کیا ایک کم خرچ بالانشین میٹرو سروس بنانا ممکن ہے؟


شریف برادران کی حکمت عملی سے تو آپ آگاہ ہوں گے کہ پل یا میٹرو وغیرہ بنانے کے لئے شہر کا بیڑہ غرق کر دیتے ہیں۔ لاہور جیسے تاریخی شہر کو جو کسی زمانے میں باغوں کا شہر کہلاتا تھا، کنکریٹ کا جنگل بنانا ان ہی کا کارنامہ ہے۔ لیکن یہ بات بہرحال ماننی پڑے گی کہ بڑے شہروں میں ماس ٹرانزٹ کے منصوبے ضروری ہیں۔ پاکستان میں جتنے لوگ دہشت گردی سے مرے ہیں اس سے دگنے پلوشن سے مرے ہیں اور بیمار ہونے والوں کی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے۔ ماس ٹرانزٹ کی وجہ سے پلوشن میں خاطر خواہ کمی آتی ہے اور لوگ بیمار نہیں پڑتے۔ اب پشاور میں عمران خان نے عین آخری مہینوں میں شہباز شریف جیسی میٹرو بنانے کی کوشش کی مگر وقت پر منصوبہ مکمل کرنے میں ناکام رہے۔ ہم اس موقعے پر ایک منصوبہ پیش کرنا چاہتے ہیں جو نہ صرف بہت کم پیسوں میں بنے گا بلکہ اس کی وجہ سے شہریوں کی صحت میں بے تحاشا بہتری آئے گی۔ سیمنٹ اور سریے کی محبت میں مبتلا شریفوں کی حکومت سے تو ہمیں کوئی امید نہیں ہے مگر توقع ہے کہ عمران خان صاحب یا مراد علی شاہ صاحب اس پر غور کریں گے۔

آپ نے نوٹ کیا ہو گا کہ میٹرو بنانے اور پھر چلانے کا خرچہ بھی بہت ہوتا ہے، اس کی وجہ سے شہر میں گرمی بھی زیادہ ہوتی ہے اور جس طرح ایک طویل مدت کے لئے شہر کھود ڈالا جاتا ہے اس کی وجہ سے شہری بیمار بھی زیادہ پڑتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا ایسی میٹرو بنانی ممکن ہے جو بہت کم خرچ بھی ہو، شہر کا درجہ حرارت بھی کم کرے اور فضائی آلودگی کو بھی ختم کرے۔ ایسا بالکل ممکن ہے۔ شرط یہ ہے کہ حکومت باشعور ہو۔

ایک باشعور حکومت چھے لین کی سڑک جس کے بیچ میں دو لین کی میٹرو بھی ہو، بنانے کی بجائے درختوں کی آٹھ لائنیں شہر کے ایک سرے سے دوسرے تک توڑوں توڑ لگا سکتی ہے۔ ان درختوں کی شاخوں پر سرکاری رسیاں لٹکا دی جائیں گی۔ پہلی رو میں ایسے درخت لگائے جائیں جو چند ماہ میں تناور اور چھتنار ہو جائیں۔ دوسری رو میں عام دیسی درخت مثلاً شیشم، نیم اور کیکر وغیرہ لگائے جا سکتے ہیں۔ پانچویں چھٹی رو میں آم وغیرہ کے پھلدار درخت لگائے جائیں۔

اب سفر کرنے کے خواہش مند شہری ٹارزن کی طرح سرکاری رسوں سے لٹک کر ڈال ڈال جھولتے شہر کے ایک سرے سے دوسرے تک پہنچ سکتے ہیں۔ کسی نے شاہدرہ سے للیانی کا سفر کرنا ہے تو ڈال ڈال جھولتا کچھ دیر میں پہنچ جائے گا۔ نہ صرف اس کی صحت بہتر ہو گی بلکہ شہر میں ہسپتالوں کا خرچ بھی ختم ہو جائے گا۔ راستے میں تھکن ہو تو مسافر کنارے پر آم کے درخت پر کچھ دیر بریک لے سکتا ہے اور ڈال پر بیٹھ کر ٹھنڈے میٹھے آموں کے ذریعے اپنی کھوئی ہوئی توانائی بحال کر سکتا ہے۔

مختلف بڑے درختوں پر سٹاپ بھی بنائے جا سکتے ہیں جن پر مچان باندھے تربیت یافتہ سرکاری عملہ تعینات ہو گا۔ ان درختوں پر شہری سیڑھی کے ذریعے چڑھیں گے اور سرکاری عملہ ان کو رسے پر بٹھا کر دھکا دے دے گا۔

کراچی میں سمندر سے ہوا رکنے اور ہیٹ ببل (گرمی کا غبارہ) بننے کے عمل کو بھی یہ درخت روکیں گے۔ سرکلر ریلوے کے منصوبے کی بجائے کراچی میں دو بلین ٹری کے منصوبے پر کام کیا جانا چاہیے۔ پشاور میں تو خیر پہلے ہی ایک ارب درخت لگے ہوئے ہیں، ادھر صرف سرکاری رسیاں لٹکانے کی ضرورت پڑے گی جن پر شہری ٹارزن کی طرح جھول سکیں۔

یہ منصوبہ ہوا صاف کرنے کے علاوہ کرپشن بھی صاف کرے گا کیونکہ ان رسیوں پر چین کی طرح تین برسوں میں تین سو کرپٹ وزرا کو پھانسی دے کر پاکستان کو سپر پاور بھی بنایا جا سکتا ہے۔ اس ضمن میں بھی ہمیں شریف برادران سے کوئی امید نہیں ہے اور خان صاحب سے ہی توقع ہے کہ وہ اس نیک کام کا آغاز کریں گے۔ یعنی آم کے آم گٹھلیوں کے دام والا معاملہ ہو گا۔ (ختم شد)۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 1040 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar