جو قوم کتابیں نہیں پڑھتی


zunaira-saqib-3

ہمارے ایک بہت پہنچے ہوئے عزیز ہیں جن کا پسندیدہ مشغلہ مذہب اور سیاست پر بحث کرنا ہے۔ یہ بحث عام طور پر وہ اپنے ’فیس بکی علم‘ کی بنیاد پر کرتے ہیں۔ عموی طور پر پر ہم ان سے گفتگو کرنے سے پرہیز ہی فرماتے ہیں کیوں کہ بحث کا انجام زیادہ تر عورتوں کے ناقص العقل ہونے پر ہوتا ہے۔ لیکن ایک دن بحث میں کچھ ایسی بات چھڑی کہ اس کا ذکر نہ کرنا زیادتی ہو گی۔ بات تو پتہ نہیں کیسے شروع ہوئی لیکن یہ یاد ہے کہ ان کے ایک بے وقوفانہ ریفرنس کے جواب میں ناقص العقل عورت نے فرما دیا کہ جو قوم کتابیں نہیں پڑھتی اس کا کچھ نہیں ہو سکتا۔ جواب میں کہنے لگے اگر کتابیں پڑھ کر لوگ اپنے مذہب اور رسم و رواج کی نفی کرنے لگیں تو اس سے بہتر ہے کے وہ کتابیں نہ ہی پڑھیں۔ ظاہر ہے اشارہ کچھ مابدولت کی طرف ہی تھا۔ یہاں بحث تمام ہوئی لیکن مجھے سوچنے پر مجبور کر گئی کہ آخر اس قوم کی کتابوں سے بغض کی وجہ آخر ہے کیا؟

ایک تو سمجھ میں آتا ہے کہ بچوں کے کندھوں پر بستوں اور پوزیشن لانے کا بوجھ اتنا ہے کے ان کو اپنے نصاب کے علاوہ کوئی کتاب پڑھنے کی نہ فرصت ہے اور نہ ہی والدین اور استاد اس بات کی حوصلہ افزائی کرتے نظر آتے ہیں۔ آخر نصاب سے ہٹ کر کتابیں پڑھنے کا فائدہ بھی کیا ہے؟ امتحان میں ’میرا گھر‘ پر مضمون میں سب نے وہی لکھنا ہے جو کہ کلاس میں استاد نے ’اپنے گھر‘ کے بارے میں لکھوایا تھا۔ ہر عرضی کا آغاز ’آئی بیگ ٹو‘ سے ہی کرنا ہے

یہ کتابیں نہ پڑھنے کا نقصان ہی ہے کہ جس کی وجہ سے ہماری قوم کوئی متبادل نظریہ سننے کو تیار ہی نہیں ہوتی۔ کیا آپ لوگوں کو احساس ہے کہ آپ کے ارد گرد زیادہ تر لوگوں کے نظریات اور زندگی گزارنے کے طریقے وہی ہیں جو ان کی پچھلی نسل کے تھے۔ ان طور طریقوں پر اعترض کرنا اور ان پر سوال اٹھانا سیدھا سیدھا توہین کے زمرے میں آتا ہے۔ سوال اٹھانے والے کو باغی، ملحد، ایجنٹ اور پتہ نہیں کیا کیا لقب دیے جاتے ہیں۔ کتابیں پڑھ کر سوال پوچھنا کیسے غلط ہو سکتا ہے؟ تحقیق اور جستجو کیسے غلط ہو سکتی ہے؟ کیا ہمارے عقیدے، رسوم و رواج، اور مذہب اتنے کمزور ہیں کے وہ سوال اٹھانے سے خطرے میں پڑ جاتے ہیں؟

کتابیں پڑھنے کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ آپ دنیا کے سب سے ہوشیار انسان بن جائیں گے لیکن اس بات کی ضمانت ضرور ہے کہ یہ آپ کو آپ بہتر تعلیم یافتہ بنا دے گی۔ آپ بات کرتے ہوئے کسی مصدقہ حوالہ سے بات کریں گے، ہوا میں ٹامک ٹویاں نہیں ماریں گے۔ پاکستان میں کتابیں پڑھنے والوں کی تعداد کا اندازہ آپ اس بات سے کر سکتے ہیں کہ مشہور سے مشہور لکھاری بھی اپنی کتاب کی ڈر ڈر کے 500 کاپیاں چھپواتا ہے۔ کوئی پتہ نہیں اس میں سے بھی آدھی واپس گھر کو آ جائیں اور پھر ان کو رکھنے کے لئے جگہ بنوانی پڑے۔

یہ کتابیں پڑھنے کی عادت ڈالنا ایک دن یا ایک ہفتے کا کام نہیں ہے۔ ایک پوری نسل کو ٹریننگ دینی پڑتی ہے تب کہیں جا کر پودا درخت بنتا ہے۔ بچوں میں جب پڑھنے کی عادت ہو گی تو خود بخود آئندہ آنے والی نسلیں کتابیں پڑھنے کا شوق رکھیں گی۔ بچوں میں پڑھنے کی عادت کو فروغ دینے کے لئے ضروری ہے کہ آپ اپنی مصروف زندگی میں سے 5-10 منٹ نکالیں اور ان کو رات سوتے وقت ایک کہانی کتاب میں سے پڑھ کر سنا دیں۔ یہ سچ ہے کہ تمام بچوں کو پڑھنے کا قدرتی شوق نہیں ہوتا لیکن یہ بھی سچ ہے کہ زیادہ تر بچوں میں اس شوق کو فروغ دیا جا سکتا ہے۔ آخر کوئی تو وجہ ہو گی نا کہ جرمنی، سوئٹزر لینڈ، امریکا، تھائی لینڈ، چین، اور انڈیا میں ایک اوسط شہری ایک ہفتے میں 5-10 گھنٹے پڑھتا ہے۔ کیا آپ کو ان قوموں کی ترقی کرنے اور پڑھنے کی عادت میں کوئی مماثلت نظر آتی ہے؟

سچ تو یہ ہے کہ یہ کتابیں ہی تھیں جن کی وجہ سے میں نے اور بہت سے اور لوگوں نے سوال اٹھانا شروع کیا۔ جی ہاں وہی سوال جن کو اٹھانا یہاں گناہ کبیرہ سمجھا جاتا ہے۔ لیکن پھر سوال یہ ہے کہ وہ تمام لوگ جو کتابیں پڑھ کر سوال اٹھانے کو گناہ سمجھتے ہیں آخر ان لوگوں سے کس طرح مختلف ہیں جو زمانہ جاہلیت میں اپنے پیشرو کے طریقے چھوڑنے کو تیار نہ تھے۔ چھوڑنا تو دور کی بات ہے انھوں نے سوال اٹھانے والے مظلوموں پر ہر طرح کے ستم توڑ ڈالے۔ آج خیر سے انہی مظلوموں کی امت نے سوال اٹھانے پر پابندی لگا ڈالی ہے۔ کتابیں پڑھ کر اور سوال اٹھا کر ہی ہم دین اور دنیا کو بامعنی انداز میں سمجھنے کی صلاحیت پیدا کر سکتے ہیں۔

کتابوں کی دشمن، سوالوں کی دشمن قوم کا کچھ نہیں ہو سکتا۔


Comments

FB Login Required - comments

6 thoughts on “جو قوم کتابیں نہیں پڑھتی

  • 26-04-2016 at 7:52 pm
    Permalink

    Agreed

    • 27-04-2016 at 12:42 am
      Permalink

      مجھے آپ کی اس بات سے صد فیصد اتفاق ہے ـکتاب پڑھنا اور پڑھانے کی ترغیب دینا ہر باشعور انسان کا مشغلہ ہو سکتا ہے مگر اس شعور کو بیدار کرنے کے لیے ہماری نصابی کتب اور گھریلو ماحول بھی اپنا اہم کردار ادا کر سکتے ہیں ـ کتب بینی کسی بھی معاشرے کی ثقافت کا ایک حصہ ہوتی ہے اور اسے بطورِ فرض ایک نسل سے دوسری نسل تک منتقل کیا جاتا ہے. یہ کام ہمارے یہاں صرف دینی.کتب اور نصابی کتابوں تک محدود ہے ـ اچھی اور معلوماتی کتاب جو کم قیمت بھی ہو اس کی اشاعت کو ممکن بنایا جائے اور لائیبریرز کلچر پروان چڑھایا جائے ـ اس سلسلے میں والدین. درسگاہ اور ریاست کو اپنا بھرپور تعاون کرنا ضروری ہے ـ اگر علم کی اہمیت اور افادیت ڈگریوںاور اعلیٰ نوکریوں کا حصول رہیں گی تو غیر نصابی کتاب پڑھنے کا رجحان کبھی بھی نہیں بڑھ پائے گا ـ دینی کتابیں بھی علم اورقابلیت کا دائرہ وسیع کرنے میں کچھ کارفرماں نہیں ہوتیں ـ تنگ نظری سے باہر نہیں نکال پاتیں ـ

  • 26-04-2016 at 8:54 pm
    Permalink

    You wrote a very good paper. Here are my two cents.

    انسان دنیا میں تقریبا” 200 ہزار سال پہلے نمودار ہوئے۔ انہوں نے آہستہ آہستہ بولنا، چلنا، ہتھیار اور آلات بنانا اور پھر لکھنا پڑھنا سیکھا۔ جب انسان نے اپنے خیالات اور معلومات کو لکھ کراگلی نسلوں تک منتقل کرنا سیکھ لیا تو اس سے انسانی ترقی میں کہیں زیادہ تیزی واقع ہوئی۔ سدھارتا مکھرجی نے “ایمپیرر آف آل ملاڈیز ” کے نام سے نہایت عمدہ کتاب لکھی ہے۔ یہ کتاب کینسر کی بائیوگرافی کے بارے میں ہے۔ دنیا میں کینسر کی تاریخ اور اس فیلڈ میں کی گئی ترقی کو مصنف نے بہترین انداز میں بیان کیا ہے۔ یہ کتاب لکھنے پر ڈاکٹر مکھرجی کو 2011 کا پولیٹزر ایوارڈ بھی دیا گیا ہے۔

    http://authors.simonandschuster.com/Siddhartha-Mukherjee/49784674

    امریکہ میں ہر سال تقریبا” 300 ہزار سے زیادہ کتابیں لکھی جاتی ہیں۔ یہ تعداد انڈیا میں تقریبا” 83 ہزار ہے۔ ایک اندازے کے مطابق پاکستان میں 2010 میں تقریبا” 45 ہزار کتابیں چھاپی گئیں۔ پاکستان میں جب کتابیں چھاپی جاتی ہیں تو ان کی تعداد کافی کم ہوتی ہے۔ جیسے کہ ایک ملین نہیں بلکہ ایک ہزار یا دس ہزار وغیرہ۔ 50 فیصد افراد لکھنا پڑھنا نہیں جانتے ہیں۔ جو لوگ لکھتے بھی ہیں وہ بھی پہلے سے لکھا ہوا اور پرانے خیالات ہی کاپی کرکے آگے بتاتے ہیں۔ نئی تھیوری یا آئیڈیا زوغیرہ سامنے لانے کا کانسیپٹ ابھی زیادہ عام نہیں ہوا ہے۔ حالانکہ ای بکس، آڈیو بکس اور انٹرنیٹ نے چھپی ہوئی کتابوں کی جگہ معلومات کو پھیلانے میں ایک اہم حصہ ادا کیا ہے، یہ راستے کتابوں کا نعم البدل نہیں ہیں۔ کتاب پڑھنے اور لکھنے کے کئی فائدے ہیں۔ لفظ اتھارٹی ، لفظ آتھر یعنی کہ لکھاری سے نکلا ہے۔ اگر آپ ایک تعلیم یافتہ انسان ہیں اور اپنی فیلڈ میں ماہر ہیں تو آپ کو اپنے مضمون میں کتابیں لکھ کر اس معلومات کو آگے ضرور بڑھانا چاہئیے۔ دنیا میں مثبت تبدیلی لانے کا ایک اہم طریقہ نالج کو آسان کرکے عام انسانوں تک پہنچانا ہے۔اردو میں موجود کتابوں میں مزہبی ، ثقافتی اور فکشن پر مبنی تحاریر کی بہتات ہے اور جدید سائنسی موضوعات کا فقدان ہے۔ اگر ہمارے بچے نان فکشن، میتھ، میڈیسن، فزکس اور کیمسٹری نہیں پڑھیں گے تو ہم کیسے یہ توقع کرسکتے ہیں کہ ان کو سائنس میں دلچسپی پیدا ہوگی؟ایک سال میں جرمن زبان میں جتنی کتابیں چھپتی ہیں ان کی تعداد ان سب کتابوں کو ملا کر ان سے زیادہ ہے جو آج تک عربی زبان میں لکھی گئ ہیں۔ ہم سب کے گھروں میں جرمن سائنسدانوں کی بنائی ہوئی اشیاء استعمال کی جارہی ہیں۔ہم سب بیماری میں جرمن ڈاکٹروں کی ایجاد کی ہوئی دوائیں کھاتے ہیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ تعلیم انسانی ترقی کے لئیے کتنی اہمیت کی حامل ہے۔اور یہ بھی کہ وہی قومیں ترقی کرتی ہیں جو اپنے تعلیم یافتہ لوگوں کی عزت کریں اور ان کے پیغام کو آگے بڑھانے میں ان کی مدد کریں۔ ترقی یافتہ ممالک میں اخبار اور کتابیں خریدنے اور ان کو پڑھنے کی شرح ترقی پزیر ممالک کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہے۔ اگر لوگ پڑھ نہیں سکتے تو جو پڑھ سکتے ہیں وہ ان کو پڑھ کر سنا سکتے ہیں۔ لیکن افسوس کی بات ہے کہ جب طاقت کا توازن بالکل بگڑا ہوا ہو تو انسان معلومات کو بھی طاقت کے غلط استعمال کے لئیے استعمال کرنے لگتے ہیں۔

    کتاب لکھنے کے کئی فائدے ہیں۔ جب آپ کتاب لکھنا شروع کرتے ہیں تو اپنی فیلڈ میں کی ہوئی ریسرچ کو پڑھنے سے آپ کی اپنی معلومات میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔ آپ کی آواز لوگوں تک پہنچتی ہے، جو پیغام آپ لوگوں تک پہنچانا چاہتے ہیں وہ ان تک پہنچتا ہے۔ انسان پیدا ہوتے ہیں ، بڑے ہوتے ہیں اور پھر اس دنیا سے گزر جاتے ہیں۔ لیکن انہوں نے جو ریسرچ کی ہوتی ہے اور جومعلومات اگلے انسانوں تک پہنچائی ہوتی ہیں ان سے دنیا میں لوگوں کا بھلا ہوتا رہتا ہے۔ اور مستقبل میں آنے والے لوگ اس کو بنیاد بنا کر اس سے بڑا مینار بنانے کے قابل بنتے ہیں۔

    پاکستان میں خواتین میں تعلیم کی شرح افسوسناک حد تک کم ہے۔ جو خواتین پڑھی لکھی نہیں ہوتیں ان کے بچے بڑے ہو کر کم پڑھے لکھے اور غریب بنتے ہیں۔ ہمارے ملک کی ترقی کے لئیے ضرور ی ہے کہ حالات کو خواتین اور بچوں کے لئیے محفوظ بنایا جائے ۔ یہ ادھر ادھر جلسے ولسے کرکے لوگوں کا وقت برباد کرکے کس کو فائدہ ہوتا ہے؟ اسکول ، راستے ، دفتر بند کرنے سے ملک کیسے ترقی کرے گا؟

    ایک صاحب نے “وہ سب کچھ جو آپ کو ذیابیطس کے بارے میں جاننے کی ضرورت ہے” کتاب کے ایڈ کے نیچے کافی منفی تبصرہ کیا کہ اس کتاب کو لکھنے کا مقصد پیسے بنانے کا کچھ چکر ہے۔ تو اس کا جواب یہ ہے کہ میری کافی اچھی نوکری ہے۔ اس سے مجھے ٹھیک ٹھاک پیسے ملتے ہیں۔ اور کتاب میں نے اپنے پیسے دے کر چھپوائی ہے۔ اردو میں تو بیچارے بڑے بڑے نام جن کو میں ذاتی طور پر جانتی ہوں ، کچھ پیسے نہیں بنا سکتے۔ ان کی شاعری، کتابیں سب چوری چکاری کے ہاتھ لگ کر سب ملیا میٹ ہے۔ یہاں تک کہ پبلشر تک مسودے چوری کرکے دوسرے ناموں سے چھاپ دیتے ہیں۔ اندھیر ہے۔ آپ ان لوگوں کو پکڑ نہیں سکتے۔ اتنا فالتو ٹائم کس کے پاس ہے متھا ماری کورٹ کچھری کرنے کے لئیے۔؟سارے سفید پوش ہیں۔ بس واہ واہ سننے کے لئیے کتابیں لکھتے ہیں۔ مگر تبدیلی آنے کی ضرورت ہے۔ دنیا بہت آگے نکل گئی ہے۔ اس سے کچھ سیکھنے کی ضرورت ہے۔ اگر کسی آتھر کی کتاب بہت کامیاب ہوتی ہے اسے بہت سے لوگ خریدتے ہیں، پڑھتے ہیں اور ان کو تقریر کرنے کے لئیے دعوت دیتے ہیں تو ان سب باتوں میں کیا برائی ہے؟ یہاں یونیورسٹی میں ہر ہفتے آتے ہیں لوگ لیکچر دینے، ہم ان کی کتابیں آتھر سے سائن کرواتے ہیں۔سدھارتا مکھرجی بھی آئے تھے یہاں۔ دنیا میں ساری چیزیں ہم صرف پیسوں کے لئیے نہیں کرتے۔ اور لوگوں کو ان کے وقت اور کاوش کے لئیے معاوضہ حاصل کرنے کا پورا حق ہے۔ چاہے وہ کسی بھی قسم کی خدمت سرانجام دیتے ہوں۔ پولیس، ڈاکٹر، ٹیچر، مزدور ، انجینئر یا اور کوئی بھی کام کرنا اور اس کی تنخواہ وصول کرنا ایک نارمل بات ہے۔تو اگر مجھے کتاب سے فائدہ ہوبھی جائے گا تو یہ تو بہت اچھی بات ہے۔اگر کوئی لکھاری صرف کتابیں لکھتا ہے اور اس سے اپنا گھر چلاتا ہے تو اس میں بھی کیا برائی ہے؟ ایب نارمل بات تو یہ ہے کتابیں چرائی جائیں، وڈیو کی نقلیں بنائی جائیں، 40 سال سے بجلی کا بل نہ دیا جائے اور ٹیکس کی چوری کی جائے۔

    دنیا میں پیسوں کے بارے میں یہ کتاب پڑھنے کے لائق ہے۔اس کتاب میں لکھاری نے بہت اچھے طریقے سے اس بات کو بیان کیا ہے کہ دنیا میں محنت کرنا، آگے بڑھنا، دولت کمانا اور اس دولت سے انسانوں کے کام آسکنے میں کوئی قباحت نہیں۔

    http://www.amazon.com/Rich-Dad-Poor-Teach-Middle/dp/1612680011/ref=sr_1_1?s=books&ie=UTF8&qid=1356541420&sr=1-1&keywords=rich+dad+poor+dad#reader_1612680011

    سارے ترقی یافتہ ممالک میں حکومتیں باقائدہ ریسرچ کے لئیے بجٹ بناتی ہیں۔ نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ ہر سال ان گنت گرانٹس دیتا ہے جس سے لوگ ماسٹرز اور پی ایچ ڈی کی ریسرچ کرتے ہیں اور کتابیں لکھتے ہیں۔ یہاں تو ریسرچ کرنے والوں کو تنخواہ وصول کرنے پر کوئی منفی تبصرے نہیں دیتا۔ ان سے کوئی نہیں کہتا کہ ساری ریسرچ تو ہوچکی ہے تم اور کیا کرلو گے؟تبھی یہ لوگ چیزیں ایجاد کرتے ہیں اور ہم صر ف ان سے لئیے ہوئے قرضے کے پیسے سے وہ چیزیں خریدتے ہیں۔

    اردو بلاگ پڑھتے رہئیے، اردو کتابیں بھی ضرور خریدئیے اور پڑھئیے اپنے عزیزوں کو تحفے میں دیجئیے، اپنے شعبے میں ترقی کیجئیے۔ آپ بھی ہمت نہ ہارئیے اور اپنی کتاب لکھئیے۔ دنیا کو آگے بڑھائیے۔ شکریہ

    لبنیٰ مرزا-ایم ڈی

    ذیابیطس اسپیشلسٹ

  • 27-04-2016 at 12:40 am
    Permalink

    Well said

  • 27-04-2016 at 1:31 am
    Permalink

    زنیرہ ثاقب، دل باغ باغ ہوا، آپ کی تحریر پڑه کر… مدیر سے درخواست ہے، کہ ڈاکٹر لبنی کے ‘نوٹ’ کو الگ سے ‘بلاگ’ کی صورت نقل کیا جاے.

  • 27-04-2016 at 1:46 pm
    Permalink

    پرسنل لائبریری کے کلچر کو فروغ ملنا چاہئے. ہر گھر میں ایک چھوٹی سی لائبریری ہونی چاہیے. یہ بچوں کو اوائل عمری سے کتابوں کی طرف راغب کرنے کا ایک موثر طریقہ ہے.

Comments are closed.