جنت اور لائبریری


تیرے ضمیر پہ جب تک نہ ہو نزولِ کتاب

گرہ  کشا ہے رازی نہ صاحبِ کشاف

آپ نے جنت میں لائبریری کا پوچھا ہے تو آپ کے لیے عرض ہے کہ جس جنت کا ذکر خدا اپنے کلام میں کرتا ہے وہ کلام خود ایک کتاب کی صورت میں ہے اور یہ الہامی کتاب ایسی ہے جو غور و فکر، عمل و شعور سے کام نہ لینے والوں کو سرے سے انسان ہی نہیں مانتی بلکہ وہ انہیں جانوروں سے بھی بد تر قرار دیتی ہے۔

یہ وہ کتاب ہے جو عام زندگی کو تو چھوڑیں ، میدان جنگ میں بھی غور و فکر کا دامن سختی سے تھامے رکھنے کی تاکید کرتی ہے یہ کتاب جنگ بدر میں کفار کی ناکامی اور شکست کی بنیادی وجہ غور و فکر سے کام نہ لینا بتاتی ہے۔ یہ کتاب جماعتِ مومنین سے کہتی ہے کہ تم میں 100 بھی، دشمن کے ہزار پر غالب آٸیں گے اور یہ اس لیے کہ “فریق مخالف عقل و فکر سے کام نہیں لیتا“ سورہ انفال آیت 56

یہ کتاب قرآن مجید فرقانِ حمید کہلاتی ہے جو اس کاٸنات میں خدا کا کلام ہے۔ اُس کا آخری پیغام ہے جو اُس نبی کریم (ص) کی وساطت سے ہم تک پہنچی ہے کہ جن کا فرمان تھا کہ “علم حاصل کرو ماں کی گود سے لیکر قبر کی آغوش تک چاہے اس کے لیے چین بھی جانا پڑے“۔

یہ کتاب مذہب کے اسٹیج سے دعوت دیتی ہے لیکن دیگر مذاہب کے برخلاف اس کاٸنات کو بھی اپنی توجہ کا مرکز بناتی ہے اور اس مادی دنیا سے دور بھاگنے، اسے قابلِ نفرت سمجھنے کی روش کی سختی سے تردید کرتی ہے بلکہ اسے کفر قرار دیتی ہے۔

ویسے تو قرآن کریم کا ایک ایک لفظ اپنی جگہ چٹان کی طرح محکم اور علم کا خزانہ ہے اور گو کہ یہ کوٸی ساٸنس کی کتاب نہیں لیکن اس کے باوجود بھی قرآن کریم میں سات سو پچاس کے قریب آیات یعنی قرآن کا آٹھواں حصہ مظاہر فطرت یعنی ساٸنس سے متعلق آیات پر مشتمل ہے جس میں پیور ساٸنسز سے وابستہ علوم یعنی فزکس، بیالوجی، ساٸیکولوجی اور دیگر کٸی علوم کی طرف توجہ دلاٸی گٸی ہے اور ان تمام مظاہر فطرت کا مطالعہ کرنے والوں کو ہی صاحبانِ عمل و بصیرت اور مومنین کہہ کر پکارا گیا ہے۔

علمِ انسان کا پہلا درجہ ، علم بذریعہ حواس ( perceptual knowledge ) کا ہے۔ اس کے بعد دوسرا درجہ تصوراتی علم (conceptual knowledge)  کا ہے اور یہ سب “عقل اور فکر“ کی بدولت ہے جو خالص انسانی خصوصیت ہے۔ اس میں کاٸناتی مخلوق میں سے کوٸی اور شریک نہیں ہے۔ قرآن واضح الفاظ میں بتاتا ہے کہ جو لوگ اس امتیازِ خصوصی (عقل) سے کام نہیں لیتے وہ بد ترین مخلوق ہیں

“اللہ کے نزدیک بدترین خلاٸق وہ لوگ ہیں جو بہرے، گونگے بنے رہتے ہیں اور عقل و فکر سے کام نہیں لیتے“۔ سورہ انفال (22 آیت)

وہ جہنم کا ایندھن بننے والوں کی خاصیت یہ بتاتا ہے کہ انکے قلب تو ہوتے ہیں لیکن سمجھنے کا کام نہیں لیتے، ان کی آنکھیں ہوتی ہیں لیکن دیکھنے کا کام نہیں لیتے، ان کے کان تو ہوتے ہیں لیکن سننے کا کام نہیں لیتے۔ یہ انسان نہیں بلکہ حیوان ہیں، بلکہ ان سے بھی گئے گزرے“ سورہ اعراف آیت 079

اہلِ جہنم کے متعلق دوسرے مقام پر ہے کہ “یہ لوگ کہیں گے کہ اگر ہم ہوش و حواس سے کام لیتے تو آج جہنم میں کیوں ہوتے“

یہ کتاب یونانی فلسفےاورافلاطون کے طلسم کے برخلاف حواس سے حاصل کردہ علم کو قابلِ بھروسہ قرار دیتے ہوئے علم کی دنیا میں تجرباتی طریقہ علم کی بنیاد رکھتی ہے جو موجودہ ساٸنس کی بھی بنیاد ہے۔ اس سے پہلے سقراط اور افلاطون کے فلسفے کے زیر اثر حواس سے حاصل کردہ علم ناقابل اعتبار تھا کیونکہ اس فلسفے کے تحت یہ مادی کاٸنات ایک واہمہ، خیال، عالمِ امثال یعنی کسی حقیقی کاٸنات کا عکس تصور کی جاتی تھی لہذا کسی توجہ کے قابل بھی نہیں قرارپاتی تھی۔

قرآن نے تحدی کے ساتھ اعلان کیا کہ یہ کاٸنات حق ہے یہ کوٸی خیال، واہمہ یا کھیل تماشہ نہیں ہے۔ it exists ، لہذا اے بنی نوعِ آدم ہم نے آدم میں اشیا کی حقیقت اور ان کا علم حاصل کرنے کی صلاحیت رکھی ہے اس بیش بہا صلاحیت سے جانور محروم ہیں۔ تم اس کا فاٸدہ اٹھاؤ اور اس کاٸنات کو مسخر کرو۔ اس زمین پر چلو پھرو ، ستاروں کی گردشوں اور دن اور رات کے بدلنے پر غور کرو یعنی فلکیات، فزکس، کوانٹم فزکس اور اس راہ کے تمام علوم حاصل کرو۔ نہ صرف فزکس میتھس بلکہ اپنی پیداٸش انواع و السام کے حیات اور ان میں تنوع کو سمجھنے کے لیے بیالوجی اور اس سے متعلقہ تمام علوم حاصل کرو۔

جیالوجی بھی پڑھو اور دیکھو کہ کیسے ہم نے پہاڑوں کو ابھارا۔ پلیٹ ٹیکٹونکس سمجھ آجاٸیگی اور دیکھو کہ کیسے پہاڑوں میں مختلف رنگوں کی تہوں سے زمین پہ گزرنے والے خشکی اور تری کے کتنے مراحل اور کتنے لاکھوں سالوں کا حساب ملتا ہے۔

یہ ستاروں کی گزرگاہوں اور نجوم کا ذکر جنتری اور منتری کے لیے نہیں کیا بلکہ اس کاٸنات کی تخلیق کی کھوج لگانے اور ان کی روشنی میں چھپے کاٸنات کے ماضی کو کھوجنے پر اکسانے کے لیے ہیں۔اور یہ سارا کچھ اِس لیے تاکہ تم یہ مان لو کہ اس کاٸنات میں جتنا نظم و ضبط ہے کہ یہ عظیم الشان کاٸنات ایک uniformity کے ساتھ روبہ عمل ہے اور اس کی بنیادی وجہ خود اس کتاب کے مطابق اشیائے کاٸنات کا ان کاٸناتی قوتوں کا خدا کی پروگرامنگ کے لحاظ سے execute ہونا ہے۔ لہذا جس طرح یہ کاٸنات خدا کے بنائے گئے  laws of nature کی پابندی کرنے سے اپنے ارتقاٸی مراحل طے کیے جا رہی ہے تو اسی طرح انسانوں کی ذات کی نشوونما اور ارتقاٸی مراحل بھی اسی خدا کے قوانین کے مطابق طے ہوں گے۔ اس طبعی کاٸنات کی طرح تم انسانوں کی دنیا میں بھی اگر تم اُسی خداۓ علیم و خبیر کے قوانین پہ اپنی زندگی کی بنیادیں اٹھاؤ گے تو یقیناً دنیا میں بھی غلبہ و استحکام پاؤ گے اور آخرت میں جنت بھی ملے گی اور اس میں لاٸبریری بھی۔

لہذا تم دیگر مذاہب میں ہونی والی تحریفات کے نتیجے سے پیدا نظریات کے تحت اس دنیا سے دور بھاگنے، اس سے نفرت کے رویے کو ترک کرو۔ اسے ایک حقیقت سمجھتے ہوۓ اس کے لب و عارض کو سنوارو۔ اسکی نوک پلک درست کرو۔ اس سے کام لو، ڈیم بناؤ، بجلی پیدا کرو، ادویات بناؤ، خلاؤوں کو مسخر کرو تاکہ تمہیں تمھارے نبی کی دعا کے مطابق پہلے اس دنیا اور بعد میں آخرت میں بھی خوشگواریاں نصیب ہوں۔ لیکن یہ یاد رکھنا اگر کہیں تسخیر کاٸنات کے فریضہ اور علم کی دنیا میں پیچھے رہ گئے تو پھر ذلیل و خوار ہی رہو گے۔ اور یہاں کا اندھا وہاں کا بھی اندھا ہوگا۔ پھر نہ لائبریریاں کام آٸیں گی نہ ان میں رکھی مصنفوں کے دستخطوں والی کتابیں۔ کیونکہ

تیرے ضمیر پہ جب تک نہ ہو نزول کتاب

گرہ کشا ہے رازی نہ صاحب کشاف !

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

فرحان محمد شبیر کی دیگر تحریریں
فرحان محمد شبیر کی دیگر تحریریں

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں