ماہِ میر


khurram suhail

پاکستان میں خدائے سخن’’ میرتقی میر‘‘ کی شخصیت اور شاعری کے تناظر میں بننے والی پہلی فلم۔

پاکستان میں سوانحی طرز کی فلمیں بننے کی تاریخ گویا بہت طویل نہیں ،مگر اِکا دُکا فلمیں دکھائی دیتی ہیں،جن کو دیکھنے سے یہ اندازہ ہوتاہے۔ ہر دور میں کسی نہ کسی طرح اس طرز کی فلمیں بھی بنتی رہیں۔ یہاں میری مراد ادبی شخصیات پر بننے والی فلمیں ہیں۔اس کی ایک مثال مرزا اسد اللہ غالب کی ہے، جن پر کئی ایک فلمیں بنائی گئیں۔ 1954میں ایک فلم ’’غالب ‘‘بنی، جس کے کہانی نویس سعادت حسن منٹو تھے،مکالمہ نویس راجند سنگھ بیدی اور گیت نگار شکیل بدایونی تھے۔

1962 میں ایک اور فلم ’’غالب‘‘ کے نام سے بنی جس کے مرکزی اداکاروں میں نورجہاں اور سدھیر تھے۔ اس فلم کے ہدایت کار سید عطا اللہ شاہ ہاشمی تھے، جبکہ شورش کاشمیری کہانی نویس اور گیت نگار طفیل ہوشیارپوری تھے۔اسی طرح مختلف تاریخی شخصیات پر بھی فلمیں بنائی جاتی رہیں۔ کچھ عرصہ قبل بنائی گئی فلم ’’منٹو‘‘ کے ذریعے سعادت حسن منٹو کی زندگی کا منظرنامہ پیش کرنے کی کوشش کی گئی۔ اس فلم کے ہدایت کار اور مرکزی اداکار سرمد کھوسٹ تھے۔

زیرنظر فلم ’’ماہِ میر‘‘ کا تعلق خدائے سخن میر تقی میر کی شخصیت اور شاعری کے حوالے سے پاکستان میں بننے والی پہلی فلم ہے جو 6 مئی 2016 کو پاکستان بھر میں نمائش کے لیے پیش کی جائے گی۔ فلم کا مرکزی خیال ایک شاعر کے حالات زندگی سے متعلق ہے جس کا موازنہ عہدِ حاضر کے ایک نوجوان شاعر کی زندگی سے کیا گیا ہے۔ وہ کس طرح اپنی Pic 5تخلیقی جدوجہد کے لیے کٹھن حالات کا سامنا کرتا ہے۔یہ فلم اردو کے عظیم شاعر’’میرتقی میر‘‘کی زندگی کی جھلکیاں دکھاتی اور شاعری کا عکس پیش کرتی ہے۔ نوجوان شاعر کا کردار معروف اداکار اور میزبان ’’فہد مصطفیٰ‘‘ نے نبھایا ہے جبکہ ان کے مدمقابل معروف ماڈل اور اداکارہ ’’ایمان علی‘‘ ہیں۔ دیگر اداکاروں میں علی خان،صنم سعید،پارس مسرور اور دیگر شامل ہیں۔

فلم کی موسیقی بہت شاندار ہے، اس فلم کے موسیقار شاہی حسن ہیں۔ جبکہ احمد جہانزیب نے بھی دو گیت کمپوز کیے ہیں۔ میر تقی میر اور سرمد صہبائی کی شاعری کو گیتوں میں ڈھالا گیا ہے۔ سوائے دو گیتوں کے ابھی موسیقی کے حوالے سے فلم سے متعلقہ ادارے نے اب تک کوئی تفصیلات جاری نہیں کیں۔ جہاں تک ان دونوں گیتوں کی بات ہے، تو یہ دونوں اپنی گائیکی، شاعری اور دھنوں میں باکمال ہیں جن کو سماعت کرنے کے بعد واقعی میر کا خیال آتا ہے۔

’’ماہِ میر‘‘ کی موسیقی اور ویڈیو لانچنگ کے موقع پر، تینوں فلم ساز ’’خرم رانا، ساحر رشید، بدر اکرام‘‘ اور ہدایت کار ’’انجم شہزاد‘‘ کے علاوہ، اداکاروں میں فہد مصطفی، ایمان علی اور علی خان بھی موجود تھے۔ بقول فلم سازوں کے اس فلم کو پوری طرح میر کی زندگی پر بننے والی فلم نہیں کہا جا سکتا، البتہ اس میں بہت سارے مناظر ایسے دیکھنے کو ملیں گے جن سے ہم میر تقی میر کی زندگی کی جھلکیاں دیکھ سکتے ہیں۔ مگر اس فلم کا مرکزی خیال ’’فکشن‘‘ پر مبنی ہے۔ اس فلم کے کہانی نویس معروف شاعر اور ڈرامہ نگار ’’سرمد صہبائی ‘‘ ہیں۔ تمام فنکار فلم کی کامیابی کے لیے پرجوش ہیں۔

Pic 2فلم کے مرکزی کردار فہد مصطفی نے کہا ’’میں نے پوری کوشش کی ہے، فلم کا جو مزاج ہے، جس میں بالخصوص زبان و ادب کا رکھ رکھاؤ ہے، میں اس پر پورا اتروں، اس سلسلے میں سرمد صہبائی کی بے پناہ معاونت حاصل رہی۔ جس کی وجہ سے میں اس کردار کو بخوبی نبھا پایا۔‘‘ایمان علی کہنے لگیں ’’میں سمجھتی ہوں، میں اچھی اردو میں بات کر سکتی ہوں،اسی لیے مجھے اس فلم کا مرکزی کردار ملا۔ میں نے اس فلم کے لیے اچھی اردو اور لہجے کے علاوہ رقص پر بھی بہت محنت کی ہے۔ آج بھی میرے سرہانے فیض احمد فیض کا مجموعہ کلام ’’نسخہ ہائے وفا‘‘رکھا ہوتا ہے، فیض کی شاعری سے محبت نے بھی اس فلم میں اپنارنگ دکھایا ہے۔‘‘

پاکستانی فلمی صنعت میں شعر و ادب کا پس منظر رکھنے والی شخصیات پر بھی فلمیں بنانے کا رجحان بڑھا ہے۔ فلمی صنعت کو فروغ دینے کے لیے یہ ایک اچھی ترکیب ہے۔ مگر یہ یاد رہے کہ ادبی ناظرین کی پسندیدگی اور معیار کا خیال رکھنا سب سے ضروری شے ہے۔ کیونکہ وہ اپنی پسندیدہ ادبی شخصیت کو اسکرین کے پردے پر دیکھنے کے خواہاں تو ہیں مگر وہ حقائق کے ادھورے یا مسخ ہونے کے قائل نہیں۔ جس طرح حال ہی میں سعادت حسن منٹو پر بنائی جانے والی فلم ’’منٹو‘‘ پر Pic 1ادبی حلقوں سے سخت ردعمل آیا،کیونکہ فلم کے ہدایت کار نے اس کو سعادت حسن منٹو کی زندگی پر بننے والی فلم قرار دیا تھا، مگر جب یہ ریلیز ہوئی تو حقائق اس کے برعکس تھے۔ فلم ’’ماہِ میر‘‘ کے لیے بھی اب فلم بینوں کے ذہن میں ابہام ہے کہ گویا یہ فلم میر تقی میر کی شخصیت اورحالات زندگی سے کتنی قریب ہوگی؟ اب اس بات کا اندازہ تو فلم کی نمائش کے بعد ہی ہوسکے گا، لیکن مثبت بات یہ ہے کہ اب فلم سازوں کو ایسی فلمیں بنانے کا .خیال آنے لگا ہے۔اس رجحان کو فروغ ملنا چاہیے تا کہ ادبی شخصیات پر معیاری فلمیں بنانے کا رجحان زور پکڑ سکے اور معاشرے میں ختم ہوتی جمالیات کے احساس کو واپس لایا جا سکے۔


Comments

FB Login Required - comments