وطن عزیز کے رنگ نرالے ہیں


Fazle Rabbi Rahiجناب سید مجاہد علی صاحب کی ویب سائٹ ’’کاروان‘‘ پر ایک خبر پڑھنے کو ملی جس کے تحت اوسلو (ناروے) میں ایک شدید بیمار شخص کی جان بچانے کے لیے ایف سولہ فائٹر جیٹ کا استعمال کیا گیا اور خصوصی طبی آلات کو متعلقہ ہسپتال جیٹ کے ذریعے تیس منٹ سے بھی کم وقت میں پہنچا دیا گیا۔ تفصیل کے مطابق ایک بیمار شخص کو ناروے کے علاقے بودو لے جایا گیا تاہم وہاں پر ای سی ایم او نامی مشین دستیاب نہیں تھی جس کے ذریعے دل اور پھیپھڑوں کو سپورٹ کیا جاتا ہے۔ ڈاکٹروں کے مطابق اس مشین کے بغیر متاثرہ شخص کی موت واقع ہوجاتی۔ یہ مشین تروند ہائم کے ایک ہسپتال میں دستیاب تھی تاہم یہ علاقہ 280 کلو میٹر دور تھا اور گاڑی سے وہاں پہنچنے میں دس گھنٹے کا سفر درکار تھا۔ ڈاکٹروں کو خدشہ تھا کہ مریض اس وقت تک زندہ نہیں رہ پائے گا۔ ڈاکٹروں نے تروندہائم کے قریب واقع ایک فضائی اڈے سے رابطہ کرنے کا فیصلہ کیا اور ان سے مشین کو بودو بروقت پہنچانے کی درخواست کی۔ لیفٹیننٹ کرنل بورج کلیپ نے مقامی میڈیا کو بتایا کہ اتفاقاً اس وقت تروندہائم کے قریب ہوائی اڈے سے دو پروازوں کو روانہ ہونا تھا۔ ڈاکٹروں کی جانب سے درخواست ملنے کے بعد انہوں نے ایک جہاز کو روک لیا جس میں کارگو ٹینک کے لیے جگہ موجود تھی۔ بعد میں ہم نے یہ جانچنے کی کوشش کی کہ طبی مشین کو جہاز میں فٹ کرنے کے لیے کون سی جگہ بہترین رہے گی۔ عام طور پر فوجیں اپنے شہریوں کو ایمرجنسی صورت حال میں امدادی کاموں کے سلسلے میں مدد فراہم کرتی ہیں تاہم یہ پہلی مرتبہ ہے کہ ایک انفرادی معاملے میں ایف 16 طیارے کا استعمال کیا گیا ہو۔

کرنل کلیپ نے بتایا کہ ’’عام طور پر ہمیں اس پرواز میں 35 منٹ لگتے ہیں، تاہم صورت حال کو مدنظر رکھتے ہوئے پائلٹ نے یہ سفر 25 منٹ سے بھی کم وقت میں طے کر لیا۔ ‘‘ڈاکٹروں کی جانب سے درخواست کے صرف 40 منٹ کے اندر مطلوبہ مشین بوڈو کے اسپتال میں موجود تھی۔کرنل کلیپ نے بتایا کہ عام طور پر ایف 16 طیارے بیرونی ٹینک کو ساتھ نہیں لے جاتے لیکن اس خصوصی ضرورت کو دیکھتے ہوئے جگہ بنائی گئی ہے۔ فضائیہ کے اس فوری اقدام کو ڈاکٹروں کی جانب سے سراہا گیا ہے۔

اس خبر کو پڑھ کر میرا ذہن سوات کے ان حالات کی جانب چلا گیا جب وہاں پہ ’’طالبان‘‘ قابض تھے اور ان کے خلاف پاک فوج نے آپریشن شروع کیا تھا۔ اُس وقت سوات میں شدت پسندوں کے خلاف کئی فوجی آپریشن ہوئے تھے لیکن ان فوجی آپریشنوں کے باوجود طالبان مسلسل طاقت پکڑ رہے تھے اور وہ سوات کے قرب میں واقع ضلع شانگلہ اور بونیر کی جانب کامیابی سے پیش قدمی کر رہے تھے۔ جب طالبان نے ان اضلاع میں بھی اپنی ’’طالبانی رِٹ‘‘ قائم کی تو پاک فوج نے حتمی فیصلہ کیا کہ اب سوات میں شورش فرو کرنے کے لیے حقیقی اقدامات اٹھانے ہیں اور ضلع شانگلہ و بونیر سے بھی ’’طالبان‘‘ کا خاتمہ کرنا ہے۔ اس ’’عظیم مقصد‘‘ کے لیے مئی 2009 ء میں اہل سوات کو ایک گھنٹے کے اندر اندر اپنے علاقے سے نکل جانے کا حکم صادر کردیا گیا اور جس بے سرو سامانی کی حالت میں پندرہ لاکھ سے زائد سواتیوں کو اپنے ہی ملک میں ہجرت کرنا پڑی، وہ ایک الگ دل سوز اور المیہ کہانی ہے۔

اس آخری آپریشن کے دوران اس وقت کے چیف آف آرمی سٹاف جناب اشفاق پرویز کیانی نے بڑے فخر سے اعلان کیا تھا کہ انھوں نے ایف سولہ طیارہ خود اڑا کر سوات میں ’’طالبان کے ٹھکانوں‘‘ پر بم باری کی ہے۔ یہ وہی ایف سولہ طیارے ہیں جنھیں عوام کے خون پسینے کی کمائی سے اس لیے خریدا گیا تھا کہ ان کے ذریعے پاک فوج بیرونی حملہ آوروں سے ملک کا دفاع کرے گی لیکن ان ہی طیاروں کو سوات میں برسرپیکار ان ’’طالبان‘‘ کے خلاف استعمال کیا گیا جن کے پاس کوئی خطرناک ہتھیار نہیں تھے اور جنہیں بعض ریاستی قوتوں کی پس پردہ حمایت بھی حاصل تھی۔ پھر ایسے فضائی حملوں میں شرپسندوں اور عام شہریوں کی تفریق مشکل ہی نہیں ناممکن ہوتی ہے۔ کیوں کہ ایسے لوگ ہمیشہ پرامن اور معصوم شہریوں کی آڑ لے کر اپنی مذموم کارروائیاں جاری رکھتے ہیں۔

سوات میں آخری فوجی آپریشن سے پہلے بھی دو ناکام فوجی آپریشن کے گئے تھے جن کے دوران قریباً ڈیڑھ سال مسلسل رات کا کرفیو نافذ کیا جاتا رہا تھا۔ کرفیو کا دورانیہ عموماً شام سات بجے سے شروع ہوتا اور صبح چھ یا سات بجے تک جاری رہتا۔ کبھی کبھی کرفیو دن کے وقت بھی نافذ کردیا جاتا۔ کرفیو کے دوران کسی زخمی یا شدید بیمار شخض کو شانگلہ یا سوات کے کسی دور دراز کے مقام سے سیدو شریف کے ہسپتالوں میں لایا جاتا تو اسے سکیورٹی چیک پوسٹوں پر روکا جاتا۔ کسی بھی شدید زخمی یا سیریس مریض کو کرفیو کے دوران ہسپتال لے جانے کی اجازت نہ تھی۔ انھیں چیک پوسٹ پر روکا جاتا اور جب کرفیو اٹھالیا جاتا تب مریض کو ہسپتال لے جانے کی اجازت دی جاتی۔ لیکن بعض اوقات مریض اسی چیک پوسٹ پر تڑپ تڑپ کر جان دے دیتا اور یا شدید تکلیف کی وجہ سے جاںکنی کے عالم میں پڑا رہتا لیکن کسی فوجی اہل کار کو ذرا سا بھی رحم نہ آتا۔ کیوں کہ اوپر سے یہی حکم دیا گیا تھا کہ کرفیو کے دوران مریضوں یا زخمیوں کو ہسپتال لے جانے کی اجازت نہیں۔

مہذب، متمدن اور انسانیت پرور ممالک میں کسی ایک مریض کی جان بچانے کے لیے ایف سولہ فائٹر جیٹ کو بھی استعمال کیا جاسکتا ہے اور ایمرجنسی کے دوران مریضوں کے لیے ان ممالک میں ہیلی کاپٹر کا استعمال تو ایک عام سی بات ہے لیکن ہمارے ہاں دشمن کے مقابلہ کے لیے خریدے گئے ایف سولہ طیارے ان لوگوں کے خلاف بھی استعمال کیے جاسکتے ہیں، جن کی خون پسینے کی کمائی سے یہی طیارے خریدے گئے ہیں۔ یہی نہیں بلکہ سوات میں تو شورش کے دوران ہم نے یہ بھی دیکھا ہے کہ کسی بم دھماکہ یا مبینہ خود کش حملہ میں اتنے لوگ نہیں مرتے جتنے اس کے بعد فوجی جوانوں کی طرف سے ’’حفظ ما تقدم ‘‘کے طور پر کی جانے والی اندھا دھند ‘ہوائی’ فائرنگ سے ہلاک ہو جاتے۔

وطن عزیز کے رنگ نرالے ہیں۔ یہاں الٹی گنگا بہنے میں کسی کو اعتراض نہیں۔ ہر معاملے میں غریب اور بے بس عوام ہی پستے ہیں۔ خواہ کسی معاملے کا تعلق جمہوری بادشاہوں سے ہو یا طاقتور عسکری حکمرانوں سے۔ ملک کی سلامتی اور وسیع تر قومی مفاد کے نام پر بے گناہ اور معصوم شہری تھوک کے حساب سے کٹ مریں لیکن مقتدرین کو اس کی پرواہ نہیں کیوں کہ اگر ملک کے دفاع کے نام پر عوام قربانی نہیں دیں گے تو اور کون قربانی کا بکرا بنے گا۔ قومی وسائل یا تو ہمارے جمہوری بادشاہوں اور ان کے چہیتوں کے لیے مختص ہیں اور یا ان کے لیے جو ملک و قوم کے وسیع تر مفاد میں اٹھائے گئے اپنے جائز و ناجائز اقدام ضروری ہی نہیں ناگزیر سمجھتے ہیں اور جن کے آگے دَم مارنے کی کسی میں جرأت ہے اور نہ حوصلہ۔

  بھائی فضل ربی راہی، دنیا کی کوئی بھی فوج جب کارروائی کرتی ہے تو اپنے ہتھیاروں  کا انتخاب غنیم کے پتھیاروں کی مطابقت سے نہیں کرتی۔ فوجی کارروائی کا  مقصد کم از کم جانی نقصان اٹھا کر دشمن کو زیر کرنا ہوتا ہے۔ چنانچہ ہر فوج اپنے بہترین ہتھیار بروئے کار لاتی ہے۔ سوال یہ نہیں کہ طالبان کے ہتھیار کس قدر   خطرناک تھے۔ نکتہ یہ ہے کہ انہوں نے پاکستان کے لاکھوں شہریوں کو یرغمال بنا رکھا تھا اور اپنا تصور معاشرت اور سیاست مسلط کرنے میں بے رحم تھے۔  آپ کا یہ استدلال محل نظر ہے کہ آپ زمانہ امن کے ایک ترقی یافتہ ملک کا مقابلہ حالت جنگ میں گھرے ہوئے پاکستان کے ایک دور دراز علاقے سے کر رہے ہیں۔  مدیر


Comments

FB Login Required - comments