سورن سنگھ کو پارٹی ٹکٹ کے تنازع پر اپنے ہی ساتھی نے قتل کرایا: پولیس


suran singhسردار سورن سنگھ کے قتل میں کئی چونکا دینے والے انکشافات سامنے آئے ہیں، ابتدائی تفتیش کے مطابق سردار سورن سنگھ کو کسی اور نے نہیں بلکہ ان کے قریبی ساتھی نے ہی اجرتی قاتل کی مدد سے قتل کرایا۔
ڈی جی آئی جی مالا کنڈ آزاد خان نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ پاکستان تحریک طالبان کی جانب سے سردار سورن سنگھ کے قتل کا دعویٰ بے بنیاد ہے جب کہ ابتدائی تفتیش کے دوران گرفتار ملزمان نے قتل کا اعتراف کرلیا ہے جنہیں اجرتی قاتل کے ذریعے 10 لاکھ روپے دے کر قتل کیا گیا۔
ڈی آئی جی مالاکنڈ کا کہنا تھا کہ سردار سورن سنگھ کا قتل سیاسی چپقلش کا شاخسانہ ہے، تحریک انصاف کے ڈسٹرکٹ کونسلربلدیو کمار الیکشن لڑنا چاہتے تھے اور ٹکٹ نہ ملنے کے تنازع پر انہوں نے سورن سنگھ کو قتل کروایا جس کے لئے مسلم لیگ (ن) کے نائب تحصیل ناظم عالم خان نے سہولت کار کا کردارادا کیا۔ انہوں نے بتایا کہ پی ٹی آئی کے ڈسٹرکٹ کونسل بلدیو کمارنے اپنے قریبی دوست عالم خان کی معاونت سے سردار سنگھ کے قتل کا منصوبہ بنایا جس کے لئے عالم خان نے اجرتی قاتل سعید جان کا اہتمام کیا جسے قتل کرنے کے لئے بلدیو کمار نے 7 لاکھ روپے کی ادائیگی کی جب کہ قتل کے مزید 3 سہولت کارمختار،اکبرعلی اور بیروز خان کو ایک ایک لاکھ روپے دینا تھے۔
ڈی آئی جی مالاکنڈ کے مطابق سورن سنگھ کے قتل کا مقدمہ ان کے بیٹے کی مدعیت میں درج کیا گیا جس میں انسداد دہشت گردی کی دفعہ بھی شامل کی گئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سورن سنگھ بونیر میں اپنے ساتھ سیکیورٹی نہیں رکھتے تھے جنہیں اپنے ساتھ 2 پولیس اہلکار رکھنے کا کئی بار کہا جاتا رہا لیکن وہ اس پولیس کے 2 اہلکار اپنے ساتھ رکھنے کا کہا ٹی ٹی پی کا ذمہ داری لینے کا دعویٰ غلط ہے۔


Comments

FB Login Required - comments