؟

چنے سات بجے سے پہلے نہیں ملیں گے۔ میں گاڑی میں بیٹھ گیا اور بے قراری سے چنوں کا انتظار کرنے لگا۔ چنے والے سے ھر دو منٹ بعد دریافت کرتا بھائی اور کتنا انتظار کرنا پڑے گا؟

وہ “بس تھوڑی دیر باو جی” کہ کر تسلی دے دیتا ۔ میری بے قراری بڑھتی جارھی تھی ۔ بار بار موبائل پر وقت دیکھتا ۔ چنے والا جو مجھے نوٹ کررھا تھا میرے پاس آیا اور بولا “باو جی اپ پہلے بھی چنے لے جاتےھو پر اتنی سویرے اور اتنی بےقراری پہلے نہیں دیکھی خیر توھے؟

میں تو جیسے سوال کا منتظر تھا

میں نے سر اٹھا کر فخر سےکہا

بھائی آج میرے مرشد نے چکڑ چنوں کی فرمائش کی ھے میں ان کا حکم جلد از جلد بجا لانا چاھتا ھوں

وہ بولا مرشد مطلب اپ کے پیر؟

میں نے کہا ھاں میرے والد بزرگوار

وہ جھلا کر بولا ۔ کبھی مرشد کہتے ھو کبھی والد؟ چکر کیا ہے؟

میں نے بتایا ۔میرا باپ ھی میرا مرشد ھے۔ وہ بولا اچھا تو آپ کے والد کی گدی ھے؟

میں نے کہا نہیں بھائی میں اپنے والد اور والدہ کو سب سے بڑا پیر مانتا ھوں ان کے ہوتے مجھے آج تک کسی مرشد کی ضرورت نہیں پڑی ۔ ویسے بھی قرآن کریم میں اللہ فرماتا ھے کہ ۔ تمھارے والدین تمھارے سب سے بڑے محسن ھیں ۔ چنے والے کے چہرے سے صاف عیاں تھا کہ وہ میری باتوں سے سہمت نہیں ھے ۔ بولا وہ تو ٹھیک ھے پر مرشد مرشد ھوتا ھے ۔ اور ماں باپ ماں باپ ۔میرے مرشد کا نور محل ٹنڈو مستی خان میں ھے۔ وہ فرماتے ھیں کہ بنا مرشد راہ نہیں ملتی

میں نے کہا بلکل درست کہتے ہیں تمھارے مرشد ۔

دیکھو مرشد رشد سے ھے مرشد مطلب راستہ دکھانے والا۔ اور ماں باپ سے اچھا راستہ کون دکھا سکتا ھے؟

وہ لاجواب ھوگیا شاید اس کے اندر حق اور باطل کی جنگ جاری تھی ۔ پھر کچھ توقف کے بعد بولا باو جی اگر کسی کا باپ شرابی ھو زانی ھو یا رشوت لیتا ھو تو کیا اس کی اطاعت اور تکریم کرنی چاھئے؟

میں نے کہا ھاں یہ اس کا عمل ھے جس کےلئے وہ اللہ کو جواب دہ ھے پر بچے پر فرض ھے کہ وہ باپ کے ھر حکم کے آگے سر جھکائے ۔ انکار کی صرف ایک صورت ھے کہ باپ شرک کرنے کو کہے ۔

چنے والا حیران رہ گیا ۔ بولا میرا باپ گاؤں میں بھٹی کی بنی کچی شراب پیتا ھے گالم گلوچ کرتا ھے تو کیا مجھ پر اس کی فرمابرداری فرض ہے؟

میں نے کہا ھاں بلکہ فرض اولین ھے ۔ کچھ دیر خاموش رھنے کے بعد بولا باو جی آپ اپنے مرشد کے لئے چنے لے جانے کو اتنے بےقرار کیوں ھو؟

میں نے کہا بھائی میرے ابا کبھی ھم سے کچھ نہیں مانگتے ھم پانچ بھائی اماں ابا کے لب ھلنے کے منتظر رھتے ھیں ۔ ابھی میرے چاروں بھائی سوئے پڑے ھیں مجھے ڈر ھے کہ اگر ان میں سے کوئی جاگ گیا اور ابا نے اس سے چکڑ چنے اور تلوں والے کلچے کی فرمائش کر دی اور وہ ۔مجھ سے پہلے ابا کے لئے چنے لے گیا تو میرے ہاتھ سے نیکی کا موقع نکل جائے گا ۔ چنے والا حیرت سے تکنے لگا بولا باو جی آپ ایسا سوچتے ھو؟

میں نے کہا سوچتے نہیں بلکہ ھم پانچوں بھائی تاک میں رھتے ھیں کہ والدین کوئی بات منہ سے نکالیں اور ھم ایک دوسرے پر سبقت لے جائیں ۔ ھم تو تاڑ میں رھتے ھیں۔ چنے والے کی آنکھوں سے آنسو رواں تھے ۔ اسی اثناء میں ایک رکشہ آکر رکا چنے والے نے رکشہ میں سے ایک بڑا پتیلہ چوبی باٹے میں انڈیلا اور مجھے چنے پیک کر کے دیئے میں پیسے ادا کر کے گاڑی کی طرف لپکا چنے والا میرے پیچھے بھاگا، قریب آکر پوچھا باو جی عیبی باپ کو مرشد کیسے مان لوں؟

میں نے کہا نہ مانو مرشد پر اس کی فرمابرداری تو کرو۔ میں اس کا مسئلہ جان چکا تھا میں نے کہا سوچو بھائی اگر اللہ کو عیبی اور نیک والدین میں فرق کرنا ھوتا تو وہ دونوں اقسام کے والدین کے لئے الگ الگ احکامات جاری کرتا۔ جب اللہ والدین کو ایک نظر سے دیکھتا ھے اور ایک ھی طرح کے حقوق بیان کرتا ھے تو تم تفریق کرنے والے کون ھو؟

اس نے سوال کیا اگر میں اپنے ابا سے معافی مانگوں تو کیا وہ مجھے معاف کردیں گے؟

میں نے کہا بھائی اللہ کے بعد والدین ھی ھوتے ھیں جو ھمیں معاف بھی کرتے ہیں اور ھماری پردہ پوشی بھی کرتے ہیں ۔ تمھیں زندہ پیر میسر ھیں۔ جاو جاکر اپنی عاقبت سنوار لو ۔اس سے پہلے کہ وقت ہاتھ سے نکل جائے ۔

چنے والے نے اپنے ھلپر کو ریڑھی پر کھڑا کیا اور اپنے پیر کو منانے احمد پور لما چلا گیا جاتے ھوئے وہ زاروقطار رو رھا تھا اور مجھے کہہ کر گیا باو جی دعا کرنا میرے پہچنے تک میرا بوڑھا سلامت رھے ۔

میں وھاں سے نکلا راستے میں ایک تنور سے مرشد کے حکم کے مطابق دو تلوں والے سرخ کلچے لگوائے

 تیزی سے گاڑی بھگاتا ھوا گھر پہنچا میری بیوی نے جلدی سے ابا کو انسولین لگائی اور چکڑ چنوں کے ساتھ کلچے دیئے ابا مزے سے چنے کھا رھے تھے اور ھر لقمے پر دعا دے رھے تھے “اپو اللہ تیری مشک بھری رکھے” میں اور میری بیوی دل ھی دل میں آمین کہہ رھے تھے ۔ مرشد کو چنے کھلانے اور دعائیں سمیٹنے کے بعد جب میں نے بیوی سے اپنے حصے کے چنے مانگے تو پتہ چلا کہ میرے حصے کے بچے میرے بچے کھا کر سکول چلے گئے ھیں “

جانے میں نے بچپن میں کتنی بار ابا کے حصے کے چنے کھائے ھونگے”

اللہ ھمیں آسانیاں عطا فرمائے اور آسانیاں تقسیم کرنے کا شرف بخشے آمین

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

افتخار افی کی دیگر تحریریں
افتخار افی کی دیگر تحریریں

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں