گورنس پر جھگڑے اور انا کے بکھیڑے


khurram niaziگورنس کے مسائل کچھ نئے نہیں یہ پہلی مرتبہ اس وقت اٹھے تھے جب ستر سال پہلے موضع دھول پور کے نواب خوش خوراک پنج میلوی کے یہاں فرزندِ ارجمند کی ولادتِ با سعادت ہوئی تھی جن کا نام علمِ جفر کے اساتذہ سے پوچھ کر نواب زادہ چمن جہاں گنج تیلوی رکھا گیا۔ اس زمانے کے رواج کے مطابق ماہرینِ جیوتش و علمِ نجوم سے نومولود کا زائچہ بنوایا گیا اور ایک ماہر قیافہ شناس کو بھی ان کا چہرہ مبارک دکھلایا گیا۔ ان سب نے یک رائے ہوکر کہا کہ نوابزادہ کا مستقبل انتہائی روشن و تابناک ہوگا بس یوں سمجھے کہ ایک ستارہ ہو گا جس کی چکاچوند سے چاند بھی جل بھن کر خاک ہوگا۔ جیسا کہ اس سمے شرفا میں روایت تھی، ولایت سے ایک سکاٹش نازنین مس سکاچ نوابزادہ کی تعلیم و تربیت کے لئے گورنس بن کر وارد ہوئی۔ نواب صاحب کے پڑوسی اور سگے بھائی سردار طبل جنگ لشکری ڈنڈ پیلوی کی نظر مس سکاچ پر کیا پڑی، وہ ہزار جان سے اس پر عاشقِ صادق اور ہمہ وقت اس کے دیدار کے شائق ہوگئے۔ ادھر نواب صاحب بھی دل ہی دل میں گورنس کو اپنانے اور شریکِ حیات بنانے کی قسم کھا چکے تھے۔ حالانکہ دونوں بھائی ہم عمر، ہم عصر، ہم نسل، ہم نوالہ اور ہم پیالہ تھے اور معاملاتِ رزق و عشق میں بھی کوئی پردہ حائل نہ تھا لیکن تعلقات یوں بگڑے کہ رشتے ٹوٹ گئے۔ ایک دوسرے پر برسرِبازار دشنام طرازی اور الزام تراشی پر اتر آئے۔ نواب صاحب نے بھری چوپال میں کہہ دیا کہ سردار صاحب نے ایک دن گورنس کو سارے گاؤں کے سامنے نچوایا اور اس پر نچھاور ہونے والے ہر سو روپے میں سے ستر اپنی جیب میں ڈال لئے۔ پلٹ کر سردار صاحب نے سب کے سامنے تصاویر پیش کردیں جن میں مس سکاچ لاس ویگاس کے کسی کسینو میں انتہائی بے حیا رقص کر رہی ہے اور نواب صاحب ارد گرد پھیلے مختلف کرنسی کے نوٹ دونوں ہاتھوں سے اپنی جھولی میں سمیٹ رہے ہیں۔ نواب صاحب نے قرآن پر ہاتھ رکھ کر کہا کہ انہوں نے بڑی ایمانداری سے اس رقم کا ستر فیصد اس دفعہ بھی سردار صاحب کے اکاؤنٹ میں داخل کر دیا تھا۔

سانجھے کی ہانڈی چوراہے میں پھوڑنے سے سب رشتے ریت کی دیوار بن کر ڈھے گئے، اجنبیت اور منافرت کی سیسہ پلائی ہوئی دیوار کھڑی ہوگئی، زمین اراضی ارزاں مول بکی، عرش پر تو پہلے بھی نہیں تھے لیکن اب تو واقعی فرش پر آگئے۔ لاکھ کا گھر خاک ہو گیا۔ مالی حالات ایسے بگڑے کہ سردار طبل جنگ لشکری ڈنڈ پیلوی لنگی بنیان پر پھٹے پرانے جوتے پہنے ہاتھ میں ڈنڈا پکڑے محلے محلے گھوما کرتے، دنیا والے انہیں مذاق میں بوٹوں والی سرکار اور ڈنڈا بردار کہتے۔ جبکہ نواب خوش خوراک پنج میلوی لنڈا سے خریدے سیکنڈ ہینڈ کوٹ پینٹ پر ہوائی چپل پہنے، ہاتھ میں رنگ برنگا جھنڈا لہراتے گھومتے، اس ہئیت کذائی پر ہر خاص و عام نے ان کا نام ہی سوٹوں والی سرکار اور جھنڈے بردار رکھ چھوڑا۔ کہنے والوں کو کون روک سکتا ہے، جتنے منہ اتنی باتیں کچھ کہتے گورنس سردار صاحب کے ساتھ کھڑی ہو کر سگریٹ پیتی ہے، کچھ نے اسے نواب صاحب کے ساتھ ایک ہی پیالے میں گول گپے کھاتے دیکھا۔ کچھ بد تمیزوں نے اسے گاؤں کے مولوی کے حجرے میں چھپ چھپ کر جاتے بھی دیکھا۔ اڑانے والے تو یہاں تک کہہ دیتے کہ گورنس کو بھیجا ہی اسی لئے گیا تھا کہ پھوٹ پڑے، خاندان کا بٹوارہ ہو۔ اس جھگڑے میں نواب زادہ چمن جہاں کی مٹی سب سے زیادہ پلید ہوئی۔ مس سکاچ نے ان پر کبھی کوئی توجہ نہیں دی۔ تعلیم و تربیت کیا ہونی تھی آسمان پر نا وہ جگمگائے نہ ٹمٹمائے ان کے نصیب میں بس دنیا جہان کے طنز اور طعنے آئے اب وہ غمگین شاعری کرتے ہیں اور اپنا نام گنج تیلوی کے بجائے دکھ جھیلوی بتاتے ہیں۔


Comments

FB Login Required - comments

One thought on “گورنس پر جھگڑے اور انا کے بکھیڑے

  • 25-04-2016 at 9:54 pm
    Permalink

    Wonderfully written.

Comments are closed.