دانشوروں کے نام — تھوڑا سا گلہ


Ahmed Saad

لیفٹ ونگ اور رائٹ ونگ کی بحث معقولیت اور مکالمے کی حدود سے باہر نکل کرجو انداز اختیار کرتی جا رہی ہے وہ بہت سے سنجیدہ اور خاموش قارئین کے لیے مایوس کن ہے. اسے جنگ یا مقدس جہاد کا رنگ دینا ایک غلطی ہے. جو لوگ دونوں جانب کی بات کو ہمدردی اور غور سے پڑھنے کے عادی ہیں وہ یہ سوچنے پر مجبور ہیں کہ لیفٹ ونگ ہو یا رائٹ ونگ دونوں ہی گیم پلان کے بغیر ایک دوسرے کے گول پر حملے کر رہے ہیں. یہ دیکھے بنا کہ اصل میں گول ہے کس طرف.

قرارداد مقاصد اور ١١ اگست کی تقریر سے ہٹ کر ایسے بہت سے سوال ہیں جن پر بامقصد بات ہو سکتی ہے. نمونے کے طور پر ایک scenario پیش کرتا ہوں.

سوال: دائیں بازو کے دانشوروں سے

اگر کسی ملک میں اسلامی نظام نافذ ہو تو کیا وہ صرف مسلم اکثریت پر ہی لاگو ہوگا یا غیرمسلموں پر بھی؟ مثلا کیا زنا کی سزا عیسائی کے لیے بھی وہی ہوگی جو مسلمان کے لیے ہے یا وہاں انجیل کے مطابق فیصلہ کیا جاۓ گا؟ حنفی مالکی حنبلی اور شافعی مسلک اس سوال کا جواب کیسے دیتے ہیں؟

جب تک آپ کا جواب آتا ہے تب تک فرض کیا غیر مسلم پر وہ حدود لاگو نہیں ہوں گی جو مسلمانوں پر ہوں گی. جیسے شراب نوشی وغیرہ.

لیکن اب اس سے بڑا سوال پیدا ہوتا ہے. کیا ایک ہی جرم کے دو الگ قوانین سے انتہائی مشکل صورتحال پیدا نہیں ہو جائیگی؟ مسلمان چور کو تو قطع ید کی سزا ملے گی اور غیرمسلم جرمانہ یا قید کے بعد آزاد ہوجائے گا. اس سے بھی بڑی مشکل یہ ہوسکتی ہے کہ بدفعلی کے مرتکبین میں سے ایک رجم ہوجائے گا اور دوسرے کے مذہب میں اگر اس جرم کی کوئی سزا ہی نہیں یا وہ لادین ہے تو وہ بچ نکلے گا. چلیں فرض کریں دونوں افراد ہی لادین ہیں. تب بھی کیا اسلامی حکومت ان کو اخلاقی قیود سے آزاد زندگی گذارنے کی اجازت دے سکتی ہے؟ خواہ وہ اپنی زندگی کو اپنے گھروں یا کلبز تک ہی محدود کیوں نہ رکھیں؟

سوال: بائیں بازوکے دانشوروں سے

آخری جملے میں اسلامی حکومت کی جگہ سیکولر حکومت ڈال دیجۓ تو سوال یوں ہو جاۓ گا:

کیا سیکولر حکومت ان کو اخلاقی قیود سے آزاد زندگی گذارنے کی اجازت دے سکتی ہے؟ خواہ وہ اپنی زندگی کو اپنے گھروں یا کلبز تک ہی محدود کیوں نہ رکھیں؟ اس کے بعد وہ چاہے شراب خانے کھولیں یا قحبہ خانے. کیا ایک مسلم اکثریتی ملک کی سیکولر حکومت کو روشن خیالی کی لاج میں انہیں تحفظ فراہم کرنا ہوگا ؟

اس طرح کے بہت سے سوالات پڑھنے والوں کی خاموش اکثریت کے دل میں آتے ہیں لیکن افسوس آپ لوگ حقیقی سوالات کو پس پشت ڈال کر ستر سال سے ایک دوسرے سے سینگ پھنساۓ دائرے میں گھوم رہے ہیں اور اگلے ستر سال بھی یہی کرتے رہیں گے. اگر آپ لوگ ایک ایجنڈے کے تحت سوالات کے جوابات پیش کرنے کو اور پھر کسی ایک حل پر متفق ہوجانے کو اپنا دستور بنا لیں تو یہ اس ملک اور قوم پر بہت بڑا احسان ہوگا. آخر آپ فکری رہنمائی کے دعوے دار ہیں.

اب آجاتے ہیں آپ کی کاوشوں میں موجود دوسری خامی کی طرف.

آپ فکری رہنمائی کے دعوے دار تو ہیں لیکن جس طبقے کے ہاتھ میں اس ملک کی باگ ڈور ہے وہ تو آپ کی دانشورانہ باتیں پڑھتا نہیں. اور جو آپ کی باتیں پڑھتے ہیں وہ واہ واہ اور آہ آہ تو کرسکتے ہیں لیکن کبھی آگے بڑھ کر ڈرائیونگ سیٹ سنبھالنے کی کوشش نہیں کریں گے. یہ آپ نے بھی نہیں کرنا کیونکہ آپ صرف فکری رہنمائی کرنا چاہتے ہیں.

تو پھر بزرگو گڑھا وہاں کیوں کھود رہے ہو جہاں سے پانی نہیں نکلنا. کہتے ہیں عوام حکمرانوں کے دین پر ہوتے ہیں۔ فکری رہنمائی کریں ان لوگوں کی جن کے ہاتھ میں اقتدار ہے. اگر آپ اپنا فوکس حکمرانوں کی ذہن سازی پر کرلیں تو شائد وہ نتائج نکل سکیں جو آپ عوام کی رہنمائی کے ذریعے حاصل کرنے کا خواب ہی دیکھ سکتے ہیں. براہ کرم اس کا یہ مطلب نہ نکالا جاۓ کہ آپ ہماری رہنمائی سے غافل ہوجائیں. لیکن ابھی صورت حال یہ ہے کہ آپ کو ایک بھاری پتھر ڈھلان پر چڑھانا ہے لیکن اول تو آپ نے اس کیے نیچے پہیے نہیں فٹ کیے اور دوسرے یہ کہ آپ قوت ڈھلان کے اوپر کی طرف لگانے کے بجانے سامنے کی طرف لگا رہے ہیں.

حکمرانوں کی موجودہ کھیپ دس پندرہ سال بعد نہیں ہوگی. ان کی جگہ بلاول، حمزہ شہباز اور مریم نواز لے چکے ہوں گے. آپ ان پر کام کریں. ایک بار پھر کسی مرد دانا کا قول دہراتا ہوں کہ عوام حکمرانوں کے دین پر ہوتے ہیں. آپ حکمرانوں کا قبلہ ٹھیک کردیں بہت کچھ بدل جاNizamۓ گا.

لکھتے لکھتے ایک تصویر کا ورود بھی ہوگیا. کہتے ہیں ایک تصویر ہزار الفاظ کے برابر ہوتی ہے. آپ بھی دیکھئے کہ اس میں غور کرنے والوں کے لیے نشانیاں ہیں.


Comments

FB Login Required - comments

3 thoughts on “دانشوروں کے نام — تھوڑا سا گلہ

  • 25-04-2016 at 4:40 am
    Permalink

    بہت اچھے
    تصویر نے تو خوب رنگ بھر دیا ھے۔۔۔

  • 25-04-2016 at 4:33 pm
    Permalink

    آپ کے سوالات منطقی اور معقولیت پر مبنی ہیں لیکن ان میں سے تقریباََ سب کے ہی جوابات آپ کو خُلفہ راشدین کے ادوار میں مل جائیں گے، بفرض محال اگر کوئی جواب رہ جائے تو اسے لازماََ اُٹھائیے گا

  • 25-04-2016 at 7:42 pm
    Permalink

    میری تظر میں ان سوالوں کا جواب یہ کہ کے نہیں دیا جا سکتا کے ہم خلفہ راشدین کے دور کی طرف مڑ کے دیکھ لیں- اس کی وجہ یہ ہے کے پاکستان فتح نہیں کیا گیا تھا اور پاکستان میں رہنے والی اقلیت رعایا نہیں ہے. پاکستان ایک ڈیموکریٹک ملک ہے اور ہمیں دو سسٹم چلانے کے نتائج پرغور کرنا ہو گا – اگر ہم دو سسٹم رکھیں گے جو مسلمان اور غیر مسلم کو بہت مختلف اور انتہائی سزائیں دن گے تو اس سے ارتداد کا راستہ کھلے گا – اور ہم یہ جانتے ہیں کے اس کی سزا موت ہے – یہ معاشرہ میں ذہنی انتشار کا با عث بنے گا- دنیا ہمارے ارد گرد بدل چکی ہے اور ہم ساتویں صدی میں نہیں رہ رہے. – یہ ووہی بنیادی مسلا ہے جو رائٹ ونگ کے حضرت پیدا کرتے ہیں کے اگر ہم صرف خلفا راشدین کے دور کا نظام اگر لگا دن تو سب ٹھیک ہو جائے گا- ہمیں نۓ سرے سے ان مسائل کو جانچنا ہو گا کے کیا چیز اس دور میں اپنائی جا سکتی ہے اور کیا تبدیلی کی ضرورت رکھتی ہے – ہم پاکستان میں شرعیا کے نفاز کو غیر مسلم ممالک میں مسلمانو کے لئے الگ قوانین سے کمپر نہیں کر سکتے کیوں کے یہ صرف شادی بیاہ اور طلاق کے اشو سے بڑھ کے ہیں

Comments are closed.