عمران خان، پرانی باتیں، نیا خطاب


husnain jamal (2)

گئے زمانوں کی ایک قوم کی حکایت کئی بار سنی جو کہ علم نجوم کی بہت ماہر تھی، اتنی ماہر کہ بچہ بچہ حساب کتاب کر کے کائنات کی کوئی بھی حقیقت بتا سکتا تھا۔ اب یہ دیکھ کر آسمان کے فرشتوں کو بھی حیرت ہوئی، تو ایک فرشتہ اڑا اور زمین پر آیا۔ اس نے دیکھا کہ باقی لوگ تو کام کاج میں مصروف ہیں، بس ایک بچہ ہے جو بھیڑ بکریوں کی حفاظت کر رہا ہے اور ایک پتھر پر بیٹھا ہوا ہے۔ وہ فرشتہ اس بچے کے پاس گیا اور اس سے پوچھا کہ یار سنا ہے تم لوگ نجوم کے حساب میں بہت تیز ہو، کیا واقعی ایسا ہے؟ بچے نے سر ہلا دیا اور کہا کہ تمہارے کسی قسم کے بھی سوالات ہوں، جواب میں دے سکتا ہوں۔ فرشتے نے اپنا نام بچے کو بتایا اور کہا کہ یہ ایک فرشتہ ہے، مجھے بتاؤ اس وقت یہ آسمانوں میں کہاں ہو گا۔ بچے نے ایک چھڑی سے زمین پر لکیریں لگائیں اور فرشتے کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا۔ وہ نام جو تم نے پوچھا ہے، اس نام کا فرشتہ نہ آسمانوں میں ہے اور نہ زمین کے دور دراز ملکوں میں کہیں ہے، وہ یہیں ہے، اس چراگاہ میں ہے، انہی بھیڑ بکریوں کے درمیان کہیں موجود ہے، اور چوں کہ میں وہ فرشتہ نہیں ہوں تو وہ فرشتے تم ہو!
یوم تاسیس پر کی گئی ایک اہم ترین بات کرپشن کے حوالے سے تھی۔ وہی بیس سال پرانے رونے پھر روئے گئے۔ دیکھیے بات بجا ہے، سیاست دانوں کا احتساب ہونا چاہئیے، کون اس کے حق میں نہیں ہو گا۔ لیکن جب آپ ایک ہی سانس میں تمام سیاست دانوں کو بدعنوان بھیڑیے اور مگرمچھ قسم کے خطاب دے دیں گے اور ارشاد کر دیں گے کہ وہ ملک کی دولت لوٹ کر باہر لے جاتے ہیں تو آپ کی ذات پاک کے علاوہ غریب عوام کے پاس کوئی اختیار نہیں بچے گا، اور یہ کچھ جمہوری بات نہ ہوئی۔ اگر وہ فرشتے آپ ہیں تو یہ ہم بغیر کسی حساب کتاب کے جانتے ہیں اس پر اتنا واویلا کرنے کی کیا ضرورت۔
قائد تحریک کو کوئی سمجھائے کہ کھیل اور سیاست میں فرق ہوتا ہے۔ حالیہ تقریر میں بھی وہی پرانے راگ بجائے گئے۔ تقریر شروع ہوئی تو یوم تاسیس کا ذکر تھا اور تان وہیں آن کر ٹوٹی کہ جب میں نے ورلڈ کپ جیتا! بار بار اسی جیت کا ذکر کیا گیا، انہیں دنوں کو یاد کیا گیا، ماضی کو یاد کرنا اور ماضی کا اسیر ہو جانا، ان دو معاملات میں بال برابر کا فرق ہے۔ آپ اسیر ہو جاتے ہیں تو آپ وہی سب کرتے ہیں جو آج تحریک انصاف کے امیر کرتے نظر آ رہے ہیں۔
پارٹی انتخابات کے چکر میں خیبر حکومت کے پانچ سال ضائع کرنے کا پورا پروگرام اس تقریر میں بھی نظر آیا۔ واضح لائحہ عمل کا اعلان نہیں کیا گیا لیکن اگر ان تمام انتخابات کے بعد بھی مرکزی شخصیت عمران خان ہی رہتے ہیں تو یہ نرا وقت کا ضیاع ہو گا۔
آج روایت سے ہٹ کر صرف عمران خان نے ہی قوم سے خطاب کیا، باقی بڑے لیڈر صرف درشنی رہے، اور بے شک یہ عین جمہوری روایت تھی۔ دوران تقریر اپنے منہ سے اپنے ایمان کی تعریف کی گئی، خدا، آخرت اور جوابدہی کا تصور بار بار دوران تقریر پیش کیا گیا، بار بار ایسے بات کی گئی گویا خدا نے آپ کو ذمہ داری سونپ دی ہے کہ اب اس قوم کی قیادت آپ کے ہاتھ میں ہو گی۔ وہ باقاعدہ آپ سے پوچھے گا کہ بتا میں نے تجھے یہ قوم سونپی تھی، کیا کیا اس کا؟
بہرحال اب آثار یہی ہیں کہ اگلا الیکشن ایک ریفرینڈم ہو گا۔ عین ویسا ہی جیسا پچیس تیس برس قبل قوم نے بھگتا تھا، سوال بھی وہی ہو گا، کیا آپ ملک میں اسلامی نظام چاہتے ہیں؟ اگر ہاں، تو عمران خان آپ کے اگلے وزیر اعظم ہوں گے۔
رائے ونڈ دھرنے کا موضوع بھی چھڑا لیکن ابھی تحریک انصاف اس بارے میں کسی حتمی بیان سے گریز کرتی نظر آتی ہے۔
پینتیس پنکچر سمٹ کر اب صرف چار رہ گئے تھے۔ انہی پر شکوہ کیا گیا کہ سپریم کورٹ میں نہیں سنی گئی، الیکشن کمیشن آف پاکستان کو الیکشن کمیشن آف نواز لیگ کا خطاب دیا گیا، لفظ دھاندلی کل ملا کر اس بار شاید سات مرتبہ استعمال میں آیا جو یقیناً بہت کم تھا۔
کسانوں کے پسنے کو میٹرو اور اورنج ٹرین سے مشروط کیا گیا۔ شوکت خانم ہسپتال پر انگلی اٹھانے والوں کو شرم دلائی گئی کہ مقدس گائے کی طرف آنکھ بھی نہیں اٹھائی جا سکتی اور ساتھ ساتھ میٹرو اورنج لائن وغیرہ کی تعمیر کو کمشن کھانے کا ایک بڑا ذریعہ بتایا گیا۔
مکمل تقریر میں قوم کو یہ بات بار بار ذہن نشین کرائی گئی کہ ’آپ ایک عظیم قوم ہو‘ باقی آپ کے لیڈر وغیرہ پرلے درجے کے کرپٹ ہیں اور ان کے ہونے کہ وجہ سے ہی آپ ترقی نہیں کر پا رہے۔ سوال یہ ہے کہ سینتالیس سے اب تک اگر لیڈر کرپٹ ہی رہے تو قوم بے چاری عظیم کیوں کر ہو گئی، اور اگر قوم واقعی عظیم ہو چکی ہے تو فقیر اور دوسرے کوتاہ نظر بلاگران و کالم کاران کو معلوم کیوں نہ ہو پایا۔
قوم کو غزوہ بدر کے حوالہ جات بھی دئیے گئے۔ بسم اللہ بہت اچھی بات ہے، نوجوانوں کو بے شک اپنے مذہب اور اس کی تعلیمات پر فخر ہونا چاہئیے لیکن یہ حوالہ تھا کس پیرائے میں، یہ جاننا مشکل تھا۔ کیا عمران خان قوم کو کسی نئے معرکے کی دعوت دے رہے تھے یا اپنے کم ہونے اور جذبوں کے بلند ہونے کی بات کرنا چاہ رہے تھے، معاملہ نتیجے پر نہ پہنچ سکا۔
خیبر بنک والا معاملہ درمیان میں چھوڑ کر چھبیس تاریخ کو سندھ میں کرپشن کے خلاف جانے کا اعلان ہوا۔ مشیران کرام نے غالباً اپنی نبیڑنے والا محاورہ نہیں سنا اسی لیے پرائے مسئلوں میں الجھنا زیادہ پسند فرماتے ہیں۔
ایک بات سمجھ نہیں آئی۔
نواز شریف صاحب سے شکوہ کیا گیا کہ آپ پھر سے ایمپائر ساتھ ملا کر میچ کھیل لیں گے۔ یہ کیا بات ہوئی؟
کل ملا کر ربط کی شدید کمی محسوس ہوئی، باتیں سب کی سب وہی تھیں جو دو سال پہلے بھی ہم سنتے تھے، آثار یہی ہیں کہ کچھ عرصے بعد ٹی وی چینل اور صحافی برادری بھی کوریج دینا کم کر دیں گے کیوں کہ ان خطبات میں نیا کچھ بھی سامنے نہیں آ پاتا۔
افتتاحی جملوں میں عمران خان نے کہا کہ مجھے لگتا ہے پارٹی تو اب شروع ہوئی ہے، ابھی میں بیس سال اور دیکھ رہا ہوں! یہاں فقیر متفق ہے، خدا آپ کو زندگی دے، صحت دے، اتنے ہی برس ہم بھی دیکھتے ہیں۔
پس نوشت: تعلیم، صحت، مہنگائی، بجلی، گیس، پانی، ہر جگہ اندرون شہر کی سڑکیں، اندرون سندھ کے حالات، بلوچستان کے مسائل، ضرب عضب، ضرب آہن، کیا کچھ نہیں تھا بات کرنے کو، کینوس وسیع ہو تو بات کو وقعت ملتی ہے اور سننے والے بھی کچھ نیا لے کر جاتے ہیں۔ تیاری کر کے بولنے اور فی البدیہہ خطاب میں یہی فرق ہوتا ہے۔ عمران خان ہماری سیاست کا ایک روشن نام ہیں ہم واقعی ان سے پارٹی منشور، مستقبل کا لائحہ عمل، توانائی بحران سے نمٹنے کا عزم اور بین الاقوامی تعلقات جیسے معاملات پر گفتگو سننے کے خواہاں ہیں۔


Comments

FB Login Required - comments

حسنین جمال

حسنین جمال کسی شعبے کی مہارت کا دعویٰ نہیں رکھتے۔ بس ویسے ہی لکھتے رہتے ہیں۔ ان سے رابطے میں کوئی رکاوٹ حائل نہیں۔ آپ جب چاہے رابطہ کیجیے۔

husnain has 148 posts and counting.See all posts by husnain

2 thoughts on “عمران خان، پرانی باتیں، نیا خطاب

  • 27-04-2016 at 4:46 pm
    Permalink

    جی تو وہ تو محسوس ہو رہا ہے کہ کسی بھی شعبے کی مہارت نہیں رکھتے بس ویسے ہی لکھتے رہتے ہیں۔ جناب لکھنے کی پریکٹس سلیٹ سلیٹی پہ کیا کریں، تاکہ مٹانے کی آسانی موجود رہے۔

    • 27-04-2016 at 8:03 pm
      Permalink

      سیدی فقیر کا لکھا دو تین روز بعد مٹ ہی جاتا ہے، نوشتہ دیوار کون مٹائے گا!

      آپ کا بہت شکریہ کہ آپ نے مضمون پڑھا اور اپنی رائے سے آگاہ کیا۔

Comments are closed.