سمندر پار کے صحرائی جزیرے


”مکے، گھونسے، تھپڑ، ٹھوکر، لاتیں کھانے اور طعنے گالیاں ہی سننی تھیں، تم ڈاکٹر کیوں بنیں۔ پڑھی لکھی ہوکر بھی شوہر کی فرماں برداری نہیں غلامی کرنی تھی تو پھر کالج جانے کی کیا ضرورت تھی۔ پڑھا لکھا ہونے کے باوجود اگر اس ظالم سے ٹکر نہیں لے سکتی ہو تو تمھاری قسمت میں کچھ اور نہیں ہوگا۔ ‘‘

وہ ہماری کلاس کی سب سے خوبصورت لڑکی تھی نہ صرف یہ کہ خوبصورت بلکہ خوبصورتی کے ساتھ اس کی شخصیت انوکھی تھی۔ غضب کی کشش تھی اس میں اس کی عادتوں کی وجہ سے۔ پڑھنے والی، بروقت مدد کرنے کو تیار، ہنسنے بولنے والی سب میں سب سے نمایاں۔

ایک اور بات جس کا پتہ بعد میں چلا وہ یہ کہ وہ ایک غریب خاندان سے تعلق رکھتی تھی۔ غریب خاندانوں میں ایسا ہوتا نہیں کہ وہ خوبصورت بھی ہوں، ان میں اعتماد بھی ہو اور اتنی بولڈ ہوں جتنی وہ تھی۔ غریب خوبصورت لڑکیوں کی شادی تو شاید سولہ، سترہ سال کی ہونے سے پہلے ہی کسی سے کردی جاتی ہے کیونکہ خاندان اور عزیز و اقارب کے لڑکوں کے ماں باپ کی نظر ایسی لڑکیوں پر ہوتی ہے، ایسی لڑکیاں پھر تمام عمر اپنے سے بہت زیادہ عمر کے شوہروں کے ساتھ کسی نہ کسی طرح سے گزارا کرتی رہتی ہیں۔

شازیہ میرے گروپ میں تھی اور میرا خیال تھا کہ فائنل ایئر کا امتحان ہونے کے فوراً بعد اس کی شادی کا چکر شروع ہوگا۔ ہم دونوں کی دوستی تھی، اچھی دوستی، خلوص بھرا تعلق تھا ہم دونوں کے درمیان۔ ایک طرح سے عزت بھی کرتے تھے، لڑتے بھی تھے ایک دوسرے سے اور کام بھی آتے تھے۔ وہ ذہین تھی اور ہمارے گروپ کی لیڈر بھی۔ جیسا کہ لڑکیوں کی عادت ہوتی ہے وہ خیال بھی رکھتی تھی ہم لوگوں کا۔

عملی زندگی میں چیزیں اتنی مختلف ہوں گی میں نے سوچا بھی نہیں تھا۔ جو میرے خیال و گمان میں بھی نہیں تھا وہ ہوگیا، فائنل ایئر کے آخری امتحان کے دوسرے دن ہی میں نے امی سے کہا تھا کہ مجھے ناہید سے شادی کرنی ہے اور انہیں اس کے گھر رشتے کے لئے جانا ہو گا۔

میں نے سوچا تھا کہ انہیں خوشی ہو گی لیکن جب میں نے بتایا کہ ناہید سعود آباد میں رہتی ہے، کالج کی بس میں آتی ہے، غریب متوسط درجے کے خاندان سے تعلق ہے اس کا تو میں نے یہ محسوس کیا کہ ان کے جوش و خروش پہ کسی نے برف کا پانی ڈال دیا ہے۔

دوسرے روز ہی ابو اور امی نے رات کو مجھے بٹھا کر اچھا خاصا لیکچر دیا تھا۔ ہم لوگ ڈیفنس فیز فور میں رہتے ہیں وہ لوگ سعود آباد کے کچی گلی میں اسّی گز کے مکان میں رہتے ہیں، یہ بڑا فاصلہ ہے بہت بڑا، اسے طے کرنا نا ممکن ہے بیٹے۔ شادیاں ہم پلہ لوگوں میں ہی ہوتی ہیں۔ تم کبھی بھی ملنے جلنے والوں کو اپنے سسرال کا پتہ نہیں بتا سکو گے۔ یہ خیال دل سے نکال دو۔ ابو نے حتمی انداز سے کہہ دیا۔

میں نے دونوں کو سمجھانے کی کوشش کی تھی۔ بتایا کہ وہ کتنی ذہین ہے، کتنا دوستانہ رویہ ہے اس کا، غریب ہونے کے باوجود کتنی پراعتماد ہے وہ، سعود آباد میں پیدا ہونے کے باوجود اس نے وہ سب کچھ کردکھایا ہے جو ڈیفنس سوسائٹی، کارساز اور نارتھ ناظم آباد میں رہنے والی بہت ساری ہماری رشتہ دار لڑکیاں نہیں کر سکی ہیں۔ وہ بہت الگ سی ہے ابو بہت الگ سی آپ ملیں گے تو فوراً ہی پسند کرلیں گے میری بات کو اہمیت تو دیں۔

مگر وہ لوگ میری بات کو اہمیت دینے کے لئے تیار نہیں تھے۔ ” ذہانت، خوش اخلاقی، محنتی یہ ساری باتیں زندگی کے عملی مرحلے میں ثانوی ہیں بیٹے، ہم نے تمہارے لئے بہت بڑے خواب دیکھتے ہیں۔ بہت سے لوگ ہیں، کھاتے پیتے گھرانوں کے جو تمہیں داماد بنا کر سر پہ بٹھائیں گے تمہیں کیا ضرورت ہے کیچڑ میں پھنسو۔‘‘ ابو نے سنجیدگی سے بڑے گہرے لہجے میں کہا تھا۔ مجھے افسوس اس بات کا ہے کہ امی بھی ان کی ہاں میں ہاں ملا رہی تھیں۔

نہ وہ مجھے سمجھا سکے اور نہ ہی میں انہیں راضی کر سکا۔ ناہید سے کہنا بے کار تھا۔ مجھے پتہ تھا کہ وہ مجھے پسند کرتی ہے ایسے ہی جیسے میں اسے پسند کرتا ہوں مگر وہ میرے ساتھ بھاگنے پر راضی نہیں ہوگی، بغاوت وہ نہیں کرسکتی ہے۔ میں کرسکتا تھا میں تیار بھی تھا مگر وہ کبھی تیار نہیں ہوتی۔ میں سوچتا رہا اور وقت بڑی تیزی سے گزر گیا۔

ہمارا نتیجہ نکل آیا۔ معمول کے مطابق اس کی پوزیشن تھی اور ہم لوگوں نے مختلف وارڈوں میں ہاؤس جاب شروع کردی۔ نئے نئے کاموں میں الجھے ہونے کے باوجود میں دو دفعہ امی ابو کو سمجھانے کی کوشش کرچکا تھا جس کا کوئی خاص نتیجہ نہیں نکلا سوائے اس کے کہ میں نے دل ہی دل میں فیصلہ کرلیا کہ پاکستان چھوڑ کر ہی چلا جاؤں تو بہتر ہے۔ انہیں خیالات اور اسی امید اور نا امیدی کے کشمکش میں ہاؤس جاب کے ڈیڑھ ماہ گزر گئے تھے اور پتہ چلا کہ ناہید کی شادی طے ہوگئی ہے اور ہفتے دس دن میں وہ بیاہ کے امریکہ چلی جائے گی۔

مجھ پر جو گزری تھی اس کا اندازہ وہی لوگ کرسکتے ہیں جنہوں نے محبت کی ہے۔ کسی کو آہستہ آہستہ ایک رازداری کے ساتھ چاہا ہے، اسے خوابوں میں، آنکھوں میں نظروں میں بساکر سما کر رکھا ہے، یہ خبر بس بجلی بن کر ہی گری تھی۔

میں اس کی شادی میں شریک نہیں ہوا۔ اس نے خود فون کرکے مجھے آنے کو کہا مگر میں تو اس سے صحیح طریقے سے بات بھی نہیں کرسکا۔ اس کی آواز میں بھی کوئی کمی تھی۔ ناہید کی وہ آواز نہیں تھی۔ اس وقت تو میں نے محسوس نہیں کیا مگر سالوں بعد وہ تھکی تھکی پژمردہ آواز میرے کانوں میں گونج گئی تھی۔ ڈاکٹر نادر ہم سے بارہ سال پہلے ڈاکٹر بنا تھا۔ امریکہ میں دل کے امراض کا ماہر تھا امریکہ میں ہی کام کررہا تھا اس کی بہن نے کراچی میں ناہید کو اپنے بھائی کے لئے پسند کرلیا تھا اور ناہید کے ماں باپ نے حامی بھر لی تھی۔

ابتداء میں مجھے نفرت سی ہوگئی، ناہید کے خاندان سے۔ بالکل دو پیسے والی حرکت کی تھی ان لوگوں نے۔ ایک پیسے والے بڑے عمر کے بندے سے شادی کردی اپنی بیٹی کی، تھوڑا انتظار بھی نہیں کیا۔ اسے موقع تک نہیں دیا کہ وہ ہاؤس جاب کرتی امتحان دیتی مگر میرا غصہ بجا نہیں تھا۔ اور کیا کرتے وہ لوگ۔ ان کی لڑکی کی شادی ایک پڑھے لکھے ڈاکٹر سے ہورہی تھی۔ امریکہ میں سیٹ تھا وہ۔ وہ بھی جاکر امتحان دے کر پاس ہوجائے گی اور پھر اس کا اپنا مقام ہوگا، یہی کہا تھا نادر کی بہن نے۔ ماں باپ اور کیا سوچتے ہیں متوسط اور نچلے گھرانوں میں بیٹیوں کی شادی دیر سے ہو تو کہنے والے نہ جانے کیا کیا کہتے ہیں۔ نادر سے اچھا آدمی کہاں ملتا۔ ناہید کے پاس اور کیا مواقع تھے اس نے ہمیشہ ماں باپ کے فیصلوں پر عمل کیا تھا ابھی بھی ان کا کہا اس کو ماننا تھا وہی اس نے کیا۔

باقی افسانہ پڑھنے کے لئے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیے

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں