اسلام کو امن کا دین رہنے دیجئے


آج کا بلاگ لکھتے ہوئے بہت ڈر لگ رہا ہے۔ پرسوں سے سوچ رہی ہوں کہ لکھوں یا نہیں۔ ہمیں پڑھنے والے اس بات سے بخوبی آشنا ہیں کہ ہم زیادہ سوچنے سمجھنے کے قائل ہیں نہیں۔ لیکن کیا کیجئے کہ جان چیز ہی ایسی ہے۔ باوجود اس کے کہ دنیا دل لگانے کی جگہ نہیں ہے اسے چھوڑنے کا جی کسی کا نہیں چاہتا۔ دل و دماغ کی کشمکش میں دل ہلکا سا حاوی ہو ہی گیا اور اسی لئے ہم آپ کی خدمت میں حاضر ہیں۔

دماغ نے بہت روکا کہ اس پنگے میں نہ پڑو لیکن دل یہی کہتا رہا کہ اگر کل کو تاریخ پڑھی گئی تو ہمارا شمار دیوار کے کس رخ کھڑے لوگوں میں ہو گا۔ بس آنا ہی پڑا۔

رمضان رحمتوں اور برکتوں کا مہینہ ہے۔ شیطان قید کر دیے جاتے ہیں۔ روزہ رکھنے والوں کے لئے تو یہ اہم ہے ہی لیکن باقی لوگ بھی اس مہینے کا تقدس بخوبی فضا میں محسوس کر سکتے ہیں۔ ہر طرف ایک پرکیف سماں ہوتا ہے۔ اسلام کی آمد سے پہلے بھی عربوں میں رمضان حرمت کا مہینہ کہلاتا تھا۔ اس مہینے میں کسی بھی قسم کی جنگ یا محاذ آرائی سے گریز کیا جاتا تھا۔

لیکن سیالکوٹ میں پیش آنے والے واقعے نے ہم مسلمانوں کے سر بھی شرم سے جھکا دیے ہیں۔ چھتی گلی میں واقع احمدیہ کمیونٹی کی ایک قدیم ’عبادت گاہ‘ اور مقدس مکان کو  مسمار کیا گیا۔ اس ضمن میں متضاد آرا سامنے آ رہی ہیں۔ کچھ کے خیال میں یہ ناجائز تجاوزات کے زمرے میں آتی ہے۔ عجیب بات یہ ہے کہ سو سال سے پرانی یہ عمارتیں تو اب ہیریٹج کے زمرے میں آتی تھیں۔ کیا کل کو پرانے لاہور کو بھی کاٹ گرایا جائے گا؟

دوسری اور بہت واضح وجہ مذہبی منافرت ہے۔ کہا یہی جا رہا ہے کہ قادیانی کارڈ کا استعمال کرنے والی لبیک پارٹی اس میں ملوث ہے۔ یوں تو وطن عزیز کی بنیاد اسلام پر رکھی گئی تھی لیکن بانی پاکستان قائد اعظم کی مشہور تقریر میں اس بات کا اعلان تھا کہ پاکستان میں سب کو اپنی عبادت گاہوں میں آزادی سے عبادت کا حق حاصل ہے۔ شاید ان کو اپنی قوم کے آنے والے مستقبل سے آشنائی  نہ تھی۔ یہاں مذہب کے نام پر خون کی جو ہولی آنے والے دنوں میں کھیلی جانی تھی اس سے قائد اعظم واقف نہ تھے۔

اس واقعے نے جہاں ہم جیسے تمام پرامن مسلمانوں کا سر شرم سے جھکا دیا ہے جو یہ سوچتے ہیں کہ اےاللہ کے نبیﷺ اسلام تو امن کا دین ہے مگر ہمارے بیچ رہنے والے غیر مسلموں کو مسلمانوں سے امن حاصل نہیں ہے۔ ہمیں اس بات پر بھی شرم آتی ہے کہ ہم رمضان کی حرمت کو قائم نہ رکھ سکے۔ اس واقعے نے بحیثیت پاکستانی بھی ہمیں قائد اعظم کی نظروں میں گرا دیا ہے کہ ہم آپ کے لفظوں کی لاج نہ رکھ سکے۔ جھنڈے کے سفید حصے کو سرخ دھبوں سے نہ بچا سکے۔

احمدی بھائیوں کے سامنے تو کچھ کہنے کی ہمت ہی نہیں رکھتے۔ وہ مسلمان ہیں یا نہیں یہ ایک علیحدہ بحث ہے۔ ہم تو بس اتنا جانتے ہیں کہ اسلام امن کا دین ہے۔ رمضان حرمت کا مہینہ ہے۔ اور پاکستان میں سب کو مذہبی آزادی حاصل ہے کہ اپنی عبادت گاہوں میں جا سکیں۔ افسوس کہ ہم سے کچھ بھی بن نہ پایا۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں