پھٹا ہوا ڈھول اور پٹا ہوا گیت: کمال گیت مالا


wisi 2 babaاج کل جس کا جی چاہتا ہے وہ ملک بحریہ صاحب کو جگتیں مارنے لگ جاتا ہے۔ ویسے تو اسلام ابادی گپ آج کل یہ ہے کہ ملک بحریہ صاحب کو کھانے پر بلایا گیا تھا۔ ملک صاحب گئے تھے پھر۔ ابھی وہ چکن تکے سے چاول، وہاں سے کباب اور پھر سلاد کو ہاتھ مار کر ڈونگے میں  کودے ہی ہیں، کہ میزبان نے پیار سے پوچھا۔ ملک صاحب اب ہم نے کیا کہنا ہے آپ کو اب تو مان جائیں کہ کپتان کے دھرنے میں پیسہ آپ نے ہی لگایا تھا۔ اس کو کہتے ہیں کسی کا کھانا خراب کرنا۔

میاں صاحب جب دل کرے لوگوں کو ایسے ہی حیران پریشان کرتے رہتے ہیں۔ آپ حیران پریشان کا اکٹھا استعمال تب ہی سمجھ سکتے ہیں اگر آپ نے یہ لطیفہ بھی سن رکھا ہو۔ میاں صاحب تو چلیں میاں صاحب ہیں ۔ الطاف بھائی کے ڈنڈے مار اردو محلہ کے عالم اور کراچی کے متوقع مئیر جناب وسیم اختر نے حد ہی کر دی۔

وسیم اختر سے کوئی تھکا ہارا صحافی پوچھ بیٹھا کہ مصطفی کمال کا جلسہ کیسا ہو گا۔ وسیم اختر نے جواب دیا کہ اچھا ہو گا پچیس تیس ہزار بندہ تو آ ہی جائے گا۔ برا ہو اس رپورٹر کا جس نے اگلا سوال کر کے ملک صاحب کو جگت لگوا دی۔ رپورٹر نے پوچھا کہ اتنے زیادہ لوگ؟ تو وسیم اختر نے کہا کہ اب بحریہ ٹاؤن کے اتنے ملازم تو کراچی میں ہوں گے ہی۔ ملک صاحب دل چھوٹا نہ کریں اور الطاف بھائی کے نام پر جو یونیورسٹی بنا رہے ہیں اس کا نام بدل دیں۔ کتنے ہفتے ہو گئے ہیں الطاف بھائی کا ہفتہ خوش اخلاقی ہی چل رہا ہے۔ کچھ تو رونق میلہ شروع ہو۔

دو ہزار سولہ کا کا اتوار چوبیس اپریل ایک یادگار دن رہے گا تاریخ میں۔ اس دن پاکستانیوں کو اپریل کے مہینے میں دوسری بار فول بنایا گیا تھا۔ نوجوانوں کے بچہ طبعیت بزرگ قائد نے اپنی پارٹی کی اچانک سالگرہ منا کر ایک تقریر فرمائی۔ مصطفی بھائی نے کراچی میں کمال کیا۔ باقی تو یہ کہ صالح ترین بھائیوں نے بھی لاہور میں کوئی دھرنا قسم کا فنکشن الگ سے رکھا ہوا تھا۔

ان سارے لیڈروں نے مختلف شہروں سے پنڈی کی طرف منہ کر کے ہووووووووووووو ٹانگے والا خیر منگدا گایا۔ دل میں ان سب کے لڈو پھوٹ رہے تھے۔ دل ہی دل میں یہ ایک اور گیت بھی گا رہے تھے ۔ سانوں پنڈی قلعی کرا دے، اسیں نچنا ساری رات۔

 پنڈی والوں کا اج کل سول حکومت سے ایک خفیہ گھول گھمسان چل رہا ہے جس کا ساری قوم کو پتہ ہے۔ نوازشریف کی حکومت ہو تو یہ گھول (کشتی) جاری رکھنا مجبوری ہے۔ حیرانی کی کوئی بات نہیں اپنے میاں صاحب پہلوانوں کے خاندان میں بیاہے ہوئے ہیں۔ فارغ بھی بیٹھے ہوں تو پنڈی کی طرف دیکھ کر کبڈی کبڈی کبڈی کہنا شروع کر دیتے ہیں۔ پہلوانون میں رشتے داری ہو  تو پھر ایسا ہو جاتا ہے۔

یہ تو چلو ہو گیا۔ ہم نے دل کو سمجھا لیا ہے۔ کہ ہمارا اصل قومی کھیل کبڈی  ہے ۔ یہ خفیہ کبڈی مستقل جاری رہتی ہے۔ ہمارے ادارے مستقل حالت گھول میں رہتے ہیں۔ کتنی بار باپم گھلتے ملتے پھڑے گئے ہیں لیکن ٹلتے نہیں ہیں دونوں۔ سب کو پتہ ہوتا سب میسنے بنے بیٹھے رہتے ہیں کہ نہیں نہیں سب ٹھیک ہے۔ الٹا اب ایک ڈائیلاگ بھی سننے کو ملتا ہے کہ ہم تو ایک پیج ہی پر ہیں۔

اداروں سے یاد آ گیا کہ فوج اس وقت دہشت گردوں کو ڈھونڈ ڈھونڈ کر ان کی لتریشن میں مصروف ہے۔ سپاہیوں کا دل خوش رکھنے کو شاعر حضرات گیت بھی لکھ رہے ہیں۔ دشمن کے بچوں کو پڑھانا ہے بھی ایک ایسا ہی اچھا گیت تھا۔ جہاں کئی گیت منتخب ہو کر آن ائیر ہو جاتے ہیں، وہیں بہت سے مسترد بھی کر دئیے جاتے ہیں۔

تم اپنا نظریہ پاس رکھو، ہم اپنا نظریہ رکھتے ہیں۔ یہ ایک گیت ہے ، جو ولولے بڑھانے کو لکھوایا گیا تھا۔ اپنی تھکڑ شاعری اور بے معنی تک بندی کی وجہ سے بھی اور بور ہونے کی وجہ سے بھی مسترد کر دیا گیا تھا۔ بہت اچھا کیا گیا تھا ۔ پوچھنا اب صرف اتنا ہے کہ پیارے پنڈی والو مصطفی کمال پر یہ گیت کیوں لاد دیا گیا۔ یہ گیت سن کر سننے والے تو الگ سے اوازار ہوں گے۔ شاعروں کی آہیں بھی مصطفی کمال پارٹی کو ہی لگنی ہیں۔ اڑنے سے پہلے ہی ڈولتے ہوئے اپنی پارٹی سمیت کہیں جا گریں گے، وجہ صرف یہ گیت ہی ہو گا۔

ملک صاحب عرف امیر البحر اگر دھرنے کی لمی تھک اکیلے لگوا سکتے ہیں۔ زمین خریدے بغیر شہر بنانے کے اعلان کر سکتے ہیں، اور کہیں کہیں پر بنا کر بھی دکھا سکتے ہیں۔ تو ملک صاحب اس قابل بھی ہیں کہ کسی شاعر سے کوئی گیت ہی لکھوا لیں۔ ۔ لگ یہی  رہا ہے کہ پنڈی اور میاں صاحب نے کبڈی کبڈی کا تاثر ہی دے رکھا ہے۔ کپتان بیچارہ پھر بڑی دور کی بتی پیچھے لگ گیا ہے۔ وہ اب اپنے برگر بچے اور اور ان کی ممی آنٹی لے کر چل پڑا ہے۔ پانامہ سے ادھر تو رکنے نہیں لگا۔

کپتان کو بجانے کے لئے پانامہ والا جھنجھنا مل گیا ہے۔ رونق رہے گی۔ کپتان کے لئے اتنی سہولت اور مصطفی کمال بیچارے کو اس طرح خجل کیا گیا ہے، تھکڑ شاعری سے۔ اب اگر ہم ناراض نہ ہوں تو کیا کریں۔ الطاف بھائی یاد آ گئے ہیں ۔ ان جیسی پرفارمنس کوئی نہیں کر سکتا۔ “برقعے میں رہنے دو” کا گیت الطاف بھائی نے گا کر امر کر دیا تھا۔


Comments

FB Login Required - comments

2 thoughts on “پھٹا ہوا ڈھول اور پٹا ہوا گیت: کمال گیت مالا

Comments are closed.