اگر سورن سنگھ کا نام پانامہ پیپرز میں ہوتا۔۔۔  


zeeshan hashimہم نے بھی کیا قسمت پائی ہے۔ دن رات لاشیں اٹھا رہے ہیں مگر بے حسی ہے کہ ختم ہونے کا نام نہیں لے رہی۔ ایک نسل جس نے دہشت گردی کی خاک اور خون میں اپنی جوان زندگی کو بے ارمان کیا، اب ادھیڑ عمری میں جانے کو ہے۔ ایک نئی نسل جس نے دہشت گردی کی تاریک رات میں جنم لیا اب ذہنی و جسمانی بلوغت کی منازل طے کر رہی ہے۔ مگر بحیثیت قوم، ہم پر جیسے وقت رک سا گیا ہو۔

ایک خبر ہے جسے دل و دماغ بھول جانے سے انکاری ہیں۔ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے مشیر برائے اقلیتی امور اور رکن صوبائی اسمبلی سردار سورن سنگھ کو جمعہ کی شام اس وقت شہید کر دیا گیا، جب وہ اپنے گھر کی گلی میں جا رہے تھے۔ قتل کی ذمہ داری طالبان نے تو قبول کر لی ہے، مگر تحریک انصاف و جماعت اسلامی نے طالبان کا نام لے کر ان کی مذمت کرنا ابھی تک پسند نہیں کیا۔

سردار سورن سنگھ ایک سرگرم سیاسی و سماجی شخصیت تھے۔ انہوں نے 2011 میں پاکستان تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کی تھی۔ اس سے پہلے وہ جماعت اسلامی کا حصہ تھے۔ آپ ایک محب وطن اور انسان دوست شخصیت تھے۔ ان کا مذہب رواداری تھا۔ تمام مذاہب اور مسالک کے لوگوں میں ان کا بہت احترام تھا۔ سردار صاحب پشتو زبان کے مشہور ٹی وی چینل اے وی ٹی خیبر کے لیے تین سال تک ایک پروگرام کی میزبانی بھی کرتے رہے جس کا نام تھا ’زہ ہم پاکستانی یم‘ جس کا مطلب ہے میں بھی پاکستانی ہوں۔ کاش کوئی پوری قوم کے بچے بچے کو جنھجھوڑ کر بتا سکے کہ سردار جی بھی ایک سچے پاکستانی تھے۔ کاش سلامتی کے اداروں کو کوئی بتا سکے کہ حضور اس پاکستانی کا تحفظ ہی آپ کی بنیادی ذمہ داری تھی۔ کاش میڈیا کے باخبر بے خبروں کو کوئی خبر کرے کہ وہ دیکھو ایک سیاستدان کا لاشہ جسے طالبان نے شہید کیا اور ہاں اس کا طالبان ازم کے قیام اور اس کی افزائش میں رتی برابر بھی کردار نہیں تھا، اور ظالمو اس قتل کو کرپشن کے ایک سکینڈل کے برابر ہی کوریج دے دو۔ کاش کوئی تو یہ سوال اٹھائے کہ ایسا کیوں ہوا ؟ کس نے کیا ؟ کیوں کیا ؟ کس نے ان قاتلوں کو اتنا سرکش بنایا ہے کہ یہ اس ملک پر گدھوں کی طرح ٹوٹ پڑے ہیں؟ اور اس موت کے کنویں سے ہم کیسے نکلیں کہ مداریوں کے فریب میں پھر نہ آ سکیں۔

soranحیرت اور دکھ اس بات کا ہے کہ سردار سورن سنگھ کی شہادت نے نہ ہمارے سیاسی مکالمہ کو جھنجھوڑا ہے، نہ میڈیا کے گرجتے برستے ستارے اس کی طرف متوجہ ہوئے ہیں، نہ تحریک انصاف جیسی سیاسی جماعت جس کا دوسرا نام تحریک اینٹی نواز شریف بھی رکھا جا سکتا ہے اس کی بلند آہنگ چیخ و پکار کا رخ اپنے ایک رکن صوبائی اسمبلی کے لئے بلند ہوا ہے، نہ سلامتی کے اداروں کی بے باک چھڑی کا سرا کچھ دیر کے لئے سردار سورن سنگھ کے قاتلوں کی طرف مڑا ہے، اور نہ ہی ہمارے دانشورانہ مکالمہ نے کچھ غور و فکر کے زاویے بدلے ہیں۔ جمود کی ایسی کونسی سطح ہے یا رب جس میں ہم اٹکے ہوئے ہیں ؟ آخر ہم دہشت گردی کے عفریت کو ایک سنجیدہ اور سب سے اہم قومی سلامتی کا مسئلہ سمجھنے پر کیوں تیار نہیں؟

پہلے ہنگو سے فرید خان شہید ہوئے، پھر مردان سے عمران مومند، ڈی آئی خان سے اسرار گنڈاپور، اور اب سردار سورن سنگھ مگر تحریک انصاف میں اتنی جرات نہیں کہ کھل کر طالبان کی مذمت کر سکے۔ جماعت اسلامی کی قیادت ممتاز قادری کے جنازے میں شرکت کو اپنی غیرت اسلامی کا حصہ سمجھتی ہے مگر ان معصوم ہلاکتوں پر بے حس و مردہ ہے۔ کتنی ہی لاشیں ہیں جو پورے ملک میں قومی و صوبائی اسمبلی کے ممبران کی ہم نے اٹھائی ہیں مگر اس کے باوجود سیاستدان ولن ہیں، محب وطن نہیں، ریاست کے غدار ہیں ان سے نمٹا جائے انہیں لٹکا دیا جائے انہیں بحیرۂ عرب میں پھینک دیا جائے یہ ملک کو لوٹ رہے ہیں اور کوئی مسیحا اترے جو ساری دولت چھین کر ہم میں بانٹ دے- اس کے لئے دھرنے دیئے جاتے ہیں، انگلی اٹھنے کا انتظار کیا جاتا ہے اور مسندیں بچھائی جاتی ہیں کہ حضور ایوب خان، یحییٰ خان،ضیاء الحق اور جنرل مشرف کے بعد آپ آئیں اس پر تشریف رکھیں اور رعایا پر بادشاہت کریں۔

میں سوچتا ہوں کہ اگر بالفرض سردار سورن سنگھ کا نام پانامہ پیپرز میں آ چکا ہوتا اور ان کا تعلق پاکستان مسلم لیگ نواز شریف سے ہوتا تو کیا اس سے زیادہ انہیں میڈیا میں نہ زیر بحث لایا جاتا جتنا بعد از شہادت ہم انہیں یاد کر رہے ہیں۔ عمران خان سمیت تحریک انصاف کی پوری قیادت اور کارکنان ان کا نام لے لے کر دہائیاں دیتے۔ اگر سردار سورن سنگھ ایک رجعت پسند مسلمان ہوتا اور امریکہ کی جیل میں قید ہوتا یا پھر وہ کسی سلمان تاثیر کا قتل کر چکا ہوتا تو جماعت اسلامی کی قیادت ملک گیر تحریک نہ چلا رہی ہوتی؟

اس ملک کے عوام کو کرپشن کے ٹرک کی بتی کے پیچھے لگا دیا گیا ہے اور اصل و اہم مسئلہ جو کہ سیکورٹی کا مسئلہ ہے، امن و امان کا مسئلہ ہے، تحفظ جان کا مسئلہ ہے اور یہ کہ اس ملک کے عوام کی حریت کا مسئلہ ہے اس سے جان بوجھ کر لوگوں کی توجہ ہٹا دی گئی ہے۔ جب ہم میں سے کسی کے گھر اس کے کسی اپنے کی لاش آتی ہے تب اسے معلوم ہوتا ہے کہ اس سے آخر کیا کھو گیا ہے، وہ کتنا بڑا نقصان کر بیٹھا ہے۔۔۔

ریاست کی اول و اہم ذمہ داری شہریوں کے جان کا تحفظ ہے، ہمارے ملک میں ریاست کی اہم ترین ذمہ داری کرپشن کے نام پر سیاستدان سے تحفظ سمجھایا جاتا ہے تاکہ پوری ریاست پر اپنی اجارہ داری قائم رکھی جائے۔ اس کی وجہ یہ نہیں کہ عوام دہشت گردی کو بڑا مسئلہ نہیں سمجھتے، اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہیئت مقتدرہ اپنی پالیسی پر شرح صدر سے نظر ثانی کرنے پر تیار نہیں۔ سمجھنا چاہپے کہ جتنا سیاسی عدم استحکام پیدا ہو گا اتنا ہی طالبان اور ان کے رفقائے پارینہ اور احباب دیرینہ مضبوط ہوں گے، اب خدارا اتنے بھولے بھی نہ بنیے کہ آپ پوچھیں یہ رفقائے پارینہ اور احباب دیرینہ کون ہیں؟


Comments

FB Login Required - comments

ذیشان ہاشم

ذیشان ہاشم ایک دیسی لبرل ہیں جوانسانی حقوق اور شخصی آزادیوں کو اپنے موجودہ فہم میں فکری وعملی طور پر درست تسلیم کرتے ہیں - معیشت ان کی دلچسپی کا خاص میدان ہے- سوشل سائنسز کو فلسفہ ، تاریخ اور شماریات کی مدد سے ایک کل میں دیکھنے کی جستجو میں پائے جاتے ہیں

zeeshan has 92 posts and counting.See all posts by zeeshan

2 thoughts on “اگر سورن سنگھ کا نام پانامہ پیپرز میں ہوتا۔۔۔  

  • 25-04-2016 at 10:33 am
    Permalink

    گھٹیا دانشوری کی بھی انتہا ہوتی ہے مگر یہ تو بے انتہا ہوگیا ہے۔۔۔
    پہلے جماعت کا ممبر تھا پھر تحریک انصاف کا اور مشیر بھی تھا مطلب مکمل پارٹی قیادت کا اعتماد یافتہ۔۔۔

    اس بات کا کریڈٹ تو دیا نہیں اور شروع ہوگئے کہ نام لیکر مذمت کیوں نہیں کی؟؟
    بھائی زرا دبئی اور لبرل ازم کے خول سے باہر نکلیں اور کے پی کے آ کر دیکھیں کہ گورنمنٹ آف کے پی کے مذمتیں نہیں کرتی ہوتی وہ مجرم اور قاتلوں کو پکڑتی ہے مردان کے ایم پی اے کا قاتل ابھی کچھ عرصہ پہلے ہی مصلوب کیا جا چکا ہے جسکو آپ کا سو کالڈ سیکولر میڈیا اور روشن خیال دانشور رپورٹ کرنے کا ٹائم نہیں نکال سکے۔۔۔
    ہم لڑ رہے ہیں یہ ہماری جنگ ہے
    ہماری کس کی ؟؟؟
    ہمارے پٹھانوں کی ہمارے قبائلیوں کی ہماری فوجیوں کی ہماری پولیس کی ہمارے بچوں کی ہماری مائوں کی ہماری بچیوں کی ہمارے پی ایچ ڈی استازوں کی۔۔۔
    ہم ہر قدم پر قربانیاں دے رہے ہیں مگر شکست نہیں مان رہے نہ ہی مانیں گے ہم پنجاب کے میاں نہیں ہیں کہ آپکے سو کالڈ طالبان کو خط لکھ کر کہیں کہ آپ ہمیں نہ چھیڑو ہم بدلے میں اپنی آنکھیں پنامہ میں ہی رکھیں گے۔۔۔
    ہم اسلام اباد کے میاں لبرل بھی نہین ہیں کہ ردعمل کے خوف سے پھانسیوں پر بین لگا دیں۔۔
    ہم سندھ اور جمخانہ کلب کے صحافی بھی نہیں ہیں کہ جو سردار سورن سنگھ کے قتل کو کنڈمنڈ کریں اور عافیہ کو رجعت پسندی کی وجہ سے جسٹیفائی کریں۔۔۔
    ہم دونوں سے ایک جیسی محبت کرتے ہیں اور ایک جیسا دکھ مخصوص کرتے ہیں
    پتہ ہے کیوں؟
    کیوں کہ ہم لبرل نہیں ہیں
    کیوں کہ ہم پاکستانی ہیں۔
    کیوں کہ ہم مسلمان ہیں۔۔
    کیوں کہ ہم سوچتے ہیں
    کیوں کہ ہم اپنے دماغ کو کرائے پر نہیں دیتے

  • 25-04-2016 at 2:19 pm
    Permalink

    Agreed

Comments are closed.