’ پاکستانی ثقافت ‘ سے استغراقی مکالمہ


naseer nasirنصیر احمد ناصر

یہ کالم دراصل عکسی مفتی کی کتاب ’پاکستانی ثقافت‘اور قاری یعنی ریڈر کے درمیان استغراقی مکالمہ ہے۔ یہ کتاب انتہائی دلچسپی اور زبان و بیان کی سادگی اور مطالعہ پذیری کی حامل ہے، جو مطالعہ کنندہ کے ذہن کو دورانِ مطالعہ نہ صرف رواں اور متحرک رکھتی ہے بلکہ سنجیدہ فکری سوالات اٹھانے کے ساتھ ساتھ خوش مذاقی اور حاضر جوابی کی کیفیت بھی ابھارتی ہے اور خوامخواہ لکھنے پر بھی اکساتی ہے۔ کتاب کے مصنف عکسی مفتی اور قاری یا ریڈر کے درمیان انشائی طرز کا یہ دو کرداری مکالمہ ایک طرح سے دوران مطالعہ بے ساختہ قلم بند ہونے والا خراجِ تحسین ہے اوراس کتاب کی صنفی و متنی خوبیوں کا اعتراف ہے۔

عکسی مفتی: چوہا ہم پر بازی لے گیا۔ وہ منزل تک رسائی کے لیے طریقہ کار بدل لیتا ہے۔ نیا راستہ اختیار کر لیتا ہے۔ نئی روش نئے اسلوب سے مسئلے کا حل تلاش کرتا ہے۔ منزل نہیں چھوڑتا۔ اندازِ نظر بدل لیتا ہے۔
ریڈر: جناب وہ چوہا ہے۔ ہم چوہے نہیں، شاہ دولا کے چوہے ہیں۔ ہمارے سروں پر لوہے کے ٹوپ چڑھے رہے۔ ہماری ذہنی ثقافت پروان چڑھنے سے پہلے ہی خفیف بلکہ خفیفہ کر دی گئی۔ ہمارے کاسہ گیر سر بڑے نہیں ہو سکتے۔ کچھ بھی ہو جائے ہم راستہ نہیں بدل سکتے۔ اندازِ نظر نہیں بدل سکتے۔ سر نہیں بدل سکتے۔ سر نہیں بدل سکتے۔ بدلنے کی کوشش کی تو آپ، ہم، سب اچھی طرح جانتے ہیں کہ قورچی ہمارے ساتھ کیا سلوک کرتے ہیں۔

عکسی مفتی: بڑے ایک دوسرے کو دیکھ کر سیکھتے ہیں۔

ریڈر: جناب اب تو بچے ایک دوسرے کو دیکھ کر کچھ نہیں سیکھتے آپ بڑوں کی بات کرتے ہیں۔ ہاں، ہم ایک دوسرے کو دیکھ کر لڑ ضرور پڑتے ہیں۔ کم از کم ایک بارغراتے تو ضرور ہیں۔ بعد میں بے شک بھیگی بلی بن جائیں یا کِھسیانی بلی کی طرح کھمبا نوچ لیں یا کوئی کھمبا پاس نہ ہو تو کھسیان پت میں اپنے ہی بال نوچ لیں۔ آخر ثقافتی برتری بھی تو برقرار رکھنی ہے۔ دو افراد جھگڑ پڑیں تو تیسرا بلکہ جو بھی موقعہ پر موجود ہو ان کی لڑائی میں کود پڑنا عین فرض سمجھتا ہے۔ دراصل ہم ثقافتی جھگڑالو ہیں، جھگڑا کوتاہ کرنے کے بجائے مول لیتے ہیں، بھیڑ چال کے عادی ہیں، جو کرتے ہیں دیکھا دیکھی کرتے ہیں۔ عقل استعمال کرنے کو اپنی ثقافتی توہین سمجھتے ہیں۔ اسی لیے ہم سیکھتے کم اور نقل اور جدل زیادہ کرتے ہیں۔

عکسی مفتی: ثقافت کس پنچھی کا نام ہے؟

ریڈر: جناب ثقافت پنچھی نہیں ڈائنوسار ہے جو ناپید ہونے کے باوجود ہر جگہ موجود ہے۔ کوئی کارٹون، کوئی مووی، کوئی کمپیوٹر گیم، کوئی ویب سائٹ، کوئی پارک، کوئی میوزیم، حتی کہ کسی کنڈر گارٹن کسی اسکول میں چلے جائیں یہ دھاڑتا دانت کچکچاتا ہوا در و دیوار سے نکل آئے گا۔ لگتا ہے کہ دنیا نہیں ثقافتی جریسک پارک ہے۔ حیرت ہے گاو¿ں گاو¿ں، قصبہ قصبہ، شہر شہر، ملک ملک پھرنے کے باوجود آپ کو جابجا بکھرے اتنے بڑے بڑے ثقافتی ڈھانچے اور فوسلز دکھائی نہیں دیے۔ ہمارے ہاں تو اتنے بڑے بڑے ثقافتی مردے بلکہ مردار ہیں جو اپنی اپنی جگہوں پر اتنی مضبوطی سے گڑے ہوئے ہیں کہ اکھاڑنا تو درکنار انہیں ہلایا بھی نہیں جا سکتا۔ ثقافت کوئی اڑن مچھلی، رٹو طوطا، چڑیا یا فاختہ نہیں جسے خلیل خاں اڑایا کرتے تھے، بلکہ یہ آئس ایج سے بھی پہلے کے زمانے کی کوئی عظیم الجثہ شے ہے جو ہمارے زمانے تک آتے آتے ملٹائی نیشنل اکانومی اور کارپوریٹ کلچر کا روپ دھار چکی ہے۔ ہم ثقافتی کایا کلپ کا شاہکار ہیں۔

عکسی مفتی: انسان بندر بھی ہے اور بھگوان بھی۔

ریڈر: جناب ہمیں تو انسان کے انسان ہونے پر بھی شک ہے۔ آپ کہتے ہیں بندر بھی ہے بھگوان بھی۔ ویسے بندر کی انسان سے اور انسان کی بندر سے مشابہت تو بہت ہے۔ اب پتہ نہیں کون کس کی طرح ہے۔ یہ وہی فرق ہے جو ’ وہ کاٹا ‘ اور ’ بو کاٹا ‘ میں ہے۔ اسی لیے پتنگ کٹتے ہی انسان اور جانور کی لسانی اور حرکی ثقافت ایک ہو جاتی ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ ہم نے انسان کو کئی جانوروں اور حشرات کے روپ میں دیکھا ہے۔ سانپ جیسے انسانوں کی تو ہر جگہ بہتات ہے۔ جن کے کاٹے کا کوئی اینٹی سیرم نہیں۔ گیدڑ اور بھیڑیا نما انسان بھی کم نہیں ہیں۔ بھیڑوں بکریوں جیسے انسانوں کی تو ہمارے ہاں اتنی فراوانی ہے کہ جدھر چاہے ہانک لو اور جب اور جتنے چاہو ذبح کر ڈالو کوئی کمی نہیں آتی۔ شیر نما انسان بھی ہیں لیکن کم کم اور اب صرف چڑیا گھروں یا سرکسوں میں دکھائی دیتے ہیں جہاں وہ اپنے ماسٹر یا ٹرینر کے اشاروں پر ہنٹر کے ڈر سے یا ٹریٹ کی لالچ میں اپنی فطرت کے برعکس کرتب دکھاتے ہیں، کچھ انسانی شیر اب اپنی خالہ کے سائز کے رہ گئے ہیں۔ کچھ لگڑ بگوں کی طرح دوسروں کے مارے ہوئے شکار پر گزارہ کرتے ہیں۔ فی زمانہ چوہا انسانوں کی تعداد بہت بڑھ گئی ہے کیونکہ نسل انسانی میں چوہا دوڑ مقبول عام ہے۔ ہر کوئی دن رات بھاگم بھاگ اسی ریس میں لگا ہوا ہے۔ فنش لائن کی کسی کو خبر نہیں۔ بس دوڑے جا رہے ہیں۔ دوسروں کو روند کر آگے بڑھنے کے جنون میں اچانک ایک دن زندگی کی دوڑ ختم ہو جاتی ہے۔ کچھ انسان چھپکلی کی طرح ہوتے ہیں اور کچھ گِرگٹ کی طرح رنگ بدلتے ہیں۔ اورکچھ تو بالکل گل خوروں، جنہیں عرفِ عام میں کیچوے یا گنڈوئے کہتے ہیں، کی طرح ہوتے ہیں جن کا اوپر سے کچھ پتا نہیں چلتا بس اندر ہی اندر رینگتے سرکتے رہتے ہیں۔ کچھ دن کو انسان ہوتے ہیں اور رات کو ویمپائر بن جاتے ہیں۔ بہت سے دیگر جانوروں، کیڑوں مکوڑوں اور جرثوموں کے اوصاف والے انسان بھی بہت ہیں لیکن ان سب کے ذکر سے بات بڑھ جانے اور تہذیب کے دائرے سے نکل جانے کا اندیشہ ہے۔ اب جہاں تک بھگوان کی بات ہے تو اس میں بھی جانور انسان پر بازی لے گئے ہیں۔ زیادہ دور جانے کی ضرورت نہیں۔ پڑوسی ملک ہی میں چلے جائیے۔ بندرجی ہنومان، ہاتھی صاحب گنیش دیوتا بنے بیٹھے ہیں۔ ناگ دیوتا اورگاو¿ ماتا کے پجاری بھی کم نہیں۔ کہا جاتا ہے کہ گایوں اور برہمنوں کو بیک وقت تخلیق کیا گیا تھا۔ ہاتھی، بیل، بھینسا، شیر، بارہ سنگھا، چوہا، بلی، کتا، طوطا، گیدڑ، بطخ، گدھ، چیل، باز، نیل کنٹھ، الو غرض ہر جانور اور پرندہ کوئی نہ کوئی چھوٹا بڑا دیوتا ہے یا کسی نہ کسی دیوتا کی نمائندگی کرتا ہے۔ رہی سہی کسر انسانی بھگوانوں نے پوری کر دی ہے۔ جس کے پاس طاقت، اختیار اور دولت ہے وہی بھگوان ہے۔ جس کے پاس ان تینوں میں سے کچھ نہ ہو وہ اپنا بھگوان خود بن جاتا ہے۔ لگتا ہے کہ اس خطہ ارض پر انسان کم اور بھگوان زیادہ ہیں۔

عکسی مفتی: تمدن، ثقافت اور معاشرتی علوم مستقبل کے علوم ہیں۔

ریڈر: جناب آپ ہمیں الٹی پٹی پڑھاتے ہیں۔ ہم ابھی تک سیدھی گنتی نہیں گن سکتے۔ دو دفعہ بیس ہماری سوشل اکانومی کی آخری حد ہے۔ ہم ماضی پرست ابھی تک حال میں جینے سے گریزاں ہیں اور آپ ہیں کہ ہمیں مستقبل کے علوم کی طرف لے جاتے ہیں۔ شکر ہے آپ نے تاریخ کو مستقبل کے واقعات نہیں کہہ دیا۔ آپ کا یہ جملہ پڑھ کر ہمیں پرتگیزی ادیب حوز سارا میگو کی یاد آ گئی، جس نے اپنے نوبیل خطبے میں سرے سے تاریخ کا وجود ہی ختم کر دیا۔ بقول ا±س کے جو ہو رہا ہے وہ تاریخ نہیں اور جو ہو چکا ہے وہ اب موجود ہی نہیں اور جو ہونا ہے وہ ابھی ہوا نہیں۔ واقعی پھر تاریخ کہاں گئی؟ خیر آپ جو مرضی لکھ لیں۔ دنیا بھر کے علوم ماضی اور حال سے نکال کر مستقبل میں لے جائیں، مستقبل سے آگے بھی کوئی زمانہ ہے تو بے شک وہاں تک چلے جائیں، ہم مردہ پسندوں، مردہ خواروں، مردہ دلوں کو کوئی فرق نہیں پڑنے والا۔ ہم مردے کا مال کھانے والے ’مردے از غیب بروں آید و کارے بکند‘پر یقین رکھتے ہیں۔ لیکن آپ نے مستقبل کی بات کر کے ہمیں مجبور کر دیا ہے کہ ہم تہذیب و تمدن، ثقافت اورمعاشرتی علوم کی کتابیں دوبارہ پڑھیں اور ان میں سے ماضی اور حال کے بیانیے نکال دیں۔ پھر دیکھیں کہ ان میں مستقبل کے لیے کیا بچتا ہے؟ خالی صفحے؟ کیا مستقبل کی ثقافت خیالی ہے جو کبھی حقیقی نہیں ہو گی؟ جناب! فزکس اور میٹا فزکس تو کہتی ہے کہ زمانہ ایک ہی ہے تین نہیں، جو کہیں ماضی، کہیں حال اور کہیں مستقبل ہے۔ ہم کہیں ہیں، کہیں نہیں اور کہیں مرنے کے بعد بھی پیدا ہو رہے ہوں گے۔ اور جینیات کے مطابق ہر فرد ایک ثقافتی مورثہ یا نسبہ ہے جو زمانہ در زمانہ منتقل ہوتا رہتا ہے۔

عکسی مفتی: میں میوزیم شخصیت نہیں ہوں۔

ریڈر: جناب آپ کا یہ بیان ثقافتی پیرا ڈوکس ہے۔ ہمیں معلوم ہے کہ میوزیم میں شخصیتیں نہیں ہوتیں۔ میوزیم تو کھوئی ہوئی مری ہوئی چیزوں کے لیے ہوتا ہے۔ میوزیم میں تاریخ، تہذیب، مصوری، تنقید، شاعری، ادب، الفاظ، کتابیں، رقص، آرٹ سب کچھ یہاں تک کہ پرچھائیاں، چیخیں، خاموشی اور سائے بھی حنوط شدہ شکل میں ہوتے ہیں۔ وہاں انسان نہیں، ممیاں، مجسمے اور ڈھانچے رہتے ہیں۔ شخصیت تو جیتی جاگتی زندہ شے ہوتی ہے۔ ہم تو آپ کے والد ممتاز کو بھی مرحوم نہیں کہتے، میوزیم شخصیت نہیں مانتے۔ آپ تو ابھی زندہ سلامت، چلتے پھرتے، کھاتے پیتے، ہنستے کھیلتے، شادیاں کرتے ہمارے درمیان موجود ہیں۔ فکر نہ کیجیئے ہم آپ کو میوزیم میں حنوط نہیں کریں گے، کیونکہ اندیشہ ہے کہ کہیں آپ وہاں بھی زندہ ممی نہ بن جائیں، اچانک اٹھ کردھمال ڈالنے بری امام نہ پہنچ جائیں یا شمالی پہاڑوں کی جانب لونگ بلکہ ہائی ڈرائیو پر نہ چلے جائیں۔ ہمیں معلوم ہے کہ آپ وہ ثقافتی جن ہیں جسے جیلی، جام، مربے اور اچار کی بوتلوں اور الہ دین کے چراغ میں قید نہیں کیا جا سکتا۔ آپ اب ہمارا زندہ لوک ورثہ ہیں۔ ہم آپ کو میوزیم میں نہیں، سینوں میں رکھیں گے۔ اور سینہ گزٹ کی طرح پھیلائیں گے۔


Comments

FB Login Required - comments